مضمون کے اہم نکات
سبب عداوۃ الکفار للمسلمین
مسلمانوں سے کفار کی دشمنی کا سبب
مسلمانوں سے کفار کی دشمنی کا اصل سبب مسلمانوں کا اللہ اور اس کی نازل کردہ تعلیمات پر ایمان لانا ہے۔
[قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ ہَلۡ تَنۡقِمُوۡنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡنَا وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلُ ۙ وَ اَنَّ اَکۡثَرَکُمۡ فٰسِقُوۡنَ] اے محمد! ان سے کہو، اے اہل کتاب! تم جس بات پر ہم سے دشمنی رکھتے ہو وہ اس کے سوا او رکیا ہے کہ ہم اللہ پر اور اس تعلیم پر ایمان لائے ہیں جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ہم سے پہلے بھی نازل ہوئی لیکن تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں۔ (سورۃ المائدۃ:59)
فرعون، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو صرف اللہ پر ایمان لانے کی وجہ سے قتل کرنا چاہتا تھا۔
[وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤۡمِنٌ ٭ۖ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ یَکۡتُمُ اِیۡمَانَہٗۤ اَتَقۡتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنۡ یَّقُوۡلَ رَبِّیَ اللّٰہُ وَ قَدۡ جَآءَکُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ؕ وَ اِنۡ یَّکُ کَاذِبًا فَعَلَیۡہِ کَذِبُہٗ ۚ وَ اِنۡ یَّکُ صَادِقًا یُّصِبۡکُمۡ بَعۡضُ الَّذِیۡ یَعِدُکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ ہُوَ مُسۡرِفٌ کَذَّابٌ] آل فرعون میں سے ایک مومن شخص جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا بول اٹھا کیا تم ایک شخص کو محض اس وجہ سے قتل کرو گے کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس واضح معجزات لے کر آیا ہے اگر وہ جھوٹا ہے تواس کے جھوٹ کا وبال اسی پر ہوگا اور اگر وہ سچا ہے تو پھر وہ جس عذاب کا تمہیں خوف دلارہا ہے اس کا کچھ نہ کچھ حصہ تو تم پر ضرورہی آجائے گا بے شک اللہ تعالیٰ حد سے گزرنے والے کذاب کو ہدایت نہیں بخشتا۔ (سورۃ المؤمن:28)
اصحاب الاخدود نے مسلمانوں کومحض اس لئے آگ میں جلایا کہ وہ ایک اللہ کی ذات پر ایمان لائے تھے۔
[وَّ ہُمۡ عَلٰی مَا یَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ شُہُوۡدٌ ؕ]،[وَ مَا نَقَمُوۡا مِنۡہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ یُّؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَمِیۡدِ] اہل ایمان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی اور وجہ سے نہ تھی کہ وہ اس اللہ پر ایمان لائے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔ زمین اور آسمانوں کا مالک ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نگران ہے۔ (سورۃ البروج:7-8)
کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور اہل ایمان کو محض اس لئے جلا وطن کیا کہ وہ اپنے اللہ پر ایمان لائے تھے۔
[یُخۡرِجُوۡنَ الرَّسُوۡلَ وَ اِیَّاکُمۡ اَنۡ تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ رَبِّکُمۡ ؕ]
کفار نے رسول کو اور تمہیں صرف اس لئے جلا وطن کیا کہ تم لوگ اپنے رب اللہ پر ایمان لائے۔ (سورۃ الممتحنہ:1)
کفار، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف اس لئے قتل کرنا چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہیں۔
[عن عمرو بن العاص رضی اللٰه عنہ قال: بینا النبی صلی اللٰه علیہ وسلم یصلی فی حجر الکعبۃ اذ اقبل عقبۃ ابن ابی معیط فوضع ثوبہٗ فی عنقہٖ فخنقہٗ خنقا شدیدا فاقبل ابوبکر رضی اللٰه عنہ حتٰی اخذ بمنکبہٖ و دفعہٗ عن النبی صلی اللٰه علیہ وسلم قال أ تقتلون رجلا ان یقول ربی اللٰہ]
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حطیم میں نماز پڑھ رہے تھے اتنے میں عقبہ بن ابی معیط آگے بڑھا اور اپنی چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں ڈال دی اور زور سے گھونٹنے لگا اتنے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور فرمایا ’’کیا تم ایک آدمی کو محض اس لئے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرارب اللہ ہے۔‘‘ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [صحیح البخاری:4815]