خاتم کا معنی
مذکورہ بالا سطور میں ”خاتم النبیین“ کا معنی بیان کر دیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تشریح کی کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ صحابہ وتابعین دائمہ محدثین رحمہ اللہ نے بھی یہی تشریح کی ہے اور اس پر امت کا اجماع ہے، لیکن اہل زیغ کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا کہ وہ الفاظ کے معانی و مطالب میں من مانیاں کرتے آئے ہیں۔
علامہ شاطبی رحمہ اللہ (790ھ) ایک جھوٹے مدعی نبوت کے بارے میں لکھتے ہیں :
لقد سمعت بعض طلبة ذلك البلد الذى احتله هذا البائس ، وهو مالقة، آخذا ينظر فى قوله تعالى : وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وهل يمكن تأويله؟ وجعل يطرق إليه الاحتمالات، ليسوع إمكان بعث نبي بعد محمد صلى الله عليه وسلم، وكان مقتل هذا المفتري على يد شيخ شيوخنا أبى جعفر بن الزبير رحمه الله .
”مالقہ شہر کے باسی ایک بد حال طالب علم کو میں نے سنا کہ وہ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ کی تاویل کرتا تھا۔ وہ اس میں معنوی احتمالات پیدا کرتا، تا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امکان نبوت کا جواز نکال لے۔ پھر اس مفتری کو ہمارے استاذ الاساتذہ ابو جعفر بن زبیر رحمہ اللہ نے قتل کر دیا۔“
(الاعتصام : 593/2)
اس خدشہ کے پیش نظر لفظ خاتم پر مزید بحث کی جارہی ہے، تا کہ اس کے معنی کی تمام پر تیں اتار کر اسے نتھار دیا جائے اور کوئی ملحد اس کے معنی کے بیان میں کجی نہ کر سکے۔
امام اللغہ، زجاج رحمہ اللہ (311ھ) لکھتے ہیں :
قرأت : وخاتم النبيين وخاتم النبيين .
فمن كسر التاء فمعناه ختم النبيين، ومن قرأ : وخاتم النبيين بفتح التاء ، فمعناه آخر النبيين، لا نبي بعده صلى الله عليه وسلم .
”خاتم النبین، تاء کے فتحہ (زبر) اور تاء کے کسرہ (زیر) کے ساتھ پڑھا گیا ہے، تاء کے کسرہ سے پڑھیں، تو معنی ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیا کا سلسلہ ختم کر دیا، اگر فتحہ کے ساتھ پڑھیں، تو معنی ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔“
(معاني القرآن وإعرابه : 230/4)
ابو منصور ازہری رحمہ اللہ (370ھ) لکھتے ہیں :
الختام والخاتم : قولك للرجل : هو كريم الطابع والطباع . قال : وتفسيره أن أحدهم إذا شرب وجد فى آخر كأسه ريح المسك . وقوله جل وعز : مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰـكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ معناه : آخر النبيين ، ومن أسمائه العاقب أيضا، معناه آخر الأنبياء .
”الختام اور خاتم خوش طبع اور نفیس مزاج شخص کو کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی پانی پئے، تو اپنے آخری پیالے میں کستوری کی خوش بو محسوس کرے۔ اللہ فرماتے ہیں : مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰـكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ اس کا معنی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمائے مبارکہ میں ایک نام ”عاقب“ بھی ہے، جس کے معنی آخری نبی کے ہیں۔“
(تهذيب اللغة : 138/7)
امام اللغة، ابومنصور ازہری رحمہ اللہ (370ھ) لکھتے ہیں :
من قرأ : وخاتم النبيين بالكسر، فمعناه : أنه ختم النبيين بنفسه، ومن قرأ : وخاتم النبيين فمعناه : آخر النبيين، لا نبي بعده .
”خاتم النبین کسرہ کے ساتھ پڑھیں، تو معنی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نبوت کو ختم کر دیا۔ تاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھیں، تو معنی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔“
(معاني القراءات : 284/2)
امام اللغۃ، ابوعلی فارسی رحمہ اللہ (377ھ) لکھتے ہیں :
أما قول الكسائي : خاتمه، فإن معناه : آخره، كما كان من قرأ : وَخَاتِمَ النَّبِيِّينَ كان معناه : آخرهم .
”امام کسائی کے قول خاتمہ کا معنی ہے کہ وہ سب سے آخر میں ہے، جیسا کہ بعض قرا کے مطابق وَخَاتِمَ النَّبِيِّينَ کا معنی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔“
(الحجة للقراء السبعة : 387/6)
لغوی امام ابو نصر جوہری رحمہ اللہ (398ھ) لکھتے ہیں :
خاتمة الشيء آخره، ومحمد صلى الله عليه وسلم خاتم الأنبياء عليهم الصلاة والسلام .
”خاتمتة الشئی کا معنی ہے کسی چیز کا آخر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔“
(الصحاح تاج اللغة وصحاح العربية : 1908/5)
امام اللغه، ابن فارس رحمہ اللہ (395ھ) لکھتے ہیں :
ختمت الشيء أختمه، إذا بلغت آخره، والنبي صلى الله عليه خاتم الأنبياء .
”باب ختم کا معنی ہوتا ہے آخری ہونا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔“
(مجمل اللغة ص : 313)
ابو عبد اللہ حلیمی رحمہ اللہ (403ھ) لکھتے ہیں :
أما الخاتم : فالذي لا نبي بعده، كما ليس بعد خاتمة الأمر منه شيء، وليس بعد ختم الكتاب بشر، ولا بعد ختم الكيس إخراج شيء منه، والله أعلم .
”خاتم وہ ہے، جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو، جیسا کہ کسی چیز کے ختم ہو جانے کے بعد کچھ باقی نہیں رہتا، کتاب کے ختم ہونے کے بعد اس میں کچھ نہیں رہتا اور برتن کے خالی ہو جانے کے بعد اس سے کچھ برآمد نہیں ہوسکتا۔“
(المنهاج في شعب الإيمان : 49/2)
علامہ ابو عمر ودانی رحمہ اللہ (444ھ) لکھتے ہیں :
فتح التاء على أن النبى صلى الله عليه وسلم هو الذى ختم به الأنبياء كما قرأه عاصم وكسره على أنه هو الذى ختمهم، فهو خاتمهم .
”تا کو فتحہ دیں، تو معنی ہوگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ انبیا کا سلسلہ ختم ہو گیا، یہ عاصم کی قرآت ہے۔ اگر تاء کو کسرہ دیں، تو معنی ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلسلہ نبوت کو ختم کر دیا۔“
(جامع البيان في القراءات السبع : 1495/4)
امام اللغه، ابن سیدہ رحمہ اللہ (458ھ) لکھتے ہیں :
ختم الشيء يختمه ختما : بلغ آخره، وخاتم كل شيء، وخاتمته : عاقبته وآخره، وختام القوم، وخاتمهم : آخرهم، عن اللحياني، وفي التنزيل وَ لٰـكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ، أى آخرهم .
”ختم الشيء، کا مطلب ہے: وہ چیز کے آخر تک پہنچ گیا۔ خاتم كل شيء، وخاتمته كا مطلب ہے : ہر چیز کا آخر اور انجام کار۔ وختام القوم، وخاتمهم کا مطلب ہے : آخری آدمی، قرآن مجید میں ہے : وَلٰـكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔“ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔“
(المحكم والمحيط الأعظم : 156/5)
نیز لکھتے ہیں :
أما قوله تعالى : وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ، فخاتم اسم فاعل من ختمهم أى صار آخرهم .
”خاتم النبیین کا معنی آخری نبی ہے۔ خاتم باب ختم سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔“
(المخصص : 231/1)
علامہ راغب اصفہانی رحمہ اللہ (502ھ) لکھتے ہیں:
وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ، لأنه ختم النبوة ، أى تممها بمجيبه
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ہیں، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کو ختم کر دیا، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے نبوت تمام ہوئی۔“
(المفردات في غريب القرآن ص : 275)
لغوی امام، ابن منظور افریقی رحمہ اللہ (711ھ) لکھتے ہیں :
ختم الشيء يختمه ختما بلغ آخره، وختم الله له بخير، وخاتم كل شيء وخاتمته : عاقبته وآخره، واختتمت الشيء نقيض افتتحته ، وخاتمة السورة آخرها .
”باب ختم کا معنی ہے، آخری ہونا۔ اللہ نے اس کا خاتمہ بالخیر فرمایا۔ خاتم کا معنی سب سے آخر میں آنے والا، اختتام، افتتاح کے مقابلے میں آتا ہے۔ سورت کے اختتام کا مطلب سورت کا آخر ہوتا ہے۔“
(لسان العرب : 164/12)
نیز لکھتے ہیں :
مثل الخاتم والختام قولك للرجل : هو كريم الطابع والطباع، قال : وتفسيره أن أحدهم إذا شرب وجد آخر كأسه ريح المسك، وختام الوادي : أقصاه، وختام القوم وخاتمهم وخاتمهم : آخرهم، عن اللحياني، ومحمد صلى الله عليه وسلم خاتم الأنبياء، عليه وعليهم الصلاة والسلام .
”الختام اور خاتم ، خوش طبع آدمی کے لئے بولا جاتا ہے۔ اس کی تفسیر یہ ہے کہ جب کوئی پانی پئے، تو اپنے آخری گھونٹ میں کستوری کی خوشبو محسوس کرے۔ ختام الوادي سے مراد وادی کا آخری حصہ ہے۔ ختام القوم وخاتمهم وخاتمهم سے مراد قوم کا آخری فرد ہے۔ لحیانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ “
(لسان العرب : 164/12)
علامہ طیبی رحمہ اللہ (743ھ) لکھتے ہیں :
الخاتم من ختمت الشيء إذا أتممته وبلغت آخره، وخاتمة الشيء وختامه : آخره، ومنه ختم القرآن، سمي صلى الله عليه وسلم خاتم النبيين، لأنه آخرهم فى البعثة إلى الخلق، وإن كان فى الفضل أولا .
”لغت عرب میں ایک جملہ بولا جاتا ہے : ختمت الشيء، جس کا مطلب ہے کہ میں نے فلاں چیز ختم کر دی اور اس کی انتہا کو پہنچ گیا، خاتم بھی اسی خاندان کا لفظ ہے۔ اسی طرح خاتمة الشيء وختامه کا مطلب ہے : کسی چیز کا آخر، ختم قرآن بھی اسی قبیل سے ہے، یعنی قرآن مکمل ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام خاتم النبیین اسی باعث رکھا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گو کہ فضیلت میں سب سے اول ہیں لیکن بعثت میں سب سے آخری ہیں۔“
(شرح المشكاة للطيبي : 3686/12)
مشہور لغوی، علامہ ابو طاہر محمد بن یعقوب فیروز آبادی رحمہ اللہ (817ھ) لکھتے ہیں :
وخاتم النبيين لأنه ختم النبوة أى تممها بمجيئه .
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، کیوں کہ آپ نے نبوت کو ختم کر دیا، یعنی آپ کی آمد سے سلسلہ نبوت مکمل ہو گیا۔“
(بصائر ذوي التمييز في لطائف الكتاب العزيز : 527/2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) لکھتے ہیں :
وخاتم النبيين أى آخرهم .
”خاتم النبیین سے مراد آخری نبی ہے۔“
(ہدی الساری ص : 110)
حافظ سیوطی رحمہ اللہ (911ھ) لکھتے ہیں :
قوله تعالى : وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ، فيه أنه لا نبي بعده، وأن من ادعى النبوة بعده قطع بكذبه .
”اللہ تعالیٰ کے فرمان : وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ کا معنی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، آپ کے بعد نبوت کا دعوی کرنے والا قطعا جھوٹا ہوگا۔“
(الإكليل في استنباط التنزيل : 212)
ابوالیمن علمی رحمہ اللہ (928ھ) لکھتے ہیں :
ختم النبيين ، فهو خاتمهم، أى لا ينبأ نبي بعده أبدا، وإن نزل عيسى بعده، فهو ممن نبا قبله، ولانه ينزل بشريعته، ويصلي إلى قبلته، فكأنه من أمته .
”ختم النبیین کا معنی خاتم النبیین ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ آپ کے بعد کسی کو بھی نبوت نہیں دی جائے گی، اگرچہ سیدنا عیسی علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نازل ہوں گے لیکن ان کو نبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مل گئی تھی، اب وہ آپ کی شریعت کے پیرو بن کر تشریف لائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں گے، گویا ایک امتی کی طرح نازل ہوں گے۔“
(فتح الرحمان في تفسير القرآن : 370/5)
علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ (974ھ) لکھتے ہیں :
وَخَاتِمَ النَّبِيِّينَ بكسر التاء بمعنى أنه ختمهم أى جاء آخرهم، فلا نبي بعده، أى لا يتنبا أحد بعده، ونزول عيسى آخر الزمان، إنما هو بشريعة محمد صلى الله عليه وسلم، حكما مقسطا، عاملا بها، مصليا إلى قبلته، مستمدا من القرآن والسنة، وبفتحها بمعنى أنهم ختموا به، فهو الطابع والخاتم لهم .
”وَخَاتِمَ النَّبِيِّينَ اسے اگر تاء کے کسرہ سے پڑھیں، تو معنی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کو ختم کر دیا، آپ آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی، البتہ آخر زمانے میں سیدنا عیسی علیہ السلام کا نزول ہوگا، جو شریعت مصطفوی کے پیروکار، حاکم اور عادل بن کر آئیں گے۔ امت محمدیہ کے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز ادا کریں گے، قرآن و سنت سے استدلال کریں گے۔ اور اگر تاء کے فتحہ سے پڑھیں، تو معنی یہ ہوگا کہ ان کے بعد نبوت ختم کر دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مہر ہیں اور اس کو ختم کرنے والے ہیں۔“
(أشرف الوسائل ص : 57)
ملا علی بن سلطان محمد قاری حنفی رحمہ اللہ (1014ھ) لکھتے ہیں :
الحاصل أن كسر التاء بمعنى أنه ختمهم، أى جاء آخرهم، فلا نبي بعده، أى لا يتنبأ أحد بعده، فلا ينافي نزول عيسى عليه السلام متابعا لشريعته، مستمدا من القرآن والسنة، وأما فتح التاء؛ فمعناه أنهم به ختموا، فهو الطابع والخاتم لهم .
”حاصل کلام یہ ہے کہ تاء کے کسرہ کے ساتھ (خاتِم پڑھا جائے، تو) معنی یہ ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیا کا سلسلہ ختم کر دیا، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کے آخر میں آئے اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ عیسی علیہ السلام کا زمین پر اتر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے تابع ہونا اور قرآن و سنت سے استفادہ کرنا ختم نبوت کے منافی نہیں۔ اگر تاء پر فتحہ (خاتَم) ہو تو معنی ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ انبیا کا سلسلہ ختم ہو گیا، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے مہر ہیں۔“
(جمع الوسائل في شرح الشمائل : 27/1)
مرتضی زبیدی رحمہ اللہ (1205ھ) لکھتے ہیں :
الخاتم : آخر القوم كالخاتم، ومنه قوله تعالى : وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ أى آخرهم .
”خَاتِم اور خَاتَم دونوں ہم معنی ہیں : قوم کا آخری فرد، اسی سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔“
(تاج العروس ، مادة خ ت م)