مضمون کے اہم نکات
جماعت اسلامی اور اُس کے بانی
بقلم: حکیم ابوالحسن عبید اللہ خاں رحمانی
① محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی و رسول ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کوئی دوسرا نبی یا رسول نہ آئے گا۔
② اُمّتِ مسلمہ جسے قرآن میں "خیر امت” و "امة وسطا” اور "شھداء علی الناس” قرار دیا گیا ہے۔ یہ آخری نبی کی آخری اُمّت ہے جس کے بعد قیامت تک کوئی دینی اُمّت بھی نہ ہوگی۔ (کیونکہ کسی نئی اُمّت کی تشکیل کوئی نیا نبی ہی کر سکتا ہے اور وہ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوسرا کوئی ہو نہیں سکتا لہٰذا کوئی دوسری دینی اُمّت بھی اب قیامت تک قائم نہیں ہو سکتی)۔
③ قرآنِ پاک لفظاً و معنیً ہمیشہ کے لئے تحریف و تبدیل سے محفوظ کر دیا گیا ہے۔
❀ [اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ]
بے شک ہمیں نے اس نصیحت کو نازل کرنے والے اور یقیناً ہم ہی ہمیشہ اس کی حفاظت کرتے رہیں گے۔ [سورۃ الحجر:9]
④ جس طرح قرآنِ پاک کے الفاظ و معانی کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ پاک نے لے رکھی ہے اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل و تقریر سے قرآن کی تشریح و توضیح کی ذمہ داری بھی خود حق تعالیٰ نے لے لی ہے۔
❀ [ثُمَّ اِنَّ عَلَیۡنَا بَیَانَہٗ] پھر اس قرآن کے شرح و بیان کی ذمہ داری بھی ہمیں پر ہے۔ [سورۃ القیامۃ:19]
⑤ تا قیامِ قیامت، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کے تسلسل کے ساتھ اُمّتِ مسلمہ اور اسلام کے تسلسل کو مربوط کر دیا گیا ہے (یعنی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت، وقتِ بعثت سے صبحِ قیامت تک پورے تسلسل کے ساتھ باقی رہے گی، اسی طرح آپ کا لایا ہوا دین، آپ کی قائم کردہ اُمّتِ مسلمہ بھی ہر دور میں، ہمہ وقت پورے تسلسل کے ساتھ قائم رہے گی تاکہ "شھداء علی الناس” کے مقصد کی انجام دہی ہو سکے۔
❀ [لا یزال من امتی امة قائمة بامر اللہ لا یضرھم من خذلھم حتٰی یاتی امر اللہ وھم علٰی ذٰلک]
برابر میری اُمّت کا ایک طبقہ اللہ کے دین پر قائم رہے گا۔ جو لوگ ان کا ساتھ چھوڑیں گے وہ انہیں کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ قیامت آ جائے اور وہ جماعت برابر اسی دین پر قائم رہے گی۔ [صحیح البخاری:3641]،[صحیح المسلم:1037]
❀ [لا یزال ناس من امتی ظاھرین حتٰی یاتیھم امر اللہ وھم ظاھرون]
میری اُمّت کے کچھ لوگ برابر غالب اور سربلند رہیں گے اور اللہ کے حکم یعنی قیامت آنے تک ان کی کامیابی و سربلندی قائم رہے گی۔ (صحیح البخاری:7311)
❀ [لا تزال طائفة من امتی منصورین لا یضرھم من خذلھم حتٰی تقوم الساعة]
میری اُمت میں ایک گروہ برابر کامیاب و بامراد رہے گا اور ان کا ساتھ نہ دینے والے ان کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور یہ صورتِ حال برابر قیامت تک جاری رہے گی۔ (جامع الترمذی:2192)
❀ [لا تزال طائفة من أمتي قوامة على أمر الله لا يضرها من خالفها]
میری اُمت میں ایک گروہ، برابر پوری شدت کے ساتھ دین پر قائم رہے گا اور اس کے مخالف اس کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ (سنن ابن ماجہ:7)
❀ [لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق حتى تقوم الساعة]
میری اُمت کا ایک گروہ حق کے سلسلے میں ہمیشہ کامیاب و فتح یاب رہے گا۔ یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی۔ (مستدرک حاکم:8389)
❀ [يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلين]
ہر پچھلے دور کے لوگوں میں سے اس کے عادل لوگ ہوتے رہیں گے جو دین میں غلو کرنے والوں کی تحریف، اہل باطل کی دروغ گوئی اور جاہلوں کی جاہلانہ تاویلات کو دین سے برابر دور کرتے رہیں گے۔ [الشريعة للآجري:1/269]
⑥ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ظہور کے بعد صرف آپ کے اتباع کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے۔ باقی نیا دین گڑھنے، نئی شریعتیں ایجاد کرنے اور نئی نئی اُمتیں بنانے کی تمام راہیں قیامت تک کے لئے مسدود کر دی گئی ہیں، جیسا کہ ملتِ اسلامیہ کے مسجدوں اور منبروں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تاریخی اعلان چودہ سو سال سے دہرایا جا رہا ہے۔
❀ [ألا إن خير الحديث كتاب الله وخير الهدي هدي محمد وشر الأمور محدثاتها وكل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة وكل ضلالة في النار]
آگاہ رہو! سب سے بہتر کتاب اللہ کی کتاب ہے اور سب سے بہتر سیرت و اسوہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور سب سے بُری چیز وہ ہے جو دین میں نئی نکالی گئی ہو اور دین کی ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔
❀ [لو كان موسى حيا ما وسعه إلا اتباعي] اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری پیروی کے بغیر چارہ کار نہ تھا۔ [مسند احمد:15156]
❀ [والذي نفسي بيده لو بدا لكم موسى فاتبعتموه وتركتموني لضللتم عن سواء السبيل]
قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تمہارے لئے موسیٰ ظاہر ہوں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی پیروی کرنے لگ جاؤ تو یقیناً تم راہِ راست سے بھٹک جاؤ گے۔ [مسند الدارمي:1/182 الرقم441]
مذکورہ بالا چھ نکات مسئلہ ختمِ رسالت و نبوت سے قریبی تعلق رکھتے ہیں بلکہ ان کی حیثیت ختمِ رسالت کے لئے مبنی اور موقوف علیہ کی ہے لہٰذا ان نکات پر مکمل اتفاق کے بعد اب کیا فرماتے ہیں علمائے اُمت اس مسئلہ میں کہ اگر اُس اُمت کا کوئی فرد یا جماعت کھلے بندوں اس بات کا اعلان کر دے کہ قرآنِ حکیم اپنے نزول کے تھوڑے ہی عرصے بعد (خلافتِ راشدہ کے بعد) دنیا بھر کے لئے ناقابلِ فہم بن گیا تھا اور ‘الہ’ و ‘رب’، ‘دین’، و ‘عبادت’، جیسے کلیدی الفاظ کے صحیح مفہوم سے نا آشنائی کی وجہ سے تقریباً تین چوتھائی قرآن معطل اور ناقابلِ فہم ہو کر رہ گیا تھا اور مسلسل بارہ تیرہ صدیوں تک یہی حالت قائم رہی کہ دین اور عبادت کا صحیح مفہوم تک سمجھا نہ جا سکا۔ پھر شخصِ مذکور نے پورے تیرہ سو سال بعد ظاہر ہو کر دنیا کے سامنے قرآن کے ان کلیدی الفاظ کے حقیقی مفہوم کو پیش کر دیا جیسا کہ نزولِ قرآن کے وقت ان الفاظ سے یہ معانی مُراد لئے جاتے تھے۔
(قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں: مصنّفہ ابوالاعلیٰ مودودی)
پھر یہی شخص اُمّتِ مسلمہ کے متوارث و متداول دین کو [مَا اَلْفَیْنَا عَلَیْہِ اٰبَاءَنَا] کا مصداق قرار دیتے ہوئے، اپنے شخصی و ذاتی فہمِ قرآن کی بنیاد پر دین کا ایک نیا مفہوم متعین کرتا ہے کہ دین موجودہ دور کی ریاستِ کلی کا نام ہے اور پھر اسی مفروضہ کی بنیاد پر۔۔۔۔ ایک نئی اسلامی اُمّت کی تشکیل کرتا ہے۔ اور پھر اپنے خود ساختہ دین و اُمّت کے استقلال کا دعویٰ کرتے ہوئے پوری اُمّتِ مسلمہ کو یہ چیلنج کرتا ہے کہ یا تو وہ اس کے پیش کردہ دین و اُمّت سے پوری طرح ہم آہنگ ہو جائے یا پھر اسے ردّ کر کے وہی پوزیشن اختیار کر لے جس پر مغضوب علیہم یہود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو ردّ کر کے پہنچ گئے تھے۔
اب اس مدعی کا دعویٰ خود اس کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں:
"ایک وقت تھا کہ میں خود بھی روایتی و نسلی مذہبیت کا قائل تھا اور اس پر عمل پیرا تھا۔ پھر جب ہوش آیا تو محسوس ہوا کہ اس طرح محض [مَا اَلْفَیْنَا عَلَیْہِ اٰبَاءَنَا] کی پیروی ایک بے معنی چیز ہے۔ آخر میں نے کتاب اللہ اور سُنّتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف توجہ کی۔ اسلام کو سمجھا اور اس پر ایمان لایا۔ پھر آہستہ آہستہ اسلام کے مجموعی اور تفصیلی نظام کو سمجھنے اور معلوم کرنے کی کوشش کی۔ جب اس طرف سے اللہ پاک نے دل کو مطمئن کر دیا تو جس حق پر خود ایمان لایا تھا اس کی طرف دوسروں کو بھی دعوت کا سلسلہ شروع کر دیا۔”
(رودادِ جماعتِ اسلامی: حصہ اول ص 5-6)
شخصِ مذکور اور صاف اعتراف ہے کہ اس کا اختیار کردہ مذہب قرآن و سُنّت میں اس کی ذاتی فکر کا نتیجہ ہے اور جس مذہبیت کو [مَا اَلْفَیْنَا عَلَیْہِ اٰبَاءَنَا] کا مصداق قرار دے کر ترک کر دیا ہے وہ اُمّتِ مسلمہ کا متوارث اور متداول دین ہے جس کی پیروی قرآن کے بموجب [اتّباع سبیل المؤمنین] کے سوا کچھ نہیں ہو سکتی۔ گویا قرآن کی تفسیرِ بالرائے کرنے والے اس شخص کے نزدیک اُمّتِ مسلمہ کا متداول و متوارث دین اور کفار و مشرکین کا متوارث دین دونوں ایک ہی حیثیت رکھتے ہیں۔
اُمّتِ مسلمہ کا متوارث و متداول دین جو دورِ رسالت، دورِ صحابہؓ، دورِ تابعینؒ اور دورِ ائمہ سلف، فقہاء و محدّثین و مجتہدین سے لے کر آج تک پوری اُمّتِ مسلمہ کے مابین بالکل یکساں طور پر مسلم و معتمد ہے اور ان شاء اللہ قیامت تک اسی طرح مسلم و متفق علیہ رہے گا، وہ تو توحیدِ خدا (کلمہ شہادت)، روزہ، نماز، حج، زکوٰۃ، ایمان بااللہ، ایمان بالرسالت، ایمان بالکتب، ایمان بالملائکہ اور ایمان بالآخرت کے سوا کچھ نہیں ہے اور اس متوارث دین کو ردّ کر کے شخصِ مذکور نے جس دین کو بظاہر خود دریافت کیا ہے اس کی حقیقت اس کے نزدیک ریاستِ کلی اور حکومتِ قاہرہ کا قیام ہے اور اُمّتِ مسلمہ کا متوارث و متداول دین اس کی نظر و تحقیق میں صرف اصل دین (ان کے مخترع دین) کے قیام کا ایک ذریعہ ہے۔
اس سلسلہ میں بھی اس کا ایک دعویٰ ملاحظہ فرمائیں:
"کہ اگر یہ جملہ عبادات جو صرف ذرائع کی حیثیت میں ہیں۔ اگر اصولِ قیامِ حکومت کے واحد نصب العین سے علیحدہ ہو کر کام کرتے ہیں تو عند اللہ ان کا کوئی اجر نہ ہو گا”۔ (تجدید و احیاء دین: ص 24)،(رودادِ جماعتِ اسلامی حصہ سوم ص 32)
اب اپنے نئے دریافت کردہ دین اور اس کی بنیاد پر نئی تشکیل کردہ اُمت کے استقلال کا دعویٰ کرتے ہوئے یہ مدعی اُمتِ مسلمہ کو ان الفاظ میں چیلنج کرتا ہے:
"اس موقع پر میں نہایت وضاحت کے ساتھ ایک بات کہہ دینا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ اس قسم کی دعوت کا، جیسے کہ ہماری دعوت ہے، کسی مسلمان قوم میں اٹھنا اس کو ایک بڑی بات سخت آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔ جب تک حق کے بعض منتشر اجزاء باطل کی آمیزش کے ساتھ سامنے آتے ہیں، ایک مسلمان قوم کے لئے اسے قبول نہ کرنے اور اس کا ساتھ نہ دینے کا ایک معقول عذر موجود ہوتا رہتا ہے۔ مگر جب پورا حق بے نقاب ہو کر اپنی خالص صورت میں، اس کے سامنے رکھ دیا جائے اور اس کی طرف اسلام کا دعویٰ رکھنے والی قوم کو دعوت دی جائے تو اس کے لئے ناگزیر ہو جاتا ہے کہ یا تو اس کا ساتھ دے اور اس خدمت کو انجام دینے کے لئے کھڑی ہو جائے، جو اس اُمتِ مسلمہ کی پیدائش کی ایک ہی غرض ہے، یا نہیں تو اسے رد کر کے وہی پوزیشن اختیار کرنی پڑیگی۔ جو اس سے پہلے قومِ یہود اختیار کر چکی ہے۔ اس صورت میں ان دو راہوں کے سوا کسی تیسری راہ کی گنجائش اس کے لئے باقی نہیں رہتی۔”
[رودادِ جماعتِ اسلامی: حصہ دوم ص17]
معلوم ہوا کہ اس سے قبل مجددین و مصلحینِ دین و اُمت نے تیرہ صدیوں تک جو دینی تحریکیں چلائی ہیں وہ حقِ صریح پر مبنی نہ تھیں بلکہ حق و باطل کا آمیزہ تھیں "جیسا کہ ایک نبی کے بعد دوسرے نبی کی آمد سے قبل حق و باطل کا باہمی اختلاط ہو جایا کرتا ہے اور پھر دوسرا نبی آ کر حق کو بے نقاب اور باطل کی آمیزش سے پاک و صاف کر دیتا ہے”۔ اسی لئے اُمت ان سابقہ دینی تحریکوں کو رد کرنے کے باعث مواخذۂ خداوندی سے اب تک بچتی چلی گئی لیکن آج جبکہ شخصِ مذکور نے حق کو باطل کی آمیزش سے بالکل پاک و صاف کر دیا اور اسے حجابِ باطل ہٹا کر بے نقاب کر دیا ہے تو اب اُمت اسے رد کرنے کے بعد مواخذۂ خداوندی سے اسی طرح نہیں بچ سکتی جس طرح قومِ یہود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو رد کر کے نہ بچ سکی۔
آگے چند سطروں بعد مزید لکھتا ہے:
"اب چونکہ یہ دعوت ہندوستان میں اٹھ چکی ہے اس لئے ہندی مسلمانوں کے لئے آزمائش کا وہ لمحہ آ ہی گیا۔ رہے دوسرے ممالک کے مسلمان تو ہم ان تک اپنی دعوت کو پہنچانے کی تیاری کر رہے ہیں، اگر ہمیں اس کوشش میں کامیابی ہو گئی تو جہاں جہاں یہ پہنچے گی تو وہاں کے مسلمان بھی اس آزمائش میں پڑ جائیں گے۔”
(رودادِ جماعتِ اسلامی: حصہ دوم ص 18)
مندرجہ بالا سطور میں آزمائش کے لفظ سے اس "سنۃ اللہ” کی طرف اشارہ ہے جو عذابِ اُمتِ دعوت پر انبیاء کی دعوت کو رد کرنے سے آ جاتا ہے وہی عذاب اس مدعی کی دعوت کو رد کرنے سے آ جاتا ہے وہی عذاب اس مدعی کی دعوت کو رد کرنے سے اُمّتِ مسلمہ پر آ جائے گا۔
اس شخص کی اُمّتِ مسلمہ کو یہ وعید مرزا غلام احمد قادیانی اور بہاء اللہ ایرانی کی اس وعید سے ذرہ برابر مختلف نہیں ہے جس میں ان دونوں نے اُمّتِ مسلمہ کو یہ دھمکی دی تھی کہ اگر ان کی دینی تشریحات کو وہ حرف بہ حرف قبول نہ کرے گی تو خدا کے دین سے اسے کوئی واسطہ نہ ہوگا۔
نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو خدا نے کافر و مشرک اُمت کے لئے عذاب کی تمنا سے یہ کہہ کر روک دیا تھا۔
[لَیۡسَ لَکَ مِنَ الۡاَمۡرِ شَیۡءٌ اَوۡ یَتُوۡبَ عَلَیۡہِمۡ اَوۡ یُعَذِّبَہُمۡ فَاِنَّہُمۡ ظٰلِمُوۡنَ]
آپ کو ان کے عذاب کے سلسلے میں کوئی اختیار نہیں، خدا ان پر رجوع بالرحمت ہو یا انھیں عذاب کرے کہ وہ ظالم ہیں۔
[سورۃ آل عمران:128]
لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس مدعی کو خدا کی طرف سے عذاب کی وحی پہنچ گئی ہے۔
شخصِ مذکور نے صرف رسالت و نبوت کے کھلے دعویٰ سے احتراز کیا ہے ورنہ ایسی وعیدیں سناتے وقت وہ کس مقام سے گفتگو کرتا ہے یا بالکل عیاں ہے۔
ایک مقام پر یہ شخص تحریر کرتا ہے:
"اس وقت ہمیں خاص طور پر ایسے لوگوں کی تلاش ہے جو خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا اور صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی طرح اس دعوتِ حق کو سنیں اور سرتاپا اس میں شریک ہو جائیں گویا وہ اب تک اس کی تلاش میں تھے۔” (رودادِ جماعتِ اسلامی: حصہ سوم ص 23)
غور کریں کہ جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے متبعین اپنی جماعت کے لئے تلاش کر رہا ہو خود اس کی نظر میں اس کا مقام کیا ہوگا؟
اب چونکہ دنیا بھر میں پچاس کروڑ سے زائد اُمّتِ اسلامیہ اس شخص کے حلقۂ عقیدت سے باہر ہے لہٰذا وہ بالکل مغضوبِ یہود کا مقام رکھتی ہے اور اس کے چند ہزار متبعین منعم علیہم گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس شخص نے قطعی طور پر اپنی مٹھی بھر جماعت اور اُمّتِ اسلامیہ کے درمیان وہی فرق رکھا ہے جو یہود و نصاریٰ اور اُمّتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہے۔