مسئلہ ایک لفظ کے استثنا کا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : أنا خاتم النبيين ، لا نبي بعدي، إلا أن يشاء الله .
”میں خاتم النبيين ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں مگر جسے اللہ چاہے۔“
امام جورقانی رحمہ اللہ (543ھ) لکھتے ہیں :
هذا استثناء موضوع باطل لا أصل له من حديث أنس ولا حميد، وإنما هو من موضوعات محمد بن سعيد الشامي، المصلوب فى الزندقة، وكان لعنه الله وضاعا كذابا ، فوضع هذا الاستثناء فى هذا الحديث، ودعا الناس إليه، حدثهم يه ليوقع فى قلوبهم الشك، وهذا الاستثناء عند المسلمين كفر وإلحاد وزندقة .
”یہ استثنا من گھڑت ہے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث سے یا حمید طویل رحمہ اللہ کی حدیث سے اس کی کوئی اصل موجود نہیں، یہ محمد بن سعید شامی کی من گھڑت روایات میں سے ہے، محمد بن سعید وضاع اور کذاب تھا، اسے زندیقیت کی پاداش میں پھانسی دی گئی تھی، اس پر اللہ کی لعنت ہو، اس نے یہ استثناء گھڑ کر لوگوں میں اس کی تبلیغ شروع کر دی، مقصد ان کے دلوں میں تشکیک کے بیج بونا تھا، مسلمان اس استثناء کو کفر، الحاد اور زندیقیت سے تعبیر کرتے ہیں۔“
(الأباطيل والمناكير والصحاح والمشاهير: 261/1)
امام حاکم رحمہ اللہ (405ھ) فرماتے ہیں :
وضع هذا الاستثناء لما كان يدعوا إليه من الإلحاد والزنادقة والدعوة إلى المتنبي .
”یہ ایک جھوٹے نبی کا متبع اور ملحد و زندیق تھا، اس لئے اس نے یہ استثناء گھڑ لیا۔“
(المدخل إلى كتاب الإكليل ص : 52)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) لکھتے ہیں :
مما وضع المصلوب على حميد عن أنس : لا نبي بعدي إلا أن يشاء الله .
”حمید عن انس کی سند سے مصلوب کی موضوعات میں یہ روایت بھی شامل ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں مگر جسے اللہ چاہے۔“
(المغني في الضعفاء : 5553)
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) لکھتے ہیں :
هذا الاستثناء موضوع وضعه محمد بن سعيد .
”یہ استثنا من گھڑت ہے، جسے محمد بن سعید نے گھڑ لیا ہے۔“
(الموضوعات : 279/1)
حافظ ابو زرعہ ابن العراقی رحمہ اللہ (826ھ) لکھتے ہیں :
أما كون نبينا صلى الله عليه وسلم خاتم النبيين، فهو منصوص عليه فى التنزيل، وقال هو : لا نبي بعد بعدي، وهو ثابت فى الصحيحين، وفي تهذيب الآثار لمحمد بن جرير الطبري : لا نبي بعدي إن شاء الله، وهذه الريادة موضوعة، وضعها محمد بن سعيد المصلوب كما قاله الحاكم فى الإكليل، ولو صحت لكان هذا الاستثناء لأجل عيسى، فإن نبوته لم تنقط، وإن كانت شريعته قد نسخت، وتأولها ابن عبد البر فى التمهيد على الرؤيا؛ لأنه لم يبق بعده من أجزاء النبوة غيرها .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت منصوص من اللہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے بعد کوئی نبی نہیں، یہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث ہے، محمد بن جریر طبری رحمہ اللہ کی تہذیب الآثار میں ایک روایت کے الفاظ ہیں : میرے بعد کوئی نبی نہیں، مگر جسے اللہ چاہے۔ یہ اضافہ من گھڑت ہے، جسے محمد بن سعید مصلوب نے گھڑا ہے، اس کی وضاحت امام حاکم رحمہ اللہ نے اکلیل میں کر دی ہے۔ اگر یہ اضافہ صحیح ہوتا، تو بھی اس استثنا کا تعلق نزول عیسی علیہ السلام سے ہوتا، کیوں کہ وہ نبی ہی ہیں، گو کہ ان کی شریعت منسوخ ہو چکی ہے۔ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ نے التمہید میں ان الفاظ کا معنی خواب کیا ہے، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اجزائے نبوت سے صرف خواب ہی باقی ہیں۔“
(الغيث الهامع شرح جمع الجوامع ص : 765)