کیا خاتم النبیین کا معنی افضل یا فضیلت والا نبی ہے؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری کی کتاب ختم نبوت سے ماخوذ ہے۔

کیا خاتم النبیین کا معنی افضل یا فضیلت والا نبی ہے؟

بعض جگہوں پہ خاتم الشعراء، خاتم الکرام، خاتمۃ المجاہدین، خاتمۃ الحفاظ، خاتمۃ الفقہاء، خاتمۃ المحدثین اور آخر الشعراء وغیرہ کے القاب استعمال ہوئے ہیں، اس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ خاتم اور آخر سے مراد آخری نہیں بلکہ فضیلت والا ہوتا ہے۔
لیکن یہ استدلال بالکل غلط اور لغت عرب سے ناواقفی پر دلالت کناں ہے، ہر لفظ کا ایک ظاہری معنی ہوتا ہے اور ایک مجازی۔
خاتم کا حقیقی معنی آخری ہے اور مجازا اس میں کئی معانی داخل ہیں، اب قرائن بتائیں گے کہ مجازی معنی کب مراد لیا جائے اور حقیقی معنی کب مراد لیا جائے؟ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاتم کا حقیقی معنی مراد لیا ہے، فرمایا : لا نبي بعدي ”میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“ مزید فرمایا : ذهبت النبوة ”سلسلہ نبوت ختم ہے۔“ نیز فرمایا : إن الرسالة والنبوة قد انقطعت ”نبوت اور رسالت منقطع ہو چکی ہے۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصریحات واضح کرتی ہیں کہ خاتم سے مراد آخری نبی ہی ہے۔ اسی طرح اجماع صحابہ، اجماع امت اور ائمہ لغت سب کہتے ہیں کہ خاتم النبیین سے مراد آخری نبی ہے، جس کے بعد کوئی نبی نہیں، جیسا کہ ہم بیان کر آئے ہیں۔
لہذا ظلی، بروزی، امتی، خلیفہ نبی اور غیر مستقل نبی وغیرہ کی بے بنیاد اصطلاحات قرآن، حدیث اور اجماع امت کے خلاف ہیں۔

کیا خاتم فضیلت کے معنی میں ہے ؟

مفسر رازی رحمہ اللہ (606ھ) لکھتے ہیں :
عند هذه الدرجة فازوا بالخلع الأربعة، الوجود والحياة والقدرة والعقل، فالعقل خاتم الكل والخاتم يجب أن يكون أفضل ألا ترى أن رسولنا صلى الله عليه وسلم لما كان خاتم النبيين كان أفضل الأنبياء عليهم والإنسان لما كان خاتم المخلوقات الجسمانية كان أفضلها .
”اس درجہ میں انسان چار صفات، وجود، حیات، قدرت اور عقل پاکر تمام مخلوقات سے فائز ہوا، عقل سب سے آخر میں ملی اور آخر میں ملنے سے لازم آتا ہے کہ وہ پہلی تمام صفات سے افضل بھی ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، لہذا سب انبیا سے افضل بھی ہیں۔ انسان جسمانی مخلوقات میں سب سے آخری ہے، لہذا وہ سب مخلوقات جسمانیہ سے افضل بھی ہے۔“
(تفسیر الرازی : 31/22)
مفسر رازی ایک بحث کرتے ہیں، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ سب سے پہلے جمادات تھیں، پھر جمادات سے حیوانات پیدا ہوئے، جمادات میں صرف ایک صفت تھی، یعنی وجود۔ حیوانات پیدا ہوئے، تو ان میں صفت وجود تو تھی ہی، صفت حیات زائد مل گئی، لہذا ان میں دو صفات ہو گئیں: وجود اور حیات۔
جب ایک صفت کا اضافہ ہوا، تو یقیناً حیوانات جمادات سے افضل ہوئے۔ پھر بعض حیوانات کو قدرت بھی دے دی گئی، یہاں حیوانات دو قسموں میں تقسیم ہو گئے : وہ جن میں وجود اور حیات کی صفات تھیں۔ وہ، جن میں وجود و حیات کے ساتھ قدرت کی بھی صفت تھی۔ تو یقینا دوسری قسم پہلی سے افضل ہے، کیوں کہ انہیں صفت قدرت زائد ملی ہے۔ پھر بعض حیوانات کو عقل بھی دے دی گئی۔
اب حیوانات میں صفات کے لحاظ سے تین قسمیں ہوئیں : وجود اور حیات۔ وجود، حیات اور قدرت۔ وجود، حیات، قدرت اور عقل۔
یہاں وہ لکھتے ہیں کہ چونکہ عقل سب سے آخر میں ملی، اسی لئے وہ سب سے افضل بھی ہے۔ صفت حیات کا اختتام عقل پر ہوا، جس کی وجہ سے عقل سب سے افضل رہی، یعنی کسی چیز کے آخر میں آنے کو اس کا افضل ہونا لازم ہے۔
مفسر رازی کی اگلی عبارت پر غور کیجئے :
والإنسان لما كان خاتم المخلوقات الجسمانية كان أفضلها .
”جب انسان جسمانی مخلوقات میں سب سے آخر میں آیا ہے، تو لازما وہ ان میں سب سے افضل ہے۔“
اسی طرح جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء علیہم السلام میں سب سے آخر میں آئے ہیں، تو یقیناً سب سے افضل بھی ہیں، تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ خاتمیت سے افضلیت لازم آتی ہے، اس کا معنی یہ نہیں کہ خاتم کا معنی افضل ہے۔
خاتم کا معنی آخری ہونا، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے، فرمایا : لا نبي بعدي ”میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“
اہل لغت کا اجماع ہے کہ خاتم سے مراد آخری ہوتا ہے، اسی طرح امت محمدیہ کا اتفاق ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے امتی نبی، ظلی نبی، بروزی نبی اور غیر مستقل نبی ہونے کا عقیدہ رکھے، وہ بالاتفاق کافر ہے۔
علامہ بکیر بن نجم الدین ناصری حنفی رحمہ اللہ (652ھ) لکھتے ہیں :
صرح فقهاء الملة رحمهم الله بكونه خاتما، حسما لدعوى المتنبئين والدجالين، ولهذا المعنى قال مشايخنا رحمهم الله : إذا ادعى أحد بعد نبينا محمد صلوات الله عليه النبوة لا يقال له : ما آيتك على ما تدعي، بل يقابل بالتكذيب والر، لقيام الأدلة القاطعة على أنه لا نبي بعد محمد صلوات الله عليه، فثبت أن من ادعى النبوة، فهو كذاب دجال .
”فقہائے امت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم ہونے کی صراحت کی ہے، تاکہ دجال اور نبوت کے جھوٹے دعویداروں کے لیے گنجائش ہی باقی نہ رہے، اسی لیے ہمارے مشایخ کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر کوئی نبوت کا دعوی کرتا ہے، تو اس سے دلیل طلب نہیں کی جائے گی، بلکہ اس کا رد اور تکذیب کی جائے گی، کیوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت نہ ہونے پر قطعی دلائل موجود ہیں، پس ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا مدعی کذاب اور دجال ہے۔“
(النور اللامع ق-64-ب)

نوٹ :

خاتم النبیین کا یہ معنی کرنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیا کے باپ ہیں، قرآن کی معنوی تحریف ہے، لغت عرب اور اجماع امت اس کی تائید نہیں کرتے۔