ختم نبوت اور قیصر و کسری کی ہلاکت
قیصر و کسری کی حکومت کا ختم ہو جانا معجزات نبوت سے ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق ایک پیشین گوئی فرمائی اور وہ پوری ہوگئی، ملاحظہ ہو :
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إذا هلك كسرى فلا كسرى بعده، وإذا هلك قيصر فلا قيصر بعده، والذي نفس محمد بيده، لتنفقن كنوزهما فى سبيل الله .
”کسری کی ہلاکت کے بعد کوئی کسری اور قیصر کی ہلاکت کے بعد کوئی قیصر نہیں ہوگا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، آپ قیصر و کسری کے خزانے اللہ کی راہ میں ضرور خرچ کریں گے۔“
(صحيح البخاري : 3818 ، صحيح مسلم : 2918)
حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) لکھتے ہیں :
قال الشافعي وسائر العلماء : معناه لا يكون كسرى بالعراق ولا قيصر بالشام كما كان فى زمنه صلى الله عليه وسلم فعلمنا صلى الله عليه وسلم بانقطاع ملكهما فى هذين الإقليمين فكان كما قال صلى الله عليه وسلم فأما كسرى فانقطع ملكه وزال بالكلية من جميع الأرض وتمزق ملكه كل ممزق واضمحل بدعوة رسول الله صلى الله عليه وسلم وأما قيصر فانهزم من الشام ودخل أقاصي بلاده فافتتح المسلمون بلادهما واستقرت للمسلمين ولله الحمد وأنفق المسلمون كنوزهما فى سبيل الله كما أخبر صلى الله عليه وسلم وهذه معجزات ظاهرة .
”امام شافعی رحمہ اللہ اور دیگر تمام علما اس حدیث کا معنی یوں بیان کرتے ہیں کہ عراق میں کسری اور شام میں قیصر دوبارہ اتنا عروج حاصل نہیں کر سکیں گے، جتنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو خطوں میں قیصر و کسری کی بادشاہت ڈھے جانے کی خبر دی تھی ۔ یوں کسری کی بادشاہت تو بالکلیہ ختم ہوگئی، اس کا وجود ہی باقی نہ رہا اور قیصر شام سے شکست خوردہ دور دراز کچھ علاقوں میں سمٹ کر رہ گیا، مسلمانوں نے ان ملکوں کو فتح کیا اور وہاں اسلامی حکومت قائم کی۔ پھر فرمان نبوی کے عین مطابق انہوں نے قیصر و کسری کے خزانے راہ خدا میں خرچ کر دیئے، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح معجزات ہیں۔“
(شرح مسلم : 43/18)
علامہ ابو زرعہ ابن العراقی رحمہ اللہ (824ھ) لکھتے ہیں :
مما انقرض، ولم يعد بقاء اسم قيصر لأن ملوك الروم لا يسمون الآن بالأقاصرة، وذهب ذلك الاسم عن ملكهم فصدق أنه لا قيصر بعد ذلك الأول، وظهر بذلك أن قوله : لا كسرى على ظاهره مطلقا .
”قیصر کی سلطنت جب ٹوٹ گئی، تو قیصر کا نام ختم ہو گیا، روم کے بادشاہ اب قیصر نہیں کہلاتے، ان کے بادشاہوں کا یہ لقب مٹ کے رہ گیا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سچ ثابت ہوا کہ اس کے بعد کوئی قیصر پیدا نہیں ہوا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسری کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ظاہر پر ہی محمول تھا۔“
(طرح التثريب : 252/7)