عقیدہ ختمِ نبوت : اجماعِ امت کی روشنی میں
قرآن، سنت، اجماع صحابہ، فہم سلف کے بیان کے بعد ذیل میں اجماع امت سے مزید گواہیاں پیش کی جارہی ہیں، تا کہ یہ مسئلہ خوب نکھر جائے اور شک کی گنجائش باقی نہ رہے۔
بس اتنا سمجھ لیجئے کہ تاریخ کے دریچے میں کوئی ایک مسلمان ایسا نظر نہیں آتا، جو یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کی گنجائش یا امکان باقی ہے۔
یہ شریعت آخری شریعت ہے، اس کا نبی آخری نبی ہے، نہ اس کے بعد کوئی شریعت ہے، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی۔ اس کے بعد قیامت ہے، اس کے بعد حشر برپا ہوگا۔ البتہ اس سے پہلے تیس کذاب آئیں گے، جو نبوت کا دعوی کریں گے اور کہیں گے : لوگو! آؤ، ہماری پیروی کرو اور مسلمان ان کے جھوٹ کو جان لیں گے، دلیل مانگنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی کہ بدیہیات کو دلیل سے ثابت نہیں کیا جاتا، وہ اپنا آپ خود ظاہر کر دیتی ہیں اور عقیدہ ختم نبوت مسلمان کی سرشت اور حسیات میں داخل کر دیا گیا ہے، ایک مسلمان کے پاس کوئی دلیل نہ ہو، تو بھی وہ تصور نہیں کر سکتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبی تسلیم کرلے۔
سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
اٹھتے نہیں ہاتھ میرے اس دعا کے بعد
لیکن یہاں تو دلائل کے انبار ہیں، نصوص کے پہاڑ ہیں اور اجماع امت کے نورانگن، ضوفشاں ستارے ہمہ وقت و ہمہ لحظہ جگمگا اور تمتما رہے ہیں کہ : لا نبي بعد محمد صلى الله عليه وسلم، لا أمة بعد أمة محمد صلى الله عليه وسلم.
◈ علامہ تفتازانی رحمہ اللہ (793ھ) کہتے ہیں :
ما اتفق عليه المجتهدون من أمة محمد عليه الصلاة والسلام فى عصر على أمر فهذا من خواص أمة محمد عليه الصلاة والسلام، فإنه خاتم النبيين فلا وحي بعده
”مجہتدین امت کا کسی معاملہ پر کسی بھی زمانہ میں اجماع کر لینا، امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی منقطع ہو چکی ہے۔“
(شرح التلويح على التوضيح : 100/2)
◈ علامہ ابو حامد غزالی رحمہ اللہ (505ھ) لکھتے ہیں :
إن الأمة فهمت بالإجماع من هذا اللفظ ومن قرائن أحواله أنه أفهم عدم نبي بعده أبدا وعدم رسول الله أبدا وأنه ليس فيه تأويل ولا تحصيص، فمنكر هذا لا يكون إلا منكر الإجماع .
”امت کے اجماع نے لفظ لا نبي بعدي اور دوسرے قرائن سے یہ بات سمجھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد کسی بھی دور میں نبوت یا رسالت کے امکان کے کلی نفی کی ہے۔ اس میں کوئی تاویل یا تخصیص نہیں کی جاسکتی، اس کا منکر اجماع کا منکر ہے۔“
(الاقتصاد في الاعتقاد : 137)
◈ مفسر ابن عطیہ رحمہ اللہ (542ھ) لکھتے ہیں :
هذه الألفاظ عند جماعة علماء الأمة خلفا وسلفا متلقاة على العموم التام مقتضية نصا أنه لا نبي بعده صلى الله عليه وسلم .
”علمائے امت سلف وخلف کے نزدیک یہ الفاظ عام ہیں اور نص ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔“
(تفسير ابن عطية : 388/4)
◈ قاضی عیاض رحمہ اللہ (544ھ) بیان کرتے ہیں :
نزول عيسى المسيح وقتله الدجال حق صحيح عند أهل السنة؛ لصحيح الآثار الواردة فى ذلك، ولأنه لم يرد ما يبطله ويضعفه، خلافا لبعض المعتزلة والجهمية، ومن رأى رأيهم من إنكار ذلك، وزعمهم أن قول الله تعالى عن محمد صلى الله عليه وسلم: وخاتم النبيين ، وقوله صلى الله عليه وسلم : لا نبي بعدي، وإجماع المسلمين على ذلك وعلى أن شريعة الإسلام باقية غير منسوخة إلى يوم القيامة يرد هذه الأحاديث، وليس كما زعموه؛ فإنه لم يرد فى هذه الأحاديث أنه يأتى بنسح شريعة ولا تجديد أمر نبوة ورسالة، بل جاء ت بأنه حكم مقسط، يجيء بما يجدد ما تغير من الإسلام، وبصلاح الأمور والعدل، وكسر الصليب، وقتل الخنزير، أن إمام المسلمين منهم كما قال عليه السلام .
”سیدنا عیسی علیہ السلام کا نزول اور ان کے ہاتھوں دجال کا قتل، نصوص شرعیہ سے ثابت ہے اور یہی اہل سنت کا عقیدہ ہے، اس کے ضعیف یا باطل ہونے پر کوئی دلیل نہیں۔ جہمیہ اور بعض معتزلہ کہتے ہیں کہ سیدنا عیسی علیہ السلام کے نزول کی احادیث، قرآنی آیت کے خلاف ہیں، عقیدہ ختم نبوت اور شریعت محمدیہ کے تا قیامت باقی رہنے والے عقیدے پر اجماع کے بھی خلاف ہیں، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے بھی خلاف ہیں، فرمایا: میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ لیکن جہمیہ کے یہ اعتراضات باطل ہیں، کیوں کہ سیدنا عیسی علیہ السلام بطور ناسخ شریعت اور نئے نبی کے نہیں آئیں گے، بلکہ حاکم و عادل بن کر آئیں گے، اسلام کے جو امور تبدیل کئے جا رہے ہوں گے، ان کی اصلاح کریں گے، صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے، جب کہ مسلمانوں کا امام انہی میں سے ہوگا، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما گئے ہیں۔“
(إكمال المُعلم بفوائد صحيح مسلم : 493/8)
مفسر قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) لکھتے ہیں :
قد روي من طريق التواتر من غير أن يحتمل تأويلا بإجماع الأمة قوله عليه الصلاة والسلام : لا نبي بعدي .
”فرمان نبوی: میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ کے متواتر ہونے پر امت کا اجماع ہے، اس میں کسی قسم کی تاویل کا احتمال نہیں۔“
(تفسير القرطبي : 29/11)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں :
محمد صلى الله عليه وسلم خاتم الأنبياء لا نبي بعده فعصم الله أمته أن تجتمع على ضلالة .
”محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیا ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، اللہ نے امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات سے محفوظ رکھا ہے کہ وہ گمراہی پر متفق ہو جائے۔“
(مجموع الفتاوى : 368/3 ، 329/27)
مزید لکھتے ہیں :
إنه صلى الله عليه وسلم خاتم النبيين ولا نبي بعده وقد جمع الله فى شريعته ما فرقه شرائع من قبله من الكمال؛ إذ ليس بعده نبي فكمل به الأمر كما كمل به الدين فكتابه أفضل الكتب وشرعه أفضل الشرائع ومنهاجه أفضل المناهج وأمته خير الأمم وقد عصمها الله على لسانه فلا تجتمع على ضلالة، ولكن يكون عند بعضها من العلم والفهم ما ليس عند بعض .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں اللہ نے کمال کی وہ تمام خوبیاں جمع کر دی ہیں جو پہلی شریعتوں میں متفرق تھیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے جہاں دین مکمل ہوا، وہاں کار نبوت بھی مکمل ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب تمام کتابوں سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت تمام شریعتوں سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منہج تمام مناہج سے افضل ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت تمام امتوں سے بہتر ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو اس لحاظ سے معصوم بنایا ہے کہ کبھی بھی وہ گمراہی پر جمع نہیں ہوگی۔ اس امت کے بعض لوگوں کے پاس ایسا علم و فہم ہوگا، جو دوسروں کے پاس نہیں ہوگا۔“
(مجموع الفتاوى : 159/33)
علامہ ابن الوزیر رحمہ اللہ (840ھ) لکھتے ہیں :
إن الأمة أجمعت على انقطاع الوحي بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنه لا طريق لأحد من بعده إلى معارضة ما جاء به فمن ادعى ذلك وجوز تغيير شيء من الشريعة بذلك، فكافر بالإجماع .
”امت کا اجماع ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے معارضہ کی گنجائش باقی نہیں رہی، اب جو اس قسم کا دعوی کرتا ہے یا شریعت کے کسی جز میں تغیر و تبدل کی بات کرتا ہے، تو وہ بالاجماع کافر ہے۔“
(إيثار الحق : 72)
علامہ طحطاوی رحمہ اللہ (1231ھ) لکھتے ہیں :
ويشترط لصحة الإيمان به صلى الله عليه وسلم معرفة اسمه إذ لا تتم المعرفة إلا به وكونه بشرا من العرب وكونه خاتم النبيين اتفاقا لورود ذلك القواطع المتواترة .
”متواتر اور قطعی الدلالہ نصوص کی بنا پر صحت ایمان کے لئے شرط ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم گرامی کا علم ہو، کیوں کہ نام کے بغیر معرفت ہوتی ہی نہیں۔ نیز یہ جاننا بھی شرط ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق عرب سے ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالاتفاق خاتم النبین ہیں۔“
(حاشية الطحطاوي ص : 10)
علامہ ابن عاشور رحمہ اللہ (1393ھ) لکھتے ہیں :
آلآية نص فى أن محمدا صلى الله عليه وسلم خاتم النبيين وأنه لا نبي بعده فى البشر ، لأن النبيين عام، فخاتم النبيين هو خاتمهم فى صفة النبوءة، ولا يعجر على نصية الآية أن العموم دلالته على الأفراد ظنية لأن ذلك لاحتمال وجود مخصص، وقد تحققنا عدم المخصص بالاستقراء . وقد أجمع الصحابة على أن محمدا صلى الله عليه وسلم خاتم الرسل والأنبياء وعرف ذلك وتواتر بينهم وفي الأجيال من بعدهم ولذلك لم يترددوا فى تكفير مسيلمة والأسود العنسي فصار معلوما من الدين بالضرورة فمن أنكره، فهو كافر خارج عن الإسلام ولو كان معترفا بأن محمدا صلى الله عليه وسلم رسول الله للناس كلهم. وهذا النوع من الإجماع موجب العلم الضروري كما أشار إليه جميع علماء نا .
”یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر نص ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، النبيين کا لفظ تمام انبیا کے لئے بولا گیا ہے اور خاتم کا معنی ہے صفت نبوت کو ختم کرنے والا، یہ کہہ کر کہ عموم کی اپنے افراد پر دلالت ظنی ہوتی ہے، اس عقیدے کو گدلانے کی کوشش کرنا بالکل غلط ہے، عموم کی دلالت اپنے تمام افراد پر منطبق ہوتی ہے، جب تک کہ کسی کی تخصیص نہ کر دی جائے، نصوص شریعت میں استقرا سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں کسی کی تخصیص نہیں کی گئی۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم الرسل والانبیا ہونے پر صحابہ کا اجماع ہے، یہ اس زمانے میں اور بعد کے زمانوں میں تواتر سے ثابت ہے۔ اسی لئے صحابہ نے مسیلمہ اور اسود عنسی کی تکفیر میں ذرا بھی توقف سے کام نہیں لیا، یہ ضروریات دین سے ہے۔ جو اس کا انکار کرے گا کافر ہوگا، بھلے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انسانوں کا نبی مانتا ہو۔ اجماع کی یہ قسم علم یقینی کا فائدہ دیتی ہے، جیسا کہ ہمارے تمام علما نے بتایا ہے۔“
(التحرير والتنوير : 45/22)
علامہ امیر صنعانی رحمہ اللہ (1182ھ) لکھتے ہیں :
إنه صلى الله عليه وسلم خاتم الرسل والأنبياء وشريعته باقية إلى آخر الدنيا وهذا أمر مجمع عليه وأما نزول عيسى صلى الله عليه وسلم آخر الزمان، فهو ينزل متبعا لشريعته صلى الله عليه وسلم غير مبعوث .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الرسل و النبین ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت دنیا کے اختتام تک باقی رہے گی، اس پر اجماع ہے۔ سیدنا عیسی علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے متبع بن کر نازل ہوں گے، نہ کہ مبعوث ہوکر۔“
(التنوير شرح الجامع الصغير : 466/3)
علامہ ابن باز رحمہ اللہ (1420ھ) فرماتے ہیں :
لما كان عليه الصلاة والسلام خاتم النبيين وكان رسولا عاما إلى جميع الثقلين اقتضت حكمة الله سبحانه أن تكون شريعته أوفى الشرائع وأكملها وأتمها انتطاما لمصالح العباد فى المعاش والمعاد، فهو عليه الصلاة والسلام خاتم الأنبياء والمرسلين، كما قال تعالى : مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰـكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ وتواترت الأحاديث عن رسول الله عليه الصلاة والسلام بأنه خاتم النبيين، وهذا أمر بحمد الله مجمع عليه ومعلوم بالضرورة من دين الإسلام، وقد أجمع المسلمون على أن من ادعى النبوة بعده فهو كافر كاذب يستتاب، فإن تاب وإلا قتل كافرا .
”چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ہیں اور تمام جن وانس کی طرف رسول ہیں، اس لیے حکمت الہی کا تقاضا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت انسانوں کی معاشی واقتصادی مصلحتوں کی تنظیم میں تمام شرائع سے کامل ترین ہو۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ہیں، اللہ فرماتے ہیں: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰـكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبین ہونا، متواتر احادیث سے ثابت ہے، الحمداللہ یہ اجماعی مسئلہ ہے اور ضروریات دین میں سے ہے۔ مسلمانوں کا اجماع ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعوی کرنے والا کافر اور جھوٹا ہے، اس سے توبہ کروائی جائے گی، توبہ کر لے تو ٹھیک ورنہ اس کافر کو قتل کر دیا جائے گا۔“
(مجموع فتاوى ابن باز : 222/2-223)
وحی منقطع ہو چکی :
ختم نبوت کی بحث میں یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ جب نبوت ہی باقی نہ رہی، تو وحی کہاں باقی رہے گی، نبوت کے بعد وحی کا سلسلہ بھی ختم ہو جاتا ہے، اس لئے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا :
ألا وإن النبى صلى الله عليه وسلم قد انطلق وقد انقطع الوحي .
”خبردار! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے چلے گئے اور وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔“
(مسند الإمام أحمد : 41/1 وسنده حسن)
مزید فرمایا :
إن الوحي قد انقطع .
”وحی منقطع ہوچکی ہے۔“
(صحیح البخاري : 2641)
سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا سے جب پوچھا گیا کہ آپ روتی کیوں ہیں تو فرمایا اس لئے روتی ہوں کہ، آسمان سے سلسلہ وحی منقطع ہو چکا ہے۔
(صحیح مسلم : 2454)
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (456ھ) لکھتے ہیں :
اتفقوا أنه مد مات النبى صلى الله عليه وسلم، فقد انقطع الوحي وكمل الدين واستقر وأنه لا يحل لأحد أن يزيد شيئا من رأيه بغير استدلال منه ولا أن ينقص منه شيئا، ولا أن يبدل شيئا مكان شيء ولا أن تحدث شريعة وأن من فعل ذلك كافر .
”مسلمانوں کا اجماع ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہے، دین مکمل ہو چکا ہے، اس کے بعد اب کسی کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنی رائے سے دین میں کمی بیشی کرے، کسی حکم کو تبدیل کرے یا کوئی نئی شریعت کھڑی کر دے، ایسا کرنے والا کافر ہے۔“
(مراتب الإجماع : 174)
مزید لکھتے ہیں :
إذ قد انقطع الوحي بموته ومن أجاز ذلك، فقد أجاز كون النبوة بعده ومن أجاز ذلك فقد كفر وحل دمه وماله .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے، جو وحی کے امکان کو درست سمجھتا ہے، وہ نبوت کے امکان کو درست سمجھتا ہے اور جو نبوت کے امکان کو درست سمجھے، وہ کافر ہے، اس کا خون اور مال حلال ہے۔“
(الإحكام في أصول الأحكام : 79/4)
ایک مقام پر صریح الفاظ میں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے بعد تمام شریعتیں منسوخ ہو چکی ہیں :
نسخ عز وجل بملته كل ملة وألزم أهل الأرض جنهم وإنسهم اتباع شريعته التى بعثه بها ولا يقبل من أحد سواها، وأنه عليه السلام خاتم النبيين لا نبي بعده .
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت کے ساتھ اللہ نے تمام ملتوں کو منسوخ کر دیا ہے اور جن وانس پر لازم قرار دیا ہے کہ وہ اس شریعت پر عمل کریں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی ہے، اللہ اس شریعت کے علاوہ کوئی شریعت قبول نہیں کرتا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔“
(المحلى : 28/1)
نیز لکھتے ہیں :
إن الوحي قد انقطع مد مات النبى صلى الله عليه وسلم برهان ذلك أن الوحي لا يكون إلا إلى نبي، وقد قال عز وجل : مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِكُمۡ وَلٰـكِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ وحی صرف نبی کی طرف آتی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے : مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِكُمۡ وَلٰـكِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔“
(المحلى : 46/1)
دوسری جگہ رقم طراز ہیں :
النبوة هي الوحي من الله تعالى بأن يعلم الموحى إليه بأمر ما يعلمه لم يكن يعلمه قبل ، والرسالة هي النبوة وزيادة، وهى بعتته إلى خلق ما بأمر ما، هذا ما لا خلاف فيه والخضر عليه السلام نبي قد مات، ومحمد صلى الله عليه وسلم لا نبي بعده، قال الله عز وجل حاكبا عن الخضر وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي فصحت نبوته، وقال تعالى : وَلٰـكِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ؕ .
”نبوت اس وحی کا نام ہے، جو اللہ اپنے بندے کی طرف بھیج کر اسے وہ بات بتاتا ہے، جسے وہ پہلے نہیں جانتا ہوتا۔ رسالت نبوت سے ایک زائد وصف کا نام ہے، وہ زائد وصف یہ ہے کہ رسول ایک نئی شریعت لاتا ہے، اس بات میں کوئی اختلاف نہیں۔ خضر علیہ السلام نبی ہیں اور وفات پاچکے ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اللہ رب العزت نے خضر علیہ السلام کا قصہ بیان کرتے ہوئے خضر علیہ السلام کا یہ قول نقل کیا ہے کہ یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کیا۔ اس سے ان کا نبی ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے : محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔“
(المحلى : 71/1)
علامه ماوردی رحمہ اللہ (450ھ) لکھتے ہیں :
إنه خص بانتهاء الوحي وختم النبوة حتى لا ينزل بعده وحي ولا يبعث بعده نبي فصار خاتما للنبوة مبعونا إلى الخلق كافة حتى بعث إلى الإنس والجن .
”یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے کہ آپ کے بعد وحی اور نبوت ختم ہوگئی، آپ کے بعد وحی کا نزول نہیں ہوگا، آپ خاتم النبین اور تمام مخلوقات حتی کہ جن وانس کی طرف مبعوث ہوئے ہیں۔“
(الحاوي الكبير : 9/9)
اے امت محمد ! خبر دار کسی دھوکہ باز کے دھوکہ میں نہ آئیے، کسی کی خیانت کسی کی چرب زبانی اور کسی جھوٹے کی دلکش تعبیریں تمہارے دلوں میں تشکیک کا بدنما داغ نقش نہ کرنے پائیں۔ کائنات کا ہر بچہ اسی فطرت پہ جنم لیتا ہے کہ اگر اسے قوت گویائی ملے اور پوچھا جائے کہ مَنْ نَبِيُّكَ؟ تو اس کی زبان پہ یہی نعرہ ہوگا کہ لَا نَبِيَّ بَعْدَ محمد صلى الله عليه وسلم