عقیدہ ختم نبوت قرآن کی روشنی میں
اللہ تعالیٰ نے انبیا بھیجنے کا وعدہ کیا تھا، وہ پورا کر دیا ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ کی نبوت قیامت تک کے لئے ہے، آپ کے بعد کوئی ظلی یا بروزی نبی نہیں آسکتا۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) لکھتے ہیں :
إنه قد أرسل إليهم رسوله محمدا خاتم النبيين الذى لا نبي بعده ولا رسول بل هو المعقب لجميعهم .
”اللہ نے انسانوں کی طرف اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین بنا کر بھیجا، آپ کے بعد نہ کوئی نبی ہے، نہ رسول، آپ سب انبیا کے آخر میں آئے ہیں۔“
(تفسير ابن كثير : 70/3)
علامہ ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ (792ھ) لکھتے ہیں :
فالواجب اتباع المرسلين، واتباع ما أنزله الله عليهم، و قد ختمهم الله بمحمد صلى الله عليه وسلم، فجعله آخر الأنبياء، وجعل كتابة مهيمنا على ما بين يديه من كتب السماء، وأنزل عليه الكتاب والحكمة، وجعل دعوته عامة لجميع الثقلين : الجن والإنس، باقية إلى يوم القيامة، وانقطعت به حجة العباد على الله، وقد بين الله به كل شيء .
”رسولوں اور ان پر نازل کی گئی کتابوں کا اتباع واجب ہے، اللہ نے رسولوں کا یہ سلسلہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کر دیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی بنایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب کو دوسری کتب سماویہ پر گواہ بنایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب و حکمت کا نزول کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قیامت تک تمام جن و انس کے لئے عام کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اللہ نے بندوں کی حجت پوری کر دی، جو اللہ کے ذمہ تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہر چیز کو بیان کر دیا ہے۔“
(شرح العقيدة الطحاوية : ص 73)
قرآن کریم اور ختم نبوت :
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
”ہم نے آپ کو تمام انسانیت کے لئے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“
(سبا : 28)
قاضی عیاض رحمہ اللہ (544ھ) فرماتے ہیں :
إنه أرسل كافة للناس وأجمعت الأمة على حمل هذا الكلام على ظاهره .
”بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انسانوں کے لیے مبعوث کیا گیا۔ امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ یہ کلام اپنے ظاہر پر محمول ہے۔“
(الشفا : 271/2)
یہ ایک کلیہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تا قیامت تمام انسانیت کی طرف مبعوث کئے گئے ہیں، اس کا واضح مطلب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔
امام طبری رحمہ اللہ (310ھ) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
يقول تعالى ذكره : وما أرسلناك يا محمد ، إلى هؤلاء المشركين بالله من قومك خاصة، ولكنا أرسلناك كافة للناس أجمعين العرب منهم والعجم، والأحمر والأسود، بشيرا من أطاعك، ونذيرا من كذبك، ولكن أكثر الناس لا يعلمون أن الله أرسلك كذلك إلى جميع البشر .
”فرمان باری تعالیٰ ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! ہم نے آپ کو صرف مشرکین قریش کی طرف ہی نہیں، بلکہ عرب و عجم، گوروں، کالوں اور پوری انسانیت کی طرف مبعوث کیا ہے، اپنی اطاعت کرنے والوں کو خوشخبری دیجئے اور جھٹلانے والوں کو ڈرائیے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے کہ اللہ نے آپ کو تمام انسانوں کی طرف بھیجا ہے۔“
تفسير الطبري : 288/19 ، ط هجر
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں :
لما كان محمد صلى الله عليه وسلم رسولا إلى جميع الثقلين جيهم وإنسهم، عربهم وعجمهم، وهو خاتم الأنبياء ، لا نبي بعده، كان من نعمة الله على عباده، ومن تمام حجته على خلقه أن تكون آيات نبوته وبراهين رسالته معلومة لكل الخلق الذين بعث إليهم .
”محمد صلی اللہ علیہ وسلم جن و انس اور عرب و عجم سب کے لیے رسول اور خاتم الانبیا بن کر تشریف لائے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، یہ اللہ کا اپنے بندوں پر انعام ہے۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے دلائل و براہین بیان کر کے تمام مخلوق پر حجت تمام کر دی ہے۔“
(الجواب الصحيح : 405/5)
نیز فرماتے ہیں :
لا بد فى الإيمان من أن تؤمن أن محمدا صلى الله عليه وسلم خاتم النبيين ، لا نبي بعده، وأن الله أرسله إلى جميع الثقلين الجن والإنس، خلقه، فى تبليغ أمره ونهيه، ووعده ووعيده، وحلاله وحرامه، فالحلال ما أجله الله ورسوله، والحرام ما حرمه الله ورسوله، والدين ما شرعه الله ورسوله صلى الله عليه وسلم، فمن اعتقد أن لأحد من الأولياء طريقا إلى الله من غير متابعة محمد صلى الله عليه وسلم؛ فهو كافر من أولياء الشيطان .
”مومن ہونے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیا ہونے کا عقیدہ رکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام جنوں اور انسانوں کی طرف مبعوث فرمایا، تا کہ اس کے اوامر و نواہی، وعد و وعید اور حلال و حرام ان تک پہنچا دیں۔ چنانچہ حلال وہی ہے، جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال قرار دیا اور حرام وہی ہے، جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا اور دین وہی ہے، جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروع کیا ہو۔ جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ کسی ولی کے پاس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے بغیر بھی اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا کوئی راستہ ہے، وہ کافر ہے اور شیطان کا دوست ہے۔“
(الفرقان بين أولياء الرحمان وأولياء الشيطان ص : 21)
فرمانِ الہی ہے :
قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کہہ دیجئے کہ میں آپ سب کے لئے اللہ کا رسول ہوں۔“
(الأعراف : 158)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) لکھتے ہیں :
يقول تعالى لنبيه ورسوله محمد صلى الله عليه وسلم : قل يا محمد : يا أيها الناس ، وهذا خطاب للأحمر والأسود، والعربي والعجمي، إني رسول الله إليكم جميعا، أى جميعكم، وهذا من شرفه وعظمته أنه خاتم النبيين، وأنه مبعوث إلى الناس كافة .
”اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے : محمد صلی اللہ علیہ وسلم! فرما دیجیے کہ لوگو! میں آپ سب کی طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں۔ یہ خطاب سرخ و سیاہ اور عربی و عجمی سب کے لیے ہے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شرف اور عظمت ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں اور تمام لوگوں کی طرف مبعوث فرمائے گئے ہیں۔“
(تفسير ابن كثير : 489/3 ، ت سلامة)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا
”محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں، لیکن اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں اور اللہ ہر چیز سے بخوبی واقف ہے۔“
(الأحزاب : 40)
مفسر ابن عطیہ رحمہ اللہ (541ھ) فرماتے ہیں :
هذه الألفاظ عند جماعة علماء الأمة خلفا وسلفا متلقاة على العموم التام مقتضية نصا أنه لا نبي بعده صلى الله عليه وسلم .
”علمائے سلف و خلف کے نزدیک یہ الفاظ عام ہیں اور واضح نص ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔“
(تفسیر ابن عطية : 388/4)
امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ (310ھ) لکھتے ہیں :
خاتم النبيين الذى ختم النبوة فطبع عليها ، فلا تفتح لأحد بعده إلى قيام الساعة .
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپ نے نبوت ختم کر دی، اس پر مہر لگا دی گئی ہے، اب قیامت تک کسی کے لئے کھولی نہیں جائے گی۔“
(تفسير الطبري : 121/19)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) لکھتے ہیں :
قوله : وَلٰكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا كقوله : اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ (الأنعام : 124) فهذه الآية نص فى أنه لا نبي بعده، وإذا كان لا نبي بعده فلا رسول بعده بطريق الأولى والأحرى؛ لأن مقام الرسالة أخص من مقام النبوة، فإن كل رسول نبي، ولا ينعكس، وبذلك وردت الأحاديث المتواترة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم من حديث جماعة من الصحابة .
”فرمان باری تعالی : وَلٰكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا لیکن آپ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں، اللہ تعالیٰ ہر چیز سے بخوبی واقف ہے۔ بھی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ اللہ بخوبی جانتا ہے کہ رسالت کسے سونپے کی طرح ہے۔ یہ آیت نص ہے کہ جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، تو آپ کے بعد کوئی رسول کیسے ہو سکتا ہے، مقام رسالت اور مقام نبوت میں عموم و خصوص مطلق ہے، ہر رسول نبی ہوتا ہے، لیکن ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ مسئلہ ختم نبوت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر احادیث موجود ہیں، جو صحابہ کی ایک جماعت نے بیان کی ہیں۔“
(تفسير ابن كثير : 428/6)
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت عام ہے، آپ کا دین جامع، عام فہم اور ہر قسم کے رد و بدل سے محفوظ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین بنا کر بھیجا گیا ہے، جس کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا، اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنی صفت علم کا ذکر کیا ہے، اس میں ایک لطیف نکتہ ہے، اللہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ قیامت تک کے لئے وحی کی جتنی ضرورت تھی، وہ ہمارے علم میں ہے اور اس کا بیان ہم نے تنصیصاً و تعلیلاً محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کر دیا ہے۔
”خاتم“ کا لفظ دو طرح پڑھا جاتا ہے :
ایک تاء کے کسرہ کے ساتھ ، اس میں دو معانی کا احتمال ہے :
1۔ اسم فاعل ہو، تو خاتم کا معنی ہوگا : ”ختم کرنے والا۔“
2۔ اسم آلہ خلاف قیاس ہو، جس کا معنی ہوگا : ”ختم کا آلہ“ یعنی آپ کے ساتھ نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ (310ھ) لکھتے ہیں :
بكسر التاء خاتم النبيين، بمعنى أنه ختم النبيين .
”تاء کے کسرہ سے خاتم النبیین کا معنی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا ہے۔“
(تفسير الطبري : 12/22، 13)
لفظ ”خاتم“ اگر تاء کے فتحہ سے پڑھیں، تو اسم آلہ کے معنی میں ہوگا، تب اس کے دو معنی ہوں گے :
1۔ آخر، یعنی آخری نبی، سب سے پیچھے آنے والے۔
2۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بمنزلہ مہر ہیں۔ اب نبوت پر مہر لگا دی گئی ہے۔
خاتم کے معنی مہر کے ہوں یا آخر کے یا ختم کرنے والے کے، ہر صورت میں اس کا مفہوم یہی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔ اس میں نبوت کی کوئی تخصیص نہیں کہ وہ اصلی ہو یا ظلی و بروزی، تشریعی ہو یا غیر تشریعی۔ بالفرض اگر غیر تشریعی نبوت کا وجود ہو، تو وہ بھی ختم ہے۔ اگر اس کا وجود ہی نہیں، تو وہ پہلے سے ہی معدوم ہے، پھر اس کے ختم ہونے کا کوئی معنی نہیں۔ احادیث صحیحہ اور اجماع امت اس معنی کی تائید کرتا ہے۔
(ختم نبوت از محدث گوندلوی ص : 17-18)
اگر کوئی کہے کہ خاتم النبیین میں الف لام استغراق کے لیے نہیں، بلکہ ایسا الف لام ہے، جیسے وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ میں ہے۔ یہ الف لام استغراقی نہیں، کیوں کہ سارے نبی قتل نہیں ہوئے۔
تو عرض ہے کہ جمع مذکر سالم پر اگر الف لام آئے تو دراصل وہ جمیع افراد کے لیے ہی ہوتا ہے، جیسے رب العالمین کا معنی ہے : سارے جہانوں کا رب۔
اگر قرینہ پایا جائے، تو اس سے بعض افراد مراد لیے جا سکتے ہیں، آیت وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ میں تین قرینے ہیں، جن سے لفظ النَّبِيِّينَ کی تخصیص ہو جاتی ہے: لفظ قتل، کیونکہ قرآن مجید میں بعض نبیوں کے قتل کا ذکر ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ
”ایک فریق کو تم قتل کرتے تھے۔“
(البقرة : 87)
حقیقت بھی یہی ہے کہ بعض نبی قتل ہوئے ہیں۔ یہ قرینہ حسی اور پہلا لفظی ہے۔
یہود کا فاعل ہونا، کیوں کہ یہود صرف انہی نبیوں کو قتل کر سکتے تھے، جو نبی ان میں مبعوث ہوئے۔
بعض انبیا کے غیر مقتول ہونے کا ذکر۔
یہ تین قرائن دلالت کرتے ہیں کہ یہاں بعض نبی مراد ہیں، جب کہ خاتم النبیین میں بعض انبیا مراد لینے کا کوئی قرینہ نہیں، یہاں تمام انبیا ہی مراد ہیں۔
ثابت ہوا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔ اب جو نبوت کا مدعی ہو یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی کا پیدا ہونا ممکن سمجھے، وہ بالاتفاق کافر ہے۔
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (456ھ) لکھتے ہیں :
أما من قال : إن الله عز وجل هو فلان لإنسان بعينه أو إن الله تعالى يحل فى جسم من أجسام خلقه أو إن بعد محمد صلى الله عليه وسلم نبيا غير عيسى بن مريم فإنه لا يختلف اثنان فى تكفيره لصحة قيام الحجة بكل هذا على كل أحد .
”جو کہے کہ اللہ فلاں شخص کے روپ میں ہے یا کہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے جسم میں حلول کرتا ہے یا کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور نبی بھی آسکتا ہے، تو اس کے کفر میں اہل اسلام میں سے دو انسانوں کا بھی اختلاف نہیں، کیوں کہ ان تمام عقائد کی حجت ہر شخص پر قائم ہو چکی ہے۔“
”الفصل في الملل والأهواء والنحل : 139/3“
قاضی عیاض رحمہ اللہ (544ھ) لکھتے ہیں :
كذلك من ادعى نبوة أحد مع نبينا صلى الله عليه وسلم أو بعده كالعيسوية من اليهود القائلين بتخصيص رسالته إلى العرب وكالحرمية القائلين بتواتر الرسل وكأكثر الرافضة القائلين بمشاركة على فى الرسالة للنبي صلى الله عليه وسلم وبعده فكذلك كل إمام عند هؤلاء يقوم مقامه فى النبوة والحجة وكالبزيغية والبيانية منهم القائلين بنبوة بزيغ وبيان وأشباء هؤلاء أو من ادعى النبوة لنفسه أو جوز اكتسابها والبلوغ بصفاء القلب إلى مرتبتها كالفلاسفة وغلاة المتصوفة وكذلك من ادعى منهم أنه يوحى إليه وإن لم يدع النبوة أو أنه يصعد إلى السماء ويدخل الجنة ويأكل من ثمارها ويعانق الحور العين فهؤلاء كلهم كفار مكذبون للنبي صلى الله عليه وسلم لأنه أخبر صلى الله عليه وسلم أنه خاتم النبيين لا نبي بعده وأخبر عن الله تعالى أنه خاتم النبيين وأنه أرسل كافة للناس وأجمعت الأمة على حمل هذا الكلام على ظاهره وأن مفهومه المراد به دون تأويل ولا تخصيص فلا شك فى كفر هؤلاء الطوائف كلها قطعا إجماعا وسمعا .
”اسی طرح جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں یا اس کے بعد نبوت میں کسی کو شریک قرار دے، وہ کافر ہے۔ یہود کا عیسویہ فرقہ کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت خطہ عرب کے ساتھ خاص ہے۔ فرقہ خرمیہ کہتا ہے کہ رسول متواتر آتے رہیں گے۔ روافض کی اکثریت کہتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ کی رسالت میں شریک ہیں، اسی طرح ان کے نزدیک ان کا ہر امام نبوت و حجت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم مقام ہے۔ بزیغیہ اور بیانیہ فرقے بزیغ اور بیان نامی اشخاص کی نبوت کے قائل ہیں یہ سب لوگ کافر ہیں۔ اسی طرح وہ بھی کافر ہے جس نے خود نبوت کا دعوی کیا یا فلاسفہ اور غالی صوفیوں کی طرح دل کی صفائی سے نبوت کے اکتساب اور نبوت کے مرتبہ تک پہنچنے کو جائز سمجھا، وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے جو نبوت کا مدعی نہ ہو مگر خود پر وحی کے نزول کا دعوی کرتا ہو، یا کہتا ہو کہ وہ آسمان پر چڑھتا ہے، جنت میں داخل ہوتا ہے اور اس کے پھل کھاتا ہے اور حور عین سے معانقہ کرتا ہے، اس قسم کے نظریات رکھنے والے تمام لوگ کافر ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں، حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ آپ پوری انسانیت کی طرف مبعوث ہیں۔ یہ کلام اپنے ظاہری معنی پر محمول ہوگا، اس پر امت کا اجماع ہے۔ اس میں کسی قسم کی تاویل تخصیص کی گنجائش نہیں۔ پس مذکورہ بالا فرقوں کے کفر میں کوئی شک وشبہ نہیں۔ اجماع اور قرآن و سنت کے دلائل سے یہ لوگ دائرہ اسلام سے یقیناً خارج ہیں۔“
(الشفا بتعريف حقوق المصطفى : 285/2 ، 286)
علامہ آلوسی حنفی رحمہ اللہ (1270ھ) لکھتے ہیں :
كونه صلى الله عليه وسلم خاتم النبيين مما نطق به الكتاب وصدعت به السنة وأجمعت عليه الأمة، فيكفر مدعي خلافه ويقتل إن أصر .
”جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا ان عقائد میں سے ہے، جنہیں قرآن نے صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے، سنت نے واشگاف کیا ہے اور امت نے اس پر اتفاق کیا ہے، لہذا اس کے خلاف دعوی کرنے والا کافر قرار دیا جائے گا اور اگر اس دعوے پر اصرار کرے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔“
(روح المعاني : 32/22، 39)