عقیدہ ختم نبوت احادیث کی روشنی میں
متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) لکھتے ہیں :
قد أخبر تعالى فى كتابه ورسوله فى السنة المتواترة عنه أنه لا نبي بعده، ليعلموا أن كل من ادعى هذا المقام بعده، فهو كذاب، أفاك، دجال، ضال، مضل .
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متواتر احادیث میں بتلایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، مقصد ہمیں یہ سمجھانا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعوی کرنے والا، جھوٹا، مفتری اور دجال ہے، وہ خود گمراہ ہے اور دوسروں کو گمراہ کرتا ہے۔
(تفسیر ابن کثیر : 430/6)
◈ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
كانت بنو إسرائيل تسوسهم الأنبياء، كلما هلك نبي خلفه نبي ، وإنه لا نبي بعدي، وسيكون خلفاء، فيكثرون .
”بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کرتے تھے، جب کوئی نبی فوت ہوتا، تو دوسرا نبی اس کا خلیفہ ہوتا، مگر سن لیجئے میرے بعد کوئی نبی نہیں، البتہ خلفا ہوں گے اور بکثرت ہوں گے۔“
(صحيح البخاري : 3455 ، صحیح مسلم : 1842)
◈ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن مثلي ومثل الأنبياء من قبلي كمثل رجل بنى بيتا، فأحسنه وأجمله إلا موضع لبنة من زاوية، فجعل الناس يطوفون به ويعجبون له، ويقولون : هلا وضعت هذه اللبنة؟ قال : فأنا اللبنة، وأنا خاتم النبيين .
”کسی نے ایک حسین و جمیل گھر بنایا، لیکن ایک کونے میں اینٹ بھر جگہ چھوڑ دی، لوگ اس عمارت کے ارد گرد گھومتے، اس کی عمدگی پر حیرت کا اظہار کرتے اور کہتے کہ اینٹ کی جگہ پر کیوں نہ کر دی گئی؟ یہی مثال قصر نبوت کی ہے، اس کی آخری اینٹ میں ہوں اور پہلی اینٹیں سابقہ انبیا ہیں، میرے بعد نبوت کا سلسلہ ختم اور میں خاتم النبیین ہوں۔“
(صحيح البخاري : 3535 ، صحیح مسلم : 2286/22)
◈ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أنا موضع اللبنة، جئت فختمت الأنبياء عليهم السلام .
”وہ اینٹ کی جگہ میں ہوں، میں نے آکر انبیا کی بعثت کا سلسلہ ختم کر دیا۔“
صحیح مسلم : 2287
ایک روایت میں ہے :
أنا موضع اللبنة، ختم بي الأنبياء .
”وہ اینٹ کی جگہ میں ہوں، انبیا کا سلسلہ مجھ پر ختم ہو گیا ہے۔“
(مسند الطيالسي : 1894 وسنده صحيح كالشمس وضوحاً)
حافظ عراقی رحمہ اللہ (806ھ) لکھتے ہیں :
أما كونه ختم به النبيون فمعناه أن الله تعالى لا يبعث بعده .
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سلسلہ نبوت ختم ہونے کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں کرے گا۔“
(طرح التشريب : 112/2)
علامہ احمد قسطلانی رحمہ اللہ (923ھ) لکھتے ہیں :
من تشريف الله تعالى له صلى الله عليه وسلم ختم الأنبياء والمرسلين به، وإكمال الدين الحنيف له، وقد أخبر الله فى كتابه، ورسوله فى السنة المتواترة عنه، أنه لا نبي بعده، ليعلموا أن كل من ادعى هذا المقام بعده فهو كذاب أفاك دجال ضال مضل، ولو تحدق وتشعبد، وأتى بأنواع السحر والطلاسم والنيرنجيات، فكلها محال وضلالة عند أولى الألباب، ولا يقدح فى هذا نزول عيسى ابن مريم عليه السلام بعده، لأنه إذا نزل كان على دين نبينا صلى الله عليه وسلم ومنهاجه مع أن المراد : أنه آخر من نبى . قال أبو حيان : ومن ذهب إلى أن النبوة مكتسبة لا تنقطع، أو إلى أن الولي أفضل من النبى ، فهو زنديق يجب قتله، والله أعلم .
”اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین بنایا، یہ اللہ کی طرف سے آپ کے لئے اعزاز ہے اور دین حنیف کی تکمیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متواتر احادیث میں بتلایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، مقصد ہمیں یہ سمجھانا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعوی کرنے والا، جھوٹا، مفتری اور دجال ہے، وہ خود گمراہ ہے اور دوسروں کو گمراہ کرتا ہے۔ اب وہ ہزار شعبدہ بازیاں کرے، قسم ہا قسم کے جادو، طلسم اور جھاڑ پھونک کرے، اسے کذاب و دجال ہی سمجھا جائے گا۔ کیونکہ اہل عقل وخرد کے نزدیک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا وجود ناممکن ہے۔ ختم نبوت کا معنی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے آخری انسان ہیں جن پر وحی نازل ہوئی۔ اور ہاں! سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے ختم نبوت کے عقیدے پر زد نہیں آتی، کیوں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اور منہج پر نازل ہوں گے۔ ابو حیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جو شخص نبوت کو ایک کسبی امر قرار دے کر جاری سمجھتا ہے یا ولی کو نبی سے افضل سمجھتا ہے، وہ زندیق واجب القتل ہے، واللہ اعلم۔“
(المواهب اللدنية : 546/2)
◈ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
فضلت على الأنبياء بست، أعطيت جوامع الكلم، ونصرت بالرعب، وأحلت لي الغنائم، وجعلت لي الأرض طهورا ومسجدا وأرسلت إلى الخلق كافة، وختم بي النبيون .
”مجھے چھ چیزوں میں انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے۔ جامع کلمات عطا کیے گئے ہیں، رعب کے ساتھ میری نصرت کی گئی ہے، میں اور میری امت ساری زمین پر کہیں بھی نماز ادا کر سکتے ہیں اور اس سے تیمم کر سکتے، میں پوری دنیا کے لیے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اور مجھ پر انبیا کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔“
(صحیح مسلم : 522)
◈ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أنا محمد، وأنا أحمد، وأنا الماحي الذى يمحى بي الكفر، وأنا الحاشر الذى يحشر الناس على عقبي، وأنا العاقب الذى ليس بعده نبي .
”میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں کہ میرے ذریعے کفر کو ختم کیا جائے گا، میں حاشر ہوں کہ میرے بعد حشر برپا ہوگا، میں عاقب ہوں کہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔“
(صحيح البخاري : 3532 ، صحيح مسلم : 2354 واللفظ له)
امام سفیان بن عیینہ کی متابعت صحیح بخاری (4896) میں شعیب بن ابی حمزہ، صحیح مسلم (2354) میں یونس بن یزید ایلی اور امام مالک (1400/2) صحیح بخاری (3532) نے کی ہے، نیز امام سفیان بن عیینہ نے مسند حمیدی (565) اور امام زہری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری (4896) میں سماع کی تصریح کی ہے۔
دوسرے یہ کہ بخاری ومسلم کی تمام دس روایات سماع پر محمول ہیں۔
◈ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسمي لنا نفسه أسماء، فقال : أنا محمد، وأحمد، والمقفي ، والحاشر ، ونبي التوبة. ونبي الرحمة .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مبارک نام ہمیں بتایا کرتے تھے فرماتے: میں محمد ہوں، میں مقفی سب سے پیچھے آنے والا، جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو ہوں، میں حاشر ہوں، میں توبہ اور رحمت والا نبی ہوں۔“
(صحیح مسلم : 126/1355)
یہ حدیث اس عقیدے پر دلیل ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت برپا ہو جائے گی لیکن آپ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) لکھتے ہیں :
إشارة إلى أنه ليس بعده نبي ولا شريعة فلما كان لا أمة بعد أمته لأنه لا نبي بعده نسب الحشر إليه لأنه يقع عقبه .
”اس حدیث میں اشارہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی یا شریعت نہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں تو ظاہر ہے کہ آپ کے بعد کوئی امت بھی نہیں ہوگی، آپ کے بعد تو حشر برپا ہوگا، اس لئے حشر کی نسبت آپ کی طرف کی گئی ہے۔“
(فتح الباري شرح صحيح البخاري : 557/6)
◈ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إنه سيكون فى أمتي كذابون ثلاثون، كلهم يزعم أنه نبي، وأنا خاتم النبيين، لا نبي بعدي .
”میری امت میں تیس بڑے کذاب پیدا ہوں گے اور وہ سب نبوت کا دعوی کریں گے لیکن میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“
(مسند الإمام أحمد : 278/5 ، سنن أبي داود : 4252 ، سنن الترمذي : 2219 ، سنن ابن ماجه : 3952 ، المستدرك للحاكم : 450/4 ، وسنده صحيح ، وأصله في مسلم : 1920/2889)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ نے بخاری ومسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ یہ حدیث نص صریح ہے کہ ”خاتم النبیین“ لا نبي بعدي کے معنی میں ہے۔ یہ
◈ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن بين يدي الساعة كذابين فاحذروهم .
”قیامت سے قبل کذاب لوگ آئیں گے، ان سے بچ کر رہنا۔“
(صحیح مسلم : 1822)
◈ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون، قريبا من ثلاثين، كلهم يزعم أنه رسول الله .
”جب تک تیس بڑے دجال اور کذاب نبوت کا دعوی نہیں کریں گے ، قیامت قائم نہیں ہوگی۔“
(صحیح البخاري : 3609)
◈ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن بين يدي الساعة كذابين .
”قیامت سے پہلے کذاب آئیں گے۔“
(مسند البزار كشف الأستار : 3374 وسنده حسن)
◈ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن الرسالة والنبوة قد انقطعت، فلا رسول بعدي ولا نبي .
”یقینا رسالت و نبوت کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے، اب میرے بعد کوئی رسول ہے، نہ ہی کوئی نبی۔“
(مصنف ابن أبي شيبة : 53/11 ، مسند الإمام أحمد : 268/3 ح : 13860 ، سنن الترمذي : 2272 ، مسند أبي يعلى نقلا عن تخريج أحاديث الكشاف للزيلعي : 136/2 ، المستدرك للحاكم : 391/3 ، اتحاف المهرة لابن حجر : 1809 وسنده صحيح)
امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ”صحیح غریب“ اور امام حاکم رحمہ اللہ نے امام مسلم کی شرط پر ”صحیح الاسناد“ کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
مختار بن فلفل جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں صحیح مسلم کے راوی ہیں۔ امام یحیی بن معین رحمہ اللہ (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم : 310/8) امام عجلی رحمہ اللہ (تاریخ الثقات : 45/15) امام یعقوب بن سفیان رحمہ اللہ (المعرفة والتاريخ : 151/3) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ (سوالات الاثرم : 83) امام ابن حبان رحمہ اللہ (الثقات : 429/5) امام ابن شاہین رحمہ اللہ (تاریخ اسماء الثقات : 95/13) اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ (الکاشف : 248/2) وغیرہم رحمہ اللہ نے ”ثقہ“ کہا ہے۔
امام ابو عوانہ رحمہ اللہ (303) امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1715) وغیرہ نے ان کی احادیث کی تصحیح کر کے توثیق ضمنی کر دی ہے۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ کی ان پر يخطئ كثيرا کی جرح اس حدیث پر منطبق نہیں کی جا سکتی، کیوں کہ جمہور نے اس سند کی توثیق کی ہے، امام مسلم رحمہ اللہ مختارعن انس کی سند سے اپنی صحیح میں روایات لائے ہیں، کسی ثقہ امام نے اس حدیث پر کلام نہیں کیا اور اس حدیث کا مضمون دوسری بیسیوں احادیث سے ثابت ہے۔
تنبیہ :
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
تكلم فيه السليماني فعده فى رواة المناكير عن أنس .
”حافظ سلیمانی رحمہ اللہ نے مختار بن فلفل پر جرح کی ہے اور انہیں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منکر روایات بیان کرنے والوں میں شمار کیا ہے۔“
(تهذيب التهذيب : 609/10)
لیکن کبار ائمہ متقدمین نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے، ان پر تضعیف کا ادنی کلمہ بھی ثابت نہیں، حافظ سلیمانی رحمہ اللہ متاخر ہیں اور ان کی جرح جمہور ائمہ متقدمین کے فیصلے سے ہٹ کر ہے، لہذا غیر مسموع ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
رأيت للسليماني كتابا فيه حط على كبار، فلا يسمع منه ما شد فيه .
”میں نے سلیمانی رحمہ اللہ کی کتاب دیکھی، اس میں کبار ائمہ پر بھی جرح کی گئی ہے، لہذا ان کی شاذ جرح کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔“
(سير أعلام النبلاء : 202/17)
عبد الواحد بن زیاد عبدی رحمہ اللہ صحاح ستہ کے راوی ہیں، امام یحیی بن معین رحمہ اللہ (تاریخ الدارمی : 52) امام عجلی رحمہ اللہ ، امام ابن حبان رحمہ اللہ و غیرہم رحمہ اللہ نے انہیں ”ثقہ“ کہا ہے۔ امام یحیی بن معین رحمہ اللہ کا ليس بشيء کہنا ثابت نہیں۔ اگر ثابت بھی ہو جائے، تو یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سمیت جمہور ائمہ کی توثیق کے مقابلہ میں مرجوح ہوگا۔ دوسرے یہ کہ عبد الواحد بن زیاد رحمہ اللہ کی متابعت مصنف ابن ابی شیبہ میں عبداللہ بن ادریس رحمہ اللہ نے کر رکھی ہے۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
كان متقنا ضابطا .
”یہ متقن اور ضابط تھا۔“
(مشاهير علماء الأمصار : 252/1)
حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں :
أجمعوا لا خلاف بينهم أن عبد الواحد بن زياد ثقة .
”محدثین کا اجماع ہے کہ عبد الواحد بن زیاد ثقہ تھا۔“
(تهذيب التهذيب لابن حجر : 435/6)
حافظ ابن قطان فاسی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
عبد الواحد ثقة، ولم يعتل عليه بقادح .
”عبد الواحد ثقہ ہیں کسی علت کی بنا پر انہیں مجروح قرار نہیں دیا گیا۔“
(بيان الوهم والإيهام : 328/5)
عفان بن مسلم رحمہ اللہ صحاح ستہ کے راوی ہیں، بالاتفاق ثقہ ہیں۔ امام ابوخیثمہ زہیر بن حرب رحمہ اللہ اور امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کا ان کے متعلق أنكرنا کہنا مضر نہیں۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
قد قال أبو خيثمة : أنكرنا عفان قبل موته بأيام . قلت : هذا التغير هو من تغير مرض الموت، وما ضره، لأنه ما حدث فيه بخطأ .
”ابو خیثمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے عفان بن مسلم رحمہ اللہ کی موت سے کچھ دن پہلے ان سے روایت لینا ترک کر دی تھی۔ میں کہتا ہوں کہ انہوں نے مرض الموت کی وجہ سے عفان سے روایت لینا چھوڑ دی تھی، یہ جرح عفان کے لئے مضر نہیں، کیوں کہ انہوں نے مرض الموت میں روایت بیان ہی نہیں کی کہ اس سے خطا کا احتمال ہوتا۔“
(میزان الاعتدال : 82/3)
اس روایت میں عفان بن مسلم رحمہ اللہ کی متابعت امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ اور امام وکیع بن جراح رحمہ اللہ (امالی ابن بشران : 223) نے کی ہے۔ لہذا نکارت کی جرح عبث ہے۔
◈ سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :
أيها الناس إنه لا نبي بعدي، ولا أمة بعدكم .
”لوگو! میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔“
(المعجم الكبير للطبراني : 115/8 ، ح : 7535 السنة لابن أبي عاصم : 1095 وسنده صحيح)
◈ سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دجال کے بارے میں خطبہ دیا اور فرمایا :
أيها الناس إنه لم تكن فتنة على الأرض أعظم من فتنة الدجال، وإن الله لم يبعث نبيا إلا حذره أمته، وأنا آخر الأنبياء وأنتم آخر الأمم، وهو خارج فيكم لا محالة، فإن يخرج وأنا فيكم فأنا حجيج كل مسلم، وإن يخرج بعدي فكل امرء حجيج نفسه، والله خليفتي على كل مسلم وإنه يخرج من قلة بين الشام والعراق فيعيث يمينا ويعيث شمالا، فيا عباد الله، اثبتوا فإنه يبدأ فيقول : أنا نبي، ولا نبي بعدي، ثم يثني فيقول : أنا ربكم، ولن تروا ربكم حتى تموتوا، وإنه أعور، وإن ربكم ليس بأعور، وإنه مكتوب بين عينيه كافر، يقرؤه كل مؤمن، فمن لقيه منكم فليتفل فى وجهه .
”لوگو! روئے زمین پر فتنہ دجال سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں۔ ہر نبی نے اپنی امت کو اس فتنہ سے ڈرایا ہے۔ میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو، وہ ضرور آئے گا، اگر وہ میری زندگی میں آگیا ، تو میں ہر مسلمان کی طرف سے اس کا حریف ہوں گا اور اگر میرے بعد آئے ، تو ہر آدمی اپنے تئیں اس کا حریف ہے۔ اللہ میری طرف سے ہر مسلمان پر نگہبان ہے۔ وہ شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا اور چہار سو فساد برپا کر دے گا، اللہ کے بندو! ثابت قدم رہنا، وہ سب سے پہلے نبوت کا دعویٰ کرے گا، حالانکہ میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوسکتا۔ پھر وہ کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں، جبکہ آپ مرنے سے پہلے اپنے رب کو نہیں دیکھ سکتے ، دجال کانا ہوگا، جب کہ آپ کا رب ایسا نہیں ہے، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا، جسے ہر مؤمن پڑھ لے گا۔ آپ میں سے جو بھی اسے ملے، اس کے منہ پر تھوک دے۔“
(السنة لابن أبي عاصم : 391 وسنده حسن)
◈ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إني عند الله مكتوب لخاتم النبيين، وإن آدم لمنجدل فى طينته، وسأخبركم بأول ذلك دعوة أبى إبراهيم، وبشارة عيسى بي، والرؤيا التى رأت أمي، وكذلك أمهات النبيين يرين، أنها رأت حين وضعتني أنه خرج منها نور أضاءت منه قصور الشام .
”آدم علیہ السلام ابھی اپنی مٹی میں پروئے گئے تھے کہ مجھے اللہ نے خاتم النبیین لکھ دیا تھا، میں ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں، عیسی علیہ السلام کی بشارت ہوں اور اپنی والدہ کا خواب ہوں، میری پیدائش کے ایام میں انہوں نے خواب دیکھا کہ ان سے ایک روشنی پھوٹی ہے اور اس نے شام کے محلات کو منور کر دیا ہے، انبیا کی مائیں ایسے ہی خواب دیکھتی ہیں۔“
(مسند الإمام أحمد : 127/4 ، تفسير الطبري : 566/1 ، 87/28 ، واللفظ له تفسير ابن أبي حاتم : 1264 ، طبقات ابن سعد : 148/1، 149 ، تاريخ المدينة لعمر بن شبة : 636/2 ، المعرفة والتاريخ ليعقوب بن سفيان : 345/2 ، المعجم الكبير للطبراني : 252/18 ، مسند الشاميين للطبراني : 1939 ، المستدرك للحاكم : 2 /418 ، دلائل النبوة للبيهقي : 80/1 ، 390 ، 389، 130/2 وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (6404) نے ”صحیح“ اور امام حاکم رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”صحیح“ کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اسے ”صحیح“ قرار دیا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”حسن“ بھی کہا ہے۔
(سير أعلام النبلاء : 47/1)
◈ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إني آخر الأنبياء ، وإن مسجدي آخر المساجد .
”میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد نبوی آخری مسجد ہے۔“
(صحیح مسلم : 507/1394)
◈ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم على بن أبى طالب فى غزوة تبوك فقال : يا رسول الله تخلفني فى النساء والصبيان؟ فقال : أما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى؟ غير أنه لا نبي بعدي .
”غزوہ تبوک کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا جانشین مقرر کیا ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جارہے ہیں؟ فرمایا: کیا آپ کو یہ امتیاز خوش نہیں آتا کہ میرے ساتھ آپ کی وہی نسبت ہو ، جو ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔“
(صحيح البخاري : 3706 ، صحيح مسلم : 2404 واللفظ له)
صحیح مسلم میں یہ الفاظ بھی ہیں :
أنه لا نبوة بعدي .
”میرے بعد کوئی نبوت نہیں۔“
◈ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا :
أنت مني بمنزلة هارون من موسى، إلا أنه ليس نبي بعدي .
”آپ کو میرے ساتھ وہی نسبت ہے، جو ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔“
(مسند الإمام أحمد : 369/1 ، 438 ، السنن الكبرى للنسائي : 8143 ، مسند إسحاق : 2139 ، السنة لابن أبي عاصم : 1346 ، المعجم الكبير للطبراني : 146/24 ، مصنف ابن أبي شيبة : 61۔ 60/12 وسنده صحيح)
حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
رواه أحمد والطبراني، ورجال أحمد رجال الصحيح غير فاطمة بنت علي، وهى ثقة .
”اس حدیث کو امام احمد رحمہ اللہ اور امام طبرانی رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے اور امام احمد رحمہ اللہ والی روایت کے سارے راوی صحیح بخاری کے ہیں ، سوائے فاطمہ بنت علی کے اور وہ ثقہ ہیں۔“
(مجمع الزوائد : 109/9)
◈ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لا يبقى بعدي من النبوة شيء إلا المبشرات، قالوا : يا رسول الله وما المبشرات؟ قال : الرؤيا الصالحة يراها الرجل أو ترى له .
”میرے بعد نبوت ختم ہو جائے گی اور مبشرات باقی رہیں گے صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مبشرات کیا ہیں؟ فرمایا : نیک خواب، جو آدمی خود دیکھتا ہے یا اس کے بارے میں کوئی اور آدمی دیکھتا ہے۔“
(زوائد مسند أحمد : 129/6 ، مسند البزار : 2118 وسنده حسن)
◈ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لم يبق من النبوة إلا المبشرات، قالوا : وما المبشرات؟ قال : الرؤيا الصالحة .
”نبوت ختم ہو چکی اب صرف مبشرات باقی ہیں، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : مبشرات کیا ہیں؟ فرمایا : نیک خواب.“
(صحيح البخاري : 6990)
◈ سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ذهبت النبوة، فلا نبوة بعدي إلا المبشرات، قيل : وما المبشرات؟ قال : الرؤيا الصالحة يراها الرجل أو ترى له .
”نبوت ختم ہوگئی ہے، میرے بعد نبوت نہیں مبشرات ہیں، پوچھا گیا : مبشرات کیا ہیں؟ فرمایا : نیک خواب، جو آدمی خود دیکھتا ہے یا اس کے بارے میں کوئی اور آدمی دیکھتا ہے۔“
(مسند البزار : 2121 ، المعجم الكبير للطبراني : 3051 وسنده صحيح)
حافظ ہیثمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
رواه الطبراني والبزار، ورجال الطبراني ثقات .
”اسے طبرانی رحمہ اللہ اور بزار رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے، طبرانی کے راوی ثقہ ہیں۔“
(مجمع الزوائد : 173/7)
اس حدیث کو امام بزار رحمہ اللہ نے مسند حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ میں ذکر کیا ہے۔
شیخ عبدالرحمن معلمی رحمہ اللہ (1386ھ) لکھتے ہیں :
اتفق أهل العلم على أن الرؤيا لا تصلح للحجة، وإنما هي تبشير وتنبيد، وتصلح للاستتناس بها إذا وافقت حجة شرعية صحيحة .
”اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ امتی کا خواب حجت شرعی نہیں ہوتا، وہ محض بشارت اور تنبیہ ہوتا ہے، لیکن اگر وہ خواب دلائل شرعیہ کی موافقت میں آئے تو اطمینان قلب کا فائدہ دیتا ہے۔“
(التنكيل بما في تأنيب الكوثري من الأباطيل : 242/2)
◈ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أيها الناس! إنه لم يبق من مبشرات النبوة إلا الرؤيا الصالحة، يراها المسلم ، أو ترى له .
”لوگو! مبشرات نبوت ختم ہو چکے، ان میں سے بھی صرف نیک خواب باقی ہیں، جو ایک مسلمان خود دیکھتا ہے یا کوئی دوسرا اس کے بارے میں دیکھتا ہے۔“
(صحیح مسلم : 479)
◈ سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ذهبت النبوة، وبقيت المبشرات .
”نبوت ختم ہوگئی ہے اور مبشرات باقی ہیں۔“
(مسند الإمام أحمد : 381/6 ، مسند الحميدي : 351 ، سنن ابن ماجه : 3896 وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (فتح الباری لابن حجر : 375/12) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (6047) نے ”صحیح“ کہا ہے۔
حافظ بوصیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
هذا إسناد صحيح، رجاله ثقات .
”یہ سند صحیح ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں۔“
(مصباح الزجاجة : 154/4)
ابو یزید رحمہ اللہ ”حسن الحدیث“ ہیں۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ، امام عجلی رحمہ اللہ نے ان کی توثیق کی ہے۔
◈ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے بعد پوچھا کرتے تھے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے؟ اور پھر فرماتے :
إنه ليس يبقى بعدي من النبوة إلا الرؤيا الصالحة .
”یقیناً میرے بعد نبوت باقی نہیں، البتہ نیک خواب باقی ہیں۔“
(مؤطأ الإمام مالك : 956/2 ، مسند الإمام أحمد : 325/2 ، سنن أبي داود : 5017 ، المستدرك للحاكم : 390/4 ، 391 وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (6048) اور امام حاکم رحمہ اللہ نے ”صحیح“ کہا ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لا نبوة بعدي إلا المبشرات، قال : قيل : وما المبشرات يا رسول الله؟ قال : الرؤيا الحسنة، أو قال : الرؤيا الصالحة .
”میرے بعد نبوت باقی نہیں رہی، صرف مبشرات باقی ہیں، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول! مبشرات سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: اچھے خواب، یا فرمایا: نیک خواب“
(مسند الإمام أحمد : 454/5 وسنده صحيح)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔ صرف مبشرات باقی رہیں گے، مبشرات مسلمانوں کے نیک خوابوں کو کہتے ہیں۔
◈ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :
لو كان بعدي نبي لكان عمر بن الخطاب .
”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔“
(سنن الترمذي : 3686 ، مسند الإمام أحمد : 154/4 ، المعجم الكبير للطبراني : 180/17 ، المستدرك للحاكم : 85/3 وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن غریب“، امام حاکم رحمہ اللہ نے ”صحیح الاسناد“ اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ”صحیح“ کہا ہے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ”صحیح“ قرار دیا ہے۔
(إتحاف المهرة لابن حجر : 224/11 ح : 13924)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
هو ثابت عنه .
”یہ مشرح بن ہاعان سے ثابت ہے۔“
(منهاج السنة : 69/6)
مشرح بن ہاعان کو امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ، امام یعقوب بن سفیان فسوی رحمہ اللہ، امام عجلی رحمہ اللہ، امام ابن عدی رحمہ اللہ اور امام ابن حبان رحمہ اللہ سمیت جمہور محدثین کرام رحمہم اللہ نے ثقہ کہا ہے۔
انہیں حافظ ذہبی رحمہ اللہ(الکاشف : 3/129) نے ثقہ کہا ہے۔ نیز صدوق بھی کہا ہے۔
(میزان الاعتدال : 4/117)
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے پوچھا گیا، تو فرمایا :
اضرب عليه، فإنه عندي منكر .
”اسے چھوڑیے، میرے نزدیک یہ منکر ہے۔“
(المنتخب من علل الخلال ص : 189)
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
يروي عن عقبة بن عامر أحاديث مناكير لا يتابع عليها .. والصواب فى أمره ترك ما انفرد من الروايات والاعتبار بما وافق الثقات .
”مشرح نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے چند منکر روایات بیان کی ہیں، جن کی متابعت نہیں ہوئی۔ راجح یہ ہے کہ اس کی منفرد روایات چھوڑ دی جائیں اور ثقات کے موافق روایات لے لی جائیں۔“
(کتاب المجروحین : 28/3)
اس روایت میں مشرح بن ہاعان اگرچہ منفرد ہے، لیکن ثقات کی مخالفت نہیں کی، لہذا اس کی یہ روایت قبول کی جائے گی، یہ بھی ملحوظ رہے کہ مشرح کی منفرد روایات پر نکارت کی جرح امام ابن حبان رحمہ اللہ نے کی ہے اور انہوں نے ہی مشرح کی اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کی یہ روایت منکر نہیں۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اس پر منکر کی جرح ملتی ہے، تو گزارش ہے کہ :
➊ ممکن ہے، انہوں نے اس کی کسی خاص سند کو منکر کہا ہو، کیوں کہ اس کی بعض ضعیف سندیں بھی موجود ہیں۔
➋ اگر اسی سند کو منکر کہا ہے تو جمہور محدثین اور ثقہ دلائل کے مخالف ان کا یہ موقف درست نہیں۔ والله اعلم!
حافظ عراقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
”حديث : لو لم أبعث لبعثت يا عمر منکر ہے۔ جب کہ حدیث : لو كان بعدي نبي لكان عمر بن الخطاب معروف ہے۔“
(المغني عن حمل الأسفار في الأسفار ص : 1054)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی تشریعی یا غیر تشریعی نبی نہیں آئے گا۔ اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی نہیں ہوئے تو اور کون ہو سکتا ہے؟
◈ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لقد كان فيمن كان قبلكم من بني إسرائيل رجال ، يكلمون من غير أن يكونوا أنبياء، فإن يكن من أمتي منهم أحد فعمر .
”بنی اسرائیل میں ایسے لوگ بھی گزرے ہیں، جن سے کلام کیا جاتا تھا، حالانکہ وہ نبی نہ تھے۔ اگر میری امت میں سے ایسا کوئی ہوا، تو وہ عمر بن خطاب ہوں گے۔“
(صحیح البخاري : 3689)
ایک روایت کے الفاظ ہیں :
لقد كان فيما قبلكم من الأمم محدثون، فإن يك فى أمتي أحد، فإنه عمر .
”پہلی امتوں میں محدث ہو گزرے ہیں، اگر میری امت میں ایسا کوئی ہوا، تو وہ عمر ہوں گے۔“
(صحيح البخاري : 3689 ، ورواه مسلم : 2398 وغيره من حديث عائشة)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت کے الفاظ ہیں :
ما كان من نبي إلا وفي أمته مكلم أو مكلمان، فإن يكن فى أمتي أحد منهم، فعمر بن الخطاب .
”کوئی نبی ایسا نہیں گزرا، جس کی امت میں ایک دو معلم نہ ہوئے ہوں۔ اگر میری امت میں کوئی معلم ہوا تو وہ عمر بن خطاب ہوں گے۔“
(كتاب السنة لابن أبي عاصم : 1297 وسنده حسن)
عبدالرحمن بن ابی الزناد رحمہ اللہ ”موثق، حسن الحدیث“ ہیں، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں :
وهو ثقة عند الجمهور، وتكلم فيه بعضهم بما لا يقدح فيه .
”یہ جمہور کے نزدیک ثقہ ہیں، بعض نے ان پر کلام کیا ہے، جو موجب قدح نہیں۔“
(نتائج الأفكار : 304)
یاد رہے کہ محدث، معلم اور معلم کا ایک ہی مطلب ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر اس امت میں کوئی محدث اور معلم ہوتا، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوتے، اس کا مفہوم مخالف یہ ہوا کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ محدث ہونے کا شرف حاصل نہ کر سکے تو پھر کوئی اور بھی حاصل نہیں کر سکتا۔
◈ اسماعیل بن عبدالرحمن سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں :
سألت أنس بن مالك، قلت : صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم على ابنه إبراهيم؟ قال : لا أدري، رحمة الله على إبراهيم، لو عاش كان صديقا نبيا .
”میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم کا جنازہ پڑھا تھا؟ فرمایا : معلوم نہیں، ابراہیم پر اللہ کی رحمت ہو۔ وہ اگر زندہ ہوتے، تو سچے نبی ہوتے۔“
(مسند الإمام أحمد : 280/3 ، 281، طبقات ابن سعد : 140/1 وسنده حسن)
◈ اسماعیل بن ابی خالد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا :
رأيت إبراهيم بن النبى صلى الله عليه وسلم؟ قال : مات صغيرا، ولو قضي أن يكون بعد محمد صلى الله عليه وسلم نبي عاش ابنه، ولكن لا نبي بعده .
”کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کو دیکھا ہے؟ فرمایا : وہ بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کے آنے کی گنجائش ہوتی، تو آپ کا وہ صاحبزادہ زندہ رہتا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔“
(صحيح البخاري : 6194 ، سنن ابن ماجه : 1510 ، المعجم الأوسط للطبراني : 6638 ، تاریخ ابن عساکر 135/3)
یہ روایات کھلے لفظوں میں بتا رہی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت ملنا ہوتی تو ابراہیم بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم زندہ رہتے، ان کی فوتیدگی بتاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت مل ہی نہیں سکتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو بھی مدعی نبوت ہوگا، وہ مفتری اور کذاب و دجال ہوگا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن بين يدي الساعة ثلاثين كذابا دجالا، كلهم يزعم أنه نبي .
”قیامت سے قبل تیس کذاب اور دجال پیدا ہوں گے، ہر ایک نبوت کا دعویدار ہوگا۔“
(دلائل النبوة للبيهقي : 480/6 صحيح)
نیز فرمایا :
لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابا، دجالا، كلهم يكذب على الله وعلى رسوله .
”جب تک تیس (نامور) کذاب اور دجال پیدا نہیں ہوں گے، قیامت قائم نہیں ہوگی، ان میں سے ہر ایک اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھے گا۔“
(سنن أبي داود : 4334 وسنده حسن)
◈ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قیامت کے دن لوگ شفاعت کبریٰ کے لئے انبیاء کے پاس جائیں گے، عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھی جائیں گے، ان سے کہیں گے : عیسیٰ! اپنے رب سے ہمارے فیصلے کی سفارش کریں، وہ فرمائیں گے کہ اس وقت میں آپ کے کام نہیں آسکتا، ایسا کریں کہ :
لكن ائتوا محمدا صلى الله عليه وسلم، فإنه خاتم النبيين .
”محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں، وہ آخری نبی ہیں۔“
وہ آج موجود ہیں، ان کے پہلے اور بعد کے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام پوچھیں گے، ایک برتن میں سامان رکھ کر اس پہ مہر لگا دی گئی ہو، تو کیا مہر توڑے بغیر برتن کے سامان تک رسائی ممکن ہے؟ لوگ کہیں گے نہیں، تو عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے :
إن محمدا صلى الله عليه وسلم خاتم النبيين .
”یقینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔“
(مسند الإمام أحمد : 248/3 وسنده صحيح)
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے بڑی پیاری مثال دے کر بات سمجھائی ہے کہ جس طرح مہر توڑے بغیر سامان کا حصول ممکن نہیں، اسی طرح اس کام کے لیے مہر والی ہستی کے پاس جانا ہو گا، جو کہ آخری نبی ہیں۔
دوسری روایت میں ہے :
يأتون محمدا فيقولون : يا محمد، أنت رسول الله وخاتم الأنبياء .
”لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں گے اور کہیں گے : اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔“
(صحيح البخاري : 4712، صحیح مسلم : 194)
◈ سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أبيتم، فوالله ! إني لأنا الحاشر، وأنا العاقب، وأنا النبى المصطفى آمنتم أو كذبتم .
”یہودیو! تم نے (لا اله الا الله) کا انکار کیا ہے۔ اللہ کی قسم ! تم مجھ پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، میں حاشر ہوں، (یعنی میرے بعد حشر برپا ہوگا)، میں عاقب ہوں (میرے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا)، میں نبی مصطفیٰ ہوں۔“
(مسند الإمام أحمد : 25/6 ح : 24484 وسنده حسن)
◈ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إنه والله! لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابا، آخرهم الأعور الدجال .
”اللہ کی قسم ! اس وقت تک قیامت قائم نہ ہوگی، جب تک تیس کذاب پیدا نہیں ہوں گے، ان میں آخری کذاب کانا دجال ہوگا۔“
(مسند الإمام أحمد : 16/5 المعجم الكبير للطبراني : 6797، 6798، 6799، المستدرك للحاكم : 329/1 ، 332 وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1397) امام ابن حبان رحمہ اللہ (2856) نے ”صحیح“ اور امام حاکم رحمہ اللہ نے بخاری و مسلم کی شرط پر ”صحیح“ قرار دیا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
اس حدیث کو امام ابوداؤد رحمہ اللہ (1184) امام نسائی رحمہ اللہ (1484) اور امام ترمذی رحمہ اللہ (562) نے اسی سند سے مختصر روایت کیا ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے ”حسن صحیح“ بھی کہا ہے۔
ثعلبہ بن عباد رحمہ اللہ ”حسن الحدیث“ ہیں۔ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ، امام ابن حبان رحمہ اللہ، امام ترمذی رحمہ اللہ اور امام حاکم رحمہ اللہ نے حدیث کی تصحیح کر کے اس کی توثیق کی ہے، لہذا اسے ”مجہول“ کہنا درست نہیں۔
◈ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
كان النبى يبعث إلى قومه خاصة، وبعثت إلى الناس عامة .
”پہلے انبیاء صرف اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے، لیکن مجھے تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔“
(صحيح البخاري : 335 ، صحیح مسلم : 521)
صحیح مسلم (3/521) میں ہے :
كان كل نبي يبعث إلى قومه خاصة، وبعثت إلى كل أحمر وأسود .
”پہلے انبیاء کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا جاتا تھا لیکن مجھے ہر سرخ و سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔“
◈ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
والذي نفس محمد بيده، لا يسمع بي أحد من هذه الأمة يهودي ولا نصراني ، ثم يموت ولم يؤمن بالذي أرسلت به، إلا كان من أصحاب النار .
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس امت کا جو بھی یہودی و نصرانی میرا پیغام سنے اور میری تعلیمات پر ایمان لائے بغیر مر جائے، وہ جہنمی ہے۔“
(صحیح مسلم : 153)
حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) لکھتے ہیں :
قوله صلى الله عليه وسلم : لا يسمع بي أحد من هذه الأمة، أى من هو موجود فى زمني وبعدي إلى يوم القيامة، فكلهم يجب عليهم الدخول فى طاعته، وإنما ذكر اليهودي والنصراني تنبيها على من سواهما، وذلك لأن اليهود والنصارى لهم كتاب، فإذا كان هذا شأنهم مع أن لهم كتابا؛ فغيرهم ممن لا كتاب له أولى .
”فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم : (اس امت کا جو بھی فرد میرا پیغام سنے گا) سے مراد یہ ہے کہ میری اطاعت قیامت تک کے لئے سب پر واجب ہے، وہ میرے زمانے کے لوگ ہوں یا میرے بعد آئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود و نصاریٰ کا ذکر کیا، حالاں کہ یہود و نصاریٰ کے پاس اپنی کتاب موجود ہے، دراصل آپ سمجھانا چاہتے تھے کہ اگر یہود و نصاریٰ اہل کتاب ہونے کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے مکلف ہیں تو وہ لوگ جن کے پاس کتابیں نہیں ہیں، بطریق اولیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے مکلف ہوں گے۔“
(شرح صحیح مسلم : 188/2-189)
◈ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے :
بعثت أنا والساعة كهاتين .
”میری بعثت اور قیامت کے درمیان اتنا فاصلہ ہے، جتنا ان دو انگلیوں میں ہے۔“
(صحیح مسلم : 867)
◈ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لست من الدنيا وليست مني إني بعثت والساعة نستبق .
”میرا اور دنیا کا باہمی ربط کچھ ایسا ہے کہ ادھر میری بعثت ہوئی اور ادھر قیامت قائم ہوئی۔“
(تاریخ ابن عساكر : 334/9 ، المختارة للضياء : 1542 وسنده صحيح)
مقصود یہ ہے کہ میرے اور قیامت کے درمیان اب اور کوئی نبی نہیں آئے گا۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ (354ھ) فرماتے ہیں :
أراد به أني بعثت أنا والساعة كالسبابة والوسطى من غير أن يكون بيننا نبي آخر، لأني آخر الأنبياء وعلى أمتي تقوم الساعة .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ میری بعثت اور قیامت ایسے ہی ہے، جیسے انگشت شہادت اور بڑی انگلی۔ چنانچہ میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں، میں آخری نبی ہوں اور میری امت پر ہی قیامت قائم ہوگی۔“
(صحيح ابن حبان : 11/15)
علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) لکھتے ہیں :
أما قوله : بعثت أنا والساعة كهاتين ، فمعناه أنا النبى الأخير فلا يليني نبي آخر، وإنما تليني القيامة كما تلي السبابة الوسطى وليس بينهما إصبع أخرى، وهذا لا يوجب أن يكون له علم بالساعة نفسها وهى مع ذلك كائنة لأن أشراطها متتابعة ، وقد ذكر الله الأشراط فى القرآن، فقال : فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا (محمد : 18) أى دنت، وأولها النبى صلى الله عليه وسلم لأنه نبي آخر الزمان، وقد بعث وليس بينه وبين القيامة نبي .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں (میری بعثت اور قیامت کے درمیان اتنا سا فاصلہ باقی ہے، جتنا ان دو انگلیوں میں ہے)۔ یعنی میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ میرے بعد قیامت ہی آئے گی، جیسے انگشت شہادت اور بڑی انگلی کے درمیان کوئی انگلی نہیں ہوتی اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ قیامت کی خبر دینے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قیامت کا علم تھا، مطلب یہ ہے کہ قیامت نے تو آنا ہی ہے اور اس کی نشانیاں لامحالہ ظاہر ہوتی ہیں، جیسا کہ اللہ نے فرمایا : فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا ”قیامت کی نشانیاں قریب ہیں۔“ (محمد : 18) تو ان میں سے پہلی نشانی آخر الزماں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہو چکی، اس کے بعد قیامت تو آئے گی، کوئی نبی نہیں۔“
(التذكرة في أحوال الموتى وأمور الآخرة : 1219)
علامہ ابن رجب رحمہ اللہ (795ھ) لکھتے ہیں :
قد فسر قوله صلى الله عليه وسلم : بعثت أنا والساعة كهاتين، وقرن بين السبابة والوسطى بقرب زمانه من الساعة، كقرب السبابة من الوسطى، وبأن زمن بعثته تعقبه الساعة من غير تخلل نبي آخر بينه وبين الساعة .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (میری بعثت اور قیامت میں اتنا سا فاصلہ باقی ہے، جتنا ان دو انگلیوں کے درمیان ہے۔) اس کی مراد یہ ہے کہ میرا زمانہ قیامت سے اتنی قربت رکھتا ہے، جیسے انگشت شہادت اور بڑی انگلی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد قیامت ہی آئے گی، درمیان میں کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔“
(فتح الباري شرح صحيح البخاري : 355/4)
◈ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
نظرت إلى خاتم النبوة بين كتفيه، مثل زر الحجلة .
”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں کے درمیان مہر نبوت کو دیکھا، وہ کبوتر کے انڈے کی مانند تھی۔“
(صحيح البخاري : 5670 ، صحیح مسلم : 2345)
◈ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن لي أسماء أنا محمد وأحمد والعاقب والماحي والحاشر الذى يحشر الناس على عقبي، والعاقب آخر الأنبياء .
”میرے کئی نام ہیں، میں محمد، احمد، عاقب، ماحی، حاشر (صلی اللہ علیہ وسلم) ہوں، حاشر اسے کہتے ہیں، جس کے بعد حشر قائم ہو اور عاقب کا معنی آخری نبی ہے۔“
(مسند البزار : 3413 وسنده صحيح)
امام بزار رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔
◈ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
بعثت بين يدي الساعة بالسيف حتى يعبد الله وحده لا شريك له، وجعل رزقي تحت ظل رمحي، وجعل الذلة والصغار على من خالف أمري، ومن تشبه بقوم فهو منهم .
”قیامت سے ذرا پہلے مجھے تلوار دے کر بھیجا گیا ہے، جب تک صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت نہ ہونے لگے، تلوار چلتی رہے گی۔ میرا رزق نیزوں کے سائے میں رکھا گیا ہے۔ ذلت اور رسوائی میری شریعت کے مخالف کا مقدر ہے، جو جس قوم کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے، وہ ان میں سے ہوتا ہے۔“
(مسند الإمام أحمد : 50/2 وسنده حسن)
◈ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إني خاتم النبيين، ولا نبي بعدي .
”میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“
(التاريخ الكبير للبخاري : 4/2 وسنده حسن)
◈ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أنا سيد المرسلين، ولا فخر وأنا خاتم النبيين ولا فخر وأنا أول شافع ومشفع ولا فخر .
”میں سید المرسلین، خاتم النبیین اور پہلا شافع مشفع ہوں، یہ بات میں از روئے فخر نہیں کہتا بلکہ تحدیث نعمت کے طور پر کہتا ہوں۔“
(الأوائل لابن أبي عاصم : 87 ، واللفظ له المعجم الأوسط للطبراني : 170 ، التاريخ الكبير للبخاري : 286/4 ، دلائل النبوة للبيهقي : 480/5 وسنده صحيح)