”حُفِظتَ“ اور ”عُصِمتَ“ کی غلط تشریح اور اصحابِ شوریٰ میں سیدنا علیؓ کے نام کی ترتیب

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مرزا محمد علی انجینئر کے اعتراضات و اشکالات کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے جسے ہارون بن شبیر احمد حفظہ اللہ نے تالیف کیا ہے اور نظرِ ثانی فضیلۃ الشیخ مولانا محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ نے کی ہے۔

”حُفِظتَ“ اور ”عُصِمتَ“ کی غلط تشریح:

مرزا صاحب ان الفاظ کا ترجمہ یوں کیا کرتے ہیں کہ حبیب بن مسلمہ نے کہا ”عبداللہ بن عمر نے خاموشی اختیار کر کے اپنی عزت بھی بچا لی اور اپنی جان بھی بچا لی“۔ اور پھر کہتے ہیں ”اب پتہ چلا کہ کیا ہوتا تھا زبان کھولنے میں؟“
یہ خواہ مخواہ بال کی کھال اتارنے والی بات ہے، ورنہ بات صرف اتنی سی ہے کہ جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خود فرما رہے ہیں کہ اس بات کا امکان موجود تھا کہ میری بات کا کوئی اور مطلب سمجھ لیا جاتا، اور کسی قسم کی غلط فہمی کی بنیاد پر دونوں جماعتوں میں تفریق اور لڑائی بھی ہو سکتی تھی، تو اگر ایسا ہوتا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پر بھی حرف آ سکتا تھا، صرف اسی بنا پر ہی جناب حبیب بن مسلمہ نے فرمایا کہ آپ اس مسئلے اور فتنے سے بچ گئے/ بچا لیے گئے۔ انہوں نے ایسا کچھ کہا ہی نہیں کہ جی آپ نے خاموشی اختیار کر کے اپنی جان بچا لی۔
امام یحییٰ بن ہبیرۃ رحمہ اللہ ان الفاظ کی تشریح میں لکھتے ہیں:
”حفظت وعصمت“ يعني أن الله تعالى عصمه من الخطأ، وحفظه من قول يثير فتنة۔ ”رہا حُفِظتَ اور عُصِمتَ کا مطلب تو اس سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خطا سے پاک رکھا اور آپ ایسی بات کرنے سے بچ گئے کہ جس سے فتنہ ہو سکتا تھا۔“ (الافصاح عن معانی الصحاح:206/4)
یہ سب صرف انجینئر صاحب کے منہ کی باتیں ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت کاٹ کھانے والی ملوکیت تھی، ان کے آگے بولنے والوں کا بہت برا انجام ہوتا تھا، ظلم ہوتے تھے، تلوار کے زور پر خاموش کروا دیا جاتا تھا، جبکہ یہ سو فیصد جھوٹ اور بے دلیل باتیں ہیں، اس کے رد میں کئی ایک مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں لیکن چونکہ یہ ہمارا موضوع نہیں لہٰذا صرف ایک ہی روایت پر اکتفا کرتے ہیں:
عَنْ أَبِي قَبِيلٍ قَالَ: خَطَبَنَا مُعَاوِيَةُ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ فَقَالَ: إِنَّمَا الْمَالُ مَالُنَا وَالْفَيْءُ فَيْئُنَا، مَنْ شِئْنَا أَعْطَيْنَا، وَمَنْ شِئْنَا مَنَعْنَا، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ أَحَدٌ، فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الثَّانِيَةُ، قَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ أَحَدٌ، فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الثَّالِثَةُ، قَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِمَّنْ شَهِدَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ: كَلَّا، بَلِ الْمَالُ مَالُنَا وَالْفَيْءُ فَيْئُنَا، مَنْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ حَاكَمْنَاهُ بِأَسْيَافِنَا، فَلَمَّا صَلَّى أَمَرَ بِالرَّجُلِ، فَأُدْخِلَ عَلَيْهِ، فَأَجْلَسَهُ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ، ثُمَّ أَذِنَ لِلنَّاسِ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي تَكَلَّمْتُ فِي أَوَّلِ جُمُعَةٍ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ أَحَدٌ، وَفِي الثَّانِيَةِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ أَحَدٌ، فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ أَحْيَانِي هَذَا أَحْيَاهُ اللهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سَيَأْتِي قَوْمٌ يَتَكَلَّمُونَ فَلَا يُرَدُّ عَلَيْهِمْ، يَتَقَاحَمُونَ فِي النَّارِ تَقَاحُمَ الْقِرَدَةِ، فَخَشِيتُ أَنْ يَجْعَلَنِيَ اللهُ مِنْهُمْ، فَلَمَّا رَدَّ هَذَا عَلَيَّ أَحْيَانِي، أَحْيَاهُ اللهُ، وَرَجَوْتُ أَنْ لَا يَجْعَلَنِيَ اللهُ مِنْهُمْ ۔
”ثقہ تابعی ابو قبیل سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا: (ایک مرتبہ) ہمیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جمعہ کا خطبہ دیا اور (بطورِ امتحان) کہا: بے شک یہ مال ہمارا مال ہے اور یہ مالِ فے ہمارا مالِ فے ہے، ہم جسے چاہیں دیں اور جسے چاہیں نا دیں، تو کسی نے آپ رضی اللہ عنہ کی بات کا رد نہیں کیا۔ پھر اگلے جمعہ آپ رضی اللہ عنہ نے اسی بات کو دہرایا لیکن اس مرتبہ بھی کسی نے آپ رضی اللہ عنہ کا رد نا کیا۔ پھر جب تیسرا جمعہ آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے پھر وہی بات دہرائی، مسجد میں موجود ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: ہرگز نہیں! بلکہ یہ مال ہمارا مال ہے اور یہ مالِ فے بھی ہمارا مال ہے، اور جو ہمارے اور اس کے درمیان رکاوٹ بنا تو ہم اپنی تلواروں کے ذریعے اسے حاصل کریں گے۔ پھر جب آپ رضی اللہ عنہ نماز ادا کر چکے تو ایک آدمی کو حکم دیا (کہ اس شخص کو میرے پاس لایا جائے) تو اس آدمی کو آپ رضی اللہ عنہ کے پاس لے جایا گیا، آپ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے پاس چار پائی پر بٹھا لیا پھر دوسرے لوگوں کو بھی اندر آنے کی اجازت دی گئی، پھر جناب معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! میں نے پہلے جمعہ جو گفتگو کی تو کسی نے میری بات کا رد نہیں کیا اور دوسری مرتبہ بھی کسی نے میری تردید نہیں کی لیکن تیسری مرتبہ اس شخص نے مجھے زندہ کیا اللہ اسے زندہ کرے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”عنقریب ایسے لوگ آئیں گے وہ گفتگو کریں گے لیکن ان کی (غلط باتوں کی) تردید نہیں کی جائے گی، وہ جہنم میں بندروں کی طرح ایک دوسرے کے پیچھے چھلانگیں لگائیں گے“۔ تو میں ڈر گیا کہ کہیں اللہ مجھے ان میں سے نا بنا دے، لیکن اس آدمی نے میری بات کو مسترد کر کے مجھے زندگی دی اللہ اسے زندہ رکھے، اور اب مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے ان (بدبخت) لوگوں میں شمار نہیں کرے گا۔“
(مسند ابی یعلی:7382)
اس روایت کو امام ذہبی رحمہ اللہ اور محدث البانی رحمہ اللہ نے حسن (تاریخ الاسلام للذہبی:314/4، الصحیحۃ:398/4)، اور شیخ حسین سلیم اسد رحمہ اللہ نے مسند ابی یعلی کی تخریج میں صحیح قرار دیا ہے۔
لیں جی! جو تاثر یہ مجمل روایات کی بنا پر دیتے ہیں حقیقت اس کے سو فیصد برعکس ہے، بلکہ آپ رضی اللہ عنہ تو یہ خواہش کیا کرتے تھے کہ اگر میں کوئی غلط بات کروں تو اسے مسترد کیا جائے، اور آزادی رائے کا پورا حق دیا گیا تھا۔

کیا شوریٰ کمیٹی بناتے وقت جناب علی رضی اللہ عنہ کا نام سب سے پہلے لیا گیا تھا؟

اب ایک نظر مرزا صاحب کی اس ڈاکٹرائن پر بھی ڈال لیتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اصحاب شوریٰ میں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام سب سے پہلے لیا۔ یہ وضاحت اس لیے ضروری ہے کہ اس بنیاد پر مرزا صاحب نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر جھوٹ بولا کہ یہ اصل میں انہوں نے بدلہ اتارا کہ آپ چھ بندوں کا نام لے کر گئے ہیں اور علی کا نام سب سے پہلے! یعنی مرزا صاحب یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے سوچا کہ عمر نے میرا نام نہیں لیا، اور اگر نہیں لیا تو جو لیے بھی ان میں سب سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا۔ تو اس سے یہ تاثر دیا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دل میں جناب علی رضی اللہ عنہ کے لیے کوئی کینہ اور بغض تھا۔ حالانکہ یہ سب جھوٹ کا پلندہ بلکہ انجینئر صاحب کی جہالت ہے۔
یہی حدیث ”طبقات الکبریٰ“ میں صحیح سند کے ساتھ ناموں کی اس ترتیب کے ساتھ ہے: وَإِنَّمَا الْأَمْرُ إِلَى سِتَّةٍ، إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ وَالزُّبَيْرِ وَطَلْحَةَ وَسَعْدٌ۔ کہ ”خلافت کا معاملہ ان چھ اشخاص میں سے طے پائے: عبدالرحمٰن بن عوف، عثمان، علی، زبیر، طلحہ اور سعد رضی اللہ عنہم“ اس روایت کے آخر میں ہے:
قَالَ سَالِمٌ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ: أَبَدَأَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ قَبْلَ عَلِيٍّ قَالَ: نَعَمْ وَاللَّهِ۔
”راوی حدیث سالم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا نام سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پہلے لیا تھا؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کی قسم ہاں!“ (الطبقات الکبریٰ:344/3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس پہ تبصرہ فرماتے ہیں:
وقع عِنْدَ بْنِ سَعْدٍ مِنْ رِوَايَةِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ ذَكَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَعُثْمَانَ وَعَلِيًّا وَفِيهِ قُلْتُ لِسَالِمٍ أَبَدَأَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَبْلَهُمَا قَالَ نَعَمْ فَدَلَّ هَذَا عَلَى أَنَّ الرُّوَاةَ تَصَرَّفُوا لِأَنَّ الْوَاوَ لَا تُرَتِّبُ۔
”ابن سعد میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ انہوں نے نام اس ترتیب سے ذکر کیے: عبدالرحمن بن عوف، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم۔ اور اُس روایت میں ہے کہ (راوی حدیث نے کہا) میں نے سالم سے پوچھا کہ کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سب سے پہلے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کا نام لیا؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ہاں! تو یہ دلالت کرتا ہے کہ (یہاں صحیح بخاری کی روایت میں) راویوں میں سے کسی نے ترتیب بدل دی ہے، کیوں کہ ”واؤ“ ترتیب کے لیے نہیں ہوتی۔“ (فتح الباری:67/7)
تو جب ناموں کی یہ صحیح بخاری والی ترتیب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ ہے ہی نہیں، تو مرزا صاحب نے اس بنیاد پر جو جھوٹ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا ہے اس کی کیا وقعت رہ جاتی ہے؟ مرزا صاحب صحیح بخاری کا نام لے کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق جھوٹ پھیلاتے ہیں، اور ایسا تاثر دیتے ہیں کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ذاتی طور پر دشمن تھے۔ نعوذ باللہ