بانجھ عورت سے شادی کرنے کی ممانعت
① سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا: مجھے حسب و نسب اور حسن و جمال والی ایک عورت ملی ہے لیکن وہ بچے پیدا نہیں کر سکتی، کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا ”نہیں“۔
پھر وہ دوسری مرتبہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع فرمایا۔ پھر وہ تیسری مرتبہ آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تزوجوا الودود الولود فإني مكاثر بكم الأمم يوم القيامة
”خوب محبت کرنے والی اور خوب بچے پیدا کرنے والی عورتوں سے شادی کرو، کیونکہ میں روزِ قیامت تمہاری کثرت کی وجہ سے دیگر امتوں پر فخر کروں گا“۔
ابوداؤد، كتاب النكاح 2050۔ النسائي، كتاب النکاح 54/6۔
نکاحِ شغار (وٹہ سٹہ) کی ممانعت
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاحِ شغار سے منع فرمایا ہے؛ اور شغار یہ ہے کہ کوئی آدمی دوسرے آدمی کی بیٹی سے اس شرط پر نکاح کرے کہ وہ اپنی بیٹی یا اپنی بہن کا نکاح اس (دوسرے) آدمی سے کرے گا اور ان کے درمیان کوئی مہر متعین نہ ہو۔
بخاری، کتاب النكاح 5112۔ مسلم، كتاب النكاح 57 / 1415۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار کے نکاح سے منع فرمایا ہے۔ اور شغار یہ ہے کہ آدمی کسی آدمی سے کہے: ”تم اپنی بیٹی کا میرے ساتھ نکاح کر دو اور میں اپنی بیٹی کا تمہارے ساتھ نکاح کر دوں گا“ یا ”اپنی بہن کا میرے ساتھ نکاح کر دو اور میں اپنی بہن کا تمہارے ساتھ نکاح کر دوں گا۔“
مسلم، كتاب النكاح 61 / 1416۔ ابن ماجه، كتاب النکاح 1884۔ مسند احمد، باقی مسند المكثرين 653/2۔
آدمی سے بیوی کی پٹائی کرنے پر باز پرس کرنے کی ممانعت
① سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يسأل الرجل فيما ضرب امرأته
”آدمی سے (اخلاقی و شرعی حدود کے اندر) اپنی بیوی کی پٹائی کرنے پر باز پرس نہیں کی جائے گی“۔
ابوداؤد، کتاب النکاح 2147۔