حدیث 26: گناہ کبیرہ، مثلاً زنا، چوری دخول جنت سے مانع نہیں
اس بارے میں بکثرت احادیث وارد ہیں لیکن طلوع اسلام والوں نے بطور اعتراض ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس میرے رب کی طرف سے جبریل علیہ السلام آئے تو انہوں نے مجھے بشارت دی کہ میری امت میں سے جو شخص اس حال میں مرے گا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔“ میں (ابو ذر) نے عرض کیا، اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو تو آپ نے فرمایا: ”(ہاں) اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو۔“
صحيح البخاري، الجنائز، باب: ومن كان آخر كلامه ، حدیث : 1237 ، و مقام حدیث، ص:331
پرویز صاحب کو جواب دینے سے پہلے دو باتیں بطور تمہید عرض کرتا ہوں:
➊ زمانہ قدیم سے یہ مسئلہ اختلافی رہا ہے۔ معتزلہ کہتے ہیں: جس شخص نے ایمان لانے کے بعد کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا (اور صحیح توبہ نہ کی) تو وہ دائمی جہنمی ہے اگرچہ دنیاوی احکام کے اعتبار سے اسے کافر نہیں کہتے۔
خوارج کہتے ہیں: گناہ کبیرہ کا مرتکب کافر ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اہل السنہ والجماعہ کہتے ہیں: ایسا شخص کافر ہے نہ دائمی جہنمی، دنیا میں اسے فاسق مومن کہا جائے گا اور آخرت میں اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس کے تمام گناہ معاف کر کے اسے جنت میں داخل فرما دے اور وہ جہنم سے بچ جائے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان گناہوں کی وجہ سے اسے کچھ مدت کے لیے جہنم میں عذاب سے دوچار کرے اور پھر اسے ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل فرما دے۔
➋ جس حدیث میں ہے کہ جس شخص نے شرک نہ کیا یا جس نے لا إلٰه إلا الله کا اقرار کیا وہ جنت میں جائے گا تو اس سے تمام ایمانیات پر ایمان لانا اور ہر قسم کے کفر و شرک سے اجتناب کرنا مراد ہے۔
اس تمہید کے بعد مفصل جواب درج ذیل ہے: اہل سنت والجماعت اپنے عقیدے کے لیے درج ذیل آیات کریمہ سے استدلال کرتے ہیں:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ
”بے شک اللہ یہ نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے اور اس کے سوا جو گناہ ہیں وہ جس کو چاہے بخش دے گا۔“
(4-النساء:48)
نیز فرمایا:
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا
”کہہ دیجیے: اے میرے بندو! جنہوں نے اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ تمام گناہ معاف کر دیتا ہے۔“
(39-الزمر:53)
پہلی آیت میں صاف ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ شرک و کفر کے علاوہ تمام گناہ بخش دیتا ہے، یعنی آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے تحت بندہ مومن کے تمام گناہ بخش دیتا ہے، اس میں کبیرہ اور صغیرہ دونوں قسم کے گناہ شامل ہیں، خواہ اس نے توبہ بھی نہ کی ہو کیونکہ توبہ کرنے سے تو کافر کا کفر اور مشرک کا شرک بھی قابل معافی جرم قرار پاتا ہے۔ دوسری آیت میں يعبادي ”اے میرے بندو!“ کا خطاب ایمان والوں کے لیے ہے، اور انہیں یہ فرمایا ”بے شک اللہ تمام گناہ بخش دیتا ہے۔“ یہاں بھی توبہ کا ذکر نہیں۔
ہاں! بعض مفسرین نے اس آیت کو عموم پر محمول کیا ہے، یعنی یہ آیت مشرکوں کو بھی محیط ہے اس صورت میں مفہوم آیت یہ ہے کہ توبہ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمام گناہ بخش دیتا ہے۔
نیز فرمایا:
سَابِقُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۚ ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ﴿٢١﴾
”اپنے رب کی مغفرت کی طرف دوڑو اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین کی وسعت کے برابر ہے، یہ ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں، یہ اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے اپنا فضل دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔“
(57-الحديد:21)
سوال :
اللہ تعالیٰ نے اکثر آیات بشارت میں ایمان کے بعد عمل صالح کا ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کے حصول کے لیے ایمان کے ساتھ عمل صالح شرط ہے تو جب عمل صالح نہ ہو بلکہ انسان کبیرہ و صغیرہ گناہ کا مرتکب ہو تو کیا اس کے لیے جنت نہیں؟
جواب :
ایمان کے دو مرتبے ہیں: ایمان کامل، یعنی عمل صالح کے ساتھ اور ایمان ناقص، یعنی عمل صالح کے بغیر اور حصول جنت کے بھی دو درجے ہیں: درجہ کاملہ، وہ یہ کہ شروع ہی سے براہِ راست جنت مل جائے اور جہنم سے نجات مل جائے۔ دوسرا درجہ اس طرح ہے کہ شروع میں تو جنت نہ ملے لیکن کچھ زمانہ جہنم میں سزا بھگتنے کے بعد مل جائے تو جہاں ایمان کا پہلا کامل مرتبہ، یعنی عمل صالح کے ساتھ ہے، وہاں حصول جنت کا بھی اول درجہ ہے اور جہاں ایمان کا دوسرا درجہ، یعنی عمل صالح کے بغیر ناقص ایمان تو وہاں حصول جنت کا بھی دوسرا درجہ ہے۔ اس دوسرے درجے میں بھی دخول جنت کی بشارت تو ہے لیکن اول درجے کا ذکر نہیں۔ یہ حدیث بھی اپنی آیات کے مضمون کے ساتھ موافقت رکھتی ہے جس میں صرف ایمان پر وعدہ جنت کا ذکر کیا گیا ہے، لہذا اس پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔