حدود قائم و رفع کرنے، لونڈی کے زنا اور زنا کی سزا کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

كتاب الحدود

حدود قائم کرنے کے متعلق احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
حد يعمل فى الأرض خير لأهل الأرض من أن يمطروا ثلاثين صباحا
”کسی سرزمین پر ایک (شرعی) حد کا قائم کیا جانا اس کے باشندوں کے لئے اس سے بہتر ہے کہ وہاں تیس دن بارش ہوتی رہے“۔
النسائی، کتاب سارق باب الترغيب في إقامة الحد۔ ابن ماجه كتاب الحدود، حديث 2538۔ اس کی سند میں جدید بن یزید ضعیف راوی ہے۔ لہذا یہ روایت ضعیف ہے۔
② سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مثل القائم فى حدود الله والواقع فيها كمثل قوم استهموا على سفينة فأصاب بعضهم أعلاها وبعضهم أسفلها فكان الذى فى أسفلها إذا استقوا من الماء مروا على من فوقهم فقالوا : لو أنا خرقنا فى نصيبنا خرقا ولم نؤذ من فوقنا . فإن تركوهم وما أرادوا هلكوا جميعا، وإن أخذوا على أيديهم نجوا ونجوا جميعا
”اللہ کی حدود کی پاسداری کرنے والا اور ان میں مبتلا ہونے والا اس قوم کی طرح ہیں جنہوں نے ایک کشتی کے بارے میں قرعہ اندازی کی۔ ان میں سے بعض کے حصے میں اس کا بالائی حصہ آیا اور بعض کے حصے میں نچلا حصہ۔ نچلے حصے والوں کو جب پانی کی ضرورت ہوتی تو وہ بالائی حصے والوں کے پاس جاتے۔ انہوں نے کہا: اگر ہم اپنے ہی حصے میں سوراخ کر لیں تو اس طرح ہم اپنے اوپر والے لوگوں کو تکلیف نہیں پہنچائیں گے۔ اگر انہوں نے (اوپر والوں نے) انہوں نے اپنے منصوبے پر عمل کرنے دیا تو سب ہلاک ہو جائیں گے۔ اور اگر انہوں نے انہیں روک دیا تو اس طرح سب بچ جائیں گے“۔
بخاری ، کتاب الشركة ، حديث 2493۔ الترمذى، كتاب الفتن ، حدیث 2173۔
③ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:
أقيلوا ذوي الهيئات عثراتهم إلا الحدود
”حدود کے سوا ہیت والوں کی لغزشوں سے درگزر کرو“۔
ابوداؤد ، کتاب الحدود ، حديث 4375۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہیئت والوں سے ایسے لوگ مراد ہیں جن میں کوئی عیب ظاہر نہ ہوا ہو۔“

حدود رفع کرنے کے متعلق احکامات

① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ادرءوا الحدود عن المسلمين ما استطعتم فإن كان له مخرج فخلوا سبيله فإن الإمام أن يخطئ فى العفو خير من أن يخطئ فى العقوبة
”جس قدر ہو سکے مسلم پیانوں سے حدود رفع کرو اگر کہیں گنجائش نکلتی ہو تو اس کا راستہ چھوڑ دو ۔ کیونکہ قاضی کا دور گزر کرنے میں غلطی کرنا سزا دینے میں غلطی کرنے سے بہتر ہے ۔“
الترمذى ، كتاب الحدود ، حديث 1424۔

جب لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے مارنے کے متعلق احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إذا زنت أمة أحدكم فتبين زناها فليجلدها الحد ولا يثرب عليها ثم إن زنت_ فليجلدها الحد ولا يثرب عليها ثم إن زنت الثالثة فتبين زناها فليبعها ولو بحبل من شعر
”جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے اور اس کا زنا کرنا واضح ہو جائے تو اس پر حد قائم کرے اور اسے عار نہ دلائے۔ پھر اگر زنا کرے تو اس پر حد قائم کرے اور اسے عار نہ دلائے ۔ اور اگر تیسری مرتبہ زنا کرے اور اس کا زنا کرنا واضح ہو جائے تو اسے فروخت کر دے خواہ بالوں کی رسی کے عوض فروخت کرنا پڑے۔“
بخاری، کتاب الحدود 6838،6837۔ مسلم، کتاب الحدود 1703۔ابو داؤد، کتاب الحدود 4470۔

زنا کی سزا

① سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان قبیلے کے ایک آدمی اور ایک یہودی مرد و عورت کو رجم کیا۔
مسلم، کتاب الحدود 1701۔ ابوداؤد، کتاب الحدود 4455۔
② ابو اسحاق الشیبانی بیان کرتے ہیں، میں نے سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا؟ انہوں نے کہا: ہاں!۔ وہ کہتے ہیں، میں نے پوچھا سورہ نور کے نزول کے بعد یا اس سے پہلے؟ انہوں نے فرمایا: مجھے پتہ نہیں ہے۔
بخاری، کتاب الحدود 6813۔ مسلم، کتاب الحدود 1702۔