کیا حضرت معاویہؓ نے سیدنا عمرؓ کی توہین کی؟ صحیح بخاری 4108 کی حقیقت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مرزا محمد علی انجینئر کے اعتراضات و اشکالات کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے جسے ہارون بن شبیر احمد حفظہ اللہ نے تالیف کیا ہے اور نظرِ ثانی فضیلۃ الشیخ مولانا محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ نے کی ہے۔

کیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خود کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر خلافت کا حقدار قرار دیا اور ان کی توہین کی؟

یہ بھی انجینئر صاحب کے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر بڑے بڑے اعتراضات میں سے ایک اعتراض ہے کہ انہوں نے خود کو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر خلافت کا حقدار قرار دیا، اور پھر انجینئر صاحب اسے بہت بڑی گستاخی اور توہین بنا کر پیش کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ کہتے ہیں:

”صحیح بخاری انٹرنیشنل نمبرنگ کے مطابق غزوہ خندق کے چیپٹر میں 4108 نمبر، جس کو میں کڑوی گولی کہتا ہوں! صفین میں تحکیم کے مسئلے کے بعد جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ تشریف لائے تو وہاں پر انہوں نے ایک تقریر کی ”صحیح بخاری 4108“ بخاری میں نا نکلے جو چور کی سزا وہ میری بلکہ جو مرتد کی سزا وہ میری سزا لیکن اگر نکل آئے تو ان مولویوں کے گریبان پکڑیں کہ یہ حق بات آپ کو کیوں نہیں بتاتے؟ بخاری مَیں نہیں لکھی پائی جی! – بخاری 4108-تو تحکیم کے مسئلے کے بعد جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ تشریف لائے تو وہاں انہوں نے ایک تقریر کی خطبہ دیا، تو خطبہ دیا تو حضرت حفصہ ام المومنین جو حضرت عمر کی بیٹی اور عبداللہ بن عمر کی بہن تھیں، انہوں نے عبداللہ بن عمر کو کہا کہ: عبداللہ ایسا کرو کہ امیر معاویہ آئے ہیں اور وہ تقریر کر رہے ہیں تم جا کے ان کی تقریر سنو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری غیر موجودگی فتنہ سمجھ لیا جائے کہ حضرت عبداللہ بن عمر کوئی اپنی مہم چلا رہا ہے، تو حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا ٹھیک ہے بہن۔ تو وہاں پر گئے وہ، وہاں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھا اس کے بعد انہوں نے کہا حضرت عبداللہ بن عمر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ: جسے خلافت کی خواہش ہے اس امر میں وہ اپنا سر اٹھائے میں اس کے باپ سے بھی زیادہ خلافت کا حقدار ہوں! ”والعیاذ باللہ تعالیٰ“ عبداللہ بن عمر کا باپ کون ہے؟ حضرت عمر، مولا عمر! مولا عمر سے خلافت کا زیادہ میں حقدار ہوں! لوگ کہتے ہیں جی وہ جی قصاصِ عثمان تھا یہ تھا وہ تھا، یہ پتہ چل گیا کیا تھا! فتح مکہ پر معافی مانگنے والے لوگ کہتے ہیں کہ ہم عمر سے زیادہ خلافت کے حقدار ہیں، وہ عمر جس نے رومن ایمپائر گرائی یرموک میں اور قادسیہ میں پرشین امپائر، جس کی وجہ سے شام میں بیٹھے ہوئے ہیں آپ، اور آج آپ آ کر کہہ رہے ہیں کہ میں عمر سے زیادہ خلافت کا حقدار ہوں۔ اصل میں بدلہ اتارا نہ کیوں کہ بخاری میں حدیث ہے حضرت عمر نے کہا تھا کہ میں صرف چھ بندوں کو خلافت کا حقدار سمجھتا ہوں اپنے بعد، پہلے نمبر پر کہا علی، عثمان، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد ابن ابی وقاص، اپنے بیٹے کا بھی نام نہیں لیا۔ انہوں نے کہا: تسی چھ بندیاں دے نام لے کے گئے او؟ علی دا پہلا نمبر، تے میں ہن جواب دینا تہاڈی وفات تو بعد، جس کو خواہش ہے وہ اپنا سر اٹھائے میں اس کے باپ سے زیادہ خلافت کا حقدار ہوں! اور پھر جب تقریر ختم ہوئی تو حبیب بن مسلمہ کہتے ہیں میں نے کہا عبداللہ بن عمر! اتنی توہین کی حضرت عمر کی حضرت امیر معاویہ نے اور آپ نے ان کا وہاں پر جواب نہیں دیا؟ عبداللہ بن عمر نے کہا میں نے ارادہ تو کیا تھا اپنی گوٹھ کھولوں۔ یہ میں کوئی تاریخ نہیں پڑھ رہا بخاری 4108 حدیث ہے۔ میں نے کہا میں اسی وقت معاویہ کو جواب دوں: معاویہ تیرے سے زیادہ خلافت کا حقدار وہ ہے جس نے تجھے اور تیرے باپ کو مار مار کے مسلمان کیا ہے، (یعنی) مولا علی! وہ مسلمان تھا اور تو اور تیرا باپ ابوسفیان رضی اللہ عنہم وہ کافر تھے اس وقت، اور وہ تم سے قتال کرتا تھا آج فتح مکہ میں معافیاں مانگ کے تم لوگ کہہ رہے ہو کہ میرے باپ سے زیادہ خلافت کے حقدار ہو؟ پھر عبداللہ بن عمر کہتے ہیں میں فتنے اور خون ریزی کے ڈر سے خاموش ہو گیا، پھر مجھے جنت کی نعمتیں یاد آ گئیں، میں نے پھر جنت پر ہی کفایت کر لیا۔ حبیب بن مسلمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر نے خاموشی اختیار کر کے اپنی عزت بھی بچا لی اور اپنی جان بھی بچا لی۔ اب پتہ چلا کہ کیا ہوتا تھا زبان کھولنے میں؟“

Mas’alah 101 – 59:29
ایک دوسری ویڈیو میں ہے:

”صحیح بخاری کتاب المغازی غزوہ خندق کا چیپٹر انٹرنیشنل نمبر کے مطابق 4108 نمبر حدیث ”کڑوی گولی“ ام المومنین سیدہ حفصہ کہتی ہیں رضی اللہ عنہا (یعنی) جب حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان معاملات چل رہے تھے جنگ صفین کے، وہ قصاص عثمان کا تو ایک بہانہ ہی تھا نہ بعد میں تو مسئلہ کچھ اور ہی بن گیا ہوا تھا۔ تو جب یہ معاملات چل رہے تھے تو حضرت حفصہ ام المومنین نے کہا کہ عبداللہ بن عمر میرے بھائی تو جا تیری غیر موجودگی میں کوئی اور مسئلہ نا کھڑا ہو جائے، تیری موجودگی وہاں ضروری ہے، مسلمانوں کے درمیان Issues resolve ہونے والے ہیں ………… (جب حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پہنچے تو) حضرت معاویہ خطبہ دے رہے ہیں حضرت معاویہ کو کسی نے یہ بات بتا دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر خلیفہ بننا چاہتے ہیں، تو انہوں نے عبداللہ بن عمر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کنایہ سے بات کی کہ جس کو خلافت کا شوق ہے نہ اپنا سر ذرا اٹھائے میں اس سے اور اس کے باپ سے زیادہ خلافت کا حقدار ہوں ”والعیاذ باللہ تعالیٰ“ حضرت عمر کے بارے میں اتنا گستاخانہ جملہ! میں کانپ اٹھتا ہوں یہ بات پڑھ کے…………“۔

Mas’alah 61- 1:13:22
مرزا صاحب کا طریقہ واردات یہ ہے کہ آپ نام تو بخاری و مسلم کا لیتے ہیں، اور مکمل ریفرنس دے کر عوام کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ بھئی ہر بات باحوالہ ہو رہی ہے، جو بھی بات کی جا رہی ہے وہ اس ریفرنس میں موجود ہے۔ لیکن حقیقت میں اس روایت میں ایسا کچھ نہیں ہوتا ہے جو کہ یہ اس کا نام لے کر بیان کرتے ہیں۔ یہاں بھی انجینئر صاحب صحیح بخاری کا نام لے کر شور کرتے ہیں: ”معاویہ نے عمر کی گستاخی کر دی معاویہ نے عمر کی توہین کر دی“! اور پھر مزید تقویت کے لیے ”استغفراللہ“ اور ”نعوذ باللہ“ جیسے کلمات بار بار دہرا کر عامی حضرات کو دھوکا دیتے اور ان کا مائنڈ سیٹ کرتے ہیں۔ صحیح بخاری کی اس روایت میں دور دور تک نہیں کہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر یا علی رضی اللہ عنہما کے متعلق یہ بات کہی، جیسا کہ ہم دلائل سے واضح کرنے والے ہیں۔ لیکن بالفرض اگر مان بھی لیا جائے کہ اشارہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف تھا، تو اس میں توہین اور گستاخی کہاں ہے؟ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خود کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے زیادہ خلافت کا حقدار کہا اس میں؟ یا ان کے لہجے اور الفاظ میں؟

توہین کہاں ہے؟

اگر بات لہجے اور الفاظ کی کریں تو عرض ہے کہ یہ لہجہ اور الفاظ انجینئر صاحب کے اپنے ہیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے نہیں! یہی تو ان کی جادوگری ہے کہ بات کچھ ہوتی ہے لیکن یہ اپنے خاص سٹائل اور چنیدہ الفاظ کے ساتھ بات کو کچھ بنا دیتے ہیں۔ اور یہاں بھی اگر کسی کو یہ گستاخی لگتی ہے تو وہ اس لیے کہ آپ اس روایت کو انجینئر صاحب کی بریکٹوں، ان کے اپنی طرف سے کچھ اضافہ شدہ الفاظ، بناوٹی لہجے اور جو وہ اپنی طرف سے مزید مصالحہ جات لگاتے ہیں کے تناظر میں سن یا پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ آپ بذات خود صرف اور صرف روایت کے اصل الفاظ پر غور کریں اور دیکھیں کہ کیا بات اسی طرح ہے جیسا یہ تاثر دیتے ہیں۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ وَنَسْوَاتُهَا تَنْطُفُ، قُلْتُ: قَدْ كَانَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ مَا تَرَيْنَ، فَلَمْ يُجْعَلْ لِي مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ۔ فَقَالَتِ: الْحَقْ فَإِنَّهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ، وَأَخْشَى أَنْ يَكُونَ فِي احْتِبَاسِكَ عَنْهُمْ فُرْقَةٌ۔ فَلَمْ تَدَعْهُ حَتَّى ذَهَبَ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ خَطَبَ مُعَاوِيَةُ قَالَ: مَنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَتَكَلَّمَ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَلْيُطْلِعْ لَنَا قَرْنَهُ، فَلَنَحْنُ أَحَقُّ بِهِ مِنْهُ، وَمِنْ أَبِيهِ. قَالَ حَبِيبُ بْنُ مَسْلَمَةَ: فَهَلَّا أَجَبْتَهُ ؟ قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَحَلَلْتُ حُبْوَتِي، وَهَمَمْتُ أَنْ أَقُولَ: أَحَقُّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْكَ مَنْ قَاتَلَكَ وَأَبَاكَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَخَشِيتُ أَنْ أَقُولَ كَلِمَةً تُفَرِّقُ بَيْنَ الْجَمْعِ، وَتَسْفِكُ الدَّمَ، وَيُحْمَلُ عَنِّي غَيْرُ ذَلِكَ، فَذَكَرْتُ مَا أَعَدَّ اللهُ فِي الْجِنَانِ۔ قَالَ حَبِيبٌ: حُفِظْتَ وَعُصِمْتَ ۔
انجینئر صاحب نے اس روایت کا ترجمہ اپنے تحقیقی مقالے ”واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر“ میں صفحہ نمبر: 3 پر ذکر کر رکھا ہے، چنانچہ ہم وہی عبارت آپ کی خدمت میں پیش کیے دیتے ہیں:

”صحیح بخاری کی حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ میں (اپنی ہمشیرہ) ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، اس حال میں کہ ان کے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا، میں نے ان سے عرض کی: لوگوں کا معاملہ جو صورت اختیار کر گیا ہے، آپ بخوبی اس سے واقف ہیں، میرا تو کوئی دخل اس امر (خلافت اور اقتدار) میں نہیں رہ گیا۔ ام المومنین نے فرمایا تم ابھی جاؤ کیونکہ لوگ تمہارا انتظار کر رہے ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ تمہارے نہ جانے سے انتشار و افتراق پیدا ہو گا۔ ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے باصرار انہیں بھیج کر ہی چھوڑا۔ چنانچہ سب لوگ متفرق ٹکریوں میں بیٹھ گئے تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے (مسئلہ تحکیم کے بعد پہلی دفعہ) وہاں (مدینہ شریف میں) خطبہ دیا اور کہا: جو کوئی اس امر (خلافت و اقتدار) میں بولنا چاہتا ہے، تو وہ ذرا سر اٹھا کے تو دکھائے، یقیناً ہم اسکے اور اسکے باپ سے بھی زیادہ اس (خلافت و اقتدار) کے مستحق ہیں (نعوذ باللہ من ذالک…………“)۔

اس روایت کے عربی متن میں لفظ ”ابیہ“ ہے، جس کا ترجمہ باپ کیا گیا ہے، جبکہ یہاں والد اور ابو جیسے الفاظ بھی استعمال ہو سکتے تھے لیکن انجینئر صاحب ہمیشہ اپنی روایتی زبان میں باپ باپ کی ہی رٹ لگاتے ہیں تا کہ منفی تاثر قائم کیا جا سکے۔ اب اسی روایت میں لفظ باپ کی جگہ والد استعمال کریں اور چونکہ بریکٹ اصل عبارت کا حصہ نہیں ہوتی بلکہ اپنی طرف سے اضافہ شدہ الفاظ ہوتے ہیں، چنانچہ بریکٹوں کو ہٹا کر یہی عبارت دیکھیں کچھ اس طرح بنے گی:

”صحیح بخاری کی حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ میں ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، اس حال میں کہ ان کے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا، میں نے ان سے عرض کی: لوگوں کا معاملہ جو صورت اختیار کر گیا ہے، آپ بخوبی اس سے واقف ہیں، میرا تو کوئی دخل اس امر میں نہیں رہ گیا ام المومنین نے فرمایا تم ابھی جاؤ کیونکہ لوگ تمہارا انتظار کر رہے ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ تمہارے نہ جانے سے انتشار و افتراق پیدا ہو گا ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے باصرار انہیں بھیج کر ہی چھوڑا۔ چنانچہ سب لوگ متفرق ٹکریوں میں بیٹھ گئے تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے وہاں خطبہ دیا اور کہا: جو کوئی اس امر میں بولنا چاہتا ہے، تو وہ ذرا سر اٹھا کے تو دکھائے، یقیناً ہم اس کے اور اس کے والد سے بھی زیادہ اس کے مستحق ہیں۔“

”تو وہ ذرا سر اٹھا کر تو دکھائے“ یہ محض انجینئر صاحب کی بے تکلفی ہے، بات اس طرح بھی ہو سکتی ہے ”وہ اپنا سر اٹھائے“ یہ: ”ذرا“ اور ”دکھائے“ عربی متن میں تو نہیں۔ خیر غور کریں یہ انجینئر صاحب کا اپنے ہاتھ سے لکھا گیا ترجمہ ہے اس میں کہیں دور دور تک لفظ ”خلافت“ موجود نہیں۔ نا ہی اس واقعہ کا صحیح پس منظر موجود ہے۔ درحقیقت عربی عبارت میں لفظ ”هَذَا الأمر“ استعمال ہوا ہے کہ ”جو کوئی ہم سے اس معاملے میں بات کرنا چاہتا ہے…………“ اور ”امر“ کسی بھی کام اور معاملے کو کہا جاتا ہے۔ اب اس روایت میں یہ تو مل رہا ہے کہ کسی کام کے متعلق بات ہو رہی ہے لیکن وہ معاملہ کیا ہے؟ نا ہی اس روایت میں صراحت موجود ہے اور نا ہی اور کسی روایت میں۔ ہاں! ایک ظن ہے کہ بات خلافت کی ہو رہی ہے۔ لیکن ہمارے انجینئر صاحب تو علمی کتابی ہیں بابی نہیں، ہر بات دلیل سے کرتے ہیں، اور منصف مزاج ہیں دوغلے بھی نہیں، ان کے بقول یہ اپنے اصول و ضوابط بالکل نہیں بدلتے، تو ان کی جناب میں عرض ہے کہ کوئی ایک صحیح متصل سند کے ساتھ روایت پیش کی جائے جس میں اس معاملے کا تعین موجود ہو کہ اس سے مراد خلافت ہے۔ نیز انجینئر صاحب کے ویڈیو والے الفاظ جو انہوں نے صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4108 کے نام سے ادا کیے ہیں اور اس روایت کا ترجمہ ریسرچ پیپر کے حوالے سے دیکھیں کتنی باتیں ہیں جو انہوں نے اس روایت کے نام پر کہی ہیں لیکن ان کا کوئی سراغ تک موجود نہیں۔ اور کہتے ہیں کہ بخاری پڑھ رہا ہوں کوئی سٹوری بک نہیں۔
پھر کیا آپ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خود کو جناب عمر رضی اللہ عنہ سے زیادہ خلافت کے حقدار سمجھنے کو گستاخی کہہ رہے ہیں؟ تو یہ سراسر دھوکا اور فریب ہے۔ اسے فہم کا اختلاف، اجتہادی خطا یا غلطی تو کہہ سکتے ہیں لیکن گستاخی اور توہین ہرگز نہیں۔
صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب مہاجرین و انصار کے مابین خلافت کے معاملے میں اختلاف واقع ہوا تو ایک انصاری صحابی کھڑے ہو کر خطاب کرنے لگے:
أَمَّا بَعْدُ، فَنَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ وَكَتِيبَةُ الْإِسْلَامِ، وَأَنْتُمْ مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ رَهْطٌ، وَقَدْ دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْ قَوْمِكُمْ. فَإِذَا هُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يَخْتَزِلُونَا مِنْ أَصْلِنَا، وَأَنْ يَحْضُنُونَا مِنَ الْأَمْرِ…………………..
”اما بعد، ہم اللہ کے مددگار اور اسلام کے لشکر کے سپاہی ہیں، اور آپ مہاجرین کی جماعت ایک چھوٹا سا گروہ ہو، آپ کی قوم میں سے ایک جماعت یہاں آ پہنچی ہے، اور اب وہ یہ چاہتی ہے کہ ہمیں ہمارے اصل حق سے محروم کر دے اور ہمیں خلافت و قیادت کے معاملے سے الگ کر دے۔“
(صحیح بخاری:6830)
جبکہ سامنے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے ہیں جن سے خطاب کیا جا رہا ہے، تو کیا یہ کہا جائے گا کہ انصار صحابہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے گستاخ تھے؟ خود کو نا صرف ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے زیادہ خلافت کا حقدار سمجھتے بلکہ انہیں طعنے دیتے کہ تم لوگ ہجرت کر کے ہمارے پاس آئے تو ہم لوگوں نے تمہاری امداد کی تھی، پناہ دی، اور آج تم ہم پر حکومت کرنا چاہتے ہو؟ …………۔ اگر بات مرزا صاحب کے مخصوص انداز اور لہجے میں کریں تو بات کہاں سے کہاں چلی جائے۔ بخاری ہی کے الفاظ ہیں کہ اسی مجلس میں جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انصار سے مخاطب ہو کر فرمایا:
نَحْنُ الْأُمَرَاءُ وَأَنْتُمُ الْوُزَرَاءُ، فَقَالَ: حُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ لَا وَاللهِ لَا نَفْعَلُ مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ……
”ہم امراء ہیں اور آپ لوگ وزراء ہو۔ اس پر حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، (ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ) ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک امیر آپ میں سے ہو۔“
(صحیح بخاری:3668)
اب یہاں بھی بات کو بڑھا چڑھا کر جناب حباب رضی اللہ عنہ کو گستاخ کہیں گے کیا؟ ہرگز نہیں!
مزید سنیے! انجینئر صاحب اپنی ایک ویڈیو میں فرماتے ہیں:

”صحیح بخاری میں انٹرنیشنل نمبر کے مطابق- چیپٹر کا نام ہی ہے اپنا خلیفہ کرنے کا بیان، امام بخاری کا فہم دیکھ لیں- انٹرنیشنل نمبرنگ کے مطابق 7217 اور صحیح مسلم میں انٹرنیشنل نمبرنگ کے مطابق 6181 کتاب الاحکام چیپٹر میں۔ (حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اماں جی عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:) میں نے ارادہ کیا کہ میں تیرے بھائی کو بلاؤں یعنی ابوبکر صدیق کے بیٹے کو اور ابوبکر کو بھی بلاؤں اور میں ان کو لکھ دوں، مجھے ڈر ہے کہ میرے بعد کوئی مانگنے والا اس چیز کو مانگے گا، پھر میں نے سوچا کہ کوئی مانگنے والا مانگے گا بھی تو ان شاء اللہ میری امت اور اللہ تبارک وتعالیٰ ابوبکر کے علاوہ کسی اور پر راضی نہیں ہوں گے، وہ میری امت کو ابوبکر پر جمع کر دے گا۔ اب اس وقت یہ بات نہیں کہ یہ کیا بات ہو رہی ہے وہ context وہی چل رہا ہے، وفات کے دن قریب ہیں اور ظاہر ہے کہ وہ (استخلاف کی) بات چل رہی ہے یہ بخاری مسلم دونوں میں موجود ہے! اور وہ مانگنے والا کون ہے؟ وہ سیدنا سعد بن عبادہ ہیں، وہ آگے حدیث میں آ بھی جائے گا بخاری شریف کی، جنہوں نے ابوبکر صدیق کی بیعت نہیں کی تھی، لیکن رضی اللہ عنہ!“

55- b Mas’alah: Wassi -e- RASOOL kon hai – 1:30:39
لیجیے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نہ صرف خود کو خلافت کا حقدار سمجھا بلکہ آپ کے بقول انہوں نے ساری زندگی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت بھی نہیں کی، اور اگر جناب سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ خلافت کا مطالبہ کر رہے ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ وہ خود کو حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے زیادہ اس کا حقدار سمجھتے تھے، مگر اس سب کے باوجود نہ ہی ان پر گستاخی کا فتویٰ لگایا جا رہا ہے نہ ہی کسی قسم کا کوئی طعن! بلکہ ایک جگہ کہتے ہیں کہ ہم اس کی زبان کھینچ لیں جو حضرت سعد بن عبادہ کے خلاف ایک جملہ بھی کہے۔
لہٰذا ثابت ہوا کہ کسی (فضیلت میں) چھوٹے صحابی کا خود کو اپنے سے افضل بلکہ سب سے افضل صحابی سے زیادہ خلافت کا حقدار سمجھنا اس کی توہین اور گستاخی بالکل نہیں ہے۔ آپ اسے سیاسی اختلاف، اجتہادی خطا یا ایسا کچھ بھی کہہ سکتے ہیں لیکن گستاخی نہیں! ہاں اگر تعصب آڑے آ جائے پھر ہر بات گستاخی ہی لگے گی۔