قربانی کے جانور میں عقیقہ شامل کرنا؟
سوال:
کیا کوئی شخص اپنے بیٹے کے عقیقے کے لئے دو بکرے یا بھیڑ ذبح کرنے کے بجائے عید الاضحیٰ کے موقع پر گائے میں سات قربانیوں کے حصوں میں دو حصے عقیقہ کے شامل کر سکتا ہے؟
الجواب:
مسنون یہی ہے کہ عقیقہ میں بکری (بکرا) اور بھیڑ (نر یا مادہ) ذبح کیے جائیں۔ گائے یا اونٹ وغیرہ کا عقیقہ میں ذبح کرنا ثابت نہیں ہے، چہ جائیکہ اسے حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ جس روایت میں ہے کہ فليعق عنه من الإبل أو البقر أو الغنم یعنی اس کی طرف سے اونٹ، گائے اور بکریاں عقیقہ میں ذبح کی جا سکتی ہیں۔ (المعجم الضغیر للطبرانی 84/1)
اس کی سند مسعدہ بن السبيع وغیرہ کی وجہ سے موضوع و باطل ہے۔
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ عبد الرحمن بن ابی بکر کے بچے کی طرف سے ایک اونٹ بطور عقیقہ ذبح کریں تو انھوں نے فرمایا: معاذ الله ولكن ما قال رسول الله: شانان مكافاتان یعنی میں (اس بات سے) اللہ کی پناہ چاہتی ہوں لیکن (میں وہ کروں گی) جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دو بکریاں کافی ہیں۔ (السنن الکبری للبیہقی 301/9 وسندہ حسن، تحفۃ الاخیار 6/428 ح 2516 وسندہ حسن، مشکل الآثار للطحاوی 68/3 ح 1042 وسندہ حسن، الکامل لابن عدی 1962/5، دوسرا نسخہ 15/7)
اس روایت سے کئی مسائل ثابت ہوتے ہیں مثلاً:
(الف) گائے اور اونٹ وغیرہ کو بطور عقیقہ ذبح کرنا جائز نہیں ہے۔
(ب) قرآن و حدیث کو تمام آراء و فتاویٰ پر ہمیشہ ترجیح حاصل ہے۔ بلکہ ہر وہ رائے اور فتویٰ جو قرآن و حدیث کے خلاف ہے مردود ہے۔
(ج) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عظیم فضیلت اس سے ثابت ہے کیونکہ آپ اتباع سنت میں بہت سختی کرنے والی تھیں۔
[فتاویٰ علمیہ:640/1، 647]