کیا حضرت معاویہؓ کا کنایہ حضرت ابن عمرؓ کی طرف تھا؟ انجینئر مرزا کے دعوے کا جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مرزا محمد علی انجینئر کے اعتراضات و اشکالات کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے جسے ہارون بن شبیر احمد حفظہ اللہ نے تالیف کیا ہے اور نظرِ ثانی فضیلۃ الشیخ مولانا محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ نے کی ہے۔

کیا کنایہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف تھا؟

مرزا صاحب نے جو بھی گفتگو کی ہے اس کے لیے حوالہ صحیح بخاری کی روایت نمبر 4108 کا دیا ہے اور کہتے ہیں کہ اگر بخاری میں نا ہو تو جو چور کی سزا وہ میری بلکہ جو مرتد کی سزا وہ میری سزا! اور کہتے ہیں بخاری مَیں نے نہیں لکھی۔ عرض ہے کہ جو باتیں آپ بخاری کے نام سے بیان کر رہے ہیں وہ بخاری آپ ہی نے لکھی ہے کیونکہ جو بخاری امام بخاری رحمہ اللہ نے لکھی ہے اس میں یہ کہیں نہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جناب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تھا اور نا ہی بخاری نے یہ کہا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے گستاخی کی ہے۔ انجینئر صاحب کے ریسرچ پیپر کی مکمل عبارت بغیر بریکٹوں کے درج ذیل ہے، ذرا دیکھیے کہاں عمر رضی اللہ عنہ کا نام آیا ہے؟
”صحیح بخاری کی حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ میں ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، اس حال میں کہ ان کے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا، میں نے ان سے عرض کی: لوگوں کا معاملہ جو صورت اختیار کر گیا ہے، آپ بخوبی اس سے واقف ہیں، میرا تو کوئی دخل اس امر میں نہیں رہ گیا ام المومنین نے فرمایا تم ابھی جاؤ کیونکہ لوگ تمہارا انتظار کر رہے ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ تمہارے نہ جانے سے انتشار و افتراق پیدا ہو گا ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے باصرار انہیں بھیج کر ہی چھوڑا۔ چنانچہ سب لوگ متفرق ٹکریوں میں بیٹھ گئے تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے وہاں خطبہ دیا اور کہا: جو کوئی اس امر میں بولنا چاہتا ہے، تو وہ ذرا سر اٹھا کے تو دکھائے، یقیناً ہم اس کے اور اس کے باپ سے بھی زیادہ اس کے مستحق ہیں۔ راوی حدیث حبیب بن مسلمہ تابعی نے بعد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: اے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پھر آپ نے ان کو کوئی جواب کیوں نہیں دیا؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا تھا کہ اسی وقت اپنی گوٹھ کھولوں اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو جواب دوں کہ اس امر کا تم سے بڑھ کر حقدار تو وہ ہے جس نے تم سے اور تمہارے باپ سے اسلام کی خاطر جنگ کی تھی مگر پھر میں ڈر گیا کہ کہیں کوئی ایسی بات نہ کہہ بیٹھوں کہ جس سے انتشار پھیلے اور خون ریزی ہو اور میری بات کا غلط مطلب ہی سمجھ لیا جائے، چنانچہ میں نے اللہ تعالیٰ کی تیار کردہ جنتی نعمتوں کو اپنے تصور میں یاد کیا راوی حدیث حبیب بن مسلمہ تابعی نے اس پر کہا: ”سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی جان بھی بچا لی اور اپنی عزت کو بھی بچا لیا۔“
لہٰذا صحیح بخاری کی روایت میں نہیں آیا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی گستاخی کی بلکہ یہ آپ کی بریکٹوں میں ہی ملتا ہے۔ پھر جناب انجینئر صاحب کی ویڈیوز دیکھیں کہ خود بھی اس سلسلے میں تضاد کا شکار ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ اشارہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف تھا تو کبھی کہتے ہیں اشارہ حضرت عمر یا علی رضی اللہ عنہما کی طرف تھا! تو اگر کسی صحیح روایت میں یہ صراحت موجود ہو کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی مراد کیا ہے، تو کیا اس شک کی گنجائش ہوتی؟
صحیح بات یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں میں سے کسی کی طرف اشارہ کیا ہی نہیں ہے، صحیح بخاری کی اس روایت کی شرح میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
قِيلَ أَرَادَ عَلِيًّا وَعَرَّضَ بِالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ وَقِيلَ أَرَادَ عُمَرَ وَعَرَّضَ بِابْنِهِ عبد الله وَفِيه بعد لِأَنَّ مُعَاوِيَةَ كَانَ يُبَالِغُ فِي تَعْظِيمِ عُمَرَ ۔
”کہا گیا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی مراد جناب علی رضی اللہ عنہ ہیں اور انہوں نے حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی طرف کنایہ کیا ہے، اور (یہ بھی) کہا گیا ہے کہ ان کی مراد جناب عمر رضی اللہ عنہ ہیں اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف کنایہ کیا ہے، مگر یہ بہت ہی بعید ہے کیوں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تعظیم کرنے میں بہت زیادہ بڑھے ہوئے تھے۔“
(فتح الباری:404/7)
اگر دلائل کو دیکھا جائے تو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا قول اس سلسلے میں حق پر ہے اور بالکل درست ہے۔
جہاں تک معاملہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہے تو امام ”عبدالملک بن عبداللہ المعروف بإمام الحرمین“ (م478ھ) عقائد پر مشتمل کتاب میں فرماتے ہیں:
وَمُعَاوِيَة وَإِن قَاتل عليا فَإِنَّهُ كَانَ لَا يُنكر إِمَامَته وَلَا يدعيها لنَفسِهِ وَإِنَّمَا كَانَ يطْلب قتلة عُثْمَان رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ۔
”حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اگرچہ جناب علی رضی اللہ عنہ سے قتال کیا، لیکن وہ کبھی بھی ان کی امامت کا انکار نہیں کرتے تھے اور نہ ہی اسے (خلافت کو) اپنے لیے طلب کرتے تھے، وہ تو محض حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کا مطالبہ کیا کرتے تھے۔“
(لمع الادلۃ فی قواعد عقائد اہل السنۃ والجماعۃ:129)
امام ابن حزم رحمہ اللہ نے فرمایا:
ولم ينكر معاوية قط فضل علي واستحقاقه الخلافة ۔
”اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کبھی بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور ان کے خلافت پر حق کا انکار نہیں کیا۔“ (الفصل فی الملل والنحل:124/4)
صحیح سند سے مروی ہے کہ جلیل القدر تابعی جناب ابو مسلم الخولانی رحمہ اللہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
أنت تنازع عليا! أم أنت مثله؟ فقال: لا والله إني لأعلم أن عليا أفضل مني وأحق بالأمر مني، ولكن ألستم تعلمون أن عثمان قتل مظلوما، وأنا ابن عمه، وإنما أطلب بدمه، فأتوا عليا فقولوا له، فليدفع إلى قتلة عثمان وأسلم له۔ فأتوا عليا فكلموه بذلك، فلم يدفعهم إليه۔
”آپ کا جو جناب علی رضی اللہ عنہ سے تنازع ہے، کیا آپ خود کو ان جیسا سمجھتے ہیں؟ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا: اللہ کی قسم ایسا نہیں! بے شک میں جانتا ہوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ مجھ سے افضل ہیں اور خلافت کا بھی مجھ سے زیادہ حق رکھتے ہیں، لیکن معاملہ یہ ہے کہ کیا تم جانتے نہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ناحق شہید کر دیے گئے ہیں اور میں ان کا چچا زاد ہوں اور ان کے قصاص کا مطالبہ کر رہا ہوں، تم لوگ علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور کہو کہ وہ قاتلین عثمان میرے حوالے کر دیں، تو میں علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لوں گا۔ پس لوگ جناب علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور اس سلسلے میں بات کی، لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے قاتلین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے نہیں کیے۔“ (تاریخ ابن عساکر:132/59، سیر اعلام النبلاء:523/2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ (فتح الباری:86/13)
لیجیے جناب صاحب! آپ تو ایک غیر واضح روایت سے منفی تاثر دے کر اسے کڑوی گولی قرار دیتے ہیں تو ہم سے بھی ایک میٹھی گولی قبول کیجیے، اس میں تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بالکل صراحت کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خود سے افضل بھی قرار دیا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ انہیں خود سے زیادہ خلافت کا حقدار سمجھتے تھے۔ کس قدر عاجزانہ اور واضح بیان ہے کہ جس سے رافضیوں کے (علی و معاویہ رضی اللہ عنہما کے حوالے سے) تمام تر وسوسوں کا رد ہوتا ہے۔ یہ کہتے ہیں معاویہ علی سے بغض رکھتے تھے، اہل بیت کے دشمن تھے، خلافت کے لالچی تھے، خلفاء کے گستاخ تھے وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ خود آپ رضی اللہ عنہ کے وضاحتی بیان سے کیا خبر مل رہی ہے؟ یہ لوگ ان واضح روایات کو چھوڑ کر ایسی مجمل اور غیر واضح روایات پکڑتے ہیں کہ جنہیں یہ اپنا مفہوم و معنی پہنا کر صحابہ کے مابین پھوٹ، لڑائی جھگڑے اور نفرت و تعصب کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور بہانہ کیا ہے جی؟ حق گوئی! بہر حال جب واضح دلیل آ گئی تو یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خود کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ خلافت کا حقدار قرار دے کر آپ رضی اللہ عنہ کی توہین کی۔
اور رہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تو انہیں مراد لینا بھی درست نہیں ہے، کیونکہ اس پر بھی کوئی صریح دلیل موجود نہیں۔ دیکھیں! سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ باہمی اختلاف کے باوجود جناب علی رضی اللہ عنہ کو خود سے زیادہ خلافت کا حقدار سمجھتے تھے جو کہ چوتھے خلیفہ راشد ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق تو بالاولی یہ گمان نہیں کر سکتے کہ میں ان سے زیادہ بہتر اور خلافت کا زیادہ حقدار ہوں جو کہ دوسرے خلیفۃ المسلمین اور امیر المومنین ہیں۔ یہ تو تھی ایک دلیل، اب اس سلسلے میں مزید دلائل ملاحظہ فرمائیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جناب عمر رضی اللہ عنہ کی بے حد تعظیم کرنے والے، ان کی پیروی کرنے والے اور ہر معاملے میں انہیں خود سے مقدم سمجھنے والے تھے جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا:
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ الْيَحْصَبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ: إِيَّاكُمْ، وَأَحَادِيثَ إِلَّا حَدِيثًا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ، فَإِنَّ عُمَرَ كَانَ يُخِيفُ النَّاسَ فِي اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ۔
”عبداللہ بن عامر سے روایت ہے، آپ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں سنی گئی احادیث کے علاوہ احادیث سے پرہیز کرو (بہت زیادہ احتیاط کرو)، کیونکہ جناب عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو بہت زیادہ اللہ عزوجل سے ڈرانے والے انسان تھے۔“ (صحیح مسلم:2389)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کرنا نہایت سنگین جرم ہے، اور روایتِ حدیث نہایت احتیاط طلب معاملہ ہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اسی احتیاط کی ترغیب دلا رہے ہیں کہ یوں ہی ہر سنی سنائی حدیث پر یقین کر کے آگے مت بیان کرو بلکہ سب سے زیادہ محتاط طریقہ تو یہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بیان ہونے والی احادیث کو لازم پکڑو، کیونکہ جناب عمر رضی اللہ عنہ اس معاملے میں بہت ہی سختی فرمایا کرتے اور اللہ کا خوف دلانے والے تھے۔ اس سے ثابت ہوا کہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے گستاخ نہیں بلکہ ان کی عزت و تکریم کرنے والے شخص تھے اور وہ ان کی خلافت اور آپ کی مینجمنٹ کو اور آپ رضی اللہ عنہ کی ذات کو خود پر فوقیت دینے والے تھے۔
عَنْ جَرِيرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: مَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَأَنَا ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ۔
”سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو خطبہ میں فرماتے ہوئے سنا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تریسٹھ برس کی عمر میں فوت ہوئے اور سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی، اور اس وقت میری عمر بھی تریسٹھ برس ہو چکی ہے۔“ (صحیح مسلم:6099)
حالانکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی اور اپنے بھائی عثمان رضی اللہ عنہ کا دور بھی پایا ہے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بطور خاص ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ذکر سے کیا مراد ہے؟ اس کا یہی مطلب ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت میں سب سے بڑی ہستیاں اور آئیڈیل ابوبکر و عمر تھے۔ اس روایت کی شرح میں ملا علی قاری رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
أَيْ: وَأَنَا مُتَوَقِّعٌ أَنْ أَمُوتَ فِي هَذَا السِّنِّ مُوَافَقَةً لَهُمْ………
”یعنی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی مراد یہ ہے کہ: ”اور میں بھی ان (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور شیخین) کی موافقت میں اسی سال فوت ہونے کی توقع رکھتا ہوں۔“ (مرقاۃ المفاتیح: 5840)
تو جو مرنے میں بھی ان کی اتباع و پیروی کی نیت رکھتے ہیں وہ بھلا خود کو ان سے زیادہ خلافت کا حقدار کیسے سمجھ سکتے ہیں؟
عَنْ عَبَّادٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ حَاجًّا قَدِمْنَا مَعَهُ مَكَّةَ، قَالَ: فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ……… فَلَمَّا صَلَّى بِنَا مُعَاوِيَةُ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ نَهَضَ إِلَيْهِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ فَقَالَا لَهُ: مَا عَابَ أَحَدٌ ابْنَ عَمِّكَ بِأَقْبَحِ مَا عِبْتَهُ بِهِ ۔ فَقَالَ لَهُمَا: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: فَقَالَا لَهُ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّهُ أَتَمَّ الصَّلَاةَ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: فَقَالَ لَهُمَا: وَيْحَكُمَا، وَهَلْ كَانَ غَيْرُ مَا صَنَعْتُ؟ قَدْ صَلَّيْتُهُمَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا………
”عباد بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حج کرنے کے لیے آئے تو ہم ان کے ساتھ مکہ روانہ ہوئے، آپ رضی اللہ عنہ نے ہمارے ساتھ ظہر کی دو رکعات پڑھیں (کیونکہ اس موقع پر نماز قصر کر کے پڑھنا سنت ہے)۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جب ہمیں ظہر کی نماز دو رکعت پڑھائی تو مروان بن حکم اور عمرو بن عثمان جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: جو عیب آپ نے اپنے چچا زاد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر لگایا ہے اتنا بُرا عیب اور کسی نے ان پر نہیں لگایا۔ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے پوچھا کہ معاملہ کیا ہے؟ تو ان دونوں نے جواب دیا: کیا آپ جانتے نہیں کہ جناب عثمان رضی اللہ عنہ نے مکہ میں مکمل نماز ادا کی تھی؟ تو اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: تم دونوں پر افسوس ہے! میں نے بھلا ایسا کیا کیا ہے؟ میں نے تو (اس موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں دو رکعات ہی پڑھی ہیں اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بھی۔“ (مسند احمد:16857)
اس کی سند حسن ہے، مسند احمد کی تخریج میں شیخ شعیب الأرنوؤط نے بھی اسے حسن قرار دیا۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تو ان کے نقش قدم پر چلنے والے تھے، ان کی پیروی کرنے والے اور ان کی سنتوں پر عمل کرنے والے تھے۔ لیکن آپ تو انہیں گستاخ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اگر صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی لے لیتے تو کافی تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص طور پر ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا ہی نام کیوں؟ کیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سنت پر صرف ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ہی کو عمل کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ بالکل نہیں! اگرچہ اس سنت پر دیگر اصحاب کا عمل بھی رہا ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا حوالہ دینا اصل میں ان کے عظیم اور کمال مرتبے اور اس فضیلت کا پرچار کرنا مقصود ہے جو اللہ نے آپ دونوں کو اس پوری امت پر بخشی تھی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہی انداز ہوا کرتا تھا کہ کوئی بھی معاملہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جناب ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا حوالہ بھی دیا کرتے تھے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نماز کا آغاز الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سے کرتے تھے۔ (صحیح بخاری:743)
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما عید کی نماز خطبہ سے قبل ادا کیا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری:963)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما گوشت کھا کر نماز کے لیے دوبارہ وضو نہیں کرتے تھے۔ (مسند احمد:14299، ابن ماجہ:489)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے شراب کی حد نافذ کرتے وقت فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے لگائے، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس کوڑے لگائے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے لگائے اور یہ سب عمل سنت ہیں۔ (صحیح مسلم:4457)
ان تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل اور بہترین ہستیاں جناب ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما تھے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ہم صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت میں سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو قرار دیتے اور اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو۔ (صحیح بخاری:3655، سنن ابوداود:4628)
تو تمام صحابہ میں معاویہ رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں، اور آپ رضی اللہ عنہ بھی ان دیگر تمام صحابہ کی طرح خود سے اور تمام صحابہ سے ابوبکر و عمر کو مقدم سمجھتے تھے، اور یہ واضح ہے۔
عبداللہ بن ذکوان (ابو الزناد) سے روایت ہے:
أَنَّهُ أَخَذَ هَذِهِ الرِّسَالَةَ مِنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لِعَبْدِ اللهِ مُعَاوِيَةَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، سَلَامٌ عَلَيْكَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةُ اللهِ فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّكَ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ مِيرَاثِ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ وَإِنَّ الْكَلَالَةَ وَكَثِيرًا مِمَّا يُقْضَى بِهِ فِي هَذِهِ الْمَوَارِيثِ لَا يَعْلَمُ مَبْلَغُهَا إِلَّا اللهُ وَقَدْ كُنَّا نَحْضُرُ مِنْ ذَلِكَ أُمُورًا عِنْدَ الْخُلَفَاءِ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَعَيْنَا مِنْهَا مَا شِئْنَا أَنْ نَعِيَ فَنَحْنُ نُفْتِي بِهِ بَعْدُ مَنِ اسْتَفْتَانَا فِي الْمَوَارِيثِ ۔
”کہ انہوں نے یہ خط خارجہ بن زید بن ثابت سے حاصل کیا (جس میں یہ لکھا تھا کہ): بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، یہ (خط) زید بن ثابت (رضی اللہ عنہ) کی طرف سے اللہ کے بندے اور امیر المومنین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام ہے۔ اے امیر المؤمنین! آپ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو، میں آپ کے سامنے اُس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ اما بعد! آپ نے مجھے خط لکھے، جس میں آپ نے دادا، بھائیوں اور کلالہ کی وراثت کے بارے میں دریافت کیا ہے اور بھی دیگر بہت سے امور کے بارے میں سوال کیے ہیں، جن کے متعلق فیصلہ دیا جاتا ہے اور جن مسائل کا صحیح علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان جیسے امور کے فیصلوں کے وقت خلفائے راشدین کی مجالس میں حاضر ہوتے رہے ہیں، لہٰذا ان میں سے جن مسائل کو ہم نے یاد رکھنا چاہا رکھ لیا، اب اگر ہم سے ان معاملات کے متعلق سوال کیا جائے تو ہم انہی کے مطابق فتویٰ دے دیتے ہیں۔“ (المعجم الکبیر للطبرانی:134/5)
اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمٰن بن ابی الزناد متکلم فیہ ہیں لیکن ان کی مدنی روایات حسن درجے کی ہوتی ہیں اور یہ روایت بھی مدنی ہے۔ (مقالات زبیر علی زئی: 375،374/4، السلسلۃ الصحیحۃ:1015/7و900/1)۔ رکوع میں جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین کے متعلق ایک روایت سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، اور اس کی سند میں بھی یہی راوی ہے۔ (سنن ابوداود:744، سنن ترمذی:3423 )، مرزا انجینئر صاحب اس روایت کو بطور حجت پیش کرتے ہیں اور اسے صحیح کہتے ہیں۔ [ریسرچ پیپر:8 ”مکمل نماز محمدی صلی اللہ علیہ وسلم صحیح الاسناد احادیث کی روشنی میں“ ص۔1]
RAFA-ul-YADAIN say Motalliq FIRQAWARANA NAZRIYAAT ka TAHQEEQI Jaizah (8-ILMI Points) 1:32:32
اس سے بھی ثابت ہوا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ شیخین کی اقتدا اور پیروی کیا کرتے ان کی ہدایات اور تعلیمات کو لے کر چلتے، اور حکومتی معاملات میں ابوبکر و عمر اور عثمان و علی رضی اللہ عنہم کو اپنا رہبر مانتے تھے۔
مشہور تابعی امام محمد بن مسلم الزہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
عَمِلَ مُعَاوِيَةُ بِسِيرَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ سِنِينَ لَا يَخْرِمُ مِنْهَا شَيْئًا ۔
”سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی سیرت پر سالہا سال عمل کیا اور اس میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی نا کی۔“ (السنۃ للخلال:683)
آخر انجینئر صاحب یہ تمام صحیح الاسناد روایات کیوں بیان نہیں کرتے؟ عوام کو صرف کڑوی گولیوں پر ہی کیوں رکھا گیا ہے؟ ہمیں بتائیں! اگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ خود کو ان خلفاء سے افضل اور خلافت کا زیادہ حقدار سمجھتے تو کیا حکومتی معاملات میں ان کے نقش قدم پر چلتے اور ان کی سیرت کو سامنے رکھتے؟ خود کو ان کی سنتوں اور مینجمنٹ کا محتاج سمجھتے؟ وہ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا آئیڈیل سمجھتے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتے تھے اور انہیں اپنی ذات پر مقدم سمجھتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ سے ان کی گستاخی کرنے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا! لہٰذا اس سلسلے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی بات دلائل کی روشنی میں بالکل صحیح ہے کہ اس (بخاری کی زیرِ بحث) روایت میں جناب عمر مراد ہو ہی نہیں سکتے، یہ بہت بعید ہے۔ لہٰذا مرزا صاحب کا صحیح بخاری کا نام لے کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو جناب عمر رضی اللہ عنہ کا گستاخ کہنا سراسر باطل ہے، صحیح بخاری کی روایت میں ان کے مدعے کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے، اور ہمارا دعویٰ کسی کے قول کی بنیاد پر نہیں بلکہ دلائل کے ساتھ ثابت ہے۔ والحمد للہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بات کرتے ہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تو جناب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے مقام و مرتبے کی بھی قدر کرتے اور آپ کی فضیلت کا لحاظ رکھنے والے تھے جبکہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ان کے بیٹے جیسے تھے:
عَنْ سَعِيدٍ قَالَ: اعْتَمَرَ مُعَاوِيَةُ، فَدَخَلَ الْبَيْتَ، فَأَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ وَجَلَسَ يَنْتَظِرُهُ حَتَّى جَاءَهُ، فَقَالَ: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ دَخَلَ الْبَيْتَ؟ قَالَ: مَا كُنْتُ مَعَهُ، وَلَكِنِّي دَخَلْتُ بَعْدَ أَنْ أَرَادَ الْخُرُوجَ، فَلَقِيتُ بِلَالًا فَسَأَلْتُهُ: أَيْنَ صَلَّى؟ فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ صَلَّى بَيْنَ الْأُسْطُوَانَتَيْنِ ۔ فَقَامَ مُعَاوِيَةُ فَصَلَّى بَيْنَهُمَا ۔
”سعید بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے عمرہ کیا تو آپ رضی اللہ عنہ بیت اللہ میں داخل ہو گئے، پھر آپ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف پیغام بھیجا اور بیٹھ کر ان کا انتظار کرتے رہے، جب وہ آئے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس جگہ پر نماز پڑھی تھی؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی اس وقت) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں تھا، جب میں داخل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز ادا کر کے) نکلنے والے تھے، پھر میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس جگہ نماز پڑھی؟ تو انہوں نے مجھے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی تھی۔ پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان دو ستونوں کے درمیان کھڑے ہو کر نماز ادا کی۔“ (مسند احمد:23909)
لیکن ان روایات کا بیان کرنا تو حق گوئی اور ان سب کا چھپانا کتمان حق نہیں اسی لیے تو ہمارے منصف مزاج جناب انجینئر صاحب یہ روایات بیان نہیں کرتے۔ ان روایات سے مرزا صاحب کے تمام تر اشکالات کا بطلان واضح ہوتا ہے جو آپ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کو گستاخ صحابہ قرار دینے کے لیے پیدا کرتے ہیں۔
انجینئر صاحب صحیح بخاری کی اس (4108 نمبر) روایت کے حوالے سے یہ مغالطہ بھی دینے کی کوشش کیا کرتے ہیں کہ امام بخاری اس روایت کو غزوہ خندق کے باب میں لے کر آئے ہیں، یہ ثابت کرنے کے لیے کہ غزوہ خندق میں حضرت عمر اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مسلمان تھے، اور ان کے مخالف حضرت معاویہ اور ان کے والد حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہما کافر تھے، اور اس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا اشارہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف ہی تھا۔ حالانکہ یہ مرزا صاحب کی کھینچا تانی ہے، بھلا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غزوہ خندق میں مسلمان ہونے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے کافر ہونے سے کیوں کر ثابت ہوتا ہے کہ یہاں جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کا اشارہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف تھا؟ حالانکہ اس روایت کی باب سے مناسبت یہ ہے کہ جہاں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خود کو اس معاملے کا حاضرین مجلس میں سے سب سے زیادہ حقدار سمجھا (اور ان میں علی رضی اللہ عنہ کا ہونا ثابت نہیں) تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہنا چاہا کہ اس معاملے کے سب سے زیادہ حقدار وہ ہیں جنہوں نے آپ سے اسلام کی خاطر قتال کیا ہے، انجینئر صاحب کہتے ہیں: یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ! تو صرف یہی چیز باب سے مناسبت رکھتی ہے کہ خندق میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسلمانوں کی طرف سے اور سیدنا معاویہ و ابو سفیان رضی اللہ عنہما کفار کی طرف سے لڑے تھے، اب اس سے یہ کہاں ثابت ہو گیا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جناب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو مخاطب یا ان کی طرف کنایہ کیا تھا؟
لہٰذا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کسی خاص فرد کی طرف کنایہ نہیں کیا بلکہ بلا تخصیص بات کی ہے کہ کون اس امر کی خواہش رکھتا ہے، اور ایسے شخص کے لیے آپ نے بطورِ مبالغہ یہ بات کہی۔ اور اس بات کی بھی کوئی دلیل نہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس بات کا علم تھا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خود کو حقدار سمجھتے ہیں، انجینئر صاحب نے صحیح بخاری کا نام لے کر یہ جھوٹ بولا ہے۔