حدیث 17: بعض مسلمانوں کے ارتداد کی پیشین گوئی
روز قیامت چند آدمی لائے جائیں گے اور فرشتے انہیں جہنم کی طرف لے جائیں گے۔ اس وقت میں کہوں گا: اے رب! یہ میرے صحابی ہیں۔ جواب ملے گا: یہ لوگ تیرے مرنے کے بعد مرتد ہو گئے تھے۔
صحيح البخاري، التفسير ، باب : وكنت شهيدا ، حدیث : 4625
اس حدیث کو درج کرنے کے بعد پرویز صاحب نے لکھا ہے کہ یہ کچھ صحابہ کبار کے متعلق کہا جا رہا ہے۔ (معاذ اللہ) کیا آپ بھی تصور کر سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے فرمایا ہوگا۔
مقام حدیث ، ص : 187
جواب :
حدیث بالکل صحیح ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غیب نہیں جانتے تھے، جیسا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو بھی علم غیب نہیں تھا۔ مزید برآں اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مرتد ہو گئے تھے لیکن وہ کبار صحابہ نہیں تھے بلکہ وہ چند نومسلم لوگ تھے جن کے ساتھ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جہاد کیا۔ ان کو شرعی اصطلاح میں صحابہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اصطلاح شریعت میں صحابی وہ ہے جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، ان پر ایمان لایا اور پھر موت تک حالت ایمان پر قائم رہا، اور بعض اہل علم کا قول ہے کہ انہوں نے زکاۃ ادا کرنے سے انکار کیا تھا جس سے ان پر ارتداد حقیقی کا حکم لاگو ہو جاتا ہے۔