گرگٹ کو مارنے کا حکم کیوں دیا گیا؟ حدیث کی وضاحت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

حدیث 6: گرگٹ مارنے کے متعلق

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ مارنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”یہ ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کے لیے جلائی گئی آگ کو تیز کرنے کے لیے پھونک مارتا تھا۔“
صحيح البخاري ، أحاديث الأنبياء، باب قول الله تعالى: واتخذ الله إبراهيم خليلا ، حديث: 3359

جواب :

جواب: اسے قتل کرنے کا اصل سبب یہ ہے کہ یہ موذی ہے اور موذی جانور جہاں بھی مل جائے، اسے قتل کرنے کا حکم ہے تا کہ لوگ اس کی ایذا سے بچ جائیں۔ اور ابراہیم علیہ السلام کی آگ پر پھونکنا اس کی ایذا رسانی کی ایک خاص مثال ہے۔ اس کی ایذا رسانی کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی لمبی زبان سے دور سے تھوکتا ہے۔ اس کے منہ کا لعاب زہریلا ہوتا ہے جس کی وجہ سے کیڑے مکوڑے وغیرہ اس کی خوراک بنتے ہیں۔ اس کی چار امتیازی خصوصیات اور بھی ہیں جو دوسرے جانوروں میں نہیں پائی جاتیں:
➊ ماحول کے مطابق فوراً رنگ بدل سکتی ہے۔ مشہور ضرب المثل ہے کہ فلاں شخص گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے۔
➋ اس کی آنکھیں پھوٹوں میں پوشیدہ ہوتی ہیں جن میں چھوٹے سے سوراخ ہوتے ہیں جن سے وہ دیکھتا ہے۔
➌ وہ چاروں طرف اور اوپر نیچے دیکھ سکتا ہے۔
➍ اگر اس کے جسم کا پچھلا حصہ کٹ جائے تو بھی وہ بہت دیر تک متحرک اور زندہ رہتا ہے، ہو سکتا ہے کہ اس کا زہریلا لعاب دہن آگ کے شعلوں کو بھی تیز کر سکتا ہو۔
ماخوذ از کتاب فتنہ پرویزیت