نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے:
[اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَ الۡمُنۡکَرِ]
بے شک نماز بے حیائی کے کاموں اور منکرات سے روکتی ہے۔ [العنكبوت:45]
یعنی نماز کا مقصد بندے میں ایسے اوصاف پیدا کرنا ہے کہ اس سے بے ادبی، بد تہذیبی اور بداخلاقی سب دور ہو جائے، اس کے اندر نظم وضبط کے اوصاف پروان چڑھیں اور سیرت و اخلاق میں نکھار پیدا ہو۔ نماز انسان کے ذہن میں یہ حقیقت تازہ رکھتی ہے، کہ وہ خود مختار نہیں ہے۔ بلکہ رب العالمین کا بندہ ہے۔ نماز انسان کے اندر احساس فرض شناسی کو بیدار رکھتی ہے۔ نماز کے فوائد اور مقاصد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے، کہ نماز میں جو کچھ زبان سے ہے اداکیا جائے اسے سمجھا بھی جائے ورنہ بصورت دیگر نمازی پر نماز کی ادائیگی کے وہ تقاضے ظاہر وہ نہیں ہو سکیں گے جس کا نماز مطالبہ کرتی ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب بندہ نماز ادا کرتا۔ تو اپنے رب سے سرگوشیاں کرتا ہے، عہد و پیمان کرتا ہے اور ظاہر بات ہے کہ اگر بندہ نماز کو بغیر سمجھے ادا کرے گا تو وہ کیونکر ان عہدوں کو اپنی عملی زندگی میں پورا کر سکے گا جو اس نے اپنے رب کے سامنے نماز کی حالت میں کیے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اکثر نمازیوں کے عقائد بالکل اس کے برخلاف ہیں جس کا وہ نماز میں اقرار کرتے ہیں۔
ذیل میں نماز میں ادا کیے جانے والے الفاظ اور مشرکانہ عقائد رکھنے والوں کا تقابل پیش کیا جاتا ہے۔
نماز میں ادا کیے جانے والے الفاظ :
[1]نماز میں اللہ اکبر کہہ کر اللہ کی کبریائی کا برملا اعتراف کیا جاتا ہے۔
[2]نماز کی ہر رکعت میں ہم الحمد شریف پڑھتے ہیں جس میں کہتے ہیں[اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ] یعنی سب تعریف اس اللہ کی جو تمام جہانوں کا رب (داتا) ہے۔ [مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ] وہ یوم حساب (قیامت کے دن) کا مالک ہے۔ [اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ]ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں۔ [صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ]ہمیں سیدھا راستہ دکھا دے، راستہ ان لوگوں کا جن پر تیرا انعام ہوا۔ [غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ]نہ کہ ان لوگوں کا راستہ جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ ہی گمراہوں کا راستہ۔
[3]رکوع میں [سبحان ربي العظيم] پڑھتے ہیں یعنی میرا رب پاک اور عظیم ہے۔
[4]رکوع سے اٹھتے وقت اس بات کا اعتراف کرتے ہیں: [سمع الله لمن حمده] یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی۔
[5]تشہد میں یہ اقرار کرتے ہیں: [التحيات لله والصلوات والطيبات] میری قولی، فعلی، مالی اور بدنی عبادات اللہ کے لیے ہیں۔
[6]تشہد کے آخر میں درود پڑھتے ہیں [اللهم صل على محمد] یعنی اے اللہ! محمد پر رحمت فرما۔
نمازیوں کے مشرکانہ عقائد :
[1]یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ انبیاء، اولیاء اور صلحاء بھی اللہ کی کبریائی میں شریک ہیں۔ اس لیے انھیں داتا، دستگیر، مشکل کشا اور مختار کل جیسے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔
[2]لیکن یہی حضرات جب نماز پڑھ کر باہر نکلتے ہیں اور اگر انھیں کوئی ٹھوکر لگ جائے یا کوئی مشکل آجائے تو بے اختیار پکار اٹھتے ہیں یا علی مدد، یا رسول مدد، یا جیلانی مدد۔
[3]عبد القادر جیلانی کو بھی غوث الاعظم اور غوث پاک قرار دیتے ہیں۔
[4]عقیدہ یہ رکھتے ہیں کہ اللہ ہماری دعا براہ راست نہیں سنتا بلکہ فوت شدہ بزرگوں کے ذریعے اللہ تک ہماری شنوائی ہوتی ہے۔
[5]لیکن نذر و نیاز جو مالی عبادت ہے غیر اللہ کے نام کرتے ہیں مثلا گیارھویں کا لنگر اور قبروں پر چڑھاوے وغیرہ۔
کافی ہے اللہ سب کی حاجت روائی کے لیے
نبی ولی بزرگ تو ہیں فقط رہنمائی کے لیے
پڑھتے ہو ہر نماز میں ایاک نعبد و ایاک نستعین
پھر بھی در در پھرتے ہو مشکل کشائی کے لیے
قیامت کے دن جب پیش ہوگے اللہ کے سامنے
کیا جواب دو گے اس بے وفائی کے لیے