حدیث 18: جواز لواطت کے بارے میں منکرین حدیث کا جھوٹ
اس مسئلے میں بہت تفصیل ہے لیکن حاصل کلام یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی صحیح ثابت مرفوع حدیث میں اپنی بیوی کے ساتھ وطيء فى الدبر (لواطت) کا جواز نہیں ملتا۔ بلکہ اس کے برعکس حرمت ہی ثابت ہوتی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک مجمل قول نقل کیا ہے
صحيح البخاري، البخاري، التفسير باب نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شنتم، حدیث : 4528-4526
جبکہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے قول کا مطلب یہی ہے کہ بیوی سے فرج میں جماع کیا جائے۔
دیکھیے السنن الكبرى للنسائي، حديث: 8978
علاوہ ازیں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوع حدیث منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا ينظر الله إلى رجل أتى رجلا أو امرأة فى الدبر
”اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نہیں دیکھتا جس نے کسی مرد یا عورت سے دبر میں جماع کیا۔“
جامع الترمذي، الرضاع، باب ماجاء في كراهية إتيان حديث : 1165
امام ترمذی نے اسے روایت کیا ہے اور لواطت سے ممانعت کی روایات مسند احمد، نسائی، ابن ماجہ اور ابن حبان نے بیان کی ہیں، ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، لہذا حجت احادیث مرفوعہ ہیں، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس مہم اجمالی قول کے بالمقابل نہایت صراحت کے ساتھ اس قبیح عمل کی ممانعت ثابت ہے، جیسا کہ نسائی کے حوالے سے گزرا لیکن اہل طلوع اسلام نے خواہ مخواہ حدیث سے انکار کے لیے راستہ ہموار کرنے کے لیے لکھا ہے:
”اس کے بعد فیصلہ آپ خود کر لیجیے کہ اس تفسیر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے اور قرآن کو اس قسم کی حدیثوں کی رو سے سمجھا جا سکتا ہے۔“
مقام حدیث، ص : 185