جانوروں پر احسان اور رحم کرنے کا ثواب قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

جانوروں پر احسان اور رحم کرنے کا ثواب

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم ۚ مَّا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِن شَيْءٍ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ﴾
”اور ہر جانور جو زمین میں پایا جاتا ہے، اور ہر پرندہ جو دو پروں کے ذریعہ اڑتا ہے، وہ تمہاری طرح امتیں ہیں، ہم نے کوئی چیز ریکارڈ میں لانے سے چھوڑ نہیں دی ہے، پھر وہ لوگ اپنے رب کے حضور جمع کیے جائیں گے۔“
(6-الأنعام:38)
﴿وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا ۗ لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ ‎. وَلَكُمْ فِيهَا جَمَالٌ حِينَ تُرِيحُونَ وَحِينَ تَسْرَحُونَ .وَتَحْمِلُ أَثْقَالَكُمْ إِلَىٰ بَلَدٍ لَّمْ تَكُونُوا بَالِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنفُسِ ۚ إِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ﴾ ‎.
”اور اس نے چوپایوں کو پیدا کیا ہے جن میں تمہارے لیے گرمی حاصل کرنے کا سامان اور دیگر منافع ہیں، اور ان میں سے بعض جانوروں کا تم گوشت کھاتے ہو۔ اور ان میں تمہارے لیے زینت و جمال کا سامان بھی ہے، جب شام کو انہیں (چراگاہ سے گھر) واپس لاتے ہو اور جب صبح کو (چراگاہ کی طرف) لے جاتے ہو۔ اور وہ جانور تمہارے بوجھ ان شہروں تک لے جاتے ہیں، جہاں تم بہت ہی پریشانی اور جانفشانی سے پہنچ سکتے تھے۔ بے شک تمہارا رب بڑی شفقت والا، بے حد رحم کرنے والا ہے۔“
(16-النحل:5 تا 7)
ان آیات میں اللہ رب العزت نے جانوروں، چوپایوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کے منافع بیان فرمائے ہیں۔ اور آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی شفقت و رحمت کا ذکر فرمایا۔ جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس طرح تمہارے رب نے تمہارے فوائد کے لیے ان چرند، پرند کو تخلیق کیا ہے۔ اور تم پر رحم فرمایا۔ تو اے بنی نوع انسان! تم نے بھی ان پر رحم کرنا ہے۔ انہیں بے زبان سمجھتے ہوئے تکلیف نہیں دینی، انہیں بے جا مشقت میں نہیں ڈالنا۔ ان کے آرام و طعام کا خاص خیال رکھنا ہے۔ جب تم ان کے حقوق کا خیال کرو گے، ان پر رحم کرو گے تو نتیجتاً اللہ تعالیٰ تمہارا خیال کرتے ہوئے تم پر رحم فرمائے گا۔
عن أبى هريرة رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: بينما رجل يمشي بطريق، اشتد عليه العطش، فوجد بئرا فنزل فيها فشرب، خرج، فإذا كلب يلهث يأكل الثرى من العطش، فقال الرجل: لقد بلغ هذا الكلب من العطش مثل الذى كان بلغ مني، فنزل البئر فملأ خفه ماء ثم أمسكه بفيه، حتى رقي فسقى الكلب، فشكر الله له، فغفر له .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی راستے پر چلا جا رہا تھا کہ اسے سخت پیاس لگی، اس نے ایک کنواں پایا، پس اس میں اتر کر اس نے پانی پیا، پھر باہر نکل آیا، وہیں ایک کتا تھا جو پیاس کے مارے زبان باہر نکالے کیچڑ چاٹ رہا تھا، پس اس آدمی نے کہا: اس کتے کو بھی اسی طرح پیاس نے ستایا ہے جس طرح میں اس کی شدت سے بے حال ہو گیا تھا، چنانچہ وہ کنویں میں اترا، اور اپنا موزہ پانی سے بھرا، اور اسے اپنے منہ سے پکڑے اوپر چڑھ آیا اور کتے کو پانی پلایا، اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل اور جذبے کی قدر کی، اور اسے معاف فرما دیا۔“
(یہ سن کر) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا، یا رسول اللہ! کیا ہمارے لیے چوپایوں میں بھی اجر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: في كل كبد رطبة أجر .
(ہاں) ہر تر جگر والے میں اجر ہے۔
صحيح بخاري، كتاب المساقاة ، باب فضل سقى الماء ، رقم : 2363 ـ صحیح مسلم، کتاب السلام، باب فضل سقي البهائم المحترمة وإطعامها، رقم: 2244 .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بينما كلب يطيف بركية قد كاد يقتله العطش، إذ رأته بغي من بغايا بني إسرائيل، فنزعت موقها، فاستقت له به، فسقته فغفر لها به .
”ایک کتا کنویں کے گرد چکر لگا رہا تھا، قریب تھا کہ پیاس کی وجہ سے مر جائے کہ اچانک اسے بنی اسرائیل کی فاحشہ عورتوں میں سے ایک عورت نے دیکھا، بس اس نے اپنا موزہ اتارا کر اس کے ذریعے سے اس نے اس کے لیے (کنویں سے) پانی کھینچا، اور اسے پلا دیا، پس اس کے اس عمل کی وجہ سے اسے بخش دیا گیا۔“
صحيح البخاري، كتاب احاديث الانبياء رقم : 3467 ـ صحيح مسلم، رقم: 2245 .
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ رب العزت پرند پر رحم کرنے سے اگر رحم فرماتا ہے تو انہیں تنگ کرنے پر سزا بھی دیتا ہے:
عن ابن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: عذبت امرأة فى هرة ربطتها حتى ماتت، فدخلت فيها النار، لا هي أطعمتها وسقتها، إذ حبستها، ولا هي تركتها تأكل من خشاش الأرض .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا، اس نے اسے قید کر دیا تھا حتیٰ کہ وہ مر گئی، پس وہ اس کی وجہ سے جہنم میں گئی، نہ اس نے اسے کھلایا پلایا، جب کہ اس نے اسے قید کر رکھا تھا، اور نہ اسے اس نے چھوڑا کہ وہ خود زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔“
صحیح بخاري، أو اخر كتاب الأنبياء، رقم: 3482۔ صحیح مسلم، کتاب السلام، باب تحريم قتل الهرة ، رقم: 2243 .