سفرِ تبرک و زیارت حج ہے :
بہرکیف امیہ بن ابی الصلت نے کہا: ”ہمارے ہاں ایک ایسا گھر ہے جس کا عرب حج کرتے ہیں۔“ اور ابوسفیان نے اس کی تائید کی تھی، جس سے ثابت ہوا کہ جس علاقے کی طرف عبادت کی نیت سے رختِ سفر باندھا جائے ایسے سفر کو اس کا حج ہی کہیں گے اور حج ایک خاص قسم کی عبادت ہے۔ تو نتیجہ یہ نکلا کہ بیت اللہ کے علاوہ کسی دوسری جگہ کی طرف عبادت کی نیت سے سفر کرنا حج اور غیر اللہ کی عبادت ہو گا، جیسا کہ غیر اللہ سے دعا کرنا غیر اللہ کے لیے نماز ادا کرنے کے ذیل میں آتا ہے۔
❀ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿١٦١﴾ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿١٦٢﴾ لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ﴿١٦٣﴾
”اے نبی! کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے، بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں، ابراہیم کا طریقہ جسے یکسو ہو کر اس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔ کہو میری نماز، میرے تمام مراسمِ عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سرِ اطاعت جھکانے والا میں ہوں-“
(6-الأنعام:161-163)
ان آیاتِ بینات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ اپنی نماز اور قربانی صرف اللہ کے لیے ادا کریں۔