تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ:} یعنی زمین پر چلنے والے اور اڑنے والے تمام جانور تمھاری طرح کی امتیں ہیں، تمھاری طرح پیدا ہوتی ہیں، جوانی کو پہنچتی ہیں، پھر مر جاتی ہیں، تمھاری طرح ان کا پیدا کرنا، ان کی روزی کا سامان اور ہر ضرورت پوری کرنا اور ان کی مصلحتوں کا اہتمام کرنا سب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ (دیکھیے سورۂ ہود: ۶) جس طرح اللہ تعالیٰ ان کی مصلحتوں کی رعایت کرتا ہے اسی طرح تمھاری تمام مصلحتوں کا بھی خیال رکھتا ہے، ان لوگوں کے مطالبے کے مطابق نشانیاں اور معجزے نازل کرنا خود ان کی مصلحت کے خلاف ہے۔
➌ {مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ:} {” الْكِتٰبِ “} سے مراد لوح محفوظ ہے، جو مخلوقات کے تمام احوال پر حاوی ہے، کوئی چیز ایسی نہیں جس کے بیان کی اس میں کمی رہ گئی ہو۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قلم خشک ہو چکا ہے اس پر جو تم کرنے والے ہو۔“ [بخاری، القدر، باب جف القلم علی علم اللہ… قبل ح: ۶۵۹۶] {” الْكِتٰبِ “} سے مراد یہاں قرآن کریم بھی ہو سکتا ہے۔ رازی نے فرمایا (یہی معنی زیادہ ظاہر ہے) اس لحاظ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں دین کے متعلق تمام اصول (بنیادی امور) بیان کر دیے اور جن جزئیات کا ذکر نہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و عمل سے بیان فرما دی ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ» [النحل: ۸۹] ”ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل کی، اس حال میں کہ وہ ہر چیز کا واضح بیان ہے۔“ اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ پیغمبر جس چیز کا حکم دیں اسے بجا لاؤ اور جس چیز سے منع کر دیں اس سے رک جاؤ، فرمایا: «وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا» [الحشر: ۷] خلاصہ یہ کہ حدیث نبوی بھی کتاب الٰہی ہے اور دین کی کوئی ایسی بات نہیں جو {” الْكِتٰبِ “ } (قرآن و حدیث) میں بیان نہ کر دی گئی ہو۔
➍ {ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ:} کفار کو متنبہ کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ زمین کے کسی جانور یا پرندے کے حالات سے نا واقف نہیں ہے اور اس کا نامۂ اعمال محفوظ ہے اور اس کا بدلہ بھی اسے ملے گا تو تم اپنے بارے میں یہ کیوں سمجھ رہے ہو کہ تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ نہیں دیا جائے گا۔ (رازی)
➎ اس آیت: «ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ» اور ایک دوسری آیت: «وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ» [التکویر: ۵](اور جب جنگلی جانور اکٹھے کیے جائیں گے) سے معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں کا بھی قیامت کے دن حشر ہو گا۔ ان سے کفر و شرک اور ایمان و اعمال کا محاسبہ تو نہیں ہو گا، مگر جو ظلم کسی جانور نے دوسرے پر کیا ہو گا اس کا بدلہ ضرور دلوایا جائے گا، جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ضرور بالضرور حق داروں کے حقوق ادا کروائے جائیں گے، حتیٰ کہ بے سینگ بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لیا جائے گا۔“ [مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم: ۲۵۸۲] بعض علماء کا خیال ہے کہ یہ بات بطور تمثیل بیان کی گئی ہے، کیونکہ جانور تو مکلف ہی نہیں ہیں، مگر حدیث میں ”بدلے“ کے صریح الفاظ اس خیال کی نفی کرتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چرنے چگنے والے جانور اڑنے والے پرند بھی تمہاری طرح قسم قسم کے ہیں مثلاً پرند ایک امت، انسان ایک امت، جنات ایک امت وغیرہ، یا یہ کہ وہ بھی سب تمہاری ہی طرح مخلوق ہیں، سب پر اللہ کا علم محیط ہے، سب اس کی کتاب میں لکھے ہوئے ہیں، نہ کسی کا وہ رزق بھولے نہ کسی کی حاجت اٹکے نہ کسی کی حسن تدبیر سے وہ غافل خشکی تری کا ایک ایک جاندار اس کی حفاظت میں ہے۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [11-هود:6] یعنی ’ جتنے جاندار زمین پر چلتے پھرتے ہیں سب کی روزیاں اللہ کے ذمہ ہیں وہی ان کے جیتے جی کے ٹھکانے کو اور مرنے کے بعد سونپے جانے کے مقام کو بخوبی جانتا ہے اس کے پاس لوح محفوظ میں یہ سب کچھ درج بھی ہے، ان کے نام، ان کی گنتی، ان کی حرکات و سکنات سب سے وہ واقف ہے اس کے وسیع علم سے کوئی چیز خارج اور باہر نہیں ‘۔
اور مقام پر ارشاد ہے آیت «وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» ۱؎ [29۔العنکبوت:60] ’ بہت سے وہ جاندار ہیں جن کی روزی تیرے ذمہ نہیں انہیں اور تم سب کو اللہ ہی روزیاں دیتا ہے وہ باریک سے باریک آواز کو سننے والا ہے اور ہر چھوٹی بڑی چیز کا جاننے والا ہے ‘۔
آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کر تین مرتبہ تکبیر کہی اور فرمایا ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { اللہ عزوجل نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور چار سو خشکی میں۔ ان تمام امتوں میں سے سب سے پہلے ٹڈی ہلاک ہو گی اس کے بعد تو ہلاکت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا بالکل اس طرح جیسے کسی تسبیح کا دھاگہ ٹوٹ گیا اور موتی یکے بعد دیگرے جھڑنے لگ گئے }۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:10132/7:موضوع]
جیسے فرمایا آیت «وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ» [81۔ التکویر:5]
مسند احمد میں ہے کہ { دو بکریوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ { جانتے ہو یہ کیوں لڑ رہی ہیں؟ } جواب ملا کہ میں کیا جانوں؟ فرمایا: { لیکن اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور ان کے درمیان وہ فیصلہ بھی کرے گا } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1588:صحیح]۔
ابن جریر کی ایک اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ { اڑنے والے ہر ایک پرند کا علم بھی ہمارے سامنے بیان کیا گیا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:13227:حسن بالشواهد]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { تمام مخلوق چوپائے بہائم پرند وغیرہ غرض تمام چیزیں اللہ کے سامنے حاضر ہوں گی۔ پھر ان میں یہاں تک عدل ہوگا کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہو گا تو اس کا بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے جناب باری فرمائے گا ’ تم مٹی ہو جاؤ ‘۔ اس وقت کافر بھی یہی آرزو کریں گے کہ «يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا» ۱؎ [78-النبأ:40] ’ کاش ہم بھی مٹی ہو جاتے ‘ }۔ صور والی حدیث میں یہ مرفوعاً بھی مروی ہے۔
پھر کافروں کی مثال بیان کی گئی ہے کہ ’ وہ اپنی کم علمی اور کج فہمی میں ان بہروں گونگوں کے مثل ہیں جو اندھیروں میں ہوں۔ بتاؤ تو وہ کیسے راہ راست پر آ سکتے ہیں؟ نہ کسی کی سنیں نہ اپنی کہیں نہ کچھ دیکھ سکیں ‘۔
جیسے سورۃ البقرہ کی ابتداء میں ہے کہ «مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّـهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لَّا يُبْصِرُونَ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ» [2-البقرة:17-18] ’ ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جو آگ سلگائے جب آس پاس کی چیزیں اس پر روشن ہو جائیں اس وقت آگ بجھ جائے اور وہ اندھیریوں میں رہ جائے اور کچھ نہ دیکھ سکے۔ ایسے لوگ بہرے گونگے اندھے ہیں وہ راہ راست کی طرف لوٹ نہیں سکتے ‘۔
اور آیت میں ہے «اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّـجِّيٍّ يَّغْشٰـىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ ظُلُمٰتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ» ۱؎ [24-النور:40] یعنی ’ مثل ان اندھیروں کے جو گہرے سمندر میں ہوں جس کی موجوں پر موجیں اٹھ رہی ہوں اور اوپر سے ابر چھایا ہو اندھیروں پر اندھیریاں ہوں کہ ہاتھ بھی نظر نہ آ سکے۔ جسے قدرت نے نور نہیں بخشا وہ بے نور ہے ‘۔ پھر فرمایا ’ ساری مخلوق میں اللہ ہی کا تصرف ہے وہ جسے چاہے صراط مستقیم پر کردے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: جميع الحيوانات الأرضية والهوائية من البهائم والوحوش والطيور كلُّها أممٌ أمثالُكم، خلَقْناها كما خلَقْناكم، ورزقْناها كما رزقناكم، ونفذتْ فيها مشيئتُنا وقدرتُنا كما كانت نافذة فيكم. {ما فرَّطْنا في الكتاب من شيء}؛ أي: ما أهملنا ولا أغفلنا في اللوح المحفوظ شيئاً من الأشياء، بل جميعُ الأشياء ـ صغيرها وكبيرها ـ مثبتةٌ في اللوح المحفوظ على ما هي عليه، فتقع جميع الحوادث طِبْقَ ما جرى به القلم. وفي هذه الآية دليلٌ على أن الكتاب الأول قد حوى جميع الكائنات، وهذا أحدُ مراتب القضاء والقدر؛ فإنها أربعُ مراتب: علمُ الله الشامل لجميع الأشياء، وكتابُهُ المحيط بجميع الموجودات، ومشيئتُهُ وقدرتُهُ النافذة العامَّة لكلِّ شيءٍ، وخَلْقُه لجميع المخلوقات حتى أفعال العباد. ويُحتمل أنَّ المراد بالكتاب هذا القرآن، وأنَّ المعنى كالمعنى في قوله تعالى: {ونَزَّلْنا عَلَيْكَ الكِتابَ تِبيْاناً لِكُلِّ شيءٍ}. وقوله: {ثمَّ إلى رَبِّهِمْ يُحْشَرونَ}؛ أي: جميع الأمم تُحشر وتُجمع إلى الله في موقف القيامة، في ذلك الموقف العظيم الهائل، فيجازيهم بعدلِهِ وإحسانِهِ، ويُمضي عليهم حُكمَهُ الذي يَحْمَدُه عليه الأولون والآخرون؛ أهل السماء وأهل الأرض.