اچھے اخلاق سے پیش آنے کے فضائل
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ۖ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ﴾
”آپ محض اللہ کی رحمت سے ان لوگوں کے لیے نرم ہوئے ہیں، اور اگر آپ بد مزاج اور سخت دل ہوتے تو وہ آپ کے پاس سے چھٹ جاتے، پس آپ انہیں معاف کر دیجئے، اور ان کے لیے مغفرت طلب کیجئے، اور معاملات میں ان سے مشورہ لیجئے، پس جب آپ پختہ ارادہ کر لیجئے تو اللہ پر بھروسہ کیجئے، اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔“
(3-آل عمران:159)
یعنی یہ آپ پر اور آپ کے اصحاب پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ اور یہ اللہ کا آپ پر احسان ہے کہ آپ ان کے لیے نہایت نرم دل ہو گئے، آپ ان سے نہایت مہربانی اور شفقت سے پیش آتے ہیں۔ اور ان کے ساتھ آپ کا خلق بہت اچھا ہے۔ اس لیے وہ آپ کے اردگرد جمع ہو گئے۔ اور وہ آپ سے محبت کرتے اور آپ کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔
﴿وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا﴾ یعنی اگر آپ بد اخلاق ہوتے ﴿غَلِيظَ الْقَلْبِ﴾ یعنی سخت دل ہوتے ، ﴿لا نْفَظُّوا مِنْ حَوْلِكَ﴾ تو وہ آپ کے پاس سے چھٹ جاتے کیونکہ بدخوئی اور سخت دلی لوگوں کو متنفر اور ان کے دلوں میں بغض پیدا کرتی ہے۔ پس دنیاوی سربراہ کے اچھے اخلاق لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف کھینچتے ہیں اور دین کے بارے میں لوگوں میں رغبت پیدا کرتے ہیں، اس کے علاوہ وہ لوگوں میں قابل تعریف اور اللہ کے ہاں اجر خاص کا مستحق ہوتا ہے۔ اور دینی سربراہ کے برے اخلاق لوگوں کو دین سے متنفر کرنے اور دین کے بارے میں لوگوں میں بغض پیدا کرتے ہیں ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ بدخودینی سربراہ سر براہ قابل مذمت اور خاص سزا کا مستحق ہے ۔ “ (تفسیر السعدی، مترجم: 440/1)
﴿وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ﴾
”اور نیکی اور برائی برابر نہیں ہوتی، آپ برائی کو بطریق احسن ٹال دیجئے تو (آپ دیکھیں گے کہ) آپ اور جس آدمی کے درمیان عداوت ہے، وہ آپ کا گہرا دوست بن جائے گا۔“
(41-فصلت:34)
﴿وَقُل لِّعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنزَغُ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوًّا مُّبِينًا﴾
”اور میرے بندوں سے کہہ دیجیے کہ وہ بہت ہی اچھی بات منہ سے نکالا کریں، کیونکہ شیطان آپس میں فساد ڈلواتا ہے۔ بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔“
(17-الإسراء:53)
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ اس نے انہیں بہتر اخلاق، اعمال اور اقوال کا حکم دیا ہے، جو دنیا و آخرت کی سعادت کے موجب ہیں۔ چنانچہ فرمایا: ”کہہ دو! میرے بندوں سے، بات وہی کہیں جو اچھی ہو۔“ یہ ہر اس کلام کے بارے میں ہے جو اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہے۔ مثلاً قرآت قرآن، ذکر الہی ، حصول علم، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور لوگوں کے ساتھ ان کے حسب مراتب اور حسب منزلت شیریں کلام وغیرہ ۔ اگر دو اچھے امور در پیش ہوں اور ان دونوں میں جمع وتطبیق ممکن نہ ہو تو ان میں جو بہتر ہو، اس کو ترجیح دی جائے اور اچھی بات ہمیشہ خلق جمیل اور عمل صالح کو دعوت دیتی ہے۔ اس لیے جسے اپنی زبان پر اختیار ہے۔ اس کے تمام معاملات اس کے اختیار میں ہیں ۔“ (تفسير السعدي، مترجم: 2/ 1468)
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمدہ اخلاق کے مالک تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾
”اور بے شک آپ بہت بڑے (عمدہ) اخلاق پر ہیں۔“
(68-القلم:4)
؎ حسن اخلاق نبی کا یہ ہے ایک گلدستہ
کیا عجب اس کی مہک باغ جناں تک پہنچے
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے حسن سلوک سے پیش آنے کی وصیت فرمائی:
عن أبى ذر قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : اتق الله حيثما كنت، وأتبع السيئة الحسنة تمحها، وخالق الناس بخلق حسن
سیدنا ابو ذر جندب بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو جہاں کہیں بھی ہو، اللہ سے ڈر اور برائی کے پیچھے نیکی کر، نیکی برائی کو مٹا دے گی اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آ۔“
سنن ترمذی، ابواب البر والصلة، باب ماجاء في معاشرة الناس، رقم: 1987 – البانی رحمہ اللہ نے اسے
”حسن“ کہا ہے۔
عن عائشة رضي الله عنها قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن المؤمن ليدرك بحسن خلقه درجة الصائم القائم .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مومن یقیناً اپنے حسن اخلاق سے وہ درجہ پا لیتا ہے جو ایک روزے دار اور شب بیدار شخص کے حصے میں آئے گا۔“
سنن أبي داود، كتاب الأدب، باب حسن الخلق، رقم: 4798 – البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن من أحبكم إلي، وأقربكم مني مجلسا يوم القيامة أحاسنكم أخلاقا، وإن أبغضكم إلى وأبعدكم مني يوم القيامة، الثرثارون، والمتشدقون، والمتفيهقون .
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب اور قیامت والے دن میرے سب سے زیادہ قریب، وہ لوگ ہوں گے جو تم میں سے اخلاق میں سب سے زیادہ اچھے ہوں گے۔ اور تم میں سے سب سے زیادہ مجھے ناپسندیدہ اور قیامت والے دن مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جو تکلف سے زیادہ باتیں کرنے والے، باچھیں کھول کر طویل گفتگو کرنے والے اور تکبر کرنے والے ہوں گے۔“
سنن ترمذي، أبواب البر والصلة، باب ماجاء في معالى الأخلاق، رقم 2018 ـ سلسلة الصحيحة، رقم: 791
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أكثر ما يدخل الناس الجنة – قال: تقوى الله وحسن الخلق وسئل عن أكثر ما يدخل الناس النار، فقال: الفم والفرج .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کون سے عمل، انسانوں کے زیادہ جنت میں جانے کا سبب بنیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا ڈر اور حسن اخلاق۔“ اور پوچھا گیا کہ کون سی چیز انسانوں کے زیادہ جہنم میں جانے کا سبب ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منہ اور شرمگاہ۔“
سنن ترمذي، أبواب البر والصلة، باب ماجاء في حسن الخلق، رقم: 2004 – البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن الاسناد کیا ہے۔
عن النواس بن سمعان رضى الله عنه قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن البر والإثم فقال: البر حسن الخلق، والإثم: ما حاك فى صدرك، وكرهت أن يطلع عليه الناس .
سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے کام کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا: ”نیکی تو اچھا اخلاق ہے۔ اور گناہ وہ ہے جو تیرے سینے میں کھٹکے، اور تجھے یہ ناگوار ہو کہ لوگ اس سے باخبر ہوں۔“
صحیح مسلم، کتاب البر والصلة، باب تفسير البر والإثم، رقم: 2553.
عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال: لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم فاحشا ولا متفحشا. قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن من خيركم أحسنكم خلقا .
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدگونہ تھے، اور نہ آپ بد زبان تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”تم میں سب سے بہترین شخص وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے۔“
صحيح بخاري، كتاب الأدب، رقم: 6029 – صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب كثرة حيائه، رقم 6033 .
عن أبى الدرداء رضي الله عنه: أن النبى صلى الله عليه وسلم قال: ما شيء أثقل فى ميزان المؤمن يوم القيامة من خلق حسن، وإن الله ليبغض الفاحش البذيء .
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت والے دن مومن بندے کے میزان میں حسن اخلاق سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہیں ہوگی۔ اور یقیناً اللہ تعالیٰ بد زبان اور بے ہودہ گوئی کرنے والے کو ناپسند کرتا ہے۔“
سنن الترمذي ، كتـاب الـبـر والـصـلـة ، بـاب مـا جـاء فـي حسن الخلق ، رقم: 2002 ـ سلسلة الصحيحة، رقم: 876.
اچھے اخلاق سے پیش آنے سے نہ صرف اللہ خوش ہوتا ہے، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جنت کی بشارت فرمائی ہے۔ حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ کا یہ اپنے بندوں سے محبت کا اظہار ہے کیونکہ جب آپ کسی سے عمدہ اخلاق سے پیش آئیں گے تو دوسرے بھی آپ سے اچھے اخلاق سے پیش آئیں گے، جس سے گھر اور معاشرے میں باہمی محبت بڑھے گی، اور زندگی میں سکون اور آسانیاں پیدا ہوں گی۔