ایمان کے بغیر جہاد بے کار ہے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی کی کتاب فضائل الجہاد سے ماخوذ ہے۔

عن عائشة زوج النبى أنها قالت خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل بدر فلما كان بحرة الوبرة أدركه رجل قد كان يذكر منه جرأة ونجدة ففرح أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم حين رأوه فلما أدركه قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم جئت لأتبعك وأصيب معك قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم تؤمن بالله ورسوله قال لا قال فارجع فلن أستعين بمشرك قالت ثم مضى حتى إذا كنا بالشجرة أدركه الرجل فقال له كما قال أول مرة فقال له النبى صلى الله عليه وسلم كما قال أول مرة قال فارجع فلن أستعين بمشرك قال ثم رجع فأدركه بالبيداء فقال له كما قال أول مرة تؤمن بالله ورسوله قال نعم، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: فانطلق.
”زوجہ نبی عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف نکلے۔ جب حرة الوبرہ نامی جگہ (جو مدینہ منورہ سے کچھ فاصلے پر ہے) پہنچے تو آپ کو ایک شخص ملا جس کی بہادری اور دلیری کی شہرت تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے جب اسے دیکھا تو وہ خوش ہوئے، وہ شخص جب آپ کے پاس پہنچا اور آپ سے ملا تو کہا: ”میں اس لیے آیا ہوں کہ آپ کے ساتھ چلوں اور جو (مالِ غنیمت) ملے اس میں سے میرا بھی حصہ ہو۔ “ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تو واپس چلا جا، میں کسی مشرک سے ہرگز مدد نہیں چاہتا۔ “ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پھر آپ چلے، جب ہم شجرہ پہنچے تو وہی آدمی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا، اس نے پھر وہی بات کی جو اس سے پہلے کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے وہی فرمایا جو پہلے فرمایا تھا کہ ”واپس چلا جا میں کسی مشرک سے ہرگز مدد نہیں چاہتا۔ “ وہ شخص پھر آیا اور آپ سے بیداء نامی جگہ پر پھر ملاقات کی، اور پہلے والی بات کی، آپ نے بھی اسے وہی جواب دیا: ”کیا تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتا ہے؟“ اب کی مرتبہ اس نے کہا: ”ہاں۔ “ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”ٹھیک ہے، اب چلو۔ “
( صحیح مسلم) (رواہ مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب کراہة الاستعانة فی الغزو بکافر، الرقم: 1817)

فوائد مستنبطہ

ایمان کی اہمیت:

حدیث مذکور سے ایمان کی اہمیت معلوم ہوتی ہے، مقصد یہ کہ انسان کا کوئی بھی عمل بغیر ایمان کے اللہ کے ہاں قابلِ قبول نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ جب اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں آپ کے ساتھ جہاد میں شریک ہونا چاہتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی ارشاد فرمایا کہ: ”کیا تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے؟“

عظیم الشان کام کے لیے اہتمام:

حدیث مذکور سے یہ بھی ثابت ہوا کہ کسی خاص اور مہتم بالشان کام کے لیے اہتمام کرنا چاہیے جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جہاد جیسے عظیم عمل کے لیے اس شخص سے بار بار فرما رہے تھے کہ کیا تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہو؟

عدم استعانت بالمشرک:

حدیث مذکور سے یہ معلوم ہوا کہ مشرک سے لڑائی و قتال میں مدد و استعانت جائز نہیں۔

فائدہ:

یہ بات اچھی طرح سے یاد رکھیں کہ مشرک و کافر سے حرب و لڑائی میں عدم مدد و تعاون والا حکم ابتدا میں تھا بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا، اور اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین (جو کہ 8 ھ میں واقع ہوا) میں مشرکین مکہ سے مادی و معنوی تعاون لیا۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سہیل بن عمرو، صفوان بن امیہ وغیرہ کفار کو اپنے ساتھ لے گئے تھے جبکہ یہ حضرات ابھی تک کافر و مشرک تھے، اور بالخصوص صفوان بن امیہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اسلحہ بطور عاریت لیا، اور لڑائی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے تالیفِ قلبی کے لیے صفوان کو تین سو اونٹ بھی دے دیے جو کہ ان (صفوان بن امیہ) کے اسلام لانے کا سبب بن گئے۔ جیسا کہ روایت میں آیا ہے:
”ومنها أن الإمام له أن يستعير سلاح المشركين وعدتهم لقتال عدوهم كما استعار رسول الله صلى الله عليه وسلم أدراع صفوان وهو يومئذ مشرك“
(زاد المعاد 3/382)