توحید کا علم سیکھنے کی فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

توحید کا علم سیکھنے کی فضیلت

اسلام کا سب سے پہلا رکن توحید ہے ۔ اور اس کا علم تمام فرائض سے اہم فریضہ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا، وہی اس کا خالق و مالک ہے۔ لہذا ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ سیکھے کہ توحید کیا ہے، توحید کے منافی کون سے امور ہیں ، کن امور پر عمل پیرا ہونے سے توحید میں پختگی ہوتی ہے؟ وغیرہ وغیرہ ۔ سردست یہاں صرف اسی علم کے حصول کے فضائل میں چند ایک آیات قرآنیہ اور احادیث بیان کی جارہی ہیں:
﴿‏ أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَىٰ مَا خَلَقَ اللَّهُ مِن شَيْءٍ يَتَفَيَّأُ ظِلَالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِّلَّهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ ‎. وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مِن دَابَّةٍ وَالْمَلَائِكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ ‎. يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ.﴾
” کیا انہوں نے ان چیزوں کو نہیں دیکھا ہے جنہیں اللہ نے پیدا کیا ہے جن کے سائے نہایت انکساری کے ساتھ سجدہ کرتے ہوئے دائیں اور بائیں جھکے رہتے ہیں ۔ اور آسمان اور زمین میں جتنے چوپائے ہیں اللہ کو سجدہ کرتے ہیں ، اور فرشتے بھی، دراں حالیکہ وہ تکبر نہیں کرتے ہیں ۔ اپنے رب سے اپنے اوپر کی طرف سے ڈرتے ہیں اور انہیں جو حکم دیا جاتا ہے اس پر عمل کرتے ہیں ۔“
(16-النحل:48۔50)
مزید ارشاد فرمایا:
‏ ﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ ۖ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ ۗ وَمَن يُهِنِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِن مُّكْرِمٍ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ﴾
” کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ وہ تمام مخلوقات جو آسمانوں اور زمین میں ہیں ، اور شمس و قمر اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت سے بنی نوع انسان اللہ کے لیے سجدے کر رہے ہیں ۔ اور بہت سے انسانوں کے لیے عذاب لازم ہو گیا ہے ، اور جسے اللہ رسوا کرے اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا، بے شک اللہ جو چاہتا ہے اسے کر گزرتا ہے ۔“
(22-الحج:18)
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کائنات میں غور و تدبر کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔ کیونکہ کائنات میں اللہ تعالیٰ کے وجود کے اثبات کی، اس کے یکتا ، وحدہ لاشریک ہونے کی بے شمار نشانیاں ہیں۔ لامحالہ جب بندہ ان پر غور و فکر فہم و تدبر سے کام لے گا تو علم توحید حاصل ہوگا ۔ جو کہ مقصود اصلی ہے ۔
﴿وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُم بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَكْنَنتُمْ فِي أَنفُسِكُمْ ۚ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ سَتَذْكُرُونَهُنَّ وَلَٰكِن لَّا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلَّا أَن تَقُولُوا قَوْلًا مَّعْرُوفًا ۚ وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي أَنفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ﴾
” اور اس میں کوئی گناہ کی بات نہیں کہ تم اشارے کنائے میں اُن عورتوں کو پیغام نکاح دو، یا اپنے دل میں اس ارادے کو چھپائے رکھو ۔ اللہ جانتا ہے کہ تم ان سے ذکر کرو گے ۔ لیکن خفیہ طور پر ان سے شادی کی بات طے نہ کرنا سوائے اس کے کہ تم کوئی اچھی بات کہو، اور عقد زواج کا عزم اُس وقت تک نہ کرو، جب تک کہ نوشتہ اپنی مدت پوری نہ کر لے۔ اور جان رکھو کہ اللہ تمہارے دلوں کی باتوں کو جانتا ہے ۔ اس لئے تم اُس سے ڈرتے رہو ، اور جان لو کہ اللہ مغفرت کرنے والا اور بُردبار ہے ۔ “
(2-البقرة:235)
آیت مذکورہ میں اللہ رب العزت نے اپنی ایک صفت کے بارہ میں آگاہ فرمایا ہے اور اس کا علم حاصل کرنے ، اس کے بارہ میں اپنا یقین پختہ کرنے کا حکم دیا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دلوں کے راز جاننے والا ہے۔ لہذا شادی بیاہ کا معاملہ ہو، یا لین دین ،تجارت کا، کوئی بھی معاملہ ہو اللہ تعالیٰ کی اس صفت کو ذہن نشین رکھنا ہے۔ توحید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ، اس کی ذات میں اور اسماء وصفات میں کسی کو شریک نہ کیا جائے ۔ لامحالہ اسماء و صفات کا علم ہو گا تو بندہ اسے ذہن نشین رکھے گا۔
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ ۖ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ۚ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ . مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ۔﴾
”لوگو! ایک مثال بیان کی جارہی ہے ذرا کان لگا کرسُن لو: اللہ کے سوا جن جن کو تم پکارتے رہے ہو وہ ایک مکھی بھی تو پیدا نہیں کر سکتے گوسارے کے سارے ہی جمع ہو جائیں ، بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے بھاگے تو یہ تو اسے بھی اس سے چھین نہیں سکتے ، بڑا کمزور ہے طلب کرنے والا اور بڑا کمزور ہے وہ جس سے طلب کیا جار ہے ۔ انہوں نے اللہ کے مرتبہ کے مطابق اس کی قدر جانی ہی نہیں ، اللہ تعالیٰ بڑا ہی زور وقوت والا اور غالب وزبر دست ہے۔ “
(22-الحج:73۔74)
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ ۚ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ﴾
”لوگو! تم پر جو اللہ نے انعام کیے ہیں انہیں یاد کرو۔ کیا اللہ کے سوا اور کوئی بھی خالق ہے جو تمہیں آسمان و زمین سے روزی پہنچائے؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ پھر تم کہاں اُلٹے جاتے ہو۔“
(35-فاطر:3)
ڈاکٹر لقمان سلفی حفظہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں رقمطراز ہیں:
اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو حکم دیا ہے کہ ان کے لیے اللہ کی نعمتوں کا فیضان عام ہے، اسے یاد کریں اور اس کا شکر ادا کرتے رہیں، تا کہ وہ نعمتیں باقی رہیں اور مزید نعمتوں کا تسلسل باقی رہے۔ اور ان نعمتوں کو یاد کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ جب بندہ یہ سمجھے گا کہ ان نعمتوں کا پیدا کرنے والا اور انہیں اس تک بھیجنے والا صرف اللہ ہے، تو لا محالہ ایک سلیم الفطرت آدمی کے ذہن میں یہ بات آئے گی کہ عبادت کا بھی وہی تنہا حقدار ہے، اور اس سے بڑھ کر ناشکری کیا ہو سکتی ہے کہ کھلائے وہ مالک کل اور بندہ گائے کسی اور کا۔ اسی لیے آیت کے آخر میں کہا گیا کہ جب اس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں ہے تو لوگ اس کی وحدانیت سے کیوں روگردانی کرتے ہیں؟“ (تیسیر الرحمن: 2/ 1223)
عمل سے پہلے ضروری ہے کہ انسان عقیدہ توحید کا علم اچھی طرح سیکھ لے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:
﴿فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوَاكُمْ﴾
”سو (اے نبی!) آپ یقین کرلیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں، اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے حق میں بھی، اللہ تم لوگوں کی آمد ورفت کی اور رہنے سہنے کی جگہ کو خوب جانتا ہے۔“
(47-محمد:19)
﴿إِنَّا كَذَٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِينَ . إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ.﴾
” ہم گنہگاروں کے ساتھ اسی طرح کیا کرتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ سرکشی کرتے تھے۔“
(37-الصافات:34۔35)
یعنی جب ان سے عقیدہ توحید کے علم کے حصول کا کہا جاتا ہے تو سرکشی پر اتر آتے ہیں ۔ اور اپنے حقیقی فرض کو بھول کر دنیا کی بھول بھلیوں میں مست ہو جاتے ہیں ۔ الغرض عقیدہ توحید کے علم سے اعراض کرنے والوں کے لیے سخت وعید میں وعذاب ہے۔ اللہ تعالیٰ محفوظ فرمائے ۔ آمین!
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
” يا أيها الناس قولوا: لا إله إلا الله تفلحوا“.
”اے لوگو! لا الہ الا اللہ کہو کامیاب ہو جاؤ گے۔“
مسند احمد : 3/ 492 ـ صحیح ابن حبان، رقم : 6562 – ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
” من كان آخر كلامه لا إله إلا الله دخل الجنة“.
”جس کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ہوگا وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
سنن ابو داؤد، کتاب الجنائز، باب في التلقين، رقم : 3116 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” ہر نبی کی دعا قبول ہوتی ہے، پس ہر نبی نے اپنی دعا مانگنے میں جلدی کی ، اور میں نے اپنی دعا کو اپنی امت کی شفاعت کی غرض سے مؤخر کیا ہے، پس یہ شفاعت میرے ہر اس امتی کو حاصل ہو گی ، جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرے گا۔“
صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب اختباء النبي صلى الله عليه وسلم، دعوة الشفاعة لأمته، رقم : 199
صحیح عمل تو اسی وقت ہو سکتا ہے جب توحید باری تعالیٰ کا علم حاصل کیا جائے ۔ دل سے یقین، زبان سے اقرار ہو پھر ان شاء اللہ رب کریم کے فضل و کرم اور اللہ کی رحمت سے مومن مسلمان جنت الفردوس میں جائے گا۔
حدیث قدسی ہے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
” يا ابن آدم! إنك ما دعوتني ورجوتني غفرت لك علىٰ ما كان فيك ولا أبالي ، يا ابن آدم لو بلغت ذنوبك عنان السماء ثم استغفرتني غفرت لك ولا أبالي، يا ابن آدم! إنك لو أتيتني بقراب الأرض خطايا ثم لقيتني لا تشرك بي شيئا لأتيتك بقرابها مغفرة“.
”اے ابن آدم ! تو جب تک مجھے پکارے گا ، اور مجھ سے امید رکھے گا میں تجھے معاف کروں گا، خواہ تو کسی حال میں ہو، مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔ اے ابن آدم ! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں کو بھی چھو رہے ہوں اور تو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں تجھے معاف کر دوں گا۔ اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔
اے ابن آدم ! اگر تو زمین بھر کر بھی گناہ لے کر میرے پاس آیا، تو میں تجھے اسی قدر مغفرت سے نوازوں گا، بشرطیکہ تو نے میرے ساتھ شرک نہ کیا ہو۔“
سنن الترمذي، كتاب الدعوات، باب في فضل التوبة ، رقم : 3540 ـ سلسلة الصحيحة، رقم: 127 – 128.
توحید کا علم ایک ایسی نیکی ہے جو سب گناہوں سے وزنی ، اور شرک ایک ایسا گناہ ہے جو سب نیکیوں سے بھاری ہے۔ یعنی شرک کی موجودگی میں نیکیوں کے پہاڑ بھی ہلکے ہیں۔
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: ” بني الإسلام علىٰ خمس: علىٰ أن يوحد الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وصيام رمضان ، والحج“.
نبی کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دین اسلام کی بنیادی چیزیں ( جن کے بغیر انسان مسلمان تصور نہیں کیا جاتا وہ ) پانچ ہیں: ➊ اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا جائے ۔ ➋ نماز کو قائم کیا جائے ۔ ( یعنی مسنون طریقے پر ادا کیا جائے ) ➌ زکوۃ ادا کی جائے۔ ➍ رمضان کے روزے رکھے جائیں۔ ➎ حج کیا جائے۔“
صحيح البخاري، كتاب الايمان، باب دعاؤکم ایمانکم 81۔ صحیح مسلم، کتاب الايمان باب بیان اركان الاسلام، رقم: 16
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
كنت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فقال: ”يا غلام! إني أعلمك كلمات ، احفظ الله يحفظك، احفظ الله تجده تجاهك، وإذا سألت فاسأل الله، وإذا استعنت فاستعن بالله“.
ایک دن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (سوار ) تھا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لڑکے ، تو اللہ (کے دین کی ) حفاظت کرتا رہ ، اللہ تیری حفاظت فرمائے گا۔ تو اللہ (کے دین کا) لحاظ رکھنا اللہ تیری حفاظت فرمائے گا۔ اور جب سوال کرنا ہو تو اللہ تعالیٰ سے کرنا ۔ اور جب مدد مانگنی ہو تو اللہ تعالیٰ سے مانگنا۔“
سنن ترمذی ، کتاب صفة القيامة، باب : 59، رقم: 2516 ۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
جن لوگوں نے توحید کے علم کو حاصل کیا، اور اللہ ہی کو اپنا ماوی و ملجا جانا، اور شرک سے دور کا بھی واسطہ و تعلق قائم نہ کیا، تو ایسے لوگوں کا انجام کار کس قدر حسین و قابل رشک ہے کہ بندہ جس قدر رشک کرے کم ہے۔ چند ایک واقعات ملاحظہ ہوں :
ثابت البناني رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ مصر کے گورنر تھے، جب وہ نزع کے عالم میں تھے تو انھوں نے دربان کو کہا کہ ” اپنے دیگر ساتھیوں کو بھی بلا ؤ ، جب وہ آئے تو ان کی طرف دیکھ کر کہا: ”میری (جان کنی کی) حالت ہوگئی ہے۔ اسے مجھ سے دور کرو ۔“ سب نے کہا: اے امیر محترم! آپ جیسا (صاحب ایمان ) ایسی بات کہہ رہا ہے، جبکہ یہ اللہ کا حکم ہے جسے کوئی بھی دور نہیں کر سکتا۔ تو انھوں نے کہا: ” مجھے معلوم ہے لیکن میری خواہش، تمنا ہے کہ تم مجھے لا اله الا الله کی نصیحت کرو ۔ پھر سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ مسلسل یہ کلمہ ادا کرتے رہے، حتی کہ فوت ہو گئے ۔“
سیر اعلام النبلاء: 76/3
ابو جعفر الخیاط فرماتے ہیں: ہم عبد اللہ بن جعفر کی وفات کے وقت ان کے پاس تھے، تو انھوں نے کہا: ملک الموت آ گیا ہے۔ اور فارسی زبان میں کہا: (اے ملک الموت !) میری روح ایسے قبض کرنا جیسے اس آدمی کی روح قبض کی جاتی ہے، جو نوے (90) سال تک یہ کلمہ ادا کرتا رہا: اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله
سیر اعلام النبلاء: 554/15
اللہ تعالیٰ ہمیں عقیدہ توحید کا علم حاصل کرنے کی توفیق ارزانی فرمائے اور جب موت آئے تو زبان میں کلمہ توحید کی صدا ہو ۔ آمین !