تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ یعنی جب تک عدت پوری نہ ہو جائے نکاح کی گرہ مت باندھو۔ اس پر تمام ائمہ کا اجماع ہے کہ عدت کے اندر نکاح صحیح نہیں۔ (ابن کثیر، شوکانی)
➌ {وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ:} اس میں نکاح کے سلسلے میں شرعی احکام کے خلاف حیلے نکالنے پر وعید اور توبہ کی ترغیب ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[329] یہ تو یقینی بات ہے کہ اگر تمہارا اس سے نکاح کا ارادہ ہے تو تم یقیناً اسے دل میں یاد رکھتے ہو گے۔ لیکن اس خیال سے مغلوب ہو کر نہ تو دوران عدت اس سے کوئی وعدہ کرنا یا وعدہ لینا اور نہ ہی نکاح کا ارادہ کرنا۔ البتہ اگر تمہارے دلوں میں جو ایسے خیالات آتے ہیں۔ ان پر تم سے کچھ مواخذہ نہیں۔ کیونکہ اللہ بخش دینے والا اور بردبار ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ہاں رجعی طلاق کی عدت کے زمانہ میں بجز اس کے خاوند کے کسی کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ اشارتاً کنایہ بھی اپنی رغبت ظاہر کرے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ فرمان کہ تم اپنے نفس میں چھپاؤ یعنی منگنی کی خواہش، ایک جگہ ارشاد ہے تیرا رب ان کے سینوں میں پوشیدہ کو اور ظاہر باتوں کو جانتا ہے۔ [28-القصص:69] دوسری جگہ تمہارے باطل و ظاہر کا جاننے والا ہوں۔ [60-الممتحنة:1] پس اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا تھا کہ تم اپنے دِلوں میں ضرور ذِکر کرو گے اس واسطے اس نے تنگی ہٹا دی، لیکن ان عورتوں سے پوشیدہ وعدے نہ کرو، یعنی زناکاری سے بچو، ان سے یوں نہ کہو کہ میں تم پر عاشق ہوں، تم بھی وعدہ کرو کہ میرے سوا کسی اور سے نکاح نہ کرو گی وغیرہ۔
عدت میں ایسے الفاظ کا کہنا حلال نہیں، نہ یہ جائز ہے کہ پوشیدہ طور پر عدت میں نکاح کر لے اور عدت گزر جانے کے بعد اس نکاح کا اظہار کرے، پس یہ سب اقوال اس آیت کے عموم میں آ سکتے ہیں اسی لیے فرمان ہوا کہ مگر یہ کہ تم ان سے اچھی بات کرو مثلاً ولی سے کہہ دیا کہ جلدی نہ کرنا، عدت گزر جانے کی مجھے بھی خبر کرنا وغیرہ۔ جب تک عدت ختم نہ ہو جائے تب تک نکاح منعقد نہ کیا کرو۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہلا قول تو امام صاحب کا یہی تھا لیکن جدید قول آپ کا یہ ہے کہ اسے بھی نکاح کرنا حلال ہے کیونکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہما کا یہی فتویٰ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما والا یہ اثر سنداً منقطع ہے بلکہ مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے اس بات سے رجوع کر لیا ہے اور فرمایا ہے کہ مہر ادا کر دے اور عدت کے بعد یہ دونوں آپس میں اگر چاہیں تو نکاح کر سکتے ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا حكم المعتدة من وفاة أو المبانة في الحياة، فيحرم على غير مبينها أن يصرح لها في الخطبة وهو المراد بقوله: {ولكن لا تواعدوهن سرًّا}؛ وأما التعريض فقد أسقط تعالى فيه الجناح، والفرق بينهما أن التصريح لا يحتمل غير النكاح فلهذا حرم خوفاً من استعجالها وكذبها في انقضاء عدتها رغبة في النكاح، ففيه دلالة على منع وسائل المحرم وقضاء لحق زوجها الأول بعدم مواعدتها لغيره مدة عدتها، وأما التعريض وهو الذي يحتمل النكاح وغيره فهو جائز للبائن كأن يقول [لها]: إني أريد التزوج وإني أحب أن تشاوريني عند انقضاء عدتك ونحو ذلك، فهذا جائز لأنه ليس بمنزلة الصريح، وفي النفوس داعٍ قوي إليه، وكذا إضمار الإنسان في نفسه أن يتزوج من هي في عدتها إذا انقضت، ولهذا قال: {أو أكننتم في أنفسكم علم الله أنكم ستذكرونهن}؛ هذا التفصيل كله في مقدمات العقد، وأما عقد النكاح فلا يحل، {حتى يبلغ الكتاب أجله}؛ أي: تنقضي العدة.
{واعلموا أن الله يعلم ما في أنفسكم}؛ أي: فانووا الخير ولا تنووا الشرَّ خوفاً من عقابه ورجاء لثوابه، {واعلموا أن الله غفور}؛ لمن صدرت منه الذنوب فتاب منها، ورجع إلى ربه، {حليم}؛ حيث لم يعاجل العاصينَ على معاصيهم مع قدرته عليهم.