ترجمہ و تفسیر — سورۃ محمد (47) — آیت 19

فَاعۡلَمۡ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۡۢبِکَ وَ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مُتَقَلَّبَکُمۡ وَ مَثۡوٰىکُمۡ ﴿٪۱۹﴾
پس جان لے کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہ کی معافی مانگ اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے بھی اور اللہ تمھارے چلنے پھرنے اور تمھارے ٹھہرنے کو جانتا ہے۔ En
پس جان رکھو کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور (اور) مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے بھی۔ اور خدا تم لوگوں کے چلنے پھرنے اور ٹھیرنے سے واقف ہے
En
سو (اے نبی!) آپ یقین کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے حق میں بھی، اللہ تم لوگوں کی آمد ورفت کی اور رہنے سہنے کی جگہ کو خوب جانتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 19) ➊ { فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ:} اس فاء کو فصیحہ (اظہار کرنے والی) کہتے ہیں، یعنی اس سے اس شرط کا اظہار ہوتا ہے جو گزشتہ کلام سے معلوم ہوتی ہے۔ اس آیت کا تعلق سورت کی گزشتہ تمام آیات کے ساتھ ہے، یعنی جب تم کفار اور ایمان والوں کا حال جان چکے اور یہ بھی کہ بھلائی اور کامیابی کا دارومدار توحید اور اطاعت پر ہے اور برائی اور ناکامی کا دار ومدار شرک اور نافرمانی پر ہے تو یہ بات بھی جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ (ابو السعود) ابوالعالیہ اور ابن عیینہ نے فرمایا کہ اس کا تعلق اس سے پہلی آیت کے ساتھ ہے، یعنی جب ان کے پاس قیامت آ گئی تو جان لو کہ اس کے قائم ہونے پر اللہ کے سوا بھاگنے یا پناہ حاصل کرنے کی کوئی جگہ نہیں (کیونکہ معبود برحق وہی ہے)۔ (بغوی)
➋ یہاں ایک سوال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس حقیقت کو پہلے ہی جانتے تھے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ أَتْقَاكُمْ وَ أَعْلَمَكُمْ بِاللّٰهِ أَنَا] [بخاري، الإیمان، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : أنا أعلمکم باللّٰہ: ۲۰] یقینا میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والا ہوں۔ پھر یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اہل علم نے اس کے متعدد جوابات دیے ہیں اور وہ سب درست ہیں۔ ایک یہ کہ { فَاعْلَمْ } کے مخاطب اگرچہ بظاہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مگر خطاب امت کے ہر فرد کو ہے۔ دلیل اس کی آیت کے آخری الفاظ ہیں جن میں صراحتاً سب کو مخاطب فرمایا ہے: «وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ» ‏‏‏‏ اور اللہ تمھارے چلنے پھرنے کو اور تمھارے ٹھہرنے کو جانتا ہے۔ جیسا کہ سورۂ طلاق کے شروع میں فرمایا: «‏‏‏‏يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُيُوْتِهِنَّ وَ لَا يَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ» ‏‏‏‏ [الطلاق: ۱] اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انھیں ان کی عدت کے وقت طلاق دو اور عدت کو گنو اور اللہ سے ڈرو جو تمھارا رب ہے، نہ تم انھیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ نکلیں مگر یہ کہ کوئی کھلی بے حیائی (عمل میں) لائیں۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ { فَاعْلَمْ } کا معنی یہ ہے کہ { لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ } کے علم پر ثابت اور قائم رہو، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِيْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ» ‏‏‏‏ [النساء: ۱۳۶] اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی اور اس کتاب پر جو اس نے اس سے پہلے نازل کی۔ اکثر مفسرین نے یہاں { فَاعْلَمْ } کا یہی معنی بیان فرمایا ہے۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ کسی حقیقت کے علم کی ابتدا اس کی معرفت سے ہوتی ہے کہ دل اسے جان لے، پھر اس کے یقین کا مرتبہ آتا ہے اور اس علم کی تکمیل اس سے ہوتی ہے کہ اس کے تقاضے کے مطابق عمل کرے۔ مطلب یہ ہے کہ {لا الٰه الا الله} کی معرفت اور اس کا یقین حاصل کرو اور اس کے تقاضوں پر عمل کرو۔ ظاہر ہے کہ علم اور یقین کے بے شمار درجے ہیں اور عمل کے لحاظ سے درجوں کا بھی کوئی شمار نہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کا قول: «‏‏‏‏وَ لٰكِنْ لِّيَطْمَىِٕنَّ قَلْبِيْ» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۲۶۰] (اور لیکن اس لیے کہ میرا دل پوری تسلی حاصل کر لے) اس کی دلیل ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا: «‏‏‏‏وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا» ‏‏‏‏ [طٰہٰ: ۱۱۴] اور تو کہہ اے میرے رب! مجھے علم میں زیادہ کر۔ اور کہنے والے نے کیا خوب کہا ہے:
چومی گویم مسلمانم بلرزم
کہ دانم مشکلات لا الٰہ را
جب میں کہتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں تو لرز جاتا ہوں، کیونکہ میں {لا الٰه} کی مشکلات کو جانتا ہوں۔
سورۂ نساء کی آیت (۱۳۶): «‏‏‏‏يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ» ‏‏‏‏ کا ایک معنی یہ بھی کیا گیا ہے کہ اپنے ایمان کے تقاضے کے مطابق عمل کرو۔ خلاصہ یہ کہ ہر لمحے {لا الٰه الا الله} کی معرفت، اس کے یقین اور اس پر عمل میں اضافے کی کوشش کرتے رہو۔ چوتھا یہ کہ ہر وقت اس حقیقت کو یاد اور نظر کے سامنے رکھو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، گویا {اِعْلَمْ} بمعنی { اُذْكُرْ} ہے۔
➌ اس آیت سے علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ ہر قول اور عمل سے پہلے علم کا حصول لازم ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ» ‏‏‏‏ [الحدید: ۲۰] جان لو کہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل ہے۔ اس کے بعدفرمایا: «‏‏‏‏سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ» ‏‏‏‏ [الحدید: ۲۱] اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھو جس کی چوڑائی آسمان اور زمین کی چوڑائی کی طرح ہے۔ اور امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں فرمایا: {بَابُ الْعِلْمِ قَبْلَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ لِقَوْلِ اللّٰهِ تَعَالٰي: «‏‏‏‏فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ» فَبَدَأَ بِالْعِلْمِ} [بخاري، العلم، قبل ح: ۶۸] علم مقدم ہے قول اور عمل پر، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے (سورۂ محمد میں) فرمایا: پس تو جان لے کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس آیت میں اللہ نے علم کو پہلے بیان کیا ہے۔
➍ {وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ:} قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے استغفار کا حکم دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرتے رہے اور امت کو بھی اس کی تاکید فرماتے رہے۔ چنانچہ اس سے متعلق یہاں دو احادیث نقل کی جاتی ہیں، ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: [اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ خَطِيْئَتِيْ وَجَهْلِيْ وَ إِسْرَافِيْ فِيْ أَمْرِيْ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّيْ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ جِدِّيْ وَهَزْلِيْ وَخَطَئِيْ وَعَمْدِيْ وَكُلُّ ذٰلِكَ عِنْدِيْ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّيْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ وَأَنْتَ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ] [مسلم، الذکر و الدعاء، باب في الأدعیۃ: ۲۷۱۹] اے اللہ! میری خطا کو، میرے جہل کو، میرے کام میں میری زیادتی کو اور ان تمام گناہوں کو میرے لیے بخش دے جنھیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ اے اللہ! میرے سنجیدگی سے کیے ہوئے کاموں کو، میرے مذاق سے کیے ہوئے کاموں کو، میرے بھول کر کیے ہوئے اور جان بوجھ کر کیے ہوئے گناہوں کو میرے لیے بخش دے اور یہ سب میرے پاس موجود ہیں۔ اے اللہ! تو مجھے وہ سب گناہ بخش دے جو میں نے پہلے کیے اور جو میں نے بعد میں کیے اور جو چھپا کر کیے اور جو علانیہ کیے اور جنھیں تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے۔ تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: [وَاللّٰهِ! إِنِّيْ لَأَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَ أَتُوْبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً] [بخاري، الدعوات، باب استغفار النبي صلی اللہ علیہ وسلم في الیوم واللیلۃ:۶۳۰۷] اللہ کی قسم! میں دن میں ستر (۷۰) بار سے زیادہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔
➎ { وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ:} یہ حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ہے اور امت کے تمام افراد کو بھی کہ وہ اپنے علاوہ دوسرے تمام مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی استغفار کریں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان والوں پر اپنے مومن بھائیوں کے لیے استغفار واجب ہے۔ پہلے جلیل القدر انبیاء علیھم السلام کا بھی یہی عمل رہا ہے، جیسا کہ نوح علیہ السلام نے دعا کی: «رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَ لِوَالِدَيَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا تَبَارًا» ‏‏‏‏ [نوح: ۲۸] اے میرے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور اس کو جو مومن بن کر میرے گھر میں داخل ہو اور ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو اور ظالموں کو ہلاکت کے سوا کسی چیز میں نہ بڑھا۔ اور ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی: «رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَ لِوَالِدَيَّ وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُ» ‏‏‏‏ [إبراہیم: ۴۱] اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور ایمان والوں کو، جس دن حساب قائم ہوگا۔
➏ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام ایمان والوں کو مومن مردوں اور عورتوں کے لیے استغفار کا جب خود حکم دیا تو یہ دلیل ہے کہ وہ اسے قبول بھی فرمائے گا۔ ظاہر ہے کہ ہر مومن، مرد ہو یا عورت، زندہ ہو یا فوت شدہ، استغفار کی ان دعاؤں میں شامل ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر امت کے آخری آدمی نے ایمان والوں کے حق میں کی ہیں اور جس کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کے بے شمار مقبول بندوں کی مغفرت کی دعائیں ہوتی ہوں اس کی مغفرت سے ناامید ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ اس لیے کسی بھی مومن کے متعلق یہ کہنا درست نہیں کہ وہ جہنمی ہے، یا اللہ تعالیٰ اسے معاف نہیں کرے گا، خواہ وہ کتنا زیادہ گناہ گار ہو۔ شرط یہ ہے کہ وہ ایمان کی دولت اپنے دامن میں رکھتا ہو اور شرک کی نجاست سے آلودہ نہ ہو۔
➐ { وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ: مُتَقَلَّبٌ} اور {مَثْوٰي تَقَلَّبَ يَتَقَلَّبُ} (تفعل) اور { ثَوَي يَثْوِيْ} (ض) سے مصدر میمی بھی ہو سکتے ہیں اور ظرف مکان بھی۔ پہلی صورت میں معنی ہے تمھارا چلنا پھرنا اور تمھارا ٹھہرنا اور دوسری صورت میں معنی ہے تمھارے چلنے پھرنے کی جگہ اور تمھارے ٹھہرنے کی جگہ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھاری نقل و حرکت کو اور تمھارے ٹھہرنے کو اور تمھارے چلنے پھرنے کے اور تمھارے ٹھہرنے کے مقامات کو خوب جانتا ہے۔ اس میں کفار اور نافرمانوں کے لیے وعید ہے اور اللہ کے فرماں بردار بندوں کے لیے بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھاری جائز یا ناجائز ہر حرکت و سکون سے واقف ہے اور واقف ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ فرماں برداروں کو انعام دے گا اور نافرمانوں کو سزا دے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

19۔ 1 یعنی اس عقیدے پر ثابت اور قائم رہیں کیونکہ یہی توحید اور اطاعت الہی مدار خیر ہے اور اس سے انحراف یعنی شرک اور معصیت مدار شر ہے۔ 19۔ 2 اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو استغفار کا حکم دیا گیا ہے، اپنے لئے بھی اور مومنین کے لئے بھی استغفار کی بڑی اہمیت اور فضیلت ہے۔ احادیث میں بھی اس پر بڑا زور دیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یَا اّیُّھَا النَّاسُ! تُوْبُوْا اِلٰی رَبِّکُمْ فَاِنِّی اَسْتَغْعِرُ اللّٰہَ وَ اَتُوْبُ اِلَیہِ فِی الیَوْمِ اَکْثَرَ مِنْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً (صحیح بخا ری) لوگو! استغفار کیا کرو، میں بھی اللہ کے حضور روزانہ ستر مرتبہ سے زیادہ توبہ استغفار کرتا ہوں۔ بارگاہ الٰہی میں توبہ واستغفار کرتا ہوں۔ 19۔ 3 یعنی دن کو تم جہاں پھرتے اور جو کچھ کرتے ہو اور رات کو جہاں آرام کرتے اور استقرار پکڑتے ہو اللہ تعالیٰ جانتا ہے مطلب ہے شب وروز کی کوئی سرگرمی اللہ سے مخفی نہیں ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ پس آپ جان لیجئے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور اپنے لئے نیز مومن مردوں اور عورتوں کے لئے بھی گناہ کی معافی [22] مانگیے۔ اور اللہ تمہارے چلنے پھرنے کے مقامات کو بھی جانتا اور آخری ٹھکانے [23] کو بھی۔
[22] کوئی مومن جس درجے کا بھی وہ مومن ہو اسے اللہ کے حضور اپنے عجز و قصور کا اعتراف کرتے رہنا چاہئے۔ قصور کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی جس قدر عبادت اور اطاعت کا ہم پر حق تھا وہ ہم پوری طرح نبھا نہیں سکے۔ اور ایسا اعتراف تمام انبیاء بھی کرتے آئے ہیں۔ حالانکہ انبیاء سے گناہ کا اور بالخصوص دیدہ دانستہ گناہ کا سرزد ہونا محالات سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسی ارشاد کے مطابق آپ ایک دن میں سو سے زیادہ مرتبہ استغفار فرمایا کرتے تھے۔ اور تمام مسلمان بھی اپنی نمازوں کے دوران اور نمازوں کے بعد بہ تکرار استغفار کرتے رہتے ہیں۔ اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کے لیے استغفار کرنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ آپ کی دعا اللہ کی بارگاہ میں دوسروں کی نسبت بہت زیادہ مستجاب ہے۔
[23] یعنی اللہ تعالیٰ تم سے ہر ایک شخص کی، خواہ وہ مومن ہے یا کافر، نقل و حرکت کو اور اس کی سرگرمیوں کو خوب جانتا ہے کہ وہ کس راہ میں صرف ہو رہی ہیں۔ پھر وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ کس جگہ مر کر دفن ہو گا اور ﴿مَثْوٰكُمْ کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم میں سے ہر شخص کو مرنے کے بعد جنت یا دوزخ میں جو ٹھکانا ملے گا۔ اللہ اسے بھی خوب جانتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

علم میں اقرارِ قلب اور اس معنی کی معرفت، جو علم اس سے طلب کرتا ہے، لازمی امر ہے اور علم کی تکمیل یہ ہے کہ اس کے تقاضے کے مطابق عمل کیا جائے۔ اور یہ علم جس کے حصول کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا علم ہے اور ہر انسان پر فرض عین ہے اور کسی پر بھی، خواہ وہ کوئی بھی ہو، ساقط نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک کے لیے اس کا حصول ضروری ہے۔ اس علم کے حصول کا طریق کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، چند امور پر مبنی ہے:
(۱) سب سے بڑا امر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال میں تدبر کیا جائے جو اس کے کمال اور اس کی عظمت و جلال پر دلالت کرتے ہیں۔ کیونکہ اسماء و صفات میں تدبر، عبادت میں کوشش صرف کرنے اور رب کامل کے لیے تعبد کا موجب ہوتا ہے جو ہر قسم کی حمد و مجد اور جلال و جمال کا مالک ہے۔
(۲) اس حقیقت کا علم کہ اللہ تعالیٰ تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے، اس کے ذریعے سے اس بات کا علم حاصل ہو گا کہ وہ الوہیت میں بھی متفرد ہے۔
(۳) اس امر کا علم کہ ظاہری اور باطنی، دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کرنے میں وہ متفرد ہے۔ یہ علم دل کے اللہ کے ساتھ تعلق رکھنے، اس سے محبت کرنے، اس اکیلے کی عبادت کرنے کا موجب بنتا ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔
(۴) ہم یہ جو دیکھتے اور سنتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے لیے، جو اس کی توحید کو قائم کرتے ہیں، فتح و نصرت اور دنیاوی نعمتیں ہیں اور اس کے دشمن مشرکین کے لیے سزا اور عذاب ہے… یہ چیز اس علم کے حصول کی طرف دعوت دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور تمام تر عبادت کا وہی مستحق ہے۔
(۵) ان بتوں اور خود ساختہ ہم سروں کے اوصاف کی معرفت، جن کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کی جاتی ہے اور انھیں معبود بنا لیا گیا ہے، کہ یہ ہر لحاظ سے ناقص اور بالذات محتاج ہیں، یہ خود اپنے لیے اور اپنے عبادت گزاروں کے لیے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے، ان کے اختیار میں زندگی ہے نہ موت اور نہ یہ دوبارہ زندگی ہی عطا کر سکتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کی کوئی مدد نہیں کر سکتے جو ان کی عبادت کرتے ہیں بھلائی عطا کرنے اور شر کو دور کرنے میں ان کے ذرہ بھر کام نہیں آ سکتے۔ کیونکہ ان اوصاف کا علم، اس حقیقت کے علم کا موجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں، نیز یہ علم اللہ کے ماسوا کی الوہیت کے بطلان کا موجب ہے۔
(۶) حقیقت توحید پر اللہ تعالیٰ کی تمام کتابیں اتفاق کرتی ہیں۔
(۷) اللہ تعالیٰ کے خاص بندے، جو اخلاق، عقل، رائے، صواب اور علم کے اعتبار سے اس کی مخلوق میں سب سے زیادہ کامل ہیں، یعنی انبیاء و مرسلین اور علمائے ربانی، اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔
(۸) اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو دلائل افقیہ اور نفسیہ قائم کیے ہیں، جو توحید الٰہی پر سب سے بڑی دلیل ہیں، اپنی زبان حال سے پکار پکار کر اس کی باریک کاری گری، اس کی عجیب و غریب حکمتوں اور اس کی انوکھی تخلیق کا اعلان کرتے ہیں۔
یہ وہ طریقے ہیں، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو کثرت سے اس امر کی دعوت دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، ان کو اپنی کتاب میں نمایاں طور پر بیان کیا ہے اور بار بار ان کا اعادہ کیا ہے۔ ان میں سے بعض پر غور و فکر کرنے سے بندے کو علم اور یقین حاصل ہونا، ایک لازمی امر ہے، تب بندے کو کیوں کر علم اور یقین حاصل نہ ہو گا جب دلائل ہر جانب سے مجتمع اور متفق ہو کر توحید پر دلالت کرتے ہوں۔ یہاں بندۂ مومن کے دل میں، توحید پر ایمان اور اس کا علم راسخ ہو کر پہاڑوں کی مانند بن جاتے ہیں، شبہات و خیالات انھیں متزلزل نہیں کر سکتے، باطل اور شبہات کے بار بار وارد ہونے سے ان کی نشوونما اور ان کے کمال میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
اگر آپ اس عظیم دلیل اور بہت بڑے معاملے کو دیکھیں اور وہ ہے قرآن عظیم میں تدبر اور اس کی آیات میں غور و فکر... تو یہ علم توحید تک پہنچنے کے لیے بہت بڑا دروازہ ہے، اس کے ذریعے سے توحید کی وہ تفاصیل حاصل ہوتی ہیں جو کسی دوسرے طریقے سے حاصل نہیں ہو سکتیں۔
﴿ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ یعنی اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہ کی بخشش طلب کیجیے، یعنی توبہ مغفرت کی دعا، ایسی نیکیوں کے ذریعے سے جو گناہوں کو مٹا دیتی ہیں، گناہوں کو ترک اور جرائم کو معاف کر کے مغفرت کے اسباب پر عمل کیجیے۔﴿ وَ اور اسی طرح بخشش طلب کیجیے ﴿لِلْمُؤْمِنِیْنَ۠ وَالْمُؤْمِنٰتِ مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے کیونکہ وہ اپنے ایمان کے سبب سے، ہر مسلمان مرد اور عورت پر حق رکھتے ہیں اور ان کے جملہ حقوق میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ ان کے لیے دعا کی جائے اور ان کے گناہوں کی بخشش مانگی جائے۔
جب آپ ان کے لیے استغفار پر مامور ہیں جو ان سے گناہوں اور ان کی سزا کے ازالے کو متضمن ہے تب اس کے لوازم میں سے ہے کہ ان کی خیر خواہی کی جائے، ان کے لیے بھلائی کو پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں، ان کے لیے برائی کو ناپسند کریں جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں، انھیں ان کاموں کا حکم دیں جن میں ان کے لیے بھلائی ہے اور ان کاموں سے روکیں جن سے ان کو ضرر پہنچتا ہے، ان کی کوتاہیوں اور عیبوں کو معاف کر دیں، ان کے ساتھ اس طرح اکٹھے رہنے کی خواہش رکھیں جس سے ان کے دل اکٹھے رہیں، اور ان کے درمیان کینہ اور بغض زائل ہو جو عداوت اور ایسی مخالفت کا سبب بنتا ہے جس سے ان کے گناہ اور معاصی زیادہ ہو جاتے ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ یعنی اللہ تعالیٰ حرکات و تصرفات اور تمھاری آمدورفت کو خوب جانتا ہے۔ ﴿وَمَثْوٰىكُمْ اور تمھاری رہائش کی جگہ کو بھی جانتا ہے۔ جہاں تم ٹھہرتے ہو وہ تمھاری حرکات و سکنات کو جانتا ہے۔ وہ تمھیں اس کی پوری پوری جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

العلم لا بدَّ فيه من إقرار القلب ومعرفتِهِ بمعنى ما طُلِبَ منه علمه، وتمامه أن يعملَ بمقتضاه. وهذا العلم الذي أمر اللهُ به، وهو العلم بتوحيد الله، فرضُ عينٍ على كلِّ إنسان، لا يسقطُ عن أحدٍ كائناً مَن كان، بل كلٌّ مضطرٌّ إلى ذلك.

والطريق إلى العلم بأنَّه لا إله إلاَّ الله أمورٌ:

أحدُها ـ بل أعظمها ـ: تدبُّر أسمائه وصفاته وأفعاله الدالَّة على كماله وعظمتِهِ وجلالِهِ؛ فإنَّها توجب بذل الجهد في التألُّه له والتعبُّد للربِّ الكامل الذي له كلُّ حمدٍ ومجدٍ وجلال وجمال.

الثاني: العلمُ بأنَّه تعالى المنفردُ بالخلق والتدبير، فيعلم بذلك أنَّه المنفرد بالألوهية.

الثالث: العلم بأنَّه المنفرد بالنعم الظاهرة والباطنة الدينيَّة والدنيويَّة؛ فإنَّ ذلك يوجب تعلُّق القلب به ومحبَّته والتألُّه له وحده لا شريك له.

الرابع: ما نراه ونسمعه من الثوابِ لأوليائِهِ القائمين بتوحيدِهِ من النصر والنعم العاجلة، ومن عقوبتِهِ لأعدائِهِ المشركين به؛ فإنَّ هذا داعٍ إلى العلم بأنَّه تعالى وحده المستحقُّ للعبادة كلِّها.

الخامس: معرفة أوصاف الأوثان والأنداد التي عُبِدَتْ مع الله واتُّخِذت آلهة، وأنَّها ناقصةٌ من جميع الوجوه، فقيرةٌ بالذات، لا تملك لنفسها ولا لعابديها نفعاً ولا ضرًّا ولا موتاً ولا حياةً ولا نشوراً، ولا ينصرون مَن عبدهم ولا ينفعونهم بمثقال ذرَّةٍ من جلب خيرٍ أو دفع شرٍّ؛ فإنَّ العلم بذلك يوجب العلم بأنَّه لا إله إلا الله وبطلان إلهيَّة ما سواه.

السادس: اتِّفاق كتب الله على ذلك وتواطؤها عليه.

السابع: أن خواصَّ الخلق الذين هم أكملُ الخليقة أخلاقاً وعقولاً ورأياً وصواباً وعلماً ـ وهم الرسلُ والأنبياءُ والعلماء الربانيُّون ـ قد شهِدوا لله بذلك.

الثامن: ما أقامه الله من الأدلَّة الأفقيَّة والنفسيَّة التي تدلُّ على التوحيد أعظم دلالةٍ وتنادي عليه بلسان حالها بما أوْدَعَها من لطائف صنعتِهِ وبديع حكمتِهِ وغرائب خلقِهِ؛ فهذه الطرق التي أكثر الله من دعوةِ الخلق بها إلى أنَّه لا إله إلاَّ الله، وأبداها في كتابه وأعادها، عند تأمُّل العبد في بعضها؛ لا بدَّ أن يكون عنده يقينٌ وعلمٌ بذلك؛ فكيف إذا اجتمعت وتواطأت واتَّفقت وقامت أدلَّة للتوحيد من كلِّ جانب؟! فهناك يرسخُ الإيمان والعلم بذلك في قلب العبد؛ بحيث يكون كالجبال الرواسي، لا تزلزِلُه الشُّبه والخيالات، ولا يزداد على تكرُّر الباطل والشُّبه إلاَّ نموًّا وكمالاً. هذا، وإن نظرتَ إلى الدليل العظيم والأمر الكبير ـ وهو تدبُّر هذا القرآن العظيم والتأمُّل في آياته؛ فإنَّه البابُ الأعظم إلى العلم بالتوحيد، ويحصُلُ به من تفاصيله وجمله ما لا تحصل في غيره.

وقوله: {واستغفر لذنبِك}؛ أي: اطلب من الله المغفرة لذنبك؛ بأنْ تفعلَ أسباب المغفرةِ من التوبة والدُّعاء بالمغفرة والحسنات الماحية وترك الذُّنوب والعفو عن الجرائم، {و} استغفر أيضاً {للمؤمنين والمؤمناتِ}؛ فإنَّهم بسبب إيمانهم كان لهم حقٌّ على كلِّ مسلم ومسلمةٍ، ومن جملة حقوقهم أن يُدعَى لهم ويُسْتَغْفَرَ لذُنوبهم، وإذا كان مأموراً بالاستغفار لهم المتضمِّن لإزالة الذُّنوب وعقوباتها عنهم؛ فإنَّ من لوازم ذلك النُّصح لهم، وأن يحبَّ لهم من الخير ما يحبُّ لنفسه، ويكره لهم من الشرِّ ما يكرهُ لنفسِهِ، ويأمرهم بما فيه الخيرُ لهم، وينهاهم عمَّا فيه ضررُهم، ويعفو عن مساويهم ومعايبهم، ويحرصُ على اجتماعهم اجتماعاً تتألف به قلوبُهم، ويزول ما بينهم من الأحقاد المفضية للمعاداة والشقاق، الذي به تكثُرُ ذنوبهم ومعاصيهم. {واللهُ يعلم مُتَقَلَّبَكُم}؛ أي: تصرُّفاتكم وحركاتكم وذهابكم ومجيئكم، {ومَثْواكم}: الذي به تستقرُّون؛ فهو يعلمكم في الحركات والسَّكَنات، فيجازيكم على ذلك أتمَّ الجزاء وأوفاه.