عقیقہ ذبح کرتے وقت کیا پڑھنا چاہیے اور ہڈیاں توڑنے کا حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

عقیقہ کا جانور ذبح کرتے وقت کے مسنون کلمات

عام جانور کو ذبح کرنے کی طرح عقیقہ کے جانور کو ذبح کرتے وقت بھی بسم اللہ یا بسم اللہ واللہ اکبر کہنا مشروع ہے۔ اس کے علاوہ عقیقہ ذبح کرتے وقت آئندہ کلمات کا اہتمام مسنون نہیں۔
❀ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
يعق عن الغلام شاتان مكافئتان، وعن الجارية شاة، قالت عائشة: فعق رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الحسن والحسين شاتين شاتين يوم السابع، وأمر أن يماط عن رأسه الأذى، وقال: اذبحوا على اسمه وقولوا: بسم الله الله أكبر، اللهم منك ولك، هٰذه عقيقة فلان
”لڑکے کی طرف سے دو ہم مثل بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری عقیقہ کی جائے گی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقیقہ میں حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے ساتویں دن دو دو بکریاں ذبح کیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سروں سے میل کچیل دور کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: اللہ کے نام پر (عقیقہ) ذبح کرو اور (یہ کلمات) کہو: ”بسم الله الله أكبر، اللهم منك ولك هٰذه عقيقة فلان“ بسم اللہ اللہ اکبر، اے اللہ، یہ تیری طرف سے اور تیرے لیے ہے۔ یہ فلاں شخص کا عقیقہ ہے۔“
ضعیف: مسند أبو يعلى: 4521، سنن بیهقی: 303/9، 304، مصنف عبد الرزاق: 7963 ۔ابن جریج کی تدلیس ہے۔

عقیقہ کے جانور کی ہڈیاں توڑنا

عقیقہ کے جانور کا گوشت بناتے وقت اس کی ہڈیاں توڑنا مکروہ فعل نہیں ہے، بلکہ عام ذبیحہ کی طرح اس کی ہڈیاں توڑنا اور گوشت بنانا جائز و مباح ہے۔ لیکن کچھ لوگ آئندہ روایت کو پیش نظر رکھتے ہوئے، عقیقہ کی ہڈیاں توڑنا مکروہ خیال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ گوشت کے پورے پورے اعضاء بکھرے کرنے چاہئیں اور اس میں یہ نیک شگون کارفرما ہے کہ اس عمل سے بچہ سالم الاعضاء رہے گا، یہ نظریہ سراسر باطل ہے کیونکہ روایت ضعیف ہے۔
❀ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
عن الغلام شاتان مكافئتان، وعن الجارية شاة، تقطع جدولا ولا يكسر لها عظم
”لڑکے کی طرف سے دو برابر بکریاں ہیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے، عقیقہ کا گوشت بناتے وقت اس کے اعضاء کاٹے جائیں اور اس کی ہڈی نہ توڑی جائے۔“
شاذ: مستدرك حاكم: 238/4۔
اس حدیث میں یہ الفاظ مدرج ہیں، جیسا کہ سنن بیہقی (302/9) میں اس کی صراحت موجود ہے کہ یہ عطاء بن ابی رباح کا قول ہے، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرنے والے دیگر رواۃ زائد الفاظ کا ذکر نہیں کرتے، چنانچہ عبد الملک بن ابی سلیمان صدوق اور کثیر الاوہام راوی ہے، لہذا اس کے وہم کی وجہ سے یہ الفاظ مرفوع حدیث میں داخل کر دیے گئے۔