تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ يَّخْلُقُوْا …:} اللہ کے سوا تم جن کو بھی پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کریں گے، خواہ وہ سب اس کام کے لیے جمع ہو جائیں۔ مثال میں مستقبل میں حرف {” لَنْ “} کی تاکید کے ساتھ ایک مکھی پیدا کرنے کی نفی فرمائی ہے، یعنی نہ وہ اس سے پہلے یہ کام کر سکے، نہ اب کر رہے ہیں اور نہ آئندہ ایسا کریں گے۔ اللہ کی ایک چھوٹی سی مخلوق پیدا کرنا، جو لوگوں کی نگاہ میں بالکل حقیر ہے، جب تمھارے داتاؤں، حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کے اختیار میں نہیں تو وہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی بے شمار عظیم الشان مخلوقات کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [قَالَ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِيْ فَلْيَخْلُقُوْا ذَرَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوْا حَبَّةً أَوْ شَعِيْرَةً] [بخاري، التوحید، باب قول اللہ تعالٰی: «واللہ خلقکم وما تعملون» …: ۷۵۵۹۔ مسلم: ۲۱۱۱، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ] ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو میرے پیدا کرنے کی طرح پیدا کرنے چلا ہے؟ سو وہ ایک ذرہ پیدا کریں، یا ایک دانہ یا ایک جو پیدا کریں۔“
➌ بعض لوگ جو فوت شدہ بزرگوں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکارتے ہیں وہ {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} سے مراد صرف بت لیتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ انبیاء و اولیاء {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} نہیں۔ اس پر خود بخود سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} (اللہ کے سوا نہیں) تو پھر وہ خود خدا ٹھہرے۔ اگر تمھارا یہ عقیدہ ہے تو اس کائنات میں تم سے بڑا کافر کوئی نہیں کہ تم نے اللہ کی پیدا کردہ مخلوق کو رب بنا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ انبیاء ہوں، اولیاء ہوں یا فرشتے سب اللہ کی مخلوق ہیں اور {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} ہیں، خود اللہ نہیں۔ دلیل اس کی یہی آیت ہے کہ صرف بت ہی نہیں تمام زندہ یا فوت شدہ انبیاء و اولیاء اور تمھارے بنائے ہوئے مشکل کشا، داتا اور دستگیر جمع ہو کر بھی ایک مکھی نہیں بنا سکتے۔ اگر کوئی بنا سکتا ہے یا کسی نے بنائی ہے تو اس کا نام لو۔ اللہ تعالیٰ نے کیا خوب فرمایا: «قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَ الْبَصِيْرُ اَمْ هَلْ تَسْتَوِي الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُاَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» [الرعد: ۱۶] ”کہہ دے کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہوتے ہیں؟ یا کیا اندھیرے اور روشنی برابر ہوتے ہیں؟ یا انھوں نے اللہ کے لیے کچھ شریک بنا لیے ہیں جنھوں نے اس کے پیدا کرنے کی طرح پیدا کیا ہے، تو پیدائش ان پر گڈمڈ ہوگئی ہے؟ کہہ دے اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی ایک ہے، نہایت زبردست ہے۔“ {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} کی مزید وضاحت کے لیے سورۂ نحل (۲۰، ۲۱) ملاحظہ فرمائیں۔
➍ {وَ اِنْ يَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْـًٔا لَّا يَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ:} یہ {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} کی بے بسی کی ایک اور مثال ہے کہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو وہ اس سے ہر گز چھڑا نہیں پائیں گے۔ اکثر مفسرین لکھتے ہیں کہ اس سے مراد بت ہیں جن پر ان کو پوجنے والے زعفران اور شہد وغیرہ لگاتے ہیں، یا ان کے سامنے کھانے کی اشیاء لا کر رکھتے ہیں، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کی قوم کرتی تھی۔ اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے جائے تو وہ اس سے چھڑا نہیں سکتے۔ یہ تفسیر بھی ٹھیک ہے، مگر اللہ کے سوا وہ سب ہستیاں بھی اس میں شامل ہیں جنھیں پکارا جاتا ہے، اگر نہ مانو تو اس ہستی کا نام لو جس نے مکھی سے چھینی ہوئی چیز چھڑائی ہو۔ مفسر آلوسی نے فرمایا: {” وَالْآيَةُ وَ إِنْ كَانَتْ نَازِلَةً فِي الْأَصْنَامِ… إِلَّا أَنَّ الْحُكْمَ عَامٌّ لِسَائِرِ الْمَعْبُوْدَاتِ الْبَاطِلَةِ “} ”آیت اگرچہ بتوں کے بارے میں اتری ہے… مگر اس کا حکم تمام باطل معبودوں کے لیے عام ہے۔“ (روح المعانی) چھیننے میں وجۂ شبہ مکھی کا ڈھیٹ پن ہے۔ اگر یہ ڈھیٹ پن شیر میں ہوتا تو شاید ہی کوئی اس سے بچتا مگر یہ اللہ کی حکمت ہے کہ شیر کی قوت کے ساتھ لوگوں سے دور رہنا رکھ دیا اور مکھی کے ضعف کے ساتھ ڈھیٹ پن رکھ دیا۔ (بقاعی)
➎ { ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ:} اس بات سے کہ جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ مکھی سے چھینی ہوئی چیز واپس نہیں لے سکتے۔ مکھی کی قوت کی طرف ذہن جا سکتا تھا، اس لیے وضاحت کر دی کہ مکھی بھی کمزور، جس سے چھین کر لے جا رہی ہے وہ بھی کمزور اور جو اسے پوجتے اور پکارتے ہیں وہ بھی کمزور۔
➏ { مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ:} نتیجہ اس ساری مثال کا یہ ہے کہ مشرک اللہ تعالیٰ سے بالکل جاہل ہے، تبھی وہ اللہ کا حق کہ صرف اسے پکارا جائے، کسی دوسرے کو دیتا ہے، خواہ کوئی بھی ہو۔ پھر اس سے بڑھ کر بے قدری کیا ہو گی کہ وہ اللہ تعالیٰ کا حق ان ہسیتوں کو دے دے جو حقیر ترین چیز مکھی بھی نہ پیدا کر سکتے ہیں اور نہ اس سے چھینی ہوئی چیز واپس لے سکتے ہیں۔
➐ { اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ:} یہاں سوال پیدا ہوا کہ پھر اس کی قدر کا حق کیا ہے؟ جواب میں فرمایا، بے شک اللہ یقینا بہت قوت والا ہے۔ جو چیز پیدا کرنا چاہے کر سکتا ہے اور کرتا ہے، جسے فنا کرنا چاہے کر سکتا ہے اور کرتا ہے۔ وہ سب پر غالب ہے اور کوئی اس پر غالب نہیں، جبکہ کسی دوسرے میں نہ یہ قوت ہے اور نہ غلبہ۔
➑ مکھی کی حقارت اگر ضرب المثل ہے تو اس کی جرأت بھی بے مثال ہے۔ بڑے بڑے جابر بادشاہ اس کے آگے بے بس ہو جاتے ہیں، اسے چہرے سے اڑاتے ہیں، یہ پھر آ بیٹھتی ہے، حتیٰ کہ زچ ہو کر بعض اوقات کہہ اٹھتے ہیں کہ معلوم نہیں اللہ تعالیٰ نے اسے کیوں پیدا کیا ہے؟ اس پر انھیں یہ سننا پڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جبار لوگوں کو ذلیل کرنے کے لیے پیدا فرمایا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مسند احمد کی حدیث قدسی میں فرمان الٰہی ہے { اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو میری طرح کسی کو بنانا چاہتا ہے۔ اگر واقعی میں کسی کو یہ قدرت حاصل ہے تو ایک ذرہ، ایک مکھی یا ایک دانہ اناج کا ہی خود بنادیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:391/2:صحیح]
بخاری و مسلم میں الفاظ یوں ہیں کہ ’ وہ ایک ذرہ یا ایک جو ہی بنادیں ‘۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5953]
اچھا اور بھی ان کے معبودان باطل کی کمزوری اور ناتوانی سنو کہ ’ یہ ایک مکھی کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتے وہ ان کا حق ان کی چیز ان سے چھینے چلی جا رہی ہے، یہ بے بس ہیں، یہ بھی تو نہیں کر سکتے کہ اس سے اپنی چیز ہی واپس لے لیں بھلا مکھی جیسی حقیر اور کمزور مخلوق سے بھی جو اپنا حق نہ لے سکے اس سے بھی زیادہ کمزور، بودا ضعیف ناتوان بے بس اور گرا پڑا کوئی اور ہوسکتا ہے؟ ‘
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”طالب“ سے مراد بت اور ”مطلوب“ سے مراد مکھی ہے۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بھی اسی کو پسند کرتے ہیں اور ظاہر لفظوں سے بھی یہی ظاہر ہے۔
دوسرا مطلب یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ طالب سے مراد عابد اور مطلوب سے مراد اللہ کے سوا اور معبود۔ اللہ کی قدروعظمت ہی ان کے دلوں میں نہیں رچی اگر ایسا ہوتا تو اتنے بڑے توانا اللہ کے ساتھ ایسی ذلیل مخلوق کو کیوں شریک کر لیتے۔ جو مکھی اڑانے کی بھی قدرت نہیں رکھتی جیسے مشرکین قریش کے بت تھے۔ اللہ اپنی قدرت وقوت میں یکتا ہے تمام چیزیں بے نمونہ «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] ’ سب سے پہلی پیدائش میں اس نے پیدا کر دی ہیں کسی ایک سے بھی مدد لیے بغیر پھر سب کو ہلاک کر کے دوبارہ اس سے بھی زیادہ آسانی سے پیدا کرنے پر قادر ہے ‘۔
«إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ إِنَّهُ هُوَ يُبْدِئُ وَيُعِيدُ» ۱؎ [85-البروج:13-12] ’ وہ بڑی مضبوط پکڑ والا، ابتداء اور اعادہ کرنے والا ‘، «إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ» ۱؎ [51-الذاريات:58] ’ رزق دینے والا، اور بے انداز قوت رکھنے والا ہے ‘، ’ سب کچھ اس کے سامنے پست ہے، کوئی اس کے ارادے کو بدلنے والا، اس کے فرمان کو ٹالنے والا اس کی عظمت اور سلطنت کا مقابلہ کرنے والا نہیں، وہ واحد قہار ہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا مثلٌ ضَرَبَه الله لقبح عبادة الأوثان وبيانِ نُقصان عقول مَن عَبَدها وضَعْفِ الجميع، فقال: {يا أيها الناسُ}: هذا خطابٌ للمؤمنين والكفَّار؛ المؤمنون يزدادون علماً وبصيرةً، والكافرون تقوم عليهم الحجَّة. {ضُرِبَ مَثَلٌ فاستَمِعوا له}؛ أي: ألقوا إليه أسماعَكم، وافْهَموا ما احتوى عليه، ولا يصادِفْ منكم قلوباً لاهيةً وأسماعاً معرضةً، بل ألْقوا إليه القلوبَ والأسماعَ، وهو هذا: {إنَّ الذين تَدْعونَ من دونِ اللهِ}: شَمِلَ كلَّ ما يُدْعى من دونِ الله، {لَنْ يَخْلُقوا ذباباً}: الذي هو من أحقر المخلوقات وأخسِّها؛ فليس في قدرتهم خَلْقُ هذا المخلوق الضعيف؛ فما فوقَه من باب أولى، {ولو اجْتَمَعوا له}: بل أبلغُ من ذلك: لو {يَسْلُبْهُمُ الذبابُ شيئاً لا يستَنْقِذوه منه}: وهذا غايةُ ما يصير من العجز. {ضَعُفَ الطالبُ}: الذي هو المعبودُ من دون الله، {والمطلوبُ}: الذي هو الذباب؛ فكل منهما ضعيفٌ، وأضعفُ منهما من يتعلَّق بهذا الضعيف وينزِله منزلةَ ربِّ العالمين؛ فهذا ما قَدَر اللَّه حقَّ قدرِهِ، حيث سوَّى الفقيرَ العاجزَ من جميع الوجوه بالغنيِّ القويِّ من جميع الوجوه، سوَّى مَنْ لا يملِكُ لنفسه ولا لغيره نفعاً ولا ضرًّا ولا موتاً ولا حياةً ولا نشوراً بمن هو النافعُ الضارُّ المعطي المانعُ مالكُ الملكِ والمتصرِّفُ فيه بجميع أنواع التصريف.
{إنَّ الله لَقَوِيٌ عزيزٌ}؛ أي: كامل القوة، كامل العزَّة، من كمال قوَّتِهِ وعزَّتِهِ: أنَّ نواصي الخلق بيديه، وأنَّه لا يتحرَّك متحرِّكٌ ولا يسكُنُ ساكنٌ إلاَّ بإرادتِهِ ومشيئتِهِ؛ فما شاء الله كان، وما لم يشأ لم يكن، ومن كمال قوَّتِهِ: أنه يمسِكُ السماواتِ والأرضَ أن تزولا، ومن كمال قوَّته: أنه يبعثُ الخلق كلَّهم، أوَّلهم وآخرهم بصيحةٍ واحدةٍ، ومن كمال قوَّته أنَّه أهلك الجبابرة والأمم العاتية بشيء يسيرٍ وسوطٍ من عذابه.