رسول اللہ کا منصب اور آپ کی دعوت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی مخلوق کو اللہ تعالیٰ کے اذن (حکم) سے اس کی طرف دعوت دی، امت کو قرآن بیان کرتا ہے:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا ﴿٤٥﴾ وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُّنِيرًا ﴿٤٦﴾
”اے نبی! ہم نے تمہیں بھیجا ہے گواہ بنا کر، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر، اللہ کی اجازت سے اس کی طرف دعوت دینے والا بنا کر اور روشن چراغ۔“
(33-الأحزاب:45-46)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف غیر اللہ کی طرف بلاتا ہے اور جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتا ہے وہ اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے۔ لفظ باذنہ سے احکام الہی مراد ہے۔ ارشاد اچھی ہے۔
قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي ۖ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿١٠٨﴾
”تم ان سے صاف کہہ دو کہ میرا راستہ تو یہ ہے کہ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھی بھی۔“
(12-يوسف:108)