ترجمہ و تفسیر — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 9

وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَلٰی صَلَوٰتِہِمۡ یُحَافِظُوۡنَ ۘ﴿۹﴾
اور وہی جو اپنی نمازوں کی خوب حفاظت کرتے ہیں۔ En
اور جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں
En
جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9) ➊ { وَ الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ:} فلاح پانے والے مومنوں کی پہلی صفت نماز میں خشوع بیان فرمائی اور دوسرے اوصاف بیان کرنے کے بعد آخر میں پھر نماز ہی سے تعلق رکھنے والی ایک صفت بیان فرمائی کہ وہ اپنی نمازوں کی خوب حفاظت کیا کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نماز کی کس قدر اہمیت ہے۔
➋ { يُحَافِظُوْنَ } باب مفاعلہ سے مبالغے کے لیے ہے، کیونکہ یہاں مقابلے کا معنی مراد نہیں ہو سکتا۔ {يَحْفَظُوْنَ} حفاظت کرتے ہیں اور { يُحَافِظُوْنَ } خوب حفاظت کرتے ہیں۔ محافظت سے مراد نماز ہمیشہ ادا کرنا اور ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا ہے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! کون سا عمل اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلصَّلَاةُ عَلٰی وَقْتِهَا] نماز اس کے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے کہا: پھر کون سا عمل؟ فرمایا: والدین سے حسن سلوک۔ میں نے کہا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ۔ [بخاري، مواقیت الصلاۃ، باب فضل الصلاۃ لوقتھا: ۵۲۷۔ مسلم: ۸۵] مستدرک حاکم (۱؍۱۸۸، ح: ۶۷۴) میں ہے: [اَلصَّلَاةُ فِيْ أَوَّلِ وَقْتِهَا] نماز اس کے اول وقت میں ادا کرنا۔ حاکم نے فرمایا، یہ لفظ دو ثقہ راویوں بندار بن بشار اور حسن بن مکرم کی روایت سے ثابت ہیں، جو ان دونوں نے عثمان بن عمرو سے روایت کی ہے اور یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے، جب کہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

9-1آخر میں پھر نمازوں کی حفاظت کو فلاح کے لئے ضروری قرار دیا، جس سے نماز کی اہمیت و فضیلت واضح ہے۔ لیکن آج مسلمان کے نزدیک دوسرے اعمال صالح کی طرح اس کی بھی کوئی اہمیت سرے سے باقی نہیں رہ گئی ہے۔ فانا للہ وان الیہ راجعون

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ اور اپنی نمازوں [9] پر محافظت کرتے ہیں۔
[9] ایمان لا کر کامیاب ہونے کی صفات کی ابتداء بھی نماز سے کی گئی اور اختتام بھی نماز پر ہوا۔ اس سے نماز کی دوسرے خصائل پر اہمیت اور فضیلت معلوم ہوئی۔ پہلی آیت میں نماز میں خشوع کا ذکر تھا۔ اور اس آخری آیت میں سب نمازوں کی حفاظت کا ذکر ہے۔ حفاظت سے مراد نمازوں کو مقر رہ اوقات پر بروقت ادا کرنا اور ہمیشہ ادا کرنا۔ تسلی سے نماز ادا کرنا اور اس کے پورے ارکان بجا لانا یعنی جسم کا، کپڑوں کا اور جگہ کا پاک ہونا پھر وضو اور طہارت پوری طرح کرنا وغیرہ وغیرہ سب کچھ شامل ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَالَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ یعنی وہ نمازوں کو ہمیشہ ان کے اوقات میں، ان کی حدود، شرائط اور ارکان کی کامل رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے خشوع اور نماز کی حفاظت، دونوں باتوں کی بنا پر ان کی مدح و ستائش کی ہے کیونکہ ان کا معاملہ ان دونوں امور کے بغیر تکمیل نہیں پاتا۔ پس جو شخص نماز پر مداومت تو کرتا ہے مگر بغیر خشوع کے نماز پڑھتا ہے یا وہ کامل خشوع کے ساتھ تو نماز پڑھتا ہے مگر اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ ناقص اور مذموم ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والذين هم على صَلَواتهم يحافِظونَ}؛ أي: يداومون عليها في أوقاتها وحدودها وأشراطها وأركانها؛ فمدحهم بالخشوع بالصلاة وبالمحافظة عليها، لأنَّه لا يتمُّ أمرُهم إلاَّ بالأمرين؛ فمن يداوِمُ على الصلاة من غير خُشوع أو على الخُشوع من دون محافظةٍ عليها؛ فإنَّه مذمومٌ ناقصٌ.