قبر پر سلام کہنے کا جواب اور متعلقہ روایات کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

قبر مبارک پر سلام کہنے والے کو جواب ملتا ہے

بعض صحابہ جیسے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی سفر سے واپس مدینہ منورہ پہنچتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کہتے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کا معمول تو یہ بھی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تو سلام عرض کرتے اور پھر مسجد سے نکل جاتے، ہر نماز کے وقت ایسا نہ کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جو شخص سلام کہتا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا جواب دیتے۔ اور اب بھی جو شخص قبر مکرم کے قریب جا کر سلام عرض کرتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا جواب دیتے ہیں۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اسی طرح سلام عرض کرتے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں کہا کرتے تھے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ان الفاظ میں سلام عرض کیا کرتے تھے:
السلام على النبى ورحمة الله وبركاته
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔“

ہر مؤمن کو قبر پر سلام کہنے سے جواب ملتا ہے

تمام مومنوں کی قبروں پر جا کر سلام کہنا تو عام ہے۔ البتہ جو شخص ایسے انسان کی قبر کے پاس آتا ہے جسے وہ زندگی میں جانتا تھا اور اس کو سلام کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ مرنے والے کی روح کو اس کے جسم میں لوٹا دیتا ہے جس سے وہ سلام کہنے والے کو جواب دیتا ہے۔
(أخرجه ابن عبد البر فى التمهيد والاستذكار 185/1، كما فى شرح الصدور للسيوطى ص: 202، وقال الحافظ ابن رجب: خرجه ابن عبد البر وقال عبد الحق الإشبيلى: إسناده صحيح، يشير إلى أن رواته كلهم ثقات وهو كذلك إلا أنه غريب بل منكر أهوال القبور: 141، وانظر أيضا تاريخ دمشق لابن عساكر 249/10، وميزان الاعتدال للذهبى 525/2)
یہ روایت ضعیف ہے، اس کی سند میں عبدالرحمن بن زید متروک راوی ہے اور یہ اپنے باپ سے موضوع روایات بیان کرتا ہے جیسا کہ امام حاکم نے المدخل صفحہ 104 میں ذکر کیا ہے۔ اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے سلسلة الاحاديث الضعيفة والموضوعة رقم 3493 میں ذکر کیا ہے۔ عبد الحق اشبیلی کا اس کی سند کو صحیح قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ نے اس بات کا رد کیا ہے اور اسے منکر قرار دیا ہے۔ (مبشر احمد ربانی)

پس ثابت ہوا کہ جب مؤمن کی قبر پر سلام کہنے سے اس کی روح واپس لوٹ آتی ہے اور وہ جواب دیتا ہے تو امام الانبیاء اور افضل الخلق بالاولىٰ جواب دیتے ہیں۔