نماز چاشت کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین چیزوں کی وصیت فرمائی:
صيام ثلاثة أيام من كل شهر، وركعتي الضحى، وأن أوتر قبل أن أنام
”ہر ماہ کے تین روزے، چاشت کی دو رکعتوں کی، اور یہ کہ میں سونے سے پہلے وتر پڑھ لوں“۔
بخاري، كتاب الجمعة 1178۔ مسلم، کتاب صلوة المسافرين وقصرها 721۔
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور جس قدر اللہ چاہتا مزید بھی پڑھ لیتے تھے۔
مسلم 719۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من حافظ على شفعة الضحى غفرت ذنوبه وإن كانت مثل زبد البحر
”جس شخص نے چاشت کی دو رکعتوں کی حفاظت کی اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں“۔
ترمذى، كتاب الصلوة 476۔ یہ روایت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں النہاس بن قہم ضعیف ہے۔ التقريب 7188۔
④ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صلى الضحى ثنتي عشرة ركعة بنى الله له قصرا من ذهب فى الجنة
”جو شخص چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھتا ہے تو اللہ اس کے لیے جنت میں سونے کا محل تعمیر کر دیتا ہے“۔
ترمذی، کتاب الصلوة 473۔ یہ روایت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہے اور وعن سے روایت کرتا ہے۔
وضو کے بعد نماز تحیۃ الوضوء پڑھنے کی فضیلت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يا بلال حدثني بأرجى عمل عملته عندك فى الإسلام فإني سمعت خشف نعليك بين يدي فى الجنة؟
”اے بلال! مجھے اس عمل کے بارے میں بتاؤ جو تم نے اسلام میں کیا ہو جس سے تم سب سے زیادہ پُر امید ہو، اس لیے کہ میں نے جنت میں اپنے آگے آگے تمہارے جوتوں کی آواز سنی ہے؟“
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اسلام میں جو عمل کیا ہے اور جس سے میں سب سے زیادہ پُر امید ہوں وہ یہ ہے کہ میں دن یا رات کے کسی بھی وقت وضو کرتا ہوں تو اس وضو کے بعد جس قدر اللہ نے میرے مقدر کیا ہوتا ہے نماز پڑھتا ہوں۔
بخارى، كتاب الجمعة 1149۔ مسلم، فضائل الصحابه 2458۔
نماز میں اطمینان وسکون اختیار کرنا
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو ایک آدمی آیا اس نے نماز پڑھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیا اور فرمایا:
ارجع فصل فإنك لم تصل
”واپس جاؤ نماز پڑھو اس لیے کہ تم نے نماز نہیں پڑھی“۔
پس وہ واپس گیا اور جیسے پہلے نماز پڑھی تھی ویسے ہی نماز پڑھی۔ پھر حاضر ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب دیا اور فرمایا:
ارجع فصل فإنك لم تصل
”واپس جاؤ اور نماز پڑھو اس لیے کہ تم نے نماز نہیں پڑھی“۔
تین دفعہ ایسے ہوا تو وہ آدمی عرض کرتا ہے: اس ذات کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا میں اس سے بہتر نہیں پڑھ سکتا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے سکھا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا قمت إلى الصلاة فكبر ثم اقرأ ما تيسر معك من القرآن، ثم اركع حتى تطمئن راكعا، ثم ارفع حتى تعدل قائما، ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا، ثم ارفع حتى تطمئن جالسا، وافعل ذلك فى صلاتك كلها
”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو تکبیر (اللہ اکبر) کہو، پھر جو قرآن یاد ہو اس سے پڑھو، پھر رکوع کرو حتیٰ کہ رکوع میں اطمینان ہو، پھر اٹھو حتیٰ کہ تم صحیح طرح کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو حتیٰ کہ تم اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو، پھر اٹھو حتیٰ کہ تم اطمینان کے ساتھ بیٹھ جاؤ اور اپنی پوری نماز اسی طرح ادا کرو“۔
بخاری، کتاب الاذان 793۔ مسلم كتاب الصلوة 397 / 42،45۔ ابوداؤد، کتاب الصلوة 856۔
فوت شدہ نماز کی ادائیگی کے احکام
① سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من نسي صلاة فليصلها إذا ذكرها، لا كفارة لها إلا ذلك
”جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے، اس کے سوا اس پر کوئی کفارہ نہیں“۔
سیدنا قتادہ رحمہ اللہ نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ ”میری یاد کے لیے نماز قائم کرو“۔
بخارى، كتاب مواقيت الصلوة 597۔ مسلم كتاب المساجد و مواضع الصلوة 684۔ ابوداؤد، كتاب الصلوة 442۔
② سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا رقد أحدكم عن الصلاة أو غفل عنها فليصلها إذا ذكرها فإن الله عز وجل يقول: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾
”جب تم میں سے کوئی شخص نیند یا بھول جانے کی وجہ سے نماز نہ پڑھے تو جب اسے یاد آئے اسے پڑھ لے۔ اس لیے کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: میری یاد کے لیے نماز قائم کرو“۔
بخارى، كتاب مواقيت الصلوة 597۔ مسلم كتاب المساجد و مواضع الصلوة 684۔ ابوداؤد، کتاب الصلية 442۔