اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کسی سے ملاقات کرنے کا اجر
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن رجلا زار أخا له فى قرية أخرى، فأرصد الله تعالى على مدرجته ملكا، فلما أتى عليه قال: أين تريد؟ قال: أريد أخا لي فى هذه القرية، قال: هل لك عليه من نعمة تربها؟ قال: لا، غير أني أحببته فى الله تعالى، قال: فإني رسول الله إليك بأن الله قد أحبك كما أحببته فيه.
ایک آدمی اپنے کسی (مسلمان) بھائی کی زیارت (ملاقات) کے لیے دوسری بستی میں جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی راہ میں ایک فرشتے کو نگرانی کے لیے مقرر کر دیتا ہے۔ پس جب یہ آدمی اس (فرشتے) کے پاس پہنچتا ہے تو وہ پوچھتا ہے: کہاں کا ارادہ ہے؟ وہ آدمی کہتا ہے: میں اس بستی میں اپنے (مسلمان) بھائی سے ملنے جا رہا ہوں۔ وہ فرشتہ پوچھتا ہے: کیا اس کا تجھ پر کوئی احسان ہے جس کا تو بدلہ چکانا چاہتا ہے؟ وہ کہتا ہے: نہیں! میں صرف اللہ کی رضا کی خاطر اس سے محبت کرتا ہوں۔ وہ فرشتہ کہتا ہے: میں تیری طرف اللہ کا قاصد بن کر آیا ہوں کہ جس طرح تو اللہ کی رضا کی خاطر اس سے محبت کرتا ہے، ویسے ہی اللہ تجھ سے محبت کرتا ہے۔
مسلم، کتاب البر والصلة والآداب 2567، مسند احمد، باقی مسند المکثرین 2/ 292۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من عاد مريضا أو زار أخا فى الله، ناداه مناد: بأن طبت وطاب ممشاك، وتبوأت من الجنة منزلا.
جو شخص اللہ کی رضا کی خاطر کسی مریض کی عیادت کرتا ہے یا کسی (مسلمان) سے ملاقات کے لیے جاتا ہے تو پکارنے والا اسے پکارتا ہے کہ تیرے لیے خوشخبری ہو، تیرا چلنا بھی مبارک ہو اور تو نے جنت میں اپنا ایک گھر بنا لیا۔
ترمذی، کتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم 2076، ابن ماجه، کتاب ما جاء في الجنائز 1443، روایت حسن ہے۔
اللہ تعالیٰ کی خاطر بھائی چارہ قائم کرنا
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین اخوت کا رشتہ قائم کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ روتے ہوئے کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین اخوت، بھائی چارے کا رشتہ قائم کیا، لیکن مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا۔ راوی بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
أنت أخي فى الدنيا والآخرة.
”تم دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو“۔
الترمذی، کتاب المناقب، حدیث 3720، المستدرک للحاکم 3/ 14، تاریخ ابن عساکر 42/ 51، 52۔
تکلیف برداشت کرنے کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میرے کچھ رشتے دار ہیں، میں ان سے تعلقات قائم کرنا چاہتا ہوں اور وہ مجھ سے قطع تعلق کرتے ہیں۔ میں ان سے حسنِ سلوک سے پیش آتا ہوں اور وہ مجھ سے برا سلوک کرتے ہیں، اور میں ان کے ساتھ حلم و بردباری کے ساتھ پیش آتا ہوں اور وہ میرے ساتھ اجڑ پن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لئن كنت كما قلت فكأنما تسفهم المل، ولا يزال معك من الله ظهير عليهم ما دمت على ذلك.
”اگر تم ایسے ہی ہو جیسے تم نے بیان کیا ہے تو پھر تم تو گویا انہیں گرم راکھ کھلا رہے ہو۔ جب تک تمہارا یہی سلوک رہے گا تو اللہ کی طرف سے ان کے خلاف ایک مددگار تمہارے ساتھ رہے گا“۔
مسلم، کتاب البر، حدیث 2558 / 22۔
اطمینان و وقار کے ساتھ رہنا
① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشج عبدالقیس سے فرمایا:
إن فيك خصلتين يحبهما الله: الحلم والأناة.
”تم میں دو خصلتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے: بردباری اور وقار و اطمینان“۔
مسلم، کتاب الایمان، حدیث 25 / 27۔