قرآن کی روشنی میں کفار کی دنیاوی شان و شوکت کی حقیقت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد اقبال کیلانی کی کتاب "الولاء والبراء” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

زینۃ حیاۃ الکفار فی ضوء القرآن

کافروں کی دنیاوی شان و شوکت قرآن مجید کی روشنی میں

کافروں کو دنیا میں عددی اکثریت اور مادی ترقی دینے کا مقصد انہیں دنیا اور آخرت میں مبتلائے عذاب کرنا ہے۔

[فَلَا تُعۡجِبۡکَ اَمۡوَالُہُمۡ وَ لَاۤ اَوۡلَادُہُمۡ ؕ اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمۡ بِہَا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ تَزۡہَقَ اَنۡفُسُہُمۡ وَ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ] اے نبی! کافروں کے مال اور اولاد تجھے کسی دھوکے میں مبتلانہ کرنے پائیں (اس لئے کہ) اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اسی مال کے ذریعہ انہیں دنیا کی زندگی میں مبتلائے عذاب کرے اور جب جان دیں تو حالت کفر میں ہی دیں (تاکہ آخرت میں بھی مبتلائے عذاب ہوں) (سورۃ التوبہ:55)

کفار کے بعض اچھے اعمال کے صلہ میں اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں مال و دولت،شان و شوکت، عیش و آرام مہیا فرمادیتے ہیں تاکہ آخرت میں وہ سیدھے جہنم میں جائیں۔

[وَ یَوۡمَ یُعۡرَضُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا عَلَی النَّارِ ؕ اَذۡہَبۡتُمۡ طَیِّبٰتِکُمۡ فِیۡ حَیَاتِکُمُ الدُّنۡیَا وَ اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِہَا ۚ فَالۡیَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡہُوۡنِ بِمَا کُنۡتُمۡ تَسۡتَکۡبِرُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَفۡسُقُوۡنَ]

اور جس روز کافر آگ کے سامنے لا کھڑے کئے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا تم اپنے حصے کی نعمتیں دنیا کی زندگی میں لے چکے اور ان کا لطف اٹھا چکے آج تمہیں رسوا کن عذاب دیا جائے گا اس تکبر کی وجہ سے جو تم نے ناحق زمین میں کیا او رجو نافرمانیاں کرتے رہے۔ (سورۃ الاحقاف:20)

کفار کو دنیا میں زیادہ سے زیادہ نعمتیں دینے کا مقصد ان کے گناہوں میں اضافہ کرنا اور پھر آخرت میں رُسوا کن عذاب دینا ہے۔

[وَ لَا یَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّمَا نُمۡلِیۡ لَہُمۡ خَیۡرٌ لِّاَنۡفُسِہِمۡ ؕ اِنَّمَا نُمۡلِیۡ لَہُمۡ لِیَزۡدَادُوۡۤا اِثۡمًا ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ]

یہ ڈھیل جو ہم کافروں کو دے رہے ہیں اسے یہ اپنے لئے بہتر نہ سمجھیں ہم انہیں ڈھیل اس لئے دے رہے ہیں تاکہ یہ اپنے گناہوں میں اضافہ کرتے رہیں پھر ان کے لئے سخت رسوا کن عذاب ہوگا۔ (سورۃ آل عمران:178)

کافروں کی دنیاوی شان و شوکت اور آن بان بالکل عارضی اور حقیر ہے جس کے بعد انہیں جہنم کا ابدی عذاب ملے گا۔

[لَا یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِی الۡبِلَادِ]،[مَتَاعٌ قَلِیۡلٌ ثُمَّ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمِہَادُ]

اے نبی! دنیا کے ملکوں میں کافروں کی چلت پھرت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے یہ دنیا کی زندگی کا مزہ بہت ہی تھوڑا ہے (اس کے بعد) یہ لوگ جہنم میں جائیں گے جو کہ بدترین ٹھکانہ ہے۔ (سورۃ آل عمران:196-196)

وضاحت:

یاد رہے ایمان کے ساتھ مادی ترقی معیوب نہیں بلکہ مطلوب ہے لیکن کفر کے ساتھ مادی ترقی باعث عذاب و عقاب ہے۔

اہلِ ایمان کے لئے کفار کا مال، دولت اور سامان عیش و عشرت قطعاً قابل رشک نہیں ہونا چاہئے۔

دنیا کا مال، دولت اور شان و شوکت اللہ تعالیٰ نے کافروں کو آزمائش میں ڈالنے کے لئے دے رکھا ہے۔

[وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ اِلٰی مَا مَتَّعۡنَا بِہٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡہُمۡ زَہۡرَۃَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۙ لِنَفۡتِنَہُمۡ فِیۡہِ ؕ وَ رِزۡقُ رَبِّکَ خَیۡرٌ وَّ اَبۡقٰی]

اے محمد! دنیوی زندگی کی اس شان و شوکت کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھو جو ہم نے کفار میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے وہ تو ہم نے انہیں محض آزمائش میں ڈالنے کے لئے دی ہے۔ تیرے رب کا دیا ہوا رزق (حلال) ہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ (سورۃ طٰہٰ:131)

کفار کے مال و دولت اور سیم وزر کی چمک دمک دیکھ کر مسلمانوں کے کفر میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ کافروں کے گھروں کی چھتیں، سیڑھیاں، دروازے اور مسندیں وغیرہ سب کچھ سونے اورچاندی کے بنا دیتے۔

[وَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ یَّکُوۡنَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً لَّجَعَلۡنَا لِمَنۡ یَّکۡفُرُ بِالرَّحۡمٰنِ لِبُیُوۡتِہِمۡ سُقُفًا مِّنۡ فِضَّۃٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیۡہَا یَظۡہَرُوۡنَ]،[وَ لِبُیُوۡتِہِمۡ اَبۡوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیۡہَا یَتَّکِـُٔوۡنَ]،[وَ زُخۡرُفًا ؕ وَ اِنۡ کُلُّ ذٰلِکَ لَمَّا مَتَاعُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَ الۡاٰخِرَۃُ عِنۡدَ رَبِّکَ لِلۡمُتَّقِیۡنَ]

اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سارے لوگ ایک ہی طریقہ (کفر) پر چل پڑیں گے تو ہم رحمن سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں اور ان کی سیڑھیاں جن کے ذریعے وہ اپنے بالا خانوں پر چڑھتے ہیں اور ان کے دروازے اور ان کی وہ مسندیں جن پر وہ تکئے لگا کر بیٹھتے ہیں سب کچھ چاندی اور سونے کے بنوا دیتے یہ (سونا چاندی تو) محض دنیا کی متاع ہے اور آخرت تیرے رب کے ہاں صرف متقین کے لئے ہے۔ (سورۃ الزخرف:33-35)

وضاحت:

کفار کی سائنسی ترقی اور دیناوی شان و شوکت سے مرعوب ہمارے دینی اور سیاسی راہنماؤں نے مسلمانوں کو بڑے بڑے فتنوں سے دوچار کیا ہے۔ برصغیر ہند و پاک میں فتنہ انکار حدیث کی بنیاد ایسے ہی حضرات کی رکھی ہوئی ہے۔ آج بھی کفار کی ٹیکنالوجی اور مادی ترقی سے مرعوب مسلمان حکمران ہی امت مسلمہ کو ذلت اور پستی سے دوچار کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ کفار کی اس مادی ترقی اور دنیاوی شان و شوکت کی اصل حقیقت واضح کرنے کے لئے باب ہذا اس حصہ میں شامل کیا گیا ہے۔