کبیرہ گناہوں سے اجتناب
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الصلوات الخمس، والجمعة إلى الجمعة، ورمضان إلى رمضان، مكفرات لما بينهن إذا اجتنبت الكبائر.
پانچوں نمازیں جمعے سے جمعے تک، اور رمضان دوسرے رمضان تک اپنے دوران والے گناہوں کا کفارہ ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے۔
مسلم، کتاب الطهارة، حدیث 233 / 14۔
② سیدنا ابو سعید اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا تو فرمایا:
والذي نفسي بيده (ثلاث مرات).
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا)“۔
پھر ہم میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا، وہ رو رہا تھا اور معلوم نہیں ہو سکا کہ اس نے کس چیز پر حلف اٹھایا؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر خوش خبری کے اثرات تھے، اور یہ چیز ہمیں سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب و پسندیدہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من عبد يصلي الصلوات الخمس، ويصوم رمضان، ويخرج الزكاة، ويجتنب الكبائر السبع، إلا فتحت له أبواب الجنة، وقيل له: ادخل بسلام.
”جو شخص پانچوں نمازیں پڑھتا ہے، رمضان کے روزے رکھتا ہے، زکوۃ ادا کرتا ہے اور سات کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہے تو اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور اسے کہا جائے گا: سلامتی کے ساتھ اس میں داخل ہو جاؤ“۔
النسائی، کتاب الزکاة، 5/6-7، باب وجوب الزکاة.
شر سے بچنے کے متعلق احکامات
① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا:
بئس أخو العشيرة – أو بئس ابن العشيرة.
”قبیلے کا برا بھائی یا قبیلے کا برا بیٹا“۔
پس جب وہ (آ کر) بیٹھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خندہ پیشانی کے ساتھ اس سے پیش آئے۔ پس جب وہ آدمی چلا گیا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اس اس طرح کہا تھا، اور پھر آپ خندہ پیشانی کے ساتھ اس سے پیش آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يا عائشة، متى عهدتني فحاشا؟ إن من شر الناس عند الله منزلة يوم القيامة من تركه الناس اتقاء شره.
”اے عائشہ رضی اللہ عنہا! آپ نے مجھے کب فحش گو پایا ہے؟ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے روز مقام و منزلت کے لحاظ سے وہ لوگ بدترین ہوں گے جن کے شر سے بچنے کے لیے لوگ ان سے کنارہ کش ہو جائیں“۔
اسے امام نسائی کے علاوہ محدثین کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے۔ بخاری، کتاب الادب، حدیث 6032، 6054۔
ابوداؤد (4791) کی روایت میں ہے:
إن من شرار الناس الذين يكرمون اتقاء ألسنتهم.
”وہ لوگ بدترین ہیں جن کے شر سے بچنے کے لیے ان کی تکریم کی جاتی ہے“۔
والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی:
”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أمك
”تیری ماں“۔
اس نے عرض کیا: ”پھر کون؟“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثم أمك
”پھر تیری ماں“۔
اس نے عرض کی: ”پھر کون؟“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثم أمك
”پھر تیری ماں“۔
اس نے عرض کی: ”پھر کون؟“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أبوك
”تیرا باپ“۔
بخاری، کتاب الادب، باب من احق الناس بحسن الصحبة 5971، مسلم، ایضاً، کتاب البر والصلة والادب 2548۔
② سیدنا ابو اسید مالک بن ربیعہ الساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ بنو سلمہ کا ایک آدمی آیا، اس نے عرض کی:
”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا میرے والدین کی وفات کے بعد نیکی کی کوئی صورت باقی رہ جاتی ہے کہ میں ان کے ساتھ نیکی کر سکوں؟“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نعم، الصلاة عليهما، والإستغفار لهما، وإنفاذ عهدهما من بعدهما، وصلة الرحم التى لا توصل إلا بهما، وإكرام صديقهما.
”ہاں! ان کے لیے دعا، ان کے لیے مغفرت طلب کرنا، ان کے بعد ان کے وعدوں کو پورا کرنا، وہ جو صلہ رحمی کیا کرتے تھے اسے جاری رکھنا اور ان کے دوستوں کی عزت کرنا“۔
ابوداؤد، کتاب الادب، باب في بر الوالدین 5142، یہ روایت ضعیف ہے، اس کی سند میں علی بن عبید مجہول راوی ہے۔
③ کلیب بن منفعہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! نیکی کا زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أمك وأباك وأختك وأخاك ومولاك الذى يلي ذلك حقا واجبا ورحما موصولة.
”تیری ماں، تیرا باپ، تیری بہن، تیرا بھائی اور تیرا غلام جو اس کے قریب ہے۔ یہ حق واجب اور رحم موصولہ ہے“۔
ابوداؤد، کتاب الادب، باب في بر الوالدین 514، یہ روایت ضعیف ہے، اس کی سند میں کلیب بن منفعہ مستور ہے۔
④ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
رضى الرب فى رضى الوالدين، وسخط الرب فى سخط الوالدين.
”رب تعالیٰ کی رضامندی والدین کی رضامندی میں ہے اور رب تعالیٰ کی ناراضی والدین کی ناراضی میں ہے“۔
الترمذی، کتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب ما جاء من الفضل في رضا الوالدین 1899، ابن حبان 430۔
⑤ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کی:
”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مجھ سے بہت بڑا گناہ سرزد ہو گیا ہے، کیا میرے لیے توبہ کی گنجائش ہے؟“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
هل لك من أم؟
”کیا تمہاری والدہ ہے؟“
اس نے کہا: ”نہیں۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فهل لك من خالة؟
”کیا تمہاری خالہ ہے؟“
اس نے عرض کی: ”جی ہاں!“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فبرها
”اس کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آؤ“۔
ترمذی، کتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم 1904، ابن حبان 436، حدیث صحیح ہے۔
⑥ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من عال جاريتين حتى يبلغا جاء يوم القيامة أنا وهو وضم أصابعه.
”جس شخص نے دو بچیوں کی کفالت کی حتیٰ کہ وہ بالغ ہو گئیں تو یہ شخص روزِ قیامت اس طرح آئے گا کہ میں اور وہ اس طرح ہوں گے (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ملائیں)“۔
مسلم، کتاب البر والصلة 2631، ترمذی، کتاب البر والصلة 1914۔
⑦ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من كانت له ثلاث بنات أو ثلاث أخوات أو ابنتان أو أختان فأحسن صحبتهن واتقى الله فيهن فله الجنة.
”جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں یا تین بہنیں یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں، وہ ان سے اچھا سلوک کرے اور ان کے حقوق کے بارے میں اللہ سے ڈرے تو اس کے لیے جنت ہے“۔
ترمذی، کتاب البر والصلة 1916، ابوداؤد، کتاب الادب 5147، امام ترمذی نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا: یہ حدیث غریب ہے یعنی ضعیف ہے، اس کے ضعف کی وجہ سے اس کی سند میں بہت اختلاف واقع ہوا ہے۔
⑧ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خيركم خيركم لأهله وأنا خيركم لأهلي وإذا مات صاحبكم فدعوه.
”تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہے اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سے بہتر ہوں۔ جب تمہارا ساتھی فوت ہو جائے تو اس کے لیے دعا کرو“۔
ترمذی، کتاب البر والصلة 3895، ابن حبان 4165۔
والدین پر شفقت کرنے کے متعلق احکامات
① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثلاث من كن فيه نشر الله عليه كنفه، وأدخله جنته: رفق بالضعيف، والشفقة على الوالدين، والإحسان إلى المملوك.
”جس شخص میں تین چیزیں ہوں اللہ اس پر اپنی رحمت عام کر دیتا ہے اور اس کو اپنی جنت میں داخل فرمائے گا: ضعیف و ناتواں کے ساتھ نرمی کرنا، والدین پر شفقت کرنا، اور غلاموں کے ساتھ احسان کرنا“۔
ترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله 2494، امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔