عبادت میں اعتدال، رات کا قیام، قیام اللیل اور قیام رمضان کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

كتاب التهجد والتراويح

عبادت میں اعتدال

① سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد میں) تشریف لائے تو دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹک رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما هذا الحبل؟
”یہ رسی کیسی ہے؟“
لوگوں نے عرض کیا: یہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی (لٹکائی ہوئی) ہے۔ جب وہ (نماز میں کھڑے کھڑے) تھک جاتی ہیں تو اس سے لٹک جاتی ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
حلوه، ليصل أحدكم نشاطه فإذا فتر فليرقد
”نہیں! اسے کھول دو، تم میں ہر شخص نشاطِ طبع تک نماز پڑھے، پس جب تھک جائے تو سو جائے“۔
بخاری، کتاب الجمعہ 1150۔ ابو داؤد، کتاب الصلوۃ 1312۔
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا نعس أحدكم وهو يصلي فليرقد حتى يذهب عنه النوم فإن أحدكم إذا صلى وهو ناعس لا يدري لعله يذهب يستغفر فيسب نفسه
”جب تم میں سے کسی کو نماز پڑھتے ہوئے اونگھ وغیرہ آئے تو اسے سو جانا چاہیے۔ حتیٰ کہ اس سے نیند جاتی رہے، اس لیے کہ جب تم میں سے کوئی نیند کی حالت میں نماز پڑھتا ہے تو اسے پتا نہیں چلتا کہ وہ اپنے لیے مغفرت طلب کر رہا ہے یا اپنے آپ کو برا بھلا کہہ رہا ہے“۔
بخاری، کتاب الوضوء 212۔ مسلم، کتاب صلوۃ المسافرین و قصرہا 786۔ ابو داؤد، کتاب الصلوۃ 1310۔

رات کا قیام

① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اس قدر قیام فرماتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم سوج جاتے، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں جبکہ اللہ نے آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أفلا أكون عبدا شكورا
”کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں“۔
بخاری، کتاب تفسیر القرآن 4837۔ مسلم، صلوۃ المسافرین وقصرہا 2820۔

قیام اللیل سے متعلق احکامات

① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد میں اس قدر قیام فرماتے کہ آپ کے پاؤں پر ورم آ جاتا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ اس طرح کیوں کرتے ہیں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف ہو چکے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أفلا أكون عبدا شكورا
”کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں“۔
بخاری، تفسیر القرآن 4837۔ مسلم، کتاب صلوۃ المسافرین وقصرہا 2820۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يعقد الشيطان على قافية رأس أحدكم إذا هو نام ثلاث عقد يضرب على مكان كل عقدة عليك ليل طويل فارقد فإن استيقظ فذكر الله تعالى انحلت عقدة فإن توضأ انحلت عقدة فإن صلى انحلت عقدة فأصبح نشيطا طيب النفس وإلا أصبح خبيث النفس كسلان
”جب تم میں سے کوئی رات کے وقت سو جاتا ہے تو شیطان اس کی گدی پر تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ افسوں پھونک دیتا ہے کہ ابھی تو بہت رات ہے سو جاؤ۔ پھر اگر آدمی بیدار ہو جائے اور اللہ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر اگر وضو کرے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، اور اس کے بعد اگر نماز پڑھ لے تو پھر تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے، اور وہ نشاط اور دل شاد انداز میں صبح کا آغاز کرتا ہے۔ ورنہ خبیث النفس اور کاہلی و سستی کے انداز میں صبح کا آغاز کرتا ہے“۔
بخاری، کتاب الجمعہ 1142۔ مسلم، کتاب صلوۃ المسافرین وقصرہا 1776۔ ابو داؤد، کتاب الصلوۃ 1306۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أفضل الصيام بعد رمضان شهر الله المحرم وأفضل الصلاة بعد الفريضة صلاة الليل
”رمضان کے بعد اللہ کے مہینے محرم کا روزہ افضل روزہ ہے اور فرض نماز کے بعد نمازِ تہجد افضل نماز ہے“۔
مسلم، کتاب الصیام 1163۔ ابو داؤد، کتاب الصوم 2429۔ ترمذی، کتاب الصوم 438۔
④ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
رحم الله رجلا قام من الليل فصلى وأيقظ امرأته فإن أبت نضح فى وجهها الماء ورحم الله_ امرأة قامت| من الليل فصلت وأيقظت زوجها فإن أبى نضحت فى وجهه الماء
”اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کے وقت بیدار ہوا اور نمازِ تہجد پڑھی اور اپنی بیوی کو بھی جگایا، اگر وہ انکار کرے تو وہ اس کے چہرے پر پانی چھڑکتا ہے (تاکہ بیدار ہو کر تہجد پڑھے)۔ اللہ اس عورت پر بھی رحم فرمائے جو رات کے وقت بیدار ہوئی تو نمازِ تہجد پڑھی اور اپنے خاوند کو بھی جگایا، اگر وہ انکار کرے تو وہ اس کے چہرے پر پانی چھڑکتی ہے“۔
ابو داؤد، کتاب الصلوۃ 1308، نسائی، قیام اللیل و تطوع النہار 3/ 205۔ ابن ماجہ، اقامۃ الصلوۃ والسنۃ فیہا 1335۔ روایت صحیح ہے۔
⑤ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا استيقظ الرجل أهله من الليل وأيقظ امرأته فصليا أو صلى ركعتين جميعا كتبا من الذاكرين الله كثيرا والذاكرات
”جب آدمی رات کے وقت اپنی اہلیہ کو جگائے اور وہ دونوں نمازِ تہجد پڑھیں یا دونوں دو رکعت نماز اکٹھے ادا کریں تو وہ دونوں کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مردوں اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والی عورتوں کے زمرے میں لکھ لیے جاتے ہیں“۔
ابن ماجہ، اقامۃ الصلوۃ والسنۃ فیہا 1335۔ ابن حبان 2560۔ روایت صحیح ہے۔
⑥ سیدنا بلال اور سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عليكم بقيام الليل فإنه دأب الصالحين قبلكم وإن قيام الليل قربة إلى الله ومنهاة عن الإثم وتكفير للسيئات ومطردة للداء عن الجسد
”نمازِ تہجد کا اہتمام کرو، اس لیے کہ یہ تم سے پہلے صالحین کے معمول میں سے ہے۔ نیز نمازِ تہجد اللہ کی قربت، گناہوں سے روکنے، برائیوں کو مٹانے اور جسم سے بیماریوں کو دور رکھنے کا ذریعہ ہے“۔
ترمذی، کتاب الدعوات 3549۔
⑦ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إن فى الليل لساعة لا يوافقها رجل مسلم يسأل الله تعالى خيرا من أمر الدنيا والآخرة إلا أعطاه إياه وذلك كل ليلة
”رات میں ایک ایسی گھڑی ہے جو کسی مسلمان کو مل جائے اور وہ اس میں اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی بھلائی کا سوال کرے تو وہ اسے وہ بھلائی عطا کر دیتا ہے، اور یہ ہر رات میں ہے“۔
مسلم صلاۃ المسافرین : قصرہا 757۔ مسند احمد، باقی مسند المکثرین 3/ 313۔
⑧ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من امرئ يكون له صلاة بالليل فيغلبه عليها نوم إلا كتب له أجر صلاته وكان نومه عليه صدقة
”اگر کوئی آدمی رات کو نمازِ تہجد پڑھتا ہو لیکن اگر نیند کے غلبے کی وجہ سے وہ نہ پڑھ سکے تو اس کے لیے نماز کا اجر لکھ دیا جاتا ہے اور اس کی نیند اس کے لیے صدقہ ہوگی“۔
ابو داؤد، کتاب الصمود 1314۔ موطا کتاب النداء للصلوۃ 1/ 117۔ مسند احمد، باقی مسند الانصار 6 / 180۔ یہ روایت صحیح ہے۔

قیام رمضان کے احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من قام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
”جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کرے (تراویح پڑھے) تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں“۔
بخاری، کتاب الصوم 1901۔ مسلم، کتاب صلوۃ المسافرین و قصرہا 759۔ ابو داؤد، کتاب الصوم 1372۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی اس حدیث میں یہ اضافہ بھی ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کو قیامِ رمضان کا حکم لازمی قرار دیتے ہوئے دینے کی بجائے، انہیں اس کی ترغیب دلاتے تھے۔
صحیح مسلم 174 ابو داؤد 1371 ترمذی 808۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من يقم ليلة القدر إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
”جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے شبِ قدر کا قیام کرتا ہے تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں“۔
بخاری، کتاب صلوۃ التراویح 2014۔