تعددِ ازواج کا حکم قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

اٹھارہواں شبہ: تعدد ازواج

پرویز صاحب نے کہا ہے: قرآن عام حالات میں صرف ایک بیوی کی اجازت دیتا ہے۔ اگر بیوی سے نباہ کی کوئی صورت باقی نہ رہے تو مرد طلاق کے بعد دوسری شادی کر سکتا ہے، اس کی موجودگی میں نہیں۔ دلیل:
وَإِنْ أَرَدتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنطَارًا
”اور اگر ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لانے کا ارادہ ہو اور تم نے ان میں کسی ایک کو دولت کا ڈھیر بھی دے دیا ہو۔“
(4-النساء:20)
پرویزی ترجمہ: ”اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی سے نکاح کرنا چاہتے ہو تو پہلی بیوی کا مہر پورا پورا ادا کرو اور پھر اس کی جگہ دوسری بیوی لاؤ۔“
اس سے بالکل واضح ہے کہ ایک بیوی کی جگہ دوسری آ سکتی ہے اس کی موجودگی میں نہیں۔
طاہرہ کے نام خطوط ، ص : 313-318 ،وقرآنی فیصلے ص : 147

دوسرا استدلال

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ
”اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم عورتوں کے حق میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان کو چھوڑ کر اور جو تمہیں اچھی لگیں، ان میں سے دو دو، تین تین، چار چار نکاح میں لے آؤ، پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ تم انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی پر اکتفا کرو یا لونڈی پر جو تمہارے قبضے میں ہو۔“
(4-النساء:3)
اس آیت کے پہلے حصے کے متعلق لکھا ہے:
مطلب صاف ہے کہ اگر کسی ہنگامی حالت، مثلاً جنگ کے بعد جب جوان مرد بڑی تعداد میں ضائع ہو چکے ہوں، ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ معاشرہ میں یتیم بچے اور لاوارث جوان عورتیں بغیر شوہروں کے رہ جائیں اس کا کیا علاج کیا جائے، اس ہنگامی صورت سے عہدہ برآ ہونے کے لیے اس کی اجازت دی جاتی ہے کہ تعدد ازواج، یعنی ایک بیوی کے قانون میں عارضی طور پر لچک پیدا کر لی جائے۔
طاہرہ کے نام خطوط ، ص : 315
ان تحریروں سے یہ نتیجہ نکلا کہ یتیموں کی عدم موجودگی میں ایک سے زیادہ عورتوں سے نکاح کی اجازت نہیں۔
پہلی آیت سے ایک بیوی کے ساتھ نکاح پر انحصار کرنے کے لیے پرویز صاحب کی رائے سراسر جہالت پر مبنی ہے کیونکہ آیت میں لفظ إحداهن میں ضمیر جمع مؤنث سے صاف واضح ہوتا ہے کہ اس شخص کے پاس ایک سے زیادہ بیویاں ہیں لیکن وہ ان میں سے کسی ایک کو بدلنا چاہتا ہے۔ اگر آیت میں ایک بیوی کی بات ہوتی تو وہاں واحد مؤنث کی ضمیر ہوتی اور یہ لفظ ہوتا وآتيتم إياها اور تم نے اس ایک بیوی کو خزانہ دیا ہو تو اس آیت سے تو تعدد ازواج کا جواز معلوم ہوتا ہے نہ کہ ممانعت۔
◈ نوٹ: اس آیت میں استبدال (بیوی تبدیل کرنے) کی قید اس وجہ سے بڑھائی گئی کہ جب کوئی شخص اپنی بیویوں میں سے کسی ایک کو اس لیے طلاق دینا چاہتا ہے کہ وہ دوسری شادی کر لے اور وہ دوسری شادی کرنے کے لیے پہلی بیوی کو دیا ہوا مہر واپس لینا چاہتا ہے تو اس صورت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسا کرنا جائز نہیں۔ مہر واپس کرنے کی شدید ممانعت کی وجہ سے استبدال کا لفظ استعمال فرمایا، اس لیے نہیں کہ پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری بیوی لانا جائز نہیں۔ پرویز صاحب کی یہ تفسیر سراسر تحریف معنوی ہے۔
دوسری آیت سے استدلال بھی درست نہیں ہے کیونکہ
➊ مذکورہ آیت سے پہلی آیت میں یتیموں کے مال حرام طریقے سے حاصل کرنے سے منع فرمایا تا کہ وہ ظلم سے بچ جائیں۔ اب اس آیت میں نکاح کے ذریعے سے یتیم لڑکیوں پر ظلم کرنے سے منع فرمایا ہے۔ وہ اس طرح کہ اگر تمہیں یتیم لڑکیوں سے نکاح کر کے ان پر ظلم کرنے کا اندیشہ ہو تو پھر ان کے بجائے دوسری عورتوں سے نکاح کر لو کیونکہ ان عورتوں کے والدین اور سرپرست ہیں، اس لیے تم ان پر ظلم کرنے سے ڈرتے ہو جبکہ یتیم بچیاں بے سہارا ہیں، اس لیے تمہیں ان کے سرپرستوں کی طرف سے کسی قسم کا اندیشہ نہیں، لہذا احتیاط کے طور پر ان سے نکاح کرنے سے بچو۔ یہ تفسیر امام بخاری رحمہ اللہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر یہاں یتیم لڑکیوں سے نکاح کرنا مراد ہوتا تو النساء کی جگہ اليتامىٰ یا اس کی ضمیر منهن ہونی چاہیے تھی لیکن النساء کی صراحت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے غیر یتیم لڑکیاں مراد ہیں۔
➋ پرویز صاحب نے ایک سے زائد بیوی کے لیے یتیموں کی کثرت کو شرط قرار دیا ہے اور اسے ہنگامی حالت کا نام دیا ہے یہ ان کی خود ساختہ شرائط ہیں۔ آیت میں یتیموں کی کثرت کا ذکر ہے نہ ہنگامی حالت کا۔
➌ ہم کہتے ہیں کہ قرآن نے یتیموں کی کثرت کی شرط عائد نہیں کی ہے بلکہ یتیموں کے بارے میں وإن خفتم کے ساتھ انصاف نہ کرنے کے خوف کی شرط عائد کی ہے اور یہ شرط بھی شرط لازم نہیں کیونکہ ہر جگہ شرط لازم نہیں ہوتی، مثلاً فرمان الہی ہے:
وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا
”اور اپنی لونڈیوں کو زنا کاری پر مجبور نہ کرو اگر وہ پاک باز رہنا چاہتی ہیں۔“
(24-النور:33)
اس آیت میں ”اگر وہ پاک باز رہنا چاہتی ہیں“ بالاتفاق شرط لازم نہیں کیونکہ اگر وہ لونڈیاں پاک بازی کا ارادہ نہ بھی رکھتی ہوں تب بھی انہیں زنا پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَٰلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا
”اور اگر وہ اس دوران میں صلح صفائی کرنا چاہیں تو ان کے شوہروں کو انہیں زوجیت میں واپس لینے کا زیادہ حق ہے۔“
(2-البقرة:228)
اس آیت میں اصلاح کی شرط لازم نہیں کیونکہ خاوند رجوع کرنے کا ہر وقت حق دار ہے، خواہ وہ اصلاح کا ارادہ کرے یا نہ کرے۔
اس بنا پر اس آیت سے یہ مراد ہے کہ اگر تمہیں خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں تم انصاف نہیں کر سکو گے تو ان کے علاوہ عورتوں سے نکاح کرو جو تمہیں اچھی لگیں۔ اگر ایک آدمی کو یتیم لڑکیوں کے بارے بے انصافی کا خوف نہ ہو تو اس کے لیے یتیم اور غیر یتیم عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت بطریق اولیٰ ہے۔

تعدد ازواج کے اثبات پر قرآنی دلائل

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعدد ازواج قرآن کریم کی بیشتر آیات سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ
”مومنوں پر نبی ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتا ہے، اور اس کی بیویاں ان (مومنوں) کی مائیں ہیں۔“
(33-الأحزاب:6)
نیز فرمایا:
وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِن بَعْدِهِ أَبَدًا
”اور تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو ایذا دو، اور نہ یہ جائز ہے کہ اس کے بعد کبھی اس کی ازواج مطہرات سے نکاح کرو۔“
(33-الأحزاب:53)
نیز فرمایا:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا
”اے نبی! اپنی ازواج مطہرات سے کہہ دیجیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کے ساز و سامان کی طلب گار ہو۔“
(33-الأحزاب:28)
نیز فرمایا:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ
”اے نبی! ہم نے آپ کے لیے وہ بیویاں حلال کر دی ہیں جن کے مہر آپ نے ادا کر دیے ہیں۔“
(33-الأحزاب:50)
نیز فرمایا:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ
”اے نبی! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں۔“
(33-الأحزاب:59)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ ۖ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ
”اے نبی! اللہ نے جو چیز آپ کے لیے حلال کی ہے آپ اسے حرام کیوں ٹھہراتے ہیں، آپ اپنی بیویوں کی خوشنودی چاہتے ہیں۔“
(66-التحريم:1)
نیز فرمایا:
عَسَىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ
”اگر وہ (نبی) تمہیں طلاق دے دے تو امید ہے کہ اس کا رب اسے تم سے بہتر بیویاں بدلے میں دے۔“
(66-التحريم:5)
ان تمام آیات سے صراحت کے ساتھ ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک وقت میں ایک سے زیادہ ازواج مطہرات تھیں۔ جمع کا صیغہ تین اور اس سے زائد پر دلالت کرتا ہے اور یہ بات احادیث کی نہیں کہ پرویز صاحب اسے تاریخ اور ظن و گمان کا نام دے کر انکار کر سکیں، یہ قرآن کریم کی آیات ہیں۔
اب ہم وہ آیات پیش کرتے ہیں جن سے امت کے لیے تعدد ازواج کا ثبوت ملتا ہے۔
وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ
”اور جو کچھ تمہاری بیویاں ترکہ میں چھوڑ جائیں اس میں سے نصف کے تم حق دار ہو، بشرطیکہ ان سے اولاد نہ ہو۔“
(4-النساء:12)
نیز فرمایا:
وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا
”اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں۔“
(2-البقرة:234)
نیز فرمایا:
إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ
”مگر اپنی بیویوں یا اپنی لونڈیوں سے۔“
(23-المؤمنون:6)
نیز فرمایا:
فَانكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ
”تو تم ان کے مالکوں کی اجازت سے ان سے نکاح کر لو۔“
(4-النساء:25)
نیز فرمایا:
إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ
”جب تم مومن عورتوں کو نکاح میں لاؤ اور پھر انہیں طلاق دے دو۔“
(33-الأحزاب:49)
نیز فرمایا:
وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلًا أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم
”اور تم میں سے جو شخص آزاد مومن عورتوں سے نکاح کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، وہ تمہاری ملکیت مومن لونڈیوں میں سے کسی لونڈی سے نکاح کر لے۔“
(4-النساء:25)
مذکورہ بالا آیات میں اگرچہ جمع بمقابلہ جمع ہے لیکن اس کے باوجود عموم کی وجہ سے ان سے تعدد ازواج کا ثبوت ملتا ہے۔ اور اس تعدد ازواج کے عموم کی تخصیص سورۂ نساء کی آیت نمبر 3 کے مطابق چار تک ہوگی۔
◈ تبصرہ: پرویز صاحب کی قرآنی بصیرت دراصل اس مغربی تخیل کی پیداوار ہے جس میں ایک سے زائد بیویوں سے نکاح کو مذموم سمجھا جاتا ہے۔ اسلام نے ایک سے چار تک بیویوں سے نکاح کی اجازت دی ہے لیکن ایک سے زائد کی اجازت عدل کے ساتھ مشروط ہے۔ اگر کوئی شخص عدل کے تقاضے پورے کر سکتا ہے تو وہ ایک سے زائد، یعنی چار تک شادیاں کر سکتا ہے اور یہ اجازت ہے حکم نہیں۔ قرآن کریم کی ہر اجازت کسی خاص زمان و مکان کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک کے لیے عام ہے۔
اگر حقیقی طور پر اندازہ لگایا جائے تو ایک شادی کی پابندی اور تعدد ازواج کو برا سمجھنا بدکاری کا ذریعہ بنتا ہے یہاں تک کہ لوگ جنسی آوارگی میں مبتلا ہو جاتے ہیں جیسا کہ مغربی تہذیب میں یہ بالکل واضح اور عام ہے جبکہ اسلام عفت و پاک دامنی اور نسب کی حفاظت کا درس دیتا ہے اور ہر قسم کی بدکاری و فحاشی سے اجتناب کی ترغیب دیتا ہے۔ تعدد ازواج اس کا اصل وسیلہ اور ذریعہ ہے۔