نیکی کا حکم، برائی سے روکنا اور اللہ کی خاطر محبت کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا

① سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
والذي نفسي بيده لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر أو ليوشكن اللہ أن يبعث عليكم عقابا منه ثم تدعونه فلا يستجيب لكم
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ضرور نیکی کا حکم کرتے رہو اور ضرور برائی سے روکتے رہو یا پھر قریب ہے کہ اللہ اپنی طرف سے تم پر عذاب مسلط کر دے پھر تم اس سے دعائیں کرو اور وہ تمہارے حق میں قبول نہ ہوں۔“
الترمذی، کتاب الفتن، حدیث 2169۔
② سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إنكم لمنصورون ومصيبون ومفتوح عليكم، فمن أدرك ذٰلك منكم فليتق اللہ وليأمر بالمعروف ولينه عن المنكر، ومن كذب على متعمدا فليتبوأ مقعده من النار
”یقیناً تمہاری مدد کی جائے گی، تمہیں تکلیف بھی پہنچے گی اور تم مفتوح بھی ہو گے۔ پس تم میں سے جو شخص اس حالت کو پا لے تو اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے، نیکی کا حکم کرنا چاہیے اور برائی سے روکنا چاہیے۔ اور جس شخص نے قصدًا میرے بارے میں جھوٹی بات کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنائے۔“
ترمذی، کتاب الفتن، حدیث 2257۔

برائی کے بعد نیکی کرنا

① سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اتق اللہ حيث ما كنت، وأتبع السيئة الحسنة تمحها، وخالق الناس بخلق حسن
”تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرتے رہو، برائی ہو جانے کے بعد نیکی کر لو، یہ اس (برائی) کو ختم کر دے گی اور لوگوں سے حسنِ سلوک سے پیش آؤ۔“
ترمذی، کتاب البر، حدیث 1987۔

اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر محبت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يقول اللہ تعالى يوم القيامة: أين المتحابون بجلالي، اليوم أظلهم فى ظلي يوم لا ظل إلا ظلي
”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: میرے جلال کی خاطر آپس میں محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ میں آج انہیں اپنے سائے تلے جگہ دوں گا جس روز میرے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں۔“
مسلم، کتاب البر والصلة 2566، مالک، الجامع 2/ 952۔ مسند احمد، باقی مسند المکثرین 2/ 237۔
② سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثلاث من كن فيه وجد بهن طعم الإيمان: من كان اللہ ورسوله أحب إليه مما سواهما، ومن أحب عبدا لا يحبه إلا للٰه، ومن يكره أن يعود فى الكفر بعد أن أنقذه اللہ منه كما يكره أن يلقى فى النار
”جس شخص میں یہ تین چیزیں ہوں اس نے ان کے ذریعے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا: جسے اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام چیزوں سے بڑھ کر محبوب ہوں، وہ کسی شخص سے محض اللہ کی خاطر محبت کرتا ہو اور وہ کفر میں لوٹنا اسی طرح ناپسند کرتا ہو اس کے بعد کہ اللہ نے اسے اس سے بچا لیا ہو جس طرح آگ میں ڈالا جانا ناپسند کرتا ہے۔“
بخاری، کتاب الإکراہ 6941، مسلم، کتاب الإیمان 43، ترمذی، کتاب الإيمان 2624.
③ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
قال اللہ عز وجل: وجبت محبتي للمتحابين في، والمتزاورين في، والمباذلين في
”اللہ عزوجل نے فرمایا: جو لوگ میری خاطر آپس میں محبت کرتے ہیں، میری خاطر آپس میں میل ملاقات رکھتے ہیں اور میری خاطر آپس میں خرچ کرتے ہیں تو ان کے لیے میری محبت واجب ہو گئی۔“
مالک 2/ 953، 954، روایت صحیح ہے۔
④ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
قال اللہ عز وجل: المتحابون لجلالي لهم منابر من نور يغبطهم الأنبياء والشهداء
”اللہ عزوجل نے فرمایا: جو لوگ میرے جلال کی خاطر آپس میں محبت کرتے ہیں ان کے لیے نور کے منبر ہوں گے جن پر انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں گے۔“
ترمذی، کتاب الزہد 2390، مسند احمد، مسند الأنصار 5/ 236، 237، 239، روایت صحیح ہے.
⑤ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن من عباد اللہ لأناسا ما هم بأنبياء ولا شهداء يغبطهم الأنبياء والشهداء يوم القيامة بمكانهم من اللہ
”اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو انبیاء ہیں نہ شہداء، لیکن قیامت کے دن اللہ کے ہاں ان کے مقام و منزلت پر انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں گے۔“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ ہمیں بتائیں وہ کون ہیں؟“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قوم تحابوا بروح اللہ على غير أرحام بينهم ولا أموال يتعاطونها، فواللہ إن وجوههم لنور، وإنهم لعلى نور، لا يخافون إذا خاف الناس، ولا يحزنون إذا حزن الناس وقرا ھذہ الایۃ ﴿ أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾
”وہ لوگ ہیں جو آپس میں کسی رشتے داری کی وجہ سے یا مال کی وجہ سے نہیں بلکہ محض اللہ کی رضا کی خاطر محبت کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم! ان کے چہرے نور کے ہوں گے اور وہ نور پر ہوں گے۔ جب لوگ ڈر رہے ہوں گے اور خوف زدہ و غمگین ہوں گے تو انہیں اس وقت کسی قسم کا خوف و حزن نہیں ہو گا۔“
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ”سن لو! اللہ کے اولیاء خوف و حزن کا شکار نہیں ہوں گے۔“
اپنے شواہد کی وجہ سے حسن ہے۔ ابو داؤد، کتاب البیوع 3527 عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نہ کہ ان کے بیٹے سے جس طرح یہاں ہے، اس کی سند ابو زرعہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے، اس کا شاہد ابو نعیم نے الحلیة 1/ 5 میں اور ابن حبان 573 میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر محبت کرنا

① سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ اتنے میں ایک آدمی گزرا تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أعلمته؟
”کیا تو نے اسے بتایا ہے؟“
اس نے عرض کی: نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أعلمه
”اسے بتاؤ“۔
پس وہ اس سے ملا تو کہا:
میں اللہ کی خاطر تم سے محبت کرتا ہوں۔
اس (دوسرے) شخص نے کہا:
”جس ذات کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو اس ذات کی خاطر میں بھی تم سے محبت کرتا ہوں“۔
ابو داؤد، کتاب الادب، حديث 5125.