مضمون کے اہم نکات
قیامت کی نشانی : یاجوج وماجوج قرآن مجید کی روشنی میں
ارشاد باری تعالی ہے :
ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا 92 حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ وَجَدَ مِن دُونِهِمَا قَوْمًا لَّا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلًا 93 قَالُوا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلَىٰ أَن تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ سَدًّا 94 قَالَ مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيْرٌ فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدْمًا 95 آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا سَاوَىٰ بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ قَالَ انفُخُوا ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَعَلَهُ نَارًا قَالَ آتُونِي أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا 96 فَمَا اسْطَاعُوا أَن يَظْهَرُوهُ وَمَا اسْتَطَاعُوا لَهُ نَقْبًا 97 قَالَ هَٰذَا رَحْمَةٌ مِّن رَّبِّي ۖ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ ۖ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقًّا 98 وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ ۖ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْنَاهُمْ جَمْعًا
وہ (ذوالقرنین بادشاہ) پھر ایک سفر کے سامان میں لگا یہاں تک کہ جب وہ دو دیواروں (پہاڑوں) کے درمیان پہنچا جن کے پیچھے اس نے ایک ایسی قوم پائی جو بات سمجھنے کے قریب بھی نہ تھی ، انہوں نے کہا : اے ذوالقرنین! یاجوج ماجوج اس ملک میں (بڑے بھاری) فسادی ہیں تو کیا ہم آپ کے لیے کچھ خرچ کا انتظام کردیں (بشرطیکہ) آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنا دیں ۔ اس نے جواب دیا کہ میرے اختیار میں میرے رب نے جو دے رکھا ہے وہی بہتر ہے تم صرف قوت وطاقت سے میری مدد کرو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک حجاب بنا دیتا ہوں تم مجھے لوہے کی چادریں لا دو۔ یہاں تک کہ جب ان دونوں پہاڑوں کے درمیان دیوار برابر کردی تو حکم دیا کہ آگ تیز جلاؤ حتی کہ جب لوہے کی ان چادروں کو بالکل آگ کر دیا تو کہا میرے پاس پگھلا ہوا تانبا لاؤ (جو) اس پر ڈال دوں۔ پس نہ تو ان میں اس دیوار کے اوپر چڑھنے کی طاقت تھی اور نہ اس میں کوئی سوراخ کر سکتے تھے ۔ کہا یہ سب میرے رب کی مہربانی ہے۔ ہاں جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تو (وہ) اسے زمین بوس کر دے گا ، بے شک میرے رب کا وعدہ سچا اور برحق ہے۔ اس دن ہم انہیں آپس میں ایک دوسرے میں گڈمڈ ہوتے ہوئے چھوڑ دیں گے اور صور پھونک دیا جائے گا پس سب کو اکٹھا کر کے ہم جمع کر لیں گے۔
سورة الکهف : (92 تا 99)
حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ 96 وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَإِذَا هِيَ شَاخِصَةٌ أَبْصَارُ الَّذِينَ كَفَرُوا يَا وَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِي غَفْلَةٍ مِّنْ هَٰذَا بَلْ كُنَّا ظَالِمِينَ
یہاں تک کہ جب یاجوج ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے اور سچا وعدہ قریب آ جائے گا۔ اس وقت کافروں کی نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی کہ ہائے افسوس ! ہم اس حال سے غافل تھے بلکہ فی الواقع ہم قصور وار تھے۔
سورة الانبياء : (96 تا 97)
یاجوج ماجوج احادیث کی روشنی میں :
عن زينب بنت جحش رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل عليها يوما فزعا يقول لا إله إلا الله ويل للعرب من شر قد اقترب فتح اليوم من ردم يأجوج ومأجوج مثل هذه وحلق باصبعيه : الإبهام والتي تليها قالت زينب بنت جحش فقلت : يا رسول الله أفتهلك وفينا الصالحون ؟ قال : نعم إذا كثر الخبث
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز گھبرائے ہوئے ان کے پاس داخل ہوئے ، آپ فرما رہے تھے : تباہی ہے عربوں کے لئے اس برائی سے جو قریب آچکی ہے، آج یاجوج ماجوج کی دیوار سے اتنا کھل گیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی سے ایک حلقہ بنا لیا۔ یہ سن کر حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! تو کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے جبکہ ہمارے درمیان نیک صالح لوگ ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! جب خباثت حد سے تجاوز کر جائے گی۔
بخاری : کتاب الفتن باب یاجوج و ماجوج (7135) مسلم (2880) ترمذی (2187) احمد (477/6 – 478) المعجم الکبیر (51/34) ابن ابی شیبہ (607/8)
عن حذيفة رضى الله عنه قال اطلع النبى صلى الله عليه وسلم علينا ونحن نتذاكر فقال : ما تذكرون ؟ قالوا : نذكر الساعة ، قال : إنها لن تقوم حتى ترون قبلها عشر آيات فذكر يا جوج وما جوج
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم قیامت کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور پوچھا : کیا گفتگو چل رہی ہے؟ لوگوں نے کہا : قیامت کے بارے میں مذاکرہ کر رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا : قیامت ہرگز قائم نہیں ہو گی حتی کہ تم دس نشانیاں دیکھ لو تو (ان میں سے ایک) یاجوج ماجوج کا ذکر کیا۔
مسلم : کتاب الفتن : باب فی الآیات التى تكون قبل الساعة (2901) ابو داؤد (4311) ترمذی (2183) احمد (10/4 – 15) شرح السنة (432/7) حلیة الاولياء (355/1)
یاجوج ماجوج کی مصروفیت :
عن أبى هريرة رضى الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إن يأجوج ومأجوج يحفرون السد كل يوم حتى إذا كادوا يرون شعاع الشمس قال الذى عليهم، ارجعوا فستحفرونه غدا فيعودون إليه كأشد ما كان حتى إذا بلغت مدتهم وأراد الله عزوجل أن يبعثهم إلى الناس حفروا حتى إذا كادوا يرون شعاع الشمس قال الذى عليهم : ارجعوا فستحفرونه غدا إن شاء الله ويستثني فيعودون إليه وهو كهيئة حين تركوه فيحفرونه ويخرجون على الناس فينشفون المياه ويتحصن الناس منهم فى حصونهم فيرمون بسهامهم إلى السماء فترجع وعليها كهيئة الدم فيقولون : قهرنا أهل الأرض وعلونا أهل السماء فيبعث الله عليهم نغفا فى أقفائهم فيقتلهم بها قال : فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : والذي نفسي بيده إن دواب الأرض لتسمن شكرا من لحومهم ودمائهم
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلاشبہ یاجوج ماجوج ہر روز (ذوالقرنین بادشاہ کی تعمیر کردہ) دیوار کو کھودتے ہیں حتی کہ وہ سورج کی شعاع (دیوار توڑ کر) دیکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں تو ان کا نگران کہتا ہے ، واپس چلو باقی کل کھودیں گے تو (کل تک) وہ دیوار پہلے سے بھی مضبوط ہو چکی ہوتی ہے (اور یہ سلسلہ روز جاری رہتا ہے) یہاں تک کہ جب ان کے خروج کی مدت پوری ہو جائے گی اور اللہ تعالیٰ انہیں چھوڑنے کا ارادہ کر لیں گے تو پھر وہ ایک دن اسے انتہائی آخر تک کھود چکے ہوں گے تو ان کا نگران کہے گا چلو باقی کل کھودیں گے ان شاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا اس سے پہلے وہ ان شاء اللہ نہیں کہیں گے) کل جب وہ آئیں گے تو دیوار اسی طرح ہوگی جس طرح کھودی ہوئی وہ چھوڑ کر گئے تھے پھر وہ اسے کھود کر لوگوں پر نکل آئیں گے ، سارا پانی پی جائیں گے ، لوگ قلعہ بند ہو جائیں گے تو یاجوج ماجوج آسمان کی طرف اپنے تیر پھینکیں گے جنہیں اللہ تعالیٰ خون آلود حالت میں نیچے گرائیں گے تو وہ کہیں گے کہ ہم آسمان اور زمین والوں (سب پر) غالب آگئے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے زمین کے جانور ان کا خون اور گوشت کھا کر خوب موٹے تازے ہو جائیں گے۔
احمد (510/2) ترمذی : كتاب التفسير : سورة الکهف (3153) ابن ماجة (4131) حاكم (535/4) السلسلة الصحيحة (313/4)
یاجوج ماجوج کا خروج :
عن النواس بن سمعان رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : بينما هو كذلك إذ أوحى الله إلى عيسى إني قد أخرجت عبادا لي لا يدان لأحد بقتالهم فحرز عبادي إلى الطور ويبعث الله يأجوج ومأجوج وهم من كل حدب ينسلون
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (طویل حدیث) (یعنی جب وہ دجال اور اس کے لشکر کے قلع قمع سے فارغ ہی ہوئے ہوں گے) کہ میں اپنے ایسے بندے نکالنے والا ہوں کہ جن کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا لہذا آپ میرے (مسلمان) بندوں کو کوہ طور پر لے جائیں اور اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو نکال دیں گے جو ہر گھائی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔
مسلم : کتاب الفتن : باب ذکر الدجال (2937) احمد (248/4) ابو داؤد (4321) ترمذی (2240) ابن ماجة (4126) حاكم (537/4) طبری (95/9)
یاجوج ماجوج کا فتنہ فساد :
عن أبى هريرة رضى الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : فيحفرونه ويخرجون على الناس فينشفون المياه ويتحصن الناس منهم فى حصونهم فيرمون بسهامهم إلى السماء فترجع وعليها كهيئة الدم فيقولون : قهرنا أهل الأرض وعلونا أهل السماء
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر وہ دیوار توڑ کر لوگوں پر نکل آئیں گے ، سارا پانی پی جائیں گے ، لوگ قلع بند ہو جائیں گے تو وہ (یاجوج ماجوج) اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے جنہیں اللہ تعالیٰ خون لگا کر نیچے پھینکیں گے تو وہ کہیں گے کہ ہم نے آسمان والوں پر بھی غلبہ پا لیا ہے جس طرح ہم اہل زمین پر غالب ہیں۔
احمد (510/2) ترمذی : کتاب التفسير : سورة الکهف (3153) ابن ماجة (4131) حاکم (535/4) السلسلة الصحيحة (313/4)
عن النواس بن سمعان رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : فيبعث الله يأجوج وماجوج وهم من كل حدب ينسلون فيمر أولهم على بحيرة طبرية فيشربون ما فيها ويمر آخرهم فيقولون : لقد كان بهذه مرة ماء ، ويحصر نبي الله عيسى وأصحابه حتى يكون رأس الثور لأحدهم خيرا من مائة دينار لأحدكم اليوم
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھر اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو نکال دیں گے اور وہ ہر ٹیلے سے بھاگتے ہوئے آئیں گے ان کے اگلے افراد بحیرہ طبریہ سے گزریں گے تو اس کا سارا پانی پی جائیں گے اور ان کے آخری افراد جب وہاں سے گزریں گے تو کہیں گے کہ کبھی یہاں پانی ہوا کرتا تھا اور حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کے ساتھی محصور ہو کر رہ جائیں گے حتی کہ بیل کا سر تمہارے موجودہ سو دیناروں سے زیادہ قیمتی ہو جائے گا۔
مسلم : کتاب الفتن : باب ذکر الدجال (2937) احمد (248/4) ابو داؤد (4321) ترمذی (2240) ابن ماجة (4126) حاکم (537/4)
عن ابن مسعود رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : فعند ذلك يخرج يأجوج ومأجوج وهم من كل حدب ينسلون فيطؤون بلادهم لا يأتون على شيء إلا أهلكوه ولا يمرون على ماء إلا شربوه ثم يرجع الناس إلى فيشكونهم فأدعو الله عليهم فيهلكهم الله ويميتهم
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر یاجوج وماجوج نکلیں گے اور ہر ٹیلے سے دوڑتے ہوئے آئیں گے وہ ان (لوگوں) کے شہروں کو روند ڈالیں گے۔ ہر چیز کو تباہ و برباد کر دیں گے، جس پانی (سمندر یا دریا) سے گزریں گے اسے پی جائیں گے۔ پھر لوگ میرے پاس (عیسی) شکایت لے کر آئیں گے تو میں اللہ تعالیٰ سے یاجوج ماجوج کے لئے بد دعا کروں گا اور اللہ تعالیٰ ان سب کو ہلاک کر ڈالیں گے۔
احمد (469/1) ابن ماجة : کتاب الفتن : باب فتنة الدجال (4132) حاكم (534/4) حاکم اور ذہبی نے اسے صحیح کہا ہے ۔ طبری (86/9)
دیوار ذوالقرنین میں سوراخ :
عن زينب بنت جحش رضي الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ويل للعرب من شر قد اقترب فتح اليوم من ردم يأجوج ومأجوج مثل هذا ، قال : وحلق باصبعيه الإبهام والتي تليها
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عربوں کے لئے اس شر سے تباہی ہے جو قریب آچکا ہے، آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو چکا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے انگوٹھے اور انگشت شہادت کو ملا کر اشارہ کیا۔
بخاری : كتاب الانبياء : باب قصة ياجوج وماجوج : كتاب الفتن : باب ياجوج وماجوج (7135) مسلم (2880) ترمذی (2187) احمد (477/6 ) حميدی (147/1) دلائل النبوة (406/6)
ایک روایت میں ہے کہ :
وفتح اليوم من ردم ياجوج وماجوج مثل موضع الدرهم
یاجوج ماجوج کی دیوار میں ایک درہم برابر سوراخ ہو چکا ہے۔
احمد (478/6) ايضا
یاجوج ماجوج کی شکل وصورت :
عن أم حبيبة رضي الله عنها عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : إنكم تقولون لا عدو وإنكم لا تزالون تقاتلون عدوا حتى يأتى يأجوج ومأجوج عراض الوجوه صغار العيون شهب الشعاف من كل حدب ينسلون كأن وجوههم المجان المطرقة
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ کہتے ہو کہ دشمن باقی نہیں رہے حالانکہ تم ہمیشہ دشمنوں سے قتال کرتے رہو گے حتی کہ یاجوج ماجوج نکل آئیں گے جن کے چہرے چوڑے ہوں گے، آنکھیں چھوٹی ہوں گی، سرخی مائل سر کے بال ہوں گے، ہر ٹیلے سے دوڑتے ہوئے آئیں گے گویا ان کے چہرے تہ بہ تہ (کوٹی ہوئی) ڈھال کی طرح چپٹے ہوں گے۔
مجمع الزوائد كتاب الفتن : باب ما جاء في ياجوج وماجوج (12570) احمد (341/5)
یاجوج ماجوج کی کثرت :
عن أبى سعيد رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : يقول الله تعالى : يا آدم فيقول لبيك وسعديك والخير فى يديك فيقول : أخرج بعث النار ، قال : وما بعث النار ؟ قال : من كل ألف تسعمائة وتسعة وتسعين فعنده يشيب الصغير وتضع كل ذات حمل حملها وترى الناس سكارى وما هم بسكارى ولكن عذاب الله شديد قالوا : يا رسول الله ! وأينا ذلك الواحد؟ قال : أبشروا فإن منكم رجلا ومن يأجوج ومأجوج ألف ثم قال : والذي نفسي بيده إني أرجو أن تكونوا ربع أهل الجنة فكبرنا فقال : أرجو أن تكونوا ثلث أهل الجنة فكبرنا ، فقال : أرجو أن تكونوا نصف أهل الجنة فكبرنا ، فقال : ما أنتم فى الناس إلا كالشعرة السوداء فى جلد ثور أبيض أو كشعرة بيضاء فى جلد ثور أسود
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) فرمائے گا، اے آدم ! آدم علیہ السلام عرض کریں گے میں اطاعت کے لیے حاضر ہوں، مستعد ہوں ، ساری بھلائیاں صرف تیرے ہی ہاتھ میں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، جہنم میں جانے والوں کو (لوگوں میں سے الگ) نکال لو ۔ حضرت آدم علیہ السلام عرض کریں گے ، اے اللہ ! جہنمیوں کی تعداد کتنی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک ہزار میں نو سو نناوے۔ اس وقت (کی ہولناکی اور وحشت سے) بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی اس وقت تم (خوف و دہشت سے) لوگوں کو مدہوشی کے عالم میں دیکھو گے ، حالانکہ وہ بے ہوش نہ ہوں گے۔ لیکن اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہو گا۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ ایک شخص ہم میں سے کون ہوگا ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں بشارت ہو وہ ایک آدمی تم میں سے ہوگا اور ایک ہزار دوزخی یاجوج ماجوج کی قوم سے ہوں گے پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم (امت مسلمہ) تمام جنت والوں کے ایک چوتھائی ہو گے۔ پھر ہم نے اللہ اکبر کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت والوں کے ایک تہائی ہو گے پھر ہم نے اللہ اکبر کہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ مجھے امید ہے کہ تم جنت والوں کے آدھے ہو گے پھر ہم نے اللہ اکبر کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ (محشر میں) تم لوگ تمام انسانوں کے مقابلے میں اتنے ہو گے جتنے کسی سفید بیل کے جسم پر ایک سیاہ بال ، یا جتنے کسی سیاہ بیل کے جسم پر ایک سفید بال ہوتا ہے۔
بخاری : كتاب الانبياء : باب قصة ياجوج وماجوج (3348) مسلم : كتاب الايمان (379 – 222) حاكم (82/4)
یاجوج ماجوج کی ہلاکت :
عن النواس بن سمعان رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : فيحصر نبي الله عيسى وأصحابه فيرسل الله عليهم النغف فى رقابهم فيصبحون فرسى كموت نفس واحدة ثم يهبط نبي الله عيسى وأصحابه إلى الأرض فلا يجدون فى الأرض موضع شبر إلا ملأه زهمهم ونتنهم فيرغب نبي الله عيسى وأصحابه إلى الله فيرسل الله طيرا كأعناق البخت فتحملهم فتطرحهم حيث شاء الله ثم يرسل الله مطرا لا يكن منه بيت مدر ولا وبر فيغسل الأرض حتى يتركها كالزلفة ثم يقال للأرض : أنبتي ثمرتك وردي بركتك فيومئذ تأكل العصابة من الرمانة ويستظلون بقحفها ويبارك فى الرسل حتى إن اللقحة من الإبل لتكفي الفئام من الناس واللقحة من البقر لتكفي القبيلة من الناس واللقحة من الغنم لتكفي الفخذ من الناس فبينما هم كذلك إذ بعث الله ريحا طيبة
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر اللہ کے نبی حضرت عیسی اور ان کے ساتھی اللہ تعالی سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں کیڑے پیدا کر کے انہیں آن واحد میں ایک نفس کی موت کی طرح ہلاک کر دیں گے پھر اللہ کے نبی حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کے ساتھی زمین پر اتریں گے مگر زمین میں ہر جگہ ان کی سرانڈ اور بدبو پھیلی ہوئی ہوگی پھر حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالی بختی اونٹوں کی گردن برابر (چڑیوں جیسے) پرندے بھیجیں گے جو انہیں وہاں لے جا پھینکیں گے جہاں اللہ کا حکم ہوگا پھر اللہ تعالیٰ بارش برسائیں گے جو ہر مٹی اور خیمے والے گھر میں پہنچے گی اور اس کے ذریعے اللہ تعالی زمین کو اس طرح پاک صاف کر دیں گے جس طرح کوئی حوض یا باغ (یا خوبصورت عورت) ہو پھر زمین کو حکم ہو گا کہ اپنے پھل اگا ، برکتیں نکال ، اس دن ایک انار پوری جماعت کھا سکے گی اور اس کے چھلکے سے وہ سایہ حاصل کریں گے۔ ایک گابھن اونٹنی کا دودھ کئی جماعتوں کے لئے کافی ہوگا، حاملہ گائے کا دودھ ایک قبیلے کو کفایت کرے گا اور بکری کا دودھ ایک خاندان کو کافی ہو گا ، لوگ اس حال میں ہوں گے کہ اچانک اللہ تعالیٰ ایک ہوا بھیجے گا جو ان کے بغلوں کے نیچے سے اثر کرتی ہوئی گزرے گی اور ہر مومن و مسلم کو فوت کر دے گی پھر صرف بد ترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو گدھوں کی طرح باہم جھگڑیں گے (یا بدکاریاں کریں گے) اور انہی پر قیامت قائم ہوگی۔
مسلم : كتاب الفتن : باب ذكر الدجال (2937) احمد (248/4) ابو داؤد (4311) ترمذی (2240) ابن ماجة (4126) حاكم (537/4) طبری (95/9)
فوائد :
➊ یاجوج ماجوج نوع انسان اور حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد سے ہیں انسانوں سے ماوراء کوئی اور مخلوق نہیں۔
➋ یاجوج ماجوج ذوالقرنین بادشاہ (539 – ق م) کے دور سے لے کر آج تک کرہ ارضی پر موجود رہے ہیں اور قبل از قیامت بحکم الہی لوگوں پر خروج کریں گے۔
➌ یاجوج ماجوج روز اول سے فسادی رہے ہیں اور بوقت خروج یہ اہل دنیا پر فتنہ و فساد برپا کر دیں گے گویا فتنہ فساد ان کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے۔
➍ یاجوج ماجوج جن دو پہاڑوں کے پیچھے ہیں ان پہاڑوں پر ذوالقرنین بادشاہ نے لوہے اور تانبے سے بند باندھا ہوا ہے اور یہ جگہ مطلع الشمس (سورج طلوع ہونے کی جگہ) کی طرف کہیں واقع ہے۔
➎ یاجوج ماجوج بلا ناغہ اس دیوار کی کھدائی میں مصروف ہیں اور ہر شام اسے بالکل گرانے کے قریب کر کے چھوڑ آتے ہیں مگر بحکم الہی وہ دیوار ہر صبح پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاتی ہے۔
➏ قیامت سے پہلے جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا تو یاجوج ماجوج دیوار توڑ کر لوگوں پر خروج کریں گے۔
➐ یاجوج ماجوج حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول اور دجال کے خاتمے کے بعد خروج کریں گے۔
➑ یاجوج ماجوج ہر روز دیوار کی کھدائی کرتے ہیں اور جب اسے بالکل گرنے کے قریب کر دیتے ہیں تو ان کا نگران کہتا ہے کہ واپس چلو باقی کل کریں گے مگر وہ ان شاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا) نہیں کہہ پاتا اور جب ان کی مدت پوری ہو جائے گی تو آخری شام ان کا نگران کہے گا چلو ان شاء اللہ باقی کھدائی کل کریں گے تو ان شاء اللہ کی برکت سے دیوار واپس مضبوط حالت کی طرف نہیں لوٹتی اور جب وہ صبح آئیں گے تو دیوار اسی کمزور حالت میں ہوگی جس میں وہ پہلے چھوڑ کر گئے تھے حالانکہ پہلے اس کے برعکس دیوار دوبارہ مضبوط کر دی جاتی تھی۔ اس سے ان شاء اللہ کی برکت کا ظہور ہوتا ہے۔
➒ یاجوج ماجوج بلا ناغہ دیوار کی کھدائی میں مصروف ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انہوں نے دیوار میں درہم برابر سوراخ کر لیا تھا۔
➓ دنیا کی کوئی جماعت بھی یاجوج ماجوج سے مقابلے کی اہل نہیں حتی کہ حضرت عیسی علیہ السلام بھی ان کے مقابلے سے عاجز ہوں گے اور بحکم الہی مسلمانوں کو ساتھ لے کر کوہ طور پر جا چڑھیں گے۔
⓫ یاجوج ماجوج ایک ہی دیوار (سلّہ ذوالقرنین) کے پیچھے کسی ایک ہی جگہ میں قید ہیں۔
⓬ یاجوج ماجوج کی شکل و صورت ایسی بتائی گئی ہے جیسی ترکوں کی مذکور ہے یعنی باریک آنکھوں والے، سرخی مائل بالوں والے اور چوڑے چہروں والے کہ گویا وہ تہ بہ تہ ڈھالوں جیسے (چپٹے یا موٹے) ہیں لیکن ترکوں کو یا کسی اور موجودہ قوم کو یاجوج ماجوج قرار دینا درست نہیں کیونکہ ان کی تمام صفات و علامات موجودہ اقوامِ عالم میں سے کسی ایک پر بھی چسپاں نہیں ہوتیں۔ تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو پیش گوئیوں کی حقیقت۔
⓭ یاجوج ماجوج کی تعداد بہت زیادہ ہے حتی کہ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ مسلمانوں سے ننانوے فیصد (99%) زیادہ ہیں۔
⓮ یاجوج ماجوج سب کھیت کھلیان تباہ کر دیں گے، ہمہ سے دریاؤں اور ندی نالوں کا پانی ڈھکار جائیں گے اور ہر طرف اودھم مچا دیں گے۔
⓯ یاجوج ماجوج کے خروج کے وقت لوگ قلعہ بند ہو جائیں گے کیونکہ یہ لوگ چرند، پرند، درند اور ہر حیوان و انسان کے جانی دشمن ہوں گے لہذا یہ ناممکن ہے کہ کوئی اقوام ان سے لین دین، معاملات، مذاکرات یا تعلقات قائم کر سکے۔
⓰ یاجوج ماجوج دنیا پر تباہی پھیلانے کے بعد آسمان کی طرف تیر چلائیں گے جنہیں اللہ تعالیٰ خون لگا کر نیچے ڈالیں گے تو وہ کہیں گے :
قهرنا أهل الأرض وعلونا أهل السماء
ہم نے دنیا والوں کو بھی تباہ کر دیا اور آسمان والوں پر بھی غلبہ پالیا۔
⓱ یا جوج ماجوج اور دیوار لازم و ملزوم ہیں۔
⓲ یا جوج ماجوج کی دیوار لوہے اور تانبے سے تیار کی گئی ہے۔
⓳ ياجوج ماجوج کا خروج حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد ہوگا اور اس سے پہلے کوئی انہیں دیکھ نہیں سکے گا۔
(20) حضرت عیسی علیہ السلام کی دعا سے یہ سب ایک بیماری سے آن واحد میں ہلاک ہو جائیں گے۔
(21) بحکم الہی چھوٹے چھوٹے پرندے انہیں اٹھا کر کسی نامعلوم مقام پر لے جائیں گے حالانکہ ان کی لاشیں رؤے زمین پر اسقدر پھیلی ہوں گی کہ تل دھرنے کو جگہ نہ ہوگی۔ ان الله على كل شئ قدير
(22) یہ سب ایک آزمائش کے لئے پیدا کیے گئے ہیں اور بلا استثنا سب جہنم کا ایندھن بنیں گے لہذا ان میں سے کوئی ایک بھی اسلام قبول نہیں کرے گا۔
(23) یا جوج ماجوج کی ہلاکت کے بعد دنیا پر صرف اور صرف مسلمان ہی باقی رہیں گے پھر ان مسلمانوں میں بد عملی ، کفر و شرک پھیلنا شروع ہوگا تو اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو اٹھا لیں گے اور برے لوگوں پر قیامت قائم کر دیں گے۔