شوہر کی ناشکری کرنے اور بیوی کے راز افشا کرنے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

شوہر کی ناشکری کرنے کی ممانعت

① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
رأيت النار فإذا أكثر أهلها النساء ، يكفرن
”میں نے جہنم میں زیادہ تر عورتیں دیکھیں، وہ ناشکری کرتی تھیں“۔
عرض کیا گیا: کیا وہ اللہ کی ناشکری کرتی تھیں؟ فرمایا:
يكفرن العشير، ويكفرن الإحسان، إن أحسنت إلىٰ إحداهن الدهر ثم رأت منك شيئا قالت : ما رأيت منك خيرا قط
” شوہر اور احسان کی ناشکری کرتی تھیں، اگر تم نے ان میں سے کسی کے ساتھ زندگی بھر اچھا سلوک کیا ہو، پھر وہ تمہاری طرف سے کوئی چیز (کمی) دیکھ لے تو وہ پکار اٹھے گی: میں نے تمہاری طرف سے کبھی خیر و بھلائی دیکھی ہی نہیں“۔
بخارى، الإيمان 29۔ مسلم، كتاب الكسوف 907/17۔

بیوی کے راز افشاں کرنے کی ممانعت

① سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن من أشر الناس منزلة عند الله يوم القيامة الرجل يفضي إلىٰ امرأته وتفضي إليه ثم ينشر سرها
”روزِ قیامت سب سے برا مقام اس شخص کا ہوگا جو اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے اور وہ اپنے شوہر کے پاس آتی ہے (وہ ایک دوسرے سے ملاپ کرتے ہیں) پھر وہ شخص اس (بیوی) کے راز افشاں کرتا ہے“۔
اور ایک روایت میں ہے:
إن أعظم الأمانة عند الله يوم القيامة الرجل يفضي إلىٰ امرأته وتفضي إليه ثم ينشر سرها
”روزِ قیامت اللہ کے ہاں سب سے بڑی امانت یہ ہے کہ میاں بیوی آپس میں مجامعت کریں، پھر وہ آدمی اس (بیوی) کے راز افشاں کرے“۔
مسلم، كتاب النكاح 123 / 1437۔ ابوداؤد، کتاب الادب 4870۔ مسند احمد، باقی مسند المكثرين 3 / 85، حدیث 11661۔