کربلا میں حسینؓ کی شہادت اور واقعہ کربلا کے اہم کردار

فونٹ سائز:
مرتب کردہ: ابو عبیدہ محمد ثاقب
مضمون کے اہم نکات

واقعۂ کربلا: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

[1] سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن میں نبی ﷺ کے پاس گیا تو (دیکھا) آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا کسی نے آپ کو ناراض کر دیا ہے؟ آپ کی آنکھوں سے آنسو کیوں بہہ رہے ہیں؟

آپ نے فرمایا: بلکہ میرے پاس سے ابھی جبریل (علیہ السلام) اٹھ کر گئے ہیں، انہوں نے مجھے بتایا کہ حسین کو فرات کے کنارے قتل (شہید) کیا جائے گا۔

[مسند احمد:ح648 وسندہ حسن، عبداللہ بن نجی وابوہ صدوقان وثقہما الجمہور ولاینزل حدیثہما عن درجۃ الحسن، انظر نیل المقصود فی تحقیق سنن ابی داود: 227]

[2] سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے ایک دن دوپہر کو نبی ﷺ کو خواب میں دیکھا، آپ کے بال بکھرے ہوئے اور گرد آلود تھے، آپ کے ہاتھ میں خون کی ایک بوتل تھی۔ میں نے پوچھا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، یہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے، میں اسے صبح سے اکٹھا کر رہا ہوں۔

[مسند احمد :2165 وسندہ حسن، دیکھئے ماہنامہ الحدیث حضرو: 10ص14 تا 16، اور شمارہ: 20 ص18 تا 23)

اس سے معلوم ہوا کہ نبی ﷺ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر سخت غمگین تھے۔

[3] ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حسین بن علی رضی اللہ عنہ موجود تھے اور آپ رو رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: مجھے جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ میری امت اسے میرے بعد قتل کرے گی۔

[مشیخہ ابراہیم بن طہمان: 3وسندہ حسن ومن طریق ابن طہمان رواہ ابن عساکر فی تاریخ دمشق14/192، و لہ طریق آخر عند الحاکم 4/398 ح 8202 وصححہ علی شرط الشیخین ووافقہ الذہبی]

[4] شہر بن حوشب (صدوق حسن الحدیث، وثقہ الجمہور) سے روایت ہے کہ جب (سیدنا) حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کی خبر عراق سے آئی تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: عراقیوں پر لعنت ہو، عراقیوں نے آپ کو قتل کیا ہے، اللہ انہیں (عراقیوں کو) قتل کرے۔ انہوں نے آپ سے دھوکا کیا اور آپ کو ذلیل کیا، اللہ انہیں ذلیل کرے۔

[فضائل الصحابۃ، زوائد القطیعی:2/782 ح 1392 وسندہ حسن، ومسند احمد:6/298 ح 26550 وسندہ حسن]

[5] سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو جب شہید کیا گیا تو آپ کا سر مبارک عبید اللہ بن زیاد (ابن مرجانہ، ظالم مبغوض) کے سامنے لایا گیا تو وہ ہاتھ کی چھڑی کے ساتھ آپ کے سر کو کریدنے لگا۔ یہ دیکھ کر سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حسین رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ تھے۔

[دیکھئے صحیح بخاری: 3748]

[6] سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی (عراقی) نے مچھر (یا مکھی) کے (حالتِ احرام میں) خون کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: اسے دیکھو، یہ (عراقی) مچھر کے خون کے بارے میں پوچھ رہا ہے اور انہوں نے نبی ﷺ کے بیٹے (نواسہ) کو قتل (شہید) کیا ہے۔

[صحیح بخاری:37535994]

[7] سعد بن عبیدہ (ثقۃ تابعی) بیان کرتے ہیں کہ میں نے (سیدنا) حسین رضی اللہ عنہ کو دیکھا، آپ ایک کپڑے (برود) کا جبہ (چوغہ) پہنے ہوئے تھے۔ عمرو بن خالد الطہوی نامی ایک شخص نے آپ کو تیر مارا جو آپ کے چوغے سے لٹک رہا تھا۔

[تاریخ دمشق لابن عساکر:4/214 وسندہ صحیح)

[8] شہر بن حوشب سے روایت ہے کہ میں نبی ﷺ کی زوجہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھا۔ میں نے (سیدنا) حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر سنی تو ام سلمہ کو بتایا۔ (کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ہیں) انھوں نے فرمایا: ان لوگوں نے یہ کام کر دیا ہے، اللہ ان کے گھروں یا قبروں کو آگ سے بھر دے اور وہ (غم کی شدت سے) بے ہوش ہو گئیں۔

[تاریخ دمشق: 14/219وسندہ حسن]

[9] سیدہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا (وفات سنہ 62ھ) نے فرمایا: میں نے جنوں کو (امام) حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر روتے ہوئے سنا ہے۔

[المعجم الکبیر للطبرانی:2862-2867، فضائل الصحابۃ لاحمد:1373 وسندہ حسن]

◈ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ (10) محرم (عاشوراء کے دن) اکسٹھ (61) ہجری میں شہید ہوئے۔

[دیکھئے تاریخ دمشق:14/237وھو قول اکثر اہل التاریخ]

◈ یہ ہفتے (سبت) کا دن تھا (تاریخ ابی زرعہ الدمشقی: 243 بسند صحیح عن ابی نعیم الفضل بن دکین الکوفی رحمہ اللہ)

◈ بعض کہتے ہیں کہ سوموار کا دن تھا۔ (دیکھئے تاریخ دمشق:14/236)

بہت سے کفار اپنے کفر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو برا کہتے رہتے ہیں مگر رب رحیم انھیں دنیا میں مہلت دیتا ہے مگر جسے وہ پکڑ لے تو اسے چھڑانے والا کوئی نہیں۔

[10] مشہور جلیل القدر ثقہ تابعی ابورجاء عمران بن ملحان العطاردی رحمہ اللہ نے جاہلیت کا زمانہ پایا ہے مگر صحابیت کا شرف حاصل نہ ہو سکا۔ وہ ایک سو بیس (120) سال کی عمر میں، ایک سو پانچ (105ھ) میں فوت ہوئے۔

ابورجاء العطاردی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

علی اور اہل بیت کو برا نہ کہو، ہمارے بلجیم کے ایک پڑوسی نے (سیدنا) حسین رضی اللہ عنہ کو برا کہا تو اللہ تعالیٰ نے اسے اندھا کر دیا۔

(المعجم الکبیر للطبرانی:2830 ملخصاً وسندہ صحیح)

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں بہت سی ضعیف و مردود اور عجیب  و غریب روایات میں جنہیں میں نے جان بوجھ کر یہاں ذکر نہیں کیا۔ دین کا دارو مدار صحیح و ثابت روایات پر ہے، ضعیف و مردود روایات پر نہیں۔

صد افسوس ہے ان لوگوں پر جو غیر ثابت اور مردود تاریخی روایات پر اپنے عقائد اور عمل کی بنیاد رکھتے ہیں بلکہ ببانگ دہل ان مردود روایات کو ”مسلم تاریخی حقائق“ کے طور پر متعارف کرانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔

[11] تابعی صغیر ابراہیم بن یزید النخعی نے فرمایا: اگر میں ان لوگوں میں ہوتا جنھوں نے حسین بن علی (رضی اللہ عنہ) کو قتل (شہید) کیا تھا، پھر میری مغفرت کر دی جاتی، پھر میں جنت میں داخل ہوتا تو میں نبی ﷺ کے پاس گزرنے سے شرم کرتا کہ کہیں آپ میری طرف دیکھ نہ لیں۔

(المعجم الکبیر للطبرانی:2829وسندہ حسن)

آخر میں ان لوگوں پر لعنت ہے جنھوں نے سیدنا محبوبنا و امامنا الحسین بن علی رضی اللہ عنہما کو شہید کیا یا شہید کرایا یا اس کے لئے کسی قسم کی معاونت کی۔ اے اللہ! ہمارے دلوں کو سیدنا الامام المظلوم الشہید حسین بن علی، تمام اہل بیت اور تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی محبت سے بھر دے۔ آمین

سیدنا علی، سیدنا حسین اور اہل بیت سے نواصب حضرات بغض رکھتے ہیں جبکہ شیعہ حضرات ان کے دعویٰ محبت میں صحابہ کرام سے بغض رکھتے ہیں، اہل بیت کی محبت میں غلو کرتے اور ضروریاتِ دین کا انکار کرتے ہیں۔ یہ دونوں فریق افراط و تفریط والے راستوں پر گامزن ہیں۔ اہل سنت کا راستہ اعتدال اور انصاف والا راستہ ہے۔ والحمد للہ

اہل سنت کے ایک جلیل القدر امام ابو جعفر محمد بن جریر بن یزید الطبری رحمہ اللہ نے شہادتِ حسین وغیرہ تاریخی واقعات کو ابو مخنف وغیرہ کذابین و متروکین کی سندوں سے اپنی تاریخ طبری میں نقل کر رکھا ہے۔ یہ واقعات و تفاصیل موضوع اور من گھڑت وغیرہ ہونے کی وجہ سے مردود ہیں لیکن امام طبری رحمہ اللہ بری ہیں کیونکہ انھوں نے سندیں بیان کر دی ہیں ۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم کے علاوہ حدیث کی ہر کتاب سے صرف وہی روایت پیش کرنی چاہیے جس کی سند اصولِ حدیث اور اسماء الرجال کی روشنی میں صحیح لذاتہ یا حسن لذاتہ ہو ورنہ پھر خاموشی ہی بہتر ہے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم کی مسند متصل مرفوع تمام احادیث صحیح ہیں۔ وما علینا إلا البلاغ

[الحدیث:26-27]

یہ اقتباس حافظ شیر محمد حفظہ اللہ کی کتاب (فضائل صحابہ: ص 105 تا109) سے ماخوذ ہے۔

قاتلانِ حسین رضی اللہ عنہ اور یزیدی حکومت کی ذمہ داری

یزید کی بیعت کا مطالبہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا مکہ جانا

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد یزید بن معاویہ کے لیے بیعت لینے کا سلسلہ شروع ہوا۔ مدینہ کے گورنر ولید بن عتبہ نے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو بلایا اور یزید کی بیعت کا مطالبہ کیا۔ اس مجلس میں مروان بن حکم بھی موجود تھا۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہما نے فوری بیعت نہ کی، بلکہ مہلت چاہی، پھر وہ رات ہی مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہو گئے۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:

[1] فبعث الوليد من ساعته نصف الليل إلى الحسين بن علي وعبد الله بن الزبير، فأخبرهما بوفاة معاوية، ودعاهما إلى البيعة ليزيد بن معاوية، فقالا: إلى أن نصبح وننظر ما يصنع الناس.

ولید نے اسی وقت آدھی رات کو حسین بن علی اور عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم کو بلایا، انہیں معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر دی، اور یزید بن معاویہ کے لیے بیعت کی دعوت دی۔ دونوں نے کہا: صبح ہونے تک مہلت دو، ہم دیکھیں گے کہ لوگ کیا کرتے ہیں۔

[البداية والنهاية – ط دار ابن كثير:8/232]،[ تهذيب الكمال في أسماء الرجال:6/414، 415]

پھر ابن کثیر لکھتے ہیں:

[2]فقال له مروان – أو بعض جلسائه: اقتله، فقال: إن ذلك لدم مضنون به مصون في بني عبد مناف.

مروان، یا اس کے بعض ہم نشینوں نے ولید سے کہا: اسے قتل کر دو۔ ولید نے کہا: یہ بنو عبد مناف میں ایک ایسا خون ہے جس کی حفاظت کی جاتی ہے۔

[البداية والنهاية – ط دار ابن كثير:8/233]،[ تهذيب الكمال في أسماء الرجال:6/415]

پھر ابن کثیر لکھتے ہیں:

[3] قالوا: وخرج الحسين وابن الزبير من ليلتهما إلى مكة، وأصبح الناس، فغدوا على البيعة ليزيد، وطلب الحسين وابن الزبير فلم يوجدا.

انہوں نے کہا: حسین اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم اسی رات مکہ کی طرف نکل گئے، صبح لوگ یزید کی بیعت کے لیے آئے، حسین اور ابن زبیر کو تلاش کیا گیا، مگر وہ نہ ملے۔

[البداية والنهاية – ط دار ابن كثير:8/233]،[ تهذيب الكمال في أسماء الرجال:6/415]

عبید اللہ بن زیاد

عبید اللہ بن زیاد ایک ستم گر، سنگ دل، گستاخ اور بے وقوف انسان تھا۔

امام ابن کثیر رحمہ اللہ (المتوفی: 774ھ) فرماتے ہیں:

[وقد کانت في عبید اللہ بن زیاد جرأة وإقدام علی سفک الدماء، قتل خلقا کثیرا جدا، وکان سفیها شدیدا، وکان فیہ مبادرة إلی ما لا حاجۃ لہ بہ]

اور بلاشبہ عبید اللہ بن زیاد خون بہانے میں بڑا دلیر اور جری تھا اس نے خلقِ کثیر کو موت کے گھاٹ اتارا، وہ بڑا بے وقوف انسان تھا، ایسے کاموں میں (بھی) جلد بازی کر جاتا جن کی اسے چنداں ضرورت نہ ہوتی تھی۔ [البداية والنهاية-ط دار ابن كثير:9/37]

علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ (المتوفی:597ھ)

نے اسے  «الفاسق» قرار دیا ہے۔ [كشف المشكل من حديث الصحيحين:2/31 الرقم501]

علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد القرطبی (المتوفی:671ھ)

نے بھی اسے «الفاسق» کہا ہے۔

[التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة – ت آل زهوي:2/281]

صادق و مصدوق نبی ﷺ کا فرمان ہے:

(ھلاک أمتي علی یدی غلمۃ من قریش) میری امت کی ہلاکت قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھوں ہوگی۔ (صحیح البخاری: 3605)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: [عبيد الله بن زياد أمير الكوفة لمعاوية ولابنه يزيد وهو الذي جهز الجيوش من الكوفة للحسين بن علي رضى الله تعالى عنهما حتى قتل بكربلاء]

عبید اللہ بن زیاد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے یزید کی طرف سے کوفہ کا امیر تھا اور یہ وہی شخص ہے جس نے کوفہ سے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے لیے لشکر تیار کیے تھے حتیٰ کہ آپ کو کربلا میں شہید کر ڈالا۔ [تعجيل المنفعة:1/840 الرقم:686]

سیدنامسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

حافظ ابن حبان رحمہ اللہ

[ثم أمر عبيد الله بضرب رقبة مسلم بن عقيل، فضرب رقبة مسلم بن عقيل بكير بن حمران الأحمري على طرف الجدار، فسقطت جثته، ثم أتبع رأسه جسده]

پھر عبید اللہ بن زیاد نے مسلم بن عقیل کی گردن مارنے کا حکم دیا، چنانچہ بکیر بن حمران احمری نے دیوار کے کنارے مسلم بن عقیل کی گردن ماری، ان کا جسم گر گیا، پھر سر کو جسم کے پیچھے ڈال دیا گیا۔ [السيرة النبوية وأخبار الخلفاء من الثقات لابن حبان:2/557]

حافظ ذہبی رحمہ اللہ

امام ذہبی نے مسلم بن عقیل کے ترجمہ میں لکھا:

[فوثب عبيد الله فضربه بعنزة شك دماغه بالحائط، ثم أحضر مسلما من داره فقتله، وذلك في آخر سنة ستين]

عبید اللہ نے ہانی پر نیزہ نما لاٹھی سے حملہ کیا، یہاں تک کہ اس کا دماغ دیوار سے جا لگا، پھر مسلم کو اس کے گھر سے حاضر کرایا اور اسے قتل کر دیا، اور یہ واقعہ ساٹھ ہجری کے آخر میں ہوا۔ [تاريخ الإسلام – ط التوفيقية:(شمس الدين الذهبي)4/156]

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ

ابن کثیر نے واقعۂ حسین رضی اللہ عنہ کے سبب میں لکھا:

[فلما ظهر على ذلك عبيد الله بن زياد نائب العراق ليزيد بن معاوية، بعث إلى مسلم بن عقيل، فضرب عنقه، ورماه من القصر إلى العامة]

جب یزید بن معاویہ کے نائبِ عراق عبید اللہ بن زیاد کو اس کا علم ہوا تو اس نے مسلم بن عقیل کو بلوایا، ان کی گردن ماری، اور انہیں قصر سے عام لوگوں کی طرف پھینک دیا۔

[البداية والنهاية – ط دار ابن كثير:(ابن كثير)6/345]

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی مظلومانہ شہادت

ابن الصلاح رحمہ اللہ

ابن الصلاح نے یزید کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا:

لم يصح عندنا أنه أمر بقتله رضي الله عنه، والمحفوظ أن الآمر بقتاله المفضي إلى قتله إنما هو عبيد الله بن زياد والي العراق إذ ذاك

ہمارے نزدیک یہ ثابت نہیں کہ یزید نے حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم دیا ہو، بلکہ محفوظ بات یہ ہے کہ ان سے وہ قتال کرنے کا حکم دینے والا، جو ان کے قتل پر منتج ہوا، اس وقت عراق کا والی عبید اللہ بن زیاد تھا۔ [فتاوى ابن الصلاح:1/216]

ابن تیمیہ رحمہ اللہ

ابن تیمیہ لکھتے ہیں: إن يزيد لم يأمر بقتل الحسين باتفاق أهل النقل، ولكن كتب إلى ابن زياد أن يمنعه عن ولاية العراق.

اہلِ نقل کے اتفاق کے مطابق یزید بن معاویہ نے حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم نہیں دیا، بلکہ اس نے ابن زیاد کو لکھا کہ وہ انہیں عراق کی ولایت سے روکے۔

[منهاج السنة النبوية:(ابن تيمية)4/472]

حافظ ذہبی رحمہ اللہ

امام ذہبی نے عبید اللہ بن زیاد کے ترجمہ میں لکھا: وقد جرت لعبيد الله خطوب، وأبغضه المسلمون لما فعل بالحسين رضي الله عنه

عبید اللہ کے ساتھ بڑے واقعات پیش آئے، اور مسلمانوں نے اس سے بغض رکھا، اس کام کی وجہ سے جو اس نے حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا۔ [سير أعلام النبلاء – ط الرسالة:(شمس الدين الذهبي)3/546]

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ

ابن کثیر نے مقتلِ حسین رضی اللہ عنہ کے ضمن میں ابن زیاد کا کردار یوں ذکر کیا کہ ابن زیاد نے عمر بن سعد کو دھمکایا اور حسین رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا، پھر اس کے حکم کے مطابق پانی بند کرنے اور بیعت/حکم ماننے کا مطالبہ ہوا۔ ابن کثیر کی نقل میں یزید کا یہ قول بھی آتا ہے: [لعن الله ابن مرجانة، أما والله لو أني صاحبه لعفوت عنه، ورحم الله الحسين]

اللہ ابن مرجانہ پر لعنت کرے، اللہ کی قسم! اگر حسین میرے پاس ہوتے تو میں انہیں معاف کر دیتا، اللہ حسین پر رحم فرمائے۔

[البداية والنهاية – ت التركي:(ابن كثير)11/557]

یہاں “ابن مرجانہ” سے مراد عبید اللہ بن زیاد ہے۔ اس سے ابن کثیر کے بیان میں قتلِ حسین رضی اللہ عنہ کی عملی ذمہ داری ابن زیاد کی طرف راجع ہوتی ہے۔

ابن حبان رحمہ اللہ

ابن حبان نے اپنے تاریخی بیان میں لکھا کہ ابن زیاد نے عمر بن سعد کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی طرف نکالا: وأخرج عبيد الله بن زياد عمر بن سعد إليه فقاتله بكربلاء قتالا شديدا حتى قتل عطشانا

عبید اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو ان کی طرف روانہ کیا، تو اس نے کربلا میں ان سے سخت قتال کیا، یہاں تک کہ وہ پیاسے شہید کر دیے گئے۔

[السيرة النبوية وأخبار الخلفاء من الثقات لابن حبان:2/557، 558]

امام احمد بن عبداللہ العجلی رحمہ اللہ (المتوفی261ھ) فرماتے ہیں:

وقُتِلَ الحسين بن علي بن أبي طالب بكربلاء، قتله عُبيد الله بن زِياد

سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کو کربلا میں شہید کیا گیا، انہیں عبید اللہ بن زیاد نے قتل کرایا۔

[الثقات للعجلي ت قلعجي:ص 119 الرقم:291]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وعبيد الله لا ريب أنه أمر بقتله وحمل الرأس إلى بين يديه. ثم إن ابن زياد قتل بعد ذلك لأجل ذلك

اور عبید اللہ بن زیاد کے بارے میں اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم دیا اور آپ کا سر اپنے سامنے لانے کا حکم دیا۔ پھر ابن زیاد کو بعد میں اسی جرم کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ [مجموع الفتاوى:4/507]

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

عبيد الله بن زياد أمير الكوفة لمعاوية ولابنه يزيد وهو الذي جهز الجيوش من الكوفة للحسين بن علي رضى الله تعالى عنهما حتى قتل بكربلاء

عبید اللہ بن زیاد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے یزید کی طرف سے کوفہ کا امیر تھا اور یہ وہی شخص ہے جس نے کوفہ سے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے لیے لشکر تیار کیے تھے حتیٰ کہ آپ کو کربلا میں شہید کر ڈالا۔ [تعجيل المنفعة:1/840 الرقم:686]

نوٹ: اس حصے کے آخری تین اقوال مولانا ارشد کمال حفظہ اللہ کے مضمون (عبیداللہ بن زیاد)سے ماخوذ ہیں۔ (نور الحدیث:شمارہ جنوری تا فروری 2021 ص 30-31)

خلاصہ یہ ہےکہ:

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل میں عبید اللہ بن زیاد اصل حکومتی آمر، منتظم اور ذمہ دار تھا۔ محدثین و حفاظ کے اقوال میں صراحت ملتی ہے کہ اس نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے خلاف لشکر بھیجا، قتال کا انتظام کیا، اور آپ رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم دیا۔ اگرچہ مباشر قاتل یعنی تلوار چلانے والے افراد اس کے لشکر میں سے تھے، لیکن قتل کی نسبت ابن زیاد کی طرف اس لیے کی گئی کہ حکم، لشکر کشی اور پوری کارروائی اسی کے اختیار و انتظام سے ہوئی۔

حافظ ابن حبان رحمہ اللہ لکھتے ہیں: کہ عبید اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی طرف روانہ کیا، پھر اس نے کربلا میں آپ سے سخت قتال کیا یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ پیاسے شہید کر دیے گئے۔ اسی طرح اہلِ علم نے یہ بھی واضح کیا کہ عبید اللہ بن زیاد نے آپ رضی اللہ عنہ کے قتل اور سر کو اپنے سامنے لانے کا حکم دیا۔

لہٰذا ابن زیاد کو قاتلانِ حسین میں اس اعتبار سے شامل کیا جائے گا کہ وہ اس قتل کا آمر، منتظم اور اصل حکومتی ذمہ دار تھا، اگرچہ مباشر قاتل اس کے لشکر کے افراد تھے۔ ایسے شخص کے بارے میں اہلِ سنت کا منہج یہی ہے کہ اس کے ظلم سے براءت کی جائے؛ وہ اس قابل نہیں کہ اس سے ہمدردی، محبت یا دفاع کا رویہ اختیار کیا جائے۔ اس کا معاملہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، مگر دنیا میں اس کے ظلم کو ظلم کہنا، قاتلانِ حسین سے براءت کرنا، اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم سے محبت رکھنا اہلِ ایمان کا واضح موقف ہے۔

عمر بن سعد

امام عجلی رحمہ اللہ

عمر بن سعد بن أبي وقاص مدني ثقة، كان يروي عن أبيه أحاديث، وروى الناس عنه، وهو الذي قتل الحسين، وهو تابعي ثقة

عمر بن سعد بن ابی وقاص مدنی، ثقہ تابعی ہے، اپنے والد سے احادیث روایت کرتا تھا اور لوگوں نے اس سے روایت کی ہے، اور وہی ہے جس نے حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا۔ [الثقات للعجلي ت قلعجي: ص 357 الرقم:1230]

امام یحیی بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

قال سألت يحيى بن معين عن عمر بن سعد أثقة هو؟ فقال كيف يكون من قتل الحسين بن علي رضي الله عنه ثقة.

راوی کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے عمر بن سعد کے بارے میں پوچھا: کیا وہ ثقہ ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: جس شخص نے حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو قتل کیا ہو، وہ ثقہ کیسے ہو سکتا ہے؟ [الجرح والتعديل – ابن أبي حاتم:6/111 الرقم:592]

علامہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

إنما نسب قتل الحسين إلى عمر بن سعد لأنه كان الأمير على الخيل التي أخرجها عبيد الله بن زياد إلى قتال الحسين، [وأمر عليهم عمر ابن سعد]، ووعده أن يوليه الري إن ظفر بالحسين وقتله

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کی نسبت عمر بن سعد کی طرف اس لیے کی گئی ہے کہ وہ اس سوار لشکر کا امیر تھا جسے عبید اللہ بن زیاد نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے قتال کے لیے روانہ کیا تھا۔ عبید اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو ان پر امیر مقرر کیا تھا، اور اس سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پر قابو پا کر انہیں قتل کر دے تو اسے رَے کی حکومت دے گا۔ [الاستيعاب في معرفة الأصحاب – ت البجاوي:(ابن عبد البر)1/394 ]

حافظ ذہبی رحمہ اللہ

عمر بن سعد، أمير السرية الذين قاتلوا الحسين رضي الله عنه، ثم قتله المختار

عمر بن سعد اس لشکر کا امیر تھا جس نے حسین رضی اللہ عنہ سے قتال کیا، پھر اسے مختار نے قتل کیا۔ [سير أعلام النبلاء – ط الرسالة:(شمس الدين الذهبي)4/349]

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ

عمر بن سعد بن أبي وقاص المدني نزيل الكوفة صدوق، ولكن مقته الناس لكونه كان أميرًا على الجيش الذين قتلوا الحسين بن علي

عمر بن سعد بن ابی وقاص مدنی، ساکنِ کوفہ، صدوق ہے، لیکن لوگوں نے اس سے بغض رکھا کیونکہ وہ اس لشکر کا امیر تھا جس نے حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو قتل کیا۔ [تقريب التهذيب-(ابن حجر العسقلاني):ص 413 الرقم:4903]

نوٹ: یہ حصہ (عمر بن سعد) مولانا ارشد کمال حفظہ اللہ کے مضمون (عبیداللہ بن زیاد)سے ماخوذ  ہے۔ (نور الحدیث:شمارہ جنوری تا فروری 2021 ص 31-32)

خلاصہ یہ ہے کہ:

عمر بن سعد سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل میں اس اعتبار سے شامل تھا کہ وہ اس لشکر کا امیر اور قائد تھا جسے عبید اللہ بن زیاد نے کربلا میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے خلاف قتال کے لیے بھیجا تھا۔ اگرچہ مباشر قاتل یعنی اپنے ہاتھ سے تلوار چلانے والے افراد لشکر میں سے تھے، لیکن عمر بن سعد اس پوری کارروائی کا قائد تھا، اس لیے قتل کی ذمہ داری سے اسے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

عربی اور تاریخی اسلوب میں قتل کی نسبت صرف تلوار چلانے والے شخص ہی کی طرف نہیں ہوتی، بلکہ آمر، قائد، لشکر کے امیر اور ذمہ دار کی طرف بھی کی جاتی ہے۔ عمر بن سعد نے ابن زیاد کے حکم پر لشکر کی قیادت قبول کی، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے خلاف قتال میں حصہ لیا، اور اس ظلم سے خود کو الگ نہ کیا۔ اسی بنا پر اسے قاتلانِ حسین میں شامل کیا جائے گا۔

لہٰذا عمر بن سعد کے بارے میں اہلِ سنت کا منہج یہی ہے کہ اس کے ظلم سے براءت کی جائے۔ وہ اس قابل نہیں کہ اس کا دفاع کیا جائے، اس سے محبت یا ہمدردی رکھی جائے، یا قاتلانِ حسین میں اس کا کردار ہلکا کر کے پیش کیا جائے۔ اس کا آخرت کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، مگر دنیا میں اس ظلم کو ظلم کہنا، قاتلانِ حسین سے براءت کرنا، اور سیدنا حسین و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم سے محبت رکھنا اہلِ ایمان کا واضح موقف ہے۔

شمر بن ذی الجوشن

حافظ ابن حجر

شمر بن ذي الجوشن أبو السابغة الضبابي… ليس بأهل للرواية، فإنه أحد قتلة الحسين رضي الله عنه.

شمر بن ذی الجوشن ابو السابغہ ضبابی روایت کے قابل نہیں، کیونکہ وہ حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلوں میں سے ایک ہے۔

اسی مقام پر ابو اسحاق السبیعی کا قول بھی نقل ہے:

ثم يقول: اللهم إنك تعلم أني شريف، فاغفر لي، قلت: كيف يَغْفِر الله لك، وقد أعَنْتَ على قتل ابنِ رسول الله صلى الله عليه وسلم؟!

وہ کہتا تھا: اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں شریف ہوں، پس مجھے معاف فرما دے۔میں نے کہا: اللہ تجھے کیسے معاف کرے، جبکہ تو نے رسول اللہ ﷺ کے نواسے کے قتل میں مدد کی ہے؟

اور ابن حجر رحمہ اللہ نے شمر کے عذر پر کہا:

قلت: إن هذا لعذرٌ قبيح، فإنما الطاعة في المعروف.

یہ بہت برا عذر ہے، کیونکہ اطاعت تو صرف نیکی کے کام میں ہوتی ہے۔

[لسان الميزان-ت أبي غدة(ابن حجر العسقلاني):4/259، 260 الرقم:3826]

امام مزی رحمہ اللہ

وهو أبو شمر بن ذي الجوشن الذي شهد قتل الحسين بن علي

وہ شمر بن ذی الجوشن کا باپ ہے، وہی شمر جس نے حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے قتل میں شرکت کی۔

[تهذيب الكمال في أسماء الرجال(المزي، جمال الدين):8/525]

امام دارقطنی رحمہ اللہ

شِمْر بن ذي الجَوْشَن ، قاتل الحُسَين بن عَليّ عليه السلام ، وعلى قاتله اللعنة والغضب.

شمر بن ذی الجوشن، حسین بن علی علیہ السلام کا قاتل تھا، اور اس کے قاتل پر لعنت اور غضب ہو۔

[المؤتلف والمختلف – الدارقطني:1/518]

حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ

شمر بن ذي الجوشن… وهو تابعي، أحد من قاتل الحسين بن علي، وحدث عن أبيه.

شمر بن ذی الجوشن تابعی تھا، حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے قتال کرنے والوں میں سے ایک تھا، اور اس نے اپنے والد سے روایت کی۔

[تاريخ دمشق لابن عساكر: ج 23 ص186 الرقم:2762]

حافظ ذہبی رحمہ اللہ

شمر بن ذي الجوشن، أبو السابغة الضبابي. عن أبيه، وعنه أبو إسحاق السبيعي. ليس بأهل للرواية، فإنه أحد قتلة الحسين رضي الله عنه.

شمر بن ذی الجوشن، ابو السابغہ ضبابی، اپنے والد سے روایت کرتا ہے اور اس سے ابو اسحاق السبیعی نے روایت کی ہے۔ یہ روایت کے قابل نہیں، کیونکہ یہ حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلوں میں سے ایک ہے۔

[ميزان الاعتدال (شمس الدين الذهبي):2/280 الرقم:3742]

معلوم ہوا کہ ابن زیاد، عمر اور شمر تینوں کوفی ہیں اور تینوں قاتلینِ حسین (رضی اللہ عنہ) میں سے ہیں۔ اور ہمارا یہ چیلنج ہے کہ جس طرح ہم نے ان تین کوفی شرپسندوں کا ”قاتلینِ حسین“ ہونا جلیل القدر اہل علم جن میں یحییٰ بن معین، عجلی، ابن تیمیہ، ذہبی اور ابن حجر رحمۃ اللہ علیہم جیسے بڑے بڑے نام شامل ہیں، سے ثابت کیا ہے۔ اسی طرح کوئی ان کی براءت ثابت کر کے دکھائے۔

حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا کوفیوں کو قاتلینِ حسین قرار دینا بالکل درست تھا۔ ہمارے علم میں کوئی صحابی، تابعی یا ثقہ و صدوق محدث ایسا نہیں جس نے ابن زیاد یا اس کے ان دونوں کمانڈروں میں سے کسی کو قتلِ حسین (رضی اللہ عنہ) سے بری قرار دیا ہو۔

نوٹ: اس حصے کے آخری تین اقوال مولانا ارشد کمال حفظہ اللہ کے مضمون (عبیداللہ بن زیاد)سے ماخوذ ہیں۔ (نور الحدیث:شمارہ جنوری تا فروری 2021 ص 32-33)