مضمون کے اہم نکات
إقتضـــــاء الـــولاء للمؤمنیـن
اہل ایمان کے ساتھ محبت کے تقاضے
اہل ایمان کو اپنی ضروریات اور آرام و آسائش کے مقابلہ میں اپنے مسلمان بھائیوں کی ضروریات اور آرام و آسائش کو ترجیح دی جائے۔
[وَ الَّذِیۡنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الۡاِیۡمَانَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ یُحِبُّوۡنَ مَنۡ ہَاجَرَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَا یَجِدُوۡنَ فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ حَاجَۃً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَ یُؤۡثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ وَ لَوۡ کَانَ بِہِمۡ خَصَاصَۃٌ ؕ۟ وَ مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ]
وہ لوگ جو ایمان لا کر دارالہجرت میں پہلے ہی مقیم تھے۔ (یعنی انصار مدینہ) ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ ان کو (مال غنیمت سے) دیا جائے اس کی اپنے دلوں میں کوئی خاص حاجت محسوس نہیں کرتے اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، خواہ خود بھی محتاج ہوں۔ جو لوگ اپنے نفس کی تنگی سے بچا لئے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں۔ (سورۃ الحشر:9)
کفارکے ظلم و ستم سے تنگ آکر اپنا وطن اور گھر بار چھوڑ کر آنے والے مہاجرین کو پناہ دی جائے۔
[وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ الَّذِیۡنَ اٰوَوۡا وَّ نَصَرُوۡۤا اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ؕ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ رِزۡقٌ کَرِیۡمٌ]
وہ لوگ جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی (مہاجرین کی) وہی سچے مومن ہیں ان کے لئے مغفرت ہے اور بہترین رزق ہے۔ (سورۃ الانفال:74)
مشرق و مغرب کے تمام مسلمانوں کو آپس میں حقیقی بھائیوں کی طرح یک جان ہو کر رہیں۔
[اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَۃٌ] بے شک سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ (سورۃ الحجرات:10)
[وَ اِنَّ ہٰذِہٖۤ اُمَّتُکُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ اَنَا رَبُّکُمۡ فَاتَّقُوۡنِ] اور یہ تمہاری امت تو ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس مجھ سے ڈرو۔ (سورۃ المؤمنون:52)
[عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: إياكم والظن، فإن الظن أكذب الحديث، ولا تحسسوا، ولا تجسسوا، ولا تنافسوا، ولا تحاسدوا، ولا تباغضوا، ولا تدابروا، وكونوا عباد الله إخوانا]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدگمانی سے بچو یہ بہت بڑا جھوٹ ہے کسی کی باتوں پر کان نہ لگاؤ، جاسوسی نہ کرو، دوسرں پر(دنیا کے معاملہ میں) رشک نہ کرو، حسد نہ کرو، بغض نہ رکھو، غیبت نہ کرو اور اے اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی ہو جاؤ۔ [صحیح المسلم:2563]
اہل ایمان ایک دوسرے کے مددگار اور معاون بن کر رہیں۔
[عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا، وَشَبَّكَ أَصَابِعَهُ]
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل ایمان ایک دوسرے کے لئے عمارت کی طرح ہیں (جس کی اینٹیں ایک دوسرے میں پیوست ہوتی ہیں) عمارت کے بعض حصے دوسرے کو مضبوط بناتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں پیوست فرمادیں۔ [صحیح البخاری:481]
اہل ایمان پر واجب ہے کہ وہ اپنے مظلوم بھائی کو ظلم سے بچائیں اور ظالم کو ظلم سے روکیں۔
[عن أنس رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: انصر أخاك ظالما أو مظلوما، قالوا: يا رسول الله، هذا ننصره مظلوما، فكيف ننصره ظالما؟ قال: تأخذ فوق يديه]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ایک آدمی نے عرض کیا: اگر ہمارا بھائی مظلوم ہو تو اس کی ہم مدد کریں گے لیکن اگر وہ ظالم ہو تو پھر ہم اس کی کیسے مدد کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ظلم سے اس کا ہاتھ روک دو۔ [صحیح البخاری:2444]
تمام اہل ایمان کو ایک جسم کی طرح ہونا چاہئے اگر ایک بھائی کو تکلیف یا دکھ پہنچے تو باقی سارے مسلمانوں کو اس کی تکلیف اور دکھ کا ویسا ہی احساس ہونا چاہئے۔
[عن النعمان بن بشير، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: مثل المؤمنين في توادهم وتراحمهم وتعاطفهم، مثل الجسد إذا اشتكى منه عضو تداعى له سائر الجسد بالسهر والحمى]
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوستی، اتحاد اور شفقت کرنے کے معاملے میں اہل ایمان کی مثال ایک جسم کی سی ہے جب جسم کا کوئی ایک حصہ درد کرتا ہے تو سارے جسم کو وہ تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ بیدار ہو تو بیدار اور بخار ہو تو بخار (سارا جسم محسوس کرتا ہے۔)۔ [صحیح المسلم:2586]
[عن النعمان بن بشير، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: المسلمون كرجل واحد إن اشتكى عينه اشتكى كله، وإن اشتكى رأسه اشتكى كله]
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سارے مسلمان ایک آدمی کی طرح ہیں اگر اس کی آنکھ میں تکلیف ہو تو اس کے سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے اگر اس کے سر کو تکلیف ہو تو اس کے سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے۔ [صحیح المسلم:2586]
اہل ایمان کو اپنے مسلمان بھائی کافروں کے حوالے نہیں کرنے چاہئیں۔
مصیبت کے وقت اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کرنا تمام اہل ایمان پر واجب ہے۔
[عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أخبره، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولا يسلمه، ومن كان في حاجة أخيه كان الله في حاجته، ومن فرج عن مسلم كربة فرج الله عنه كربة من كربات يوم القيامة، ومن ستر مسلما ستره الله يوم القيامة]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے نہ خود اس پر ظلم کرے نہ کسی (ظالم) کے حوالے کرے اور جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرے گا اللہ اس کی حاجت پوری فرمائے گا اور جو اپنے مسلمان بھائی سے مصیبت دور کرے گا اللہ قیامت کے روز اس کی مصیبتوں سے ایک مصیبت دور فرما دے گا اور جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی ستر پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کی ستر پوشی فرمائے گا۔ [صحیح البخاری:2442]
اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھا جائے نہ اسے بے سہارا چھوڑا جائے۔
مسلمان بھائیوں کی جان، مال اور عزت کا تحفظ کیا جائے۔
[عن أبي هريرة، المسلم أخو المسلم لا يظلمه، ولا يخذله، ولا يحقره التقوى هاهنا، ويشير إلى صدره ثلاث مرات، بحسب امرئ من الشر أن يحقر أخاه المسلم كل المسلم على المسلم، حرام دمه، وماله، وعرضه]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے نہ اسے بے سہارا چھوڑے نہ اسے حقیر سمجھے، تقویٰ یہاں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار اپنے دل کی طرف اشارہ فرمایا پھر ارشاد فرمایا: آدمی کے برا ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھنے لگے، مسلمان کی سب چیزیں دوسرے مسلمان پر حرام ہیں اس کا خون، اس کا مال اور اس کی عزت و آبرو۔ [صحیح المسلم:2564]
اپنے مسلمان بھائیوں کے لئے وہی کچھ پسند کرنا چاہئے جو اپنے لئے پسند ہو۔
[عن أنس، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: لا يؤمن أحدكم حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے مسلمان بھائی کے لئے بھی وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ [صحیح البخاری:13]
کسی مسلمان بھائی کو اپنی زبان یا ہاتھ سے تکلیف نہ پہنچائی جائے۔
[عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے سارے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑ دے۔ [صحیح البخاری:10]
اپنے مسلمان بھائیوں کی خیر خواہی اور ہمدردی کی جائے۔
[عن جرير، قال: بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، على إقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، والنصح لكل مسلم]
سیدنا جریر بن عبداللہ (بجلی) رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر نماز قائم کرنے، زکاۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے پر بیعت کی۔ [صحیح المسلم:56]
[عن تميم الداري، أن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: الدين النصيحة، قلنا: لمن؟ قال: لله، ولكتابه، ولرسوله، ولأئمة المسلمين، وعامتهم]
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دین خیر خواہی اور وفاداری کا نام ہے۔ ہم نے عرض کیا: کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ اور اس کی کتاب سے وفاداری، اس کے رسول سے وفاداری اور مسلمانوں کے ائمہ اور تمام مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی۔ [صحیح المسلم:55]
اپنے مسلمان بھائیوں پر ہتھیار اٹھایا جائے نہ انہیں دھوکہ دیا جائے۔
[عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: من حمل علينا السلاح، فليس منا، ومن غشنا، فليس منا]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم سے نہیں اور جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ بھی ہم سے نہیں۔ [صحیح المسلم:101]
کسی مسلمان کو گالی دی جائے نہ کسی مسلمان کو قتل کیا جائے۔
[حدثني عبد الله، أن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: سباب المسلم فسوق، وقتاله كفر]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔ [صحیح البخاری:48]
[عن جرير، قال: قال لي النبي صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع :لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض]
سیدنا جریر (بن عبداللہ بجلی) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں ارشاد فرمایا: میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں مار کر کافر نہ بن جانا۔ [صحیح المسلم:65]
کسی مسلمان کو کافر نہ کہا جائے۔
[عن ابن عمر، أن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: إذا كفر الرجل أخاه ، فقد باء بها أحدهما]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنے بھائی کو کافر کہے تو وہ کفر ان دونوں میں سے کسی ایک پر ضرور پلٹتا ہے۔ [صحیح المسلم:60]
کسی مسلمان کو امان دینے کے بعد اس سے غداری نہ کی جائے۔
[عن عمرو بن الحمق الخزاعي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أمن رجلا على دمه فقتله، فإنه يحمل لواء غدر يوم القيامة]
سیدنا عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی کو جان کی امان دینے کے بعد قتل کیا وہ قیامت کے دن غداری کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہوگا۔ [سنن ابن ماجۃ:2688]
کفار کی قید میں مسلمان مجاہدین کی رہائی کے لئے دعا کی جائے اور ظالم کفار و مشرکین کے لئے بددعا کی جائے۔
[عن أبي هريرة، أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا قال: سمع الله لمن حمده في الركعة الآخرة من صلاة العشاء قنت اللهم أنج عياش بن أبي ربيعة، اللهم أنج الوليد بن الوليد، اللهم أنج سلمة بن هشام، اللهم أنج المستضعفين من المؤمنين، اللهم اشدد وطأتك على مضر، اللهم اجعلها عليهم سنين كسني يوسف]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد سمع اللٰہ لمن حمدہٗ کہتے اور بڑی عاجزی سے یہ دعا فرماتے: یا اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو (کافروں کی قید سے) چھڑا دے، یا اللہ! ولید بن ولید کو (کافروں کی قید سے) چھڑا دے، یا اللہ! سلمہ بن ہشام کو (کافروں کی قیدسے) چھڑا دے، یا اللہ! کمزور اور دبے ہوئے مسلمانوں کو (کافروں کی قید سے) چھڑا دے، یا اللہ! قبیلہ مضر کے کافروں کو شدید عذاب میں مبتلا فرما اور انہیں کچل کے رکھ دے، یا اللہ! ان پر سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسا قحط نازل فرما۔ [صحیح البخاری:6393]
وضاحت:
یاد رہے سیدنا سلمہ بن ہشام رضی اللہ عنہ ابوجہل کے صلبی بھائی تھے۔ اسلام لائے تو ابوجہل نے انہیں قید میں ڈال دیا، سیدنا عیاش رضی اللہ عنہ ابوجہل کے رضاعی بھائی تھے، ہجرت کر کے مدینہ منورہ چلے گئے تو ابوجہل انہیں دھوکہ سے مکہ لے آیا اور جیل میں سیدنا سلمہ کے ساتھ قید کر دیا، ولید بن ولید بن مغیرہ بدر کے قیدیوں میں شامل تھے، بھائیوں نے فدیہ دے کر چھڑوایا اور مکہ کی راہ لی۔ دوران قید اللہ تعالیٰ نے ولید کا دل اسلام کے لئے کھول دیا، لہٰذا راستے سے بھائیوں کی نظر بچا کر مدینہ منورہ واپس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے۔ اسلام لانے کے بعد مکہ گئے تو کافروں نے سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عیاش رضی اللہ عنہ کے ساتھ جیل میں بند کر دیا تھا جہاں ان تینوں حضرات کو اسلام قبول کرنے کے جرم میں شدید اذیتیں دی جاتیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم راہ حق کے ان تینوں قیدیوں کی رہائی کے لئے دعا فرماتے جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا اور تینوں صحابہ رہا ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے۔
کفار سے برسر جنگ مجاہدین کے لئے دعائیں مانگی جائیں۔
① [عن عبد الله بن أبي أوفى يقول: دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم على الأحزاب فقال: اللهم منزل الكتاب، سريع الحساب، اهزم الأحزاب، اللهم اهزمهم وزلزلهم]
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے لشکروں کے خلاف یوں دعا فرمائی: اے اللہ! کتاب نازل فرمانے والے، جلد حساب لینے والے، لشکروں کو شکست دینے والے، دشمن کو شکست دے اور ان کے پاؤں ڈگمگادے۔ [سنن ابن ماجۃ:2796]
② [عن أنس بن مالك، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا غزا قال: اللهم أنت عضدي ونصيري بك أحول وبك أصول وبك أقاتل]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ کرتے تو فرماتے: اے اللہ! تو ہی میرا بازو ہے تو ہی میرا مددگار ہے تیری توفیق سے ہی میں چلتا پھرتا ہوں، تیری مدد سے ہی حملہ کرتا ہوں اور تیرے سہارے پر ہی لڑتا ہوں۔ [سنن ابی داؤد:2632]
③ [عن ابی سعید الخدری قال: قلنا يوم الخندق يا رسول الله، هل من شيء نقوله فقد بلغت القلوب الحناجر؟، قال: نعم، اللهم استر عوراتنا، وآمن روعاتنا، قال: فضرب الله عز وجل وجوه أعدائه بالريح، فهزمهم الله عز وجل بالريح]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں خندق کے دن ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا کوئی ایسی چیز ہے جسے ہم (ان حالات میں) پڑھیں کیونکہ (خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے لوگوں کے) کلیجے حلق کو آگئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہاں (کہو) یااللہ! ہمارے عیوب ڈھانپ لے اور ہمیں گھبراہٹ سے امن دے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (اس کے بعد) اللہ تعالیٰ نے (تیز) ہوا کے ذریعہ دشمنوں کے منہ پھیر دیئے اور اس ہوا کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کو شکست دے دی۔ [مسند احمد:10996]
④ [عن ابی موسی رضي اللہ عنہ، أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا خاف قوما، قال: اللهم إنا نجعلك في نحورهم، ونعوذ بك من شرورهم]
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی آدمی یا کسی قوم سے خوف محسوس کرتے تو فرماتے: یا اللہ! ہم کفار کے مقابلے میں تجھے آگے کرتے ہیں اور ان کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔ [سنن ابی داؤد:1537]
❀ [وعن عطاء، أنه سمع عبيد بن عمير، يؤثر عن عمر بن الخطاب، في القنوت: «اللهم اغفر للمؤمنين والمؤمنات، والمسلمين والمسلمات، وألف بين قلوبهم، وأصلح ذات بينهم، وانصرهم على عدوك وعدوهم، اللهم العن الكفرة أهل الكتاب الذين يكذبون رسلك، ويقاتلون أولياءك، اللهم خالف بين كلمهم، وزلزل أقدامهم، وأنزل بهم بأسك الذي لا ترده عن القوم المجرمين]
حضرت عطاء رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عبید بن عمیر رحمۃ اللہ علیہ کو ذکر کرتے ہوئے سنا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے قنوت میں یہ دعا مانگی ’’یا اللہ!مومن مردوں اور مومن عورتوں کو،مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو بخش دے ان کے دلوں میں الفت ڈال دے اور ان کی آپس میں اصلاح فرمادے۔اپنے اور ان کے(مشترکہ)دشمن کے خلاف ان کی مدد فرما،اے اللہ!اہل کتاب میں سے ان کافروں پر اپنی لعنت فرما جو تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور تیرے دوستوں سے جنگ کرتے ہیں،اے اللہ!ان کے معاملات میں اختلاف ڈال دے ان کے قدم ڈگمگا دے اور ان پر ایسا عذاب نازل فرما جسے تو مجرم لوگوں سے پھیرتا نہیں۔ [مختصر قيام الليل للمروزي: ص:321]
ضرر عدم الولاء للمؤمنین
اہل ایمان سے دوستی نہ کرنے کا نقصان
اہل ایمان ایک دوسرے کی نصرت، حمایت اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے تو زمین میں بڑے بڑے فتنے اور فساد برپا ہوں گے۔
[وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ اِلَّا تَفۡعَلُوۡہُ تَکُنۡ فِتۡنَۃٌ فِی الۡاَرۡضِ وَ فَسَادٌ کَبِیۡرٌ]
کافر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں، اگر تم ایک دوسرے کی حمایت نہ کرو گے تو زمین میں بڑا فساد برپا ہوگا۔ (سورۃ الانفال:73)