مقدمہ کتاب: ڈاکٹر اسرار صاحب کا نظریہ توحید الوجودی اور اس کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو عمر عبدالعزیز النورستانی اور دیگر اہلحدیث علماء کے مرتب کردہ رسالہ "ڈاکٹر اسرار صاحب کا نظریہ توحید الوجودی اور اس کا شرعی حکم” سے ماخوذ ہے۔

ابتدائیہ

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

اسلام کی ابتداء غربت اور اجنبیت کی حالت میں ہوئی پھر ویسی حالت طاری ہو جائے گی۔ پس خوشخبری ہے غریب اور اجنبی لوگوں کے لیے۔ [صحیح المسلم:145]

چنانچہ جب اسلام کی ابتداء ہوئی تو یہ اپنے مخصوص نظریات کی وجہ سے اجنبی تھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی پورے معاشرے میں اجنبی بن کر رہ گئے تھے۔ آج اسلام بعینہ اسی مقام پر آن کھڑا ہے۔ آسمانی اسلام کی بجائے مسلمانوں کی اکثریت کے اندر اسلام کی عوامی تعبیر کا سکہ چلتا ہے، کتاب و سنت سے ہمارا رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔ اور مسلمانوں کی اکثریت غیر اسلامی نظریات کے ملبے تلے دفن ہو چکی ہے۔ توحید اسلام کا بنیادی اور اہم ترین عقیدہ ہے، یعنی اللہ تعالٰی اپنی ذات و صفات اور احکامات میں ہر طرح کی شراکت سے مبرّا ہے۔ آج اسلام کے دعویداروں کی اکثریت توحید باری تعالیٰ کو چھوڑ کر شرک و کفر میں مبتلاء ہو چکی ہے۔ شرک و کفر پھیلنے کی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ محی الدین ابن عربی کا فلسفہ وحدۃ الوجود ہے۔ اس کی وجہ سے اسلام میں الحاد کے دروازے کھلے، کشف و کرامات کے بے سند واقعات نے اسلام کی بنیادوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ قرآن وسنت کے علم کو علم ظاہری کہہ کر علم اور علماء کا مذاق اڑایا گیا۔ طریقت کے نام پر شریعت کے مقابلے میں ایک نیا دین گھڑا گیا۔ شریعت کی تحقیر اور اسے طریقت سے کمتر سمجھنے کا رحجان عام ہوا۔ من گھڑت موضوع روایات نے نظریہ توحید میں شک پیدا کر دیا۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[فمن اضرها على الاسلام الفرقه القائلة بوحدة الوجود]

اسلام میں جتنے باطل مکاتب فکر موجود ہیں۔ ان میں سے جس نے اسلام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ وہ [ابن عربی کا نظریہ] وحدۃ الوجود ہے۔

[بغية المرتاد في الرد على المتفلسفة والقرامطة والباطنية [ابن تيمية] ص 4]

رسول اللہ ﷺنے ان اجنبی لوگوں کو خوشخبری دی ہے۔ جو کفر و شرک کی آندھیوں کے تھپیڑوں میں کلمہ توحید کو بلند کریں گے۔ اور الحمد للہ علمائے کرام ہر دور میں ان باطل نظریات کا رد کرتے آئے ہیں۔ خصوصا جب امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ان کے ہونہار شاگرد امام ابن قیم رحمہ اللہ نے محسوس کیا کہ ابن عربی کی شخصیت بہت سے علماء کے لیے فتنے کا باعث بنی ہوئی ہے، اور انہوں نے وحدۃ الوجود جیسے کفر کو ابن عربی کی وجہ سے قبول کر لیا ہے، تو انہوں نے نہ صرف وحدة الوجود کا رد کیا بلکہ ابن عربی کو بھی گمراہ ثابت کیا۔ یہی طرز عمل شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ اور ان کے ہم منہج علماء کا ہے۔

افسوس اس بات پر ہے کہ پاک و ہند میں بہت سے توحید کے دعویدار بھی وحدۃ الوجود کے کفر میں ملوث ہیں۔

سید ابوالحسن علی ندوی لکھتے ہیں:

یہ ایسا مسئلہ ہے کہ جس کا اثر ابن عربی کے زمانہ کے بعد اتنا ہمہ گیر بلکہ عالم گیر تھا کہ کہا جا سکتا ہے کہ صوفیہ، فلاسفہ اور شعراء میں نوے فیصد اس کے قائل یا اس سے مرعوب ہو کر اس کے ہم نواء بن گئے ہیں۔ [تاریخ دعوت و عزیمت، ج 4، ص275]

تصوف کے شرکیہ عقائد کو اس لیے بھی اسلامی سمجھا گیا۔ کہ ان کی نسبت ان لوگوں کے ساتھ ہے جو یہاں مشاہیر امت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ ان مشرکانہ نظریات کو اگر ان ہستیوں سے علیحدہ کر دیا جائے تو یہاں ان نظریات کا انکار کرنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ مگر جو نہی یہ نظریات ان شخصیات کے نام سے سامنے آتے ہیں تو کئی ایک توحید کے دعویدار بھی انتہائی بودی تاویلات کا سہارا لے کر ان باطل نظریات کی تائید کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ لہذا آج ان نظریات کے خلاف قلمی جہاد کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تا کہ وہ لوگ جو ان مشاہیر کے شاندار اسلامی کارناموں کی وجہ سے ان سے وابستگی کو شجر سلف سے پیوستگی گردانتے ہوئے انہیں مسلمانوں کے لیے نمونہ قرار دیتے ہیں۔ باخبر ہو جائیں کہ ان کی آڑ لے کر شرک معاشرہ میں بہت سوں کو گمراہ کر چکا ہے۔ لہٰذا جب تک علمی حقائق کے ساتھ وحدۃ الوجود کو منہدم نہ کیا جائے عصر حاضر میں نظریہ توحید کا اچھی طرح تحفظ نہیں ہو سکتا۔

اسی خیر خواہی کے جذبہ کے تحت میں نے ڈاکٹر اسرار احمد (جو موجودہ دور میں ابن عربی کے علمی اور روحانی مقام کے زبردست قائل ہیں) کی وحدۃ الوجود پر مبنی تحریروں کو علماء حقہ کی خدمت میں بھیجا تاکہ نئی نسل اس شرکیہ نظریہ کو اپنانے سے بچ جائے، جو دین کے نام پر بہت سے صوفیا میں تو پایا جا رہا ہے۔ جبکہ کتاب وسنت کی پاکیزہ تعلیمات کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد کا قائم کردہ ادارہ انجمن خدام قرآن سندھ کراچی مطالعہ قرآن حکیم کا منتخب نصاب حصہ ششم شائع کر رہا ہے۔ جس میں وحدۃ الوجود کے شرکیہ عقیدہ کا کھل کر اظہار ہے، اسی طرح اسرار صاحب کی سورۃ الحدید کی تفسیر کی آڈیو، ویڈیوز، سی ڈی ، کیسٹ اور کتاب کی تشہیر و اشاعت مکتبہ خدام القرآن لاہور کر رہا ہے۔ جس میں وحدۃ الوجود کا کفریہ عقیدہ موجود ہے۔

الحمد للہ علمائے کرام نے ڈاکٹر اسرار احمد کی تحریرات کا خوب رد کیا۔ اور ڈاکٹر اسرار کے اس نظریہ کو بے نقاب کر کے ثابت کیا کہ کتاب وسنت کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔ لہذا اس عقیدہ کو ماننے والے اللہ کے حضور توبہ کریں اور توحید کے تصور سے آشنا ہو کر اپنی عاقبت کو سنواریں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 17 نومبر 2008 بروز پیر کو ہماری طرف سے کچھ دوست ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کے بیٹے عاکف سعید صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور علمائے کرام کے یہ جوابات ڈاکٹر صاحب کے بیٹے کے حوالے کر دئیے تا کہ وہ اس تحریر کو احسن انداز سے ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں پیش کریں۔ شاید کہ وہ رجوع فرما کر اپنے لئے اور اپنے ان ساتھیوں کے لئے جو ان نظریات کو صرف ڈاکٹر صاحب کے ساتھ متعلق ہونے کی وجہ سے باطل نہیں کہہ پاتے، بھلائی و مغفرت کا سبب بنیں۔ چونکہ ڈاکٹر صاحب کی دعوت عمومی طور پر قرآن فہمی اور توحید کی دعوت ہی تھی اور بہت سے مسلمانوں کو اس دعوت نے شرک و بدعت و خرافات سے توحید کی طرف نکالا اس لئے ان کے ساتھی جن میں صالحین کی کثرت ہے، اور وہ خود اس بات کے سب سے زیادہ مستحق نظر آئے کہ ان کو اس انتہائی ہلاکت خیز نظریہ سے خبردار کر دیا جائے۔ خاص کر جب اسے تنظیم اسلامی کے نصاب میں بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ اور ڈاکٹر صاحب کی سورۃ الحدید کی تفسیر میں بھی شرح وبسط اس کا بیان موجود ہے۔ پھر شخصیت کی محبت و تعظیم ان میں سے کئی ایک کو اس عقیدہ کو شرک قرار دینے سے روکے ہوئے ہے۔ اگر وہ اسے شرک مان بھی لیتے ہیں تو یہ کہا کرتے ہیں کہ یہ ڈاکٹر صاحب کا فلسفہ ہے عقیدہ نہیں۔ ہم نے تقریباً ایک سال انتظار کیا اور ڈاکٹر صاحب کے رجوع کرنے کی دعائیں کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آن پہنچا اور وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

میرا سوالنامہ اور علمائے کرام کے جوابات قارئین کی خدمت میں پیش کئے جا رہے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ابن عربی اور ان سے متاثر قائلين وحدة الوجود کی تحریرات اتنی بدنام ہو جائیں کہ کسی سلیم الفطرت کا ان کتب سے متاثر ہو کر گمراہ ہونے کا کوئی امکان ہی باقی نہ رہے۔

توحید وجودی کے متعلق علمائے اہل سنت سے ایک سوال

ڈاکٹر اسرار احمد صاحب پاکستان کے معروف مفسر قرآن ہیں۔ مسلمانوں کا ایک بڑا حلقہ ان کے دروس قرآن سے مستفید ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے سورۃ الحدید کی تفسیر بیان کی اور ان کے ساتھی حافظ خالد محمود خضر صاحب نے کیسٹوں کی مدد سے اس تفسیر کو شائع کیا اور شائع شدہ تفسیر  أم المسبحات یعنی سورة الحدید کی مختصر تشریح[از: ڈاکٹر اسرار احمد۔ مرتب: حافظ خالد محمود خضر- مکتبہ خدام القرآن لاہور ، 36- کے ماڈل ٹاؤن لاہور، فون: طبع اوّل جون 2005 کی تقدیم خود ڈاکٹر اسرار صاحب نے کی]۔ انہوں نے سورۃ الحدید کی تفسیر میں [هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِن] کی تشریح کرتے ہوئے جہاں کائنات کے عین اللہ ہونے کی نفی کی وہیں اس کائنات کے غیر اللہ ہونے کا بھی انکار کیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ماہیت کے اعتبار سے خنزیر، کتا، ابلیس اور فرعون تک کے غیر اللہ ہونے کی [معاذ اللہ] نفی ہو گئی۔ ابن عربی کے حوالے سے ڈاکٹر اسرار صاحب نے اس نظریہ کو قبول کیا اور خود ہی ان مسئلوں کو مشکل ترین قرار دیا اور یہ اجازت دی کہ آپ چاہیں تو توحید وجودی اور وحدت الوجود کو دماغ کا خلل قرار دیں لیکن اسے کفر و شرک نہ کہیں۔ [ص:61]

گزارش ہے کہ آپ مسلمانوں کی رہنمائی کرتے ہوئے فرمائیے کہ کیا ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کا بیان کردہ فلسفہ، کفر و شرک ہے یا نہیں؟ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)

خالق اور مخلوق یعنی کائنات میں باہم نسبت کیا ہے؟ اس فلسفہ کو بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب درج ذیل نظریات کا رد کرتے ہیں:

① ہندو فلاسفی جو خالق اور مادہ دونوں کو قدیم مانتے ہیں۔

② کچھ لوگ اللہ تعالٰی، مادہ اور روح تینوں کو قدیم مانتے ہیں۔

کچھ لوگوں نے یہ ربط یوں بیان کیا کہ اللہ تعالی ہی نے اس کا ئنات کا روپ دھار لیا ہے۔ جیسے برف پگھل جائے تو پانی بن جاتا ہے، چنانچہ اس نظریے کی رو سے یہ کائنات ہی خدا ہے۔ اس سے بڑا شرک اور کیا ہو گا یہ ہمہ اوست کا نظریہ ہے۔ [صفحہ:52] ان فلسفوں کو رد کرنے کے بعد انہوں نے توحید وجودی کا نظریہ پیش کیا۔ ڈاکٹر اسرار نے توحید وجودی سمجھانے کے لئے جو کچھ بیان کیا اس کے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیے:

اس کی بہترین تعبیر مناظر احسن گیلانی نے اپنی کتاب الدین القیم میں کی ہے:

خالق اور مخلوق میں نسبت کو یوں سمجھئے کہ کسی شے کا تصور اپنے ذہن میں قائم کیجیے۔ فرض کیجیے آپ نے تاج محل دیکھا ہے۔ اب آپ تاج محل کا تصور اپنے ذہن میں لائیے۔ آپ کے ذہن میں یہ تصور آپ کی توجہ سے قائم ہے۔ جب تک آپ کی توجہ مذکور رہے گی۔ یہ تصور ذہن میں رہے گا۔ جیسے ہی توجہ ہٹے گی اس کا کوئی وجود باقی نہیں رہے گا۔ وہ ختم ہو جائے گا۔ یہ جو آپ کی ذہنی تخلیق ہے۔ آپ ہی اس کے نیچے بھی ہیں، اوپر بھی، اول بھی ہیں اور آخر بھی۔ اس کا اپنا تو کوئی وجود ہے ہی نہیں۔ وجود تو در حقیقت آپ کا ہے۔ یہ آپ کا ایک تصور ہے جو آپ نے اپنے ذہن کے اندر تخلیق کیا ہے۔ بالکل یہی تعلق ہے اس کا ئنات اور خالق کا۔ یہ کائنات کوئی علیحدہ شے نہیں ہے گویا اس کا اپنا کوئی وجود نہیں ہے۔

اب اسی توحید وجودی کی ایک اور تعبیر شیخ احمد سرہندی نے کی کہ یہ کائنات ہمیں نظر تو آرہی ہے لیکن حقیقت میں اس کا وجود نہیں ہے۔ وجود ایک ہی ہے وہ اللہ کا وجود ہے۔ انہوں نے اس کی مثال یہ دی ہے کہ آپ ایک لکڑی لے کر اس کے ایک سرے پر کوئی کپڑا باندھ دیں اور مٹی کا تیل ڈال کر دیا سلائی سے آگ لگا دیں تو اب ایک مشعل آپ کے ہاتھ میں ہے اسے ایک دائرے میں تیزی سے حرکت دیجئے تو دیکھنے والے کو ایک آتش دائرہ نظر آئے گا۔ جب کہ دائرے کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں۔

ہر چند کہیں کہ ہے ، نہیں ہے

وجود تو صرف اس ایک شعلہ جوالہ کا ہے، باقی حرکت کی وجہ سے بہت کچھ نظر آ رہا ہے جو فی الواقع موجود نہیں۔ اس کو کہا گیا ہے۔

كل ما في الكون وهم او خيال

او عكوس في المرايا او ظلال

یعنی اس کائنات میں جو کچھ نظر آ رہا ہے، یہ حقیقی نہیں ہے، اس کی حقیقت تو بس وہم اور خیال کی ہے یا بس اتنی ہی ہے جیسے سائے ہوتے ہیں یا جیسے آئینہ میں عکس ہوتا ہے۔

وجود تو اس شے کا ہے جس کا عکس ہے۔ خود عکس کا کوئی وجود نہیں تو حقیقی وجود صرف اللہ تعالی کا ہے۔ یہ نظریہ وحدت الشہود ہے۔ اس میں یہ بات ماننی پڑے گی کہ یہ کائنات جو نظر آ رہی ہے حقیقی وجود کی حامل نہیں بقول غالب:

ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد

عالم تمام حلقہ دام خیال ہے

توحید وجودی کی ایک دوسری تعبیر بھی ہے جو ابن عربی نے کی ہے اور یہ بہت زیادہ دقیق تعبیر ہے اس لیے کہ Pantheism اور ابن عربی کے نظریہ وحدت الوجود میں بہت باریک فرق ہے۔ جسے عام انسان کے لیے ملحوظ رکھنا آسان نہیں ہے۔ ابن عربی کا نظریہ یہ ہے کہ خالق اور کائنات کا وجود تو ایک ہی ہے۔ ماہیت کے اعتبار سے کائنات عین وجود باری تعالٰی ہے۔ لیکن جہاں تعین ہو جاتا ہے وہاں وہ غیر ہو جاتا ہے۔

شیخ احمد سرہندی گیارھویں صدی ہجری کے مجدد اعظم ہیں۔ جبکہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی بارہویں صدی ہجری کے مجدد اعظم ہیں۔ ان کے مابین قریباً ایک سو سال کا فرق ہے شاہ ولی اللہ دہلوی نے اس ضمن میں جو فیصلہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ ابن عربی کا نظریہ وحدت الوجود اور شیخ احمد سرہندی کے نظریہ وحدت الشہود کے مابین صرف تعبیر کا فرق ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ اور اسے خود شاہ صاحب نے توحید وجودی سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی وجود حقیقی ایک ہی ہے اور وہ اللہ کا ہے لیکن جہاں کسی شے کا علیحدہ تشخص ہو گیا وہ اللہ کا غیر ہے، وہ خدا نہیں ہے۔ تاہم ماہیت وجود خالق اور مخلوق کے درمیان ایک مشترک قدر کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ہے وحدت الوجود اور وحدت الشہود کا نظریہ جسے شاہ ولی اللہ نے توحید وجودی سے تعبیر کیا ہے۔ اور اس کی تعبیر لا معبود الا اللہ اور بلند تر سطح پر لا مقصود الا اللہ، لا مطلوب الا اللہ اور لا محبوب الا اللہ ہے۔ مزید او پر جا کر اسی کی تعبیر لا موجود الا اللہ سے کی جاتی ہے۔ یعنی اللہ کے سوا وجود حقیقی اور کسی کا نہیں، وجود حقیقی صرف اللہ کا ہے البتہ جیسے سمندر کے او پر بننے والی لہریں اگر چہ الگ نظر آتی ہیں لیکن در حقیقت وہ سمندر ہی کا حصہ ہیں اسی طرح وجود بسیط خالق اور مخلوق کے درمیان مشترک ہے۔ البتہ جب کوئی وجود معین ہو کر کوئی شکل اختیار کر لیتا ہے تو وہ خالق کا غیر ہو جاتا ہے۔ یہاں سے یہ شے ہمہ اوست سے الگ ہو جاتی ہے۔ [صفحہ:55]

اس کے بعد ڈاکٹر اسرار صاحب وحدت الوجود کے بارے میں اپنا موقف یوں بیان کرتے ہیں:

شیخ ابن عربی کے بارے میں میں عرض کر چکا ہوں کہ جہاں تک حقیقت و ماہیت وجود کے بارے میں ان کی رائے کا تعلق ہے میں اس سے متفق ہوں اور میرا مسلک بھی وہی ہے۔ [صفحہ:91]

یہ سلسلہ کون ومکان اللہ تعالی کے ایک امر ،،کن،، کا ظہور ہے ،،کن،، کیا ہے؟ کلام ہے، کلمہ ہے اور کلام متکلم کی صفت ہوتا ہے گویا کہ حرف ،،من،، اللہ کی صفت ہے اور صفت کے بارے میں متکلمین کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ،،لا عین ولا غیر،، اس کا منطقی نتیجہ یہ برامد ہوتا ہے کہ یہ کائنات نہ اللہ کا عین ہے اور نہ غیر ہے۔ اور یہی بات ہے جو شیخ ابن عربی کہہ رہے ہیں: [من وجه عين و من وجه آخر غیر] کہ ایک اعتبار سے یہ عین ہیں اور ایک عدبار سے غیر ہیں۔ ماہیت وجود میں اتحاد ہے لیکن جہاں بھی تعین ہوگا اور مختلف چیزوں کا وجود مان لیا جائے گا تو وہ اللہ کا غیر ہے۔ یہی مسلک ابن عربی کا ہے اور اس مسئلہ میں میری ہی توجیہہ ہے۔ [صفحہ:94]

پھر لکھتے ہیں: لیکن جو حقیقت ہے وہ ہمہ اوست کی وہ تعبیر ہے، جو خود شیخ ابن عربی نے کی ہے یعنی وحدت الوجود ہمہ اوست اور وحدت الوجود کے درمیان ایک باریک فرق ہے۔ جو اگر ملحوظ نہ رہے تو بڑا خطرہ ہے۔ ذراسی اگر بے احتیاطی ہو جائے تو انسان کفر و شرک میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ یہ راستہ بہت خطرناک ہے۔ اور ویسے بھی اول تو اس حد تک رسائی بہت کم لوگوں کی ہوتی ہے۔ پھر اگر کوئی پہنچ بھی جائے تو اسے یہ احساس ہضم کرنا بہت مشکل ہے۔

مجھے سلطان باہو کا وہ مصرعہ یاد آ رہا ہے کہ:

جان پھلن تے آئی ہوا

واقعہ یہ ہے کہ جب انسان کو وحدت الوجود کا احساس ہوتا ہے۔ تو وہ اپنے اندر ایک ایسی کیفیت محسوس کرتا ہے، کہ اس کو ضبط میں لے آنا اور اپنی شخصیت کو اپنے مقام پر برقرار رکھنا آسان کام نہیں ہے۔ پھر یا تو وہ ہوگا جو منصور الحلاج اور سرمد کے ساتھ ہوا تھا،کہ انہوں نے انا الحق کا نعرہ لگا دیا یا ایک اور بڑی پیاری کیفیت [کا طاری ہونا] ہے جس کا شیخ سعدی نے بڑے خوبصورت الفاظ میں ذکر کیا ہے:

آن را که خبر شد خبرش نیامد

کہ جو شخص یہاں تک پہنچ گیا تو پھر اُس کی خیر نہیں۔

یعنی پھر وہ خاموش ہو جائے گا کیونکہ زبان کھولنے میں خطرہ ہے، اند یشہ ہے۔ [صفحہ:80]

اب آپ سے گزارش ہے کہ آپ اللہ کی خاطر دین حقہ کی وضاحت کرتے ہوئے رہنمائی کیجیے کہ ڈاکٹر اسرار احمد نے مناظر احسن گیلانی، شیخ احمد سرہندی، ابن عربی اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے حوالے سے جو کچھ لکھا اور وحدت الوجود کے بارے میں ڈاکٹر صاحب نے اپنا جو موقف بیان کیا ہے کیا وہ فلسفہ کفر و شرک ہے یا نہیں؟ ڈاکٹر اسرار صاحب اس تفسیر میں یہ بھی بیان کرتے ہیں، کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ منبر پر کھڑے تقریر کر رہے تھے، اور ان لوگوں کی نفی کرتے ہوئے ایک ایک سیڑھی کر کے نیچے اترے اور کہا کہ اللہ ایسے اترتا ہے جیسے میں اترا ہوں۔ کیا واقعی ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا یہی موقف تھا تو انہوں نے کس کتاب میں اپنے اس عقیدے کا اظہار کیا؟ جواب دے کر عنداللہ ماجور ہوں!