کیا علمِ حدیث نے مسلمانوں کو قرآن، ترقی اور سائنسی علوم سے دور کیا؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

چوتھا شبہ

احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حجت ماننا اور اس میں مصروف رہنا قرآن کریم سے حجاب ہے۔ منکرینِ حدیث کا نظریہ ہے: ”اس حدیث کو دین بنانے سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ قرآن جو سراسر زندگی ہے حجاب میں آ گیا ہے، چنانچہ محدثین میں آج تک جو اہم اور معرکہ آرا موضوع زیر بحث رہے ہیں بالعموم اس قسم کے ہیں جن کا ملت کی صلاح و فلاح اور اجتماعی زندگی سے کوئی تعلق نہیں، مثلاً: ابوبکر افضل ہیں یا علی، یہ قرآن مخلوق ہے یا غیر مخلوق، رات کے پچھلے پہر اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر کس طرح نزول فرماتا ہے؟ قیام نماز میں ہاتھوں کو باندھنا چاہیے یا نہیں؟ کیا امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنا ضروری ہے؟ آمین زور سے کہی جائے یا آہستہ وغیرہ بخلاف اس کے اگر قرآن پر مدار ہوتا تو اس ترتیب کے مسائل پیش نظر رہتے کہ مرکز کو قومی اور صالح العمل کیوں کر رکھا جائے۔ قرآنی ہدایت عام کرنے اور جملہ انسانی برادری کو اس نجات اور سعادت کے راستے پر لانے کے کیا وسائل ہیں؟ کائنات فطرت جن کی نسبت قرآن نے کہا ہے کہ انسان کے لیے مسخر کیے گئے ہیں ان کی مخفی قوتوں کو کن تدابیر سے قابو میں لاکر انسانی خدمت میں لگایا جا سکتا ہے؟ ایمان اور عمل صالح کو کن ذرائع سے ایسا فروغ دیا جائے کہ ملت کا ہر فرد خلیفہ فی الارض ہو سکے جس کے لیے اس کی تکوین ہوئی ہے وغیرہ وغیرہ۔“

جواب:

اس عبارت میں حافظ اسلم نے محدثین کی دینی و ملی خدمات کو بالائے طاق رکھ کر ان کی مساعی جمیلہ کو مختلف انداز میں پیش کر کے تین چیزیں بیان کی ہیں۔
1۔ فضیلت ابوبکر و علی رضی اللہ عنہما
2۔ اللہ تعالیٰ کا آسمان دنیا پر نزول فرمانا اور خلق قرآن
3۔ فروعی اختلافات
حقیقت یہ ہے کہ یہ انفرادی مسائل نہیں بلکہ ملت کا اجتماعی مفاد صحیح عقیدے پر مبنی ہے اور بدعقیدگی سے ملت میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔ محدثین نے بدعی عقائد کے سامنے سینہ سپر ہو کر ملت کو انتشار سے بچانے کی کوشش کی۔ آئیے! اب ترتیب وار تینوں متذکرہ مسائل کا جائزہ لیتے ہیں۔
❀ پہلا مسئلہ: جب ابن سبا یہودی نے نسلی اور نبی قرابت کو امامت اور وصایت کے سبب کا عقیدہ رائج کرنے کی کوشش کی تو اس سے یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ کون افضل ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ یا علی رضی اللہ عنہ؟ اگر نسبی و نسلی قرابت کو اصل دین سمجھ لیا جاتا تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ تینوں خلفاء ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کی خلافت ناجائز اور ظلم بن جاتی۔ یہ سیاسی اور اجتماعی نوعیت کا مسئلہ تھا، چنانچہ محدثین کرام نے اس مسئلے کو زیر بحث لا کر اس بدعی عقیدے کے خلاف حق کا دفاع کر کے امت پر عظیم احسان کیا ہے۔
❀ دوسرا مسئلہ خلق قرآن اور اللہ تعالیٰ کا آسمان دنیا پر نزول فرمانا صفات الہیہ کے اعتقادی مسائل ہیں۔ منکرین حدیث معتزلہ اور جہمیہ نے یہ مسائل امت میں انتشار پیدا کرنے کے لیے چھیڑے۔ مامون الرشید نے، جو پکا معتزلی تھا، خلق قرآن کے مسئلے پر بیشتر علمائے حق کے خون سے اپنے ہاتھ رنگین کیے۔ غیر معتزلہ کو سرکاری ملازمتوں سے برطرف کیا۔ ان کی گواہیوں کو غیر معتبر قرار دیا۔ محدثین نے اس انتشار سے امت کو بچانے اور حق کے دفاع کے لیے ایسی شاندار جد و جہد کی کہ اسلامی تاریخ کا روشن باب رقم ہو گیا۔
❀ تیسرا مسئلہ: فروعی اختلافات ہیں۔ اس مسئلے میں تو تمام اہل نظر کے نزدیک اختلاف کی گنجائش ہے۔ محدثین نے ان مسائل پر اس لیے مباحثے کیے کہ عامتہ الناس بلکہ بعض اہل علم بھی فتنہ تقلید شخصی کا شکار ہو رہے تھے جس سے ملت کا اجتماعی مقام منتشر ہو رہا تھا۔ محدثین نے اس فتنے سے ملت کو بچانے کے لیے ان مسائل کے متعلق احادیث کی طرف توجہ دلا کر تقلید شخصی کے التزام سے محفوظ رہنے اور مذہبی تعصب ختم کرنے کی جد و جہد کی۔
حافظ اسلم کا کہنا ہے: ”اگر قرآن پر مدار ہوتا تو اس نوعیت کے مسائل پیش نظر رہتے کہ مرکز کو قوی اور صالح العمل کیوں کر رکھا جائے۔“ حافظ صاحب کا یہ کلام حدیث دشمنی پر مبنی اور حدیث کو قرآن کا مد مقابل بنانے کی کوشش ہے۔ حدیث نے کسی وقت اور کسی مسئلے میں قرآن کی مخالفت نہیں کی بلکہ اس کی تفصیل اور تشریح کی ہے۔
حافظ اسلم مزید کہتے ہیں: ”قرآنی ہدایت کو عام کرنے اور جملہ انسانی برادری کو اس نجات اور سعادت کے راستے پر لانے کے کیا وسائل ہیں؟“ اس کا جواب یہ ہے کہ محدثین نے اس کام کے لیے تین وسائل بنائے ہیں:
1۔ قرآن و حدیث کی تدریس
2۔ خطابات و محاضرات
3۔ قرآن و حدیث کی تشریح اور وضاحت کے لیے تفاسیر، شروح، اصول تفسیر اور اصولِ حدیث کی نشر و اشاعت۔
منکرینِ حدیث بتائیں کہ اس کے علاوہ اور کون سے وسائل ہیں کہ محدثین ان سے غافل رہے ہوں اور منکرین حدیث نے وہ وسائل استعمال کیے ہوں؟
حافظ صاحب نے مزید کہا: ”کائنات فطرت، جن کی نسبت قرآن نے کہا ہے کہ وہ انسان کے لیے مسخر کیے گئے ہیں، کی مخفی قوتوں کو کن تدابیر سے قابو میں لا کر انسانی خدمت میں لگایا جا سکتا ہے؟“ ہم کہتے ہیں: ایک تسخیر کوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان، زمین، پہاڑ، درخت، آگ اور پانی وغیرہ انسانی خدمت میں لگا رکھے ہیں، اس میں انسان کا کوئی دخل نہیں، البتہ ان نعمتوں کو قائم دائم رکھنے کا ذریعہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرعی تعلق قائم رکھنا ہے کیونکہ وہ مسبب الاسباب ہے۔ اس کی ناراضی نعمتوں کے چھن جانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس بارے میں محدثین اور علمائے امت نے قرآن اور حدیث کے ذریعے سے تزکیۂ نفس کی طرف توجہ دلائی۔
دوسری تسخیر عملی (اختیاری) ہے جسے علم ہیئت، ریاضی، علم الحیوانات، کیمیا، طب، ہندسہ اور علم النباتات وغیرہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس میدان میں بھی ایسے لوگوں نے قابل فخر کارنامے سر انجام دیے ہیں، جن میں بعض بڑے جید علماء تھے جو حدیث کو دین اور حجت سمجھتے تھے۔ اہل مغرب بھی ان کے کارناموں کے معترف ہیں بلکہ اہل مغرب نے ان کی تصنیفات کے تراجم کر کے سائنس اور ان علوم کو ترقی دی۔ تاریخ کی روشنی میں چند نمونے ملاحظہ فرمائیں:
●ابراہیم بن حبیب فزاری متوفی 770 ء ماہر علم ہیئت
●جابر بن حیان 817ء ماہر علم کیمیا
●عبدالملک 821ء ماہر علم الحیوانات
●محمد بن موسی خوارزمی 844ء ماہر علم نجوم، جغرافیہ اور جبر و مقابلہ
●یعقوب بن اسحاق کندی 850ء ماہر فلسفہ، حساب علم الأعداد، ہندسہ اور علم ہیئت
●ابوبکر بن زکریا رازی 925ء ماہر ہندسہ، طب اور کیمیا
●ابونصر فارابی 951ء ماہر فلسفہ، منطق، ریاضیات اور کیمیا
●ابن سینا 1037 ء ماہر طب یونانی اور منطق
●ابوالحسن 1039ء ماہر ریاضی، طبیعیات اور طب
●ابوریحان بیرونی 1048ء ماہر سیاح، فلسفہ، ریاضی، ہندسہ اور طب
●ابن رشد 1198ء ماہر فلسفہ، طب اور ہیئت
●فخر الدین رازی 1210ء ماہر ریاضی، ہندسہ، طب اور ہیئت
●ابن بیطار 1248ء ماہر علم نباتات
ان کے علاوہ اور بھی کئی ایسے علماء ہیں جنھوں نے تسخیر کائنات کے علوم میں تفوق حاصل کیا ہے۔ پرویز صاحب سے ہماری استدعا ہے کہ وہ بتائیں کہ انھوں نے حدیث سے انکار کر کے ملت و امت کے اندر انتشار پیدا کرنے کے سوا اور کیا کیا ہے؟