تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القمر (54) — آیت 47

اِنَّ الۡمُجۡرِمِیۡنَ فِیۡ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ ﴿ۘ۴۷﴾
بلکہ قیامت ان کے وعدے کا وقت ہے اور قیامت زیادہ بڑی مصیبت اور زیادہ کڑوی ہے۔ En
بےشک گنہگار لوگ گمراہی اور دیوانگی میں (مبتلا) ہیں
En
بیشک گناه گار گمراہی میں اور عذاب میں ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ یعنی وہ لوگ جنھوں نے نہایت کثرت سے جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس سے مراد بڑے بڑے گناہ، یعنی شرک اور معاصی وغیرہ ہیں۔ ﴿ فِیْ ضَلٰ٘لٍ وَّسُعُرٍ وہ گمراہی اور دیوانگی میں پڑے ہیں۔ یعنی وہ دنیا میں گمراہ تھے، وہ علم کی گمراہی اور عمل کی گمراہی میں مبتلا تھے۔ قیامت کے روز درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے، ان پر آگ بھڑکائی جائے گی، آگ ان کے جسموں میں شعلہ زن ہو گی یہاں تک کہ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّ المجرمينَ}؛ أي: الذين أكثروا من فعل الجرائم، وهي الذنوب العظيمة؛ من الشرك وغيره من المعاصي {في ضلال وسُعُرٍ}؛ أي: هم ضالُّون في الدُّنيا، ضُلاَّلٌ عن العلم وضُلاَّلٌ عن العمل الذي ينجِّيهم من العذاب، ويوم القيامةِ في العذاب الأليم والنار التي تستعر بهم وتشتعل في أجسامهم حتى تبلغ أفئدتهم.