تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القمر (54) — آیت 46

بَلِ السَّاعَۃُ مَوۡعِدُہُمۡ وَ السَّاعَۃُ اَدۡہٰی وَ اَمَرُّ ﴿۴۶﴾
بلکہ قیامت ان کے وعدے کا وقت ہے اور قیامت زیادہ بڑی مصیبت اور زیادہ کڑوی ہے۔ En
ان کے وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور قیامت بڑی سخت اور بہت تلخ ہے
En
بلکہ قیامت کی گھڑی ان کے وعدے کے وقت ہے اور قیامت بڑی سخت اور کڑوی چیز ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بایں ہمہ ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جب اللہ تعالیٰ ان کے اولین و آخرین، جو دنیا میں مصائب میں مبتلا رہے اور جن کو دنیا کی لذتوں سے بہرہ ور کیا گیا، سب کو اکٹھا کرے گا، اس لیے فرمایا: ﴿ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ بلکہ ان کے وعدے کا وقت قیامت ہے۔ اس وقت ان کو جزا دی جائے گی اور نہایت عدل و انصاف کے ساتھ ان سے حق لیا جائے گا ﴿ وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ اور قیامت کی گھڑی بہت بڑی آفت اور تلخ چیز ہے۔ یعنی بہت بڑی، زیادہ مشقت آمیز اور ہر اس چیز سے بڑھ کر ہے جس کا گمان کیا جا سکتا ہے یا وہ تصور میں آ سکتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومع ذلك؛ فلهم موعدٌ يجمع به أولهم وآخرهم ومن أصيب في الدُّنيا منهم ومن متع بلذاته، ولهذا قال: {بل الساعةُ موعدُهم}: الذي يجازون به ويؤخذ منهم الحقُّ بالقسط، {والساعةُ أدهى وأمرُّ}؛ أي: أعظم وأشقُّ وأكبر من كلِّ ما يتوهَّم أو يدور في الخيال.