تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿یَوْمَیُسْحَبُوْنَفِیالنَّارِعَلٰىوُجُوْهِهِمْ﴾”جس دن انھیں چہروں کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا۔“ چہرہ جو تمام اعضاء میں سب سے زیادہ شرف کا حامل ہے۔ اس کا درد دیگر تمام اعضا سے بڑھ کر ہے، پس انھیں اس عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿ذُوْقُوْامَسَّسَقَرَ﴾”تم جہنم (کے عذاب) کی تکلیف چکھو۔“ یعنی آگ، اس کے غم، اس کے غیظ و غضب اور اس کے شعلوں (کے عذاب) کو چکھو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{يوم يُسْحَبون في النار على وجوهِهِم}: التي هي أشرف ما بهم من الأعضاء، وألمها أشدُّ من [أَلَمِ] غيرها، فيُهانون بذلك ويُخْزَون، ويقال لهم: {ذوقوا مَسَّ سَقَرَ}؛ أي: ذوقوا ألم النار وأسفها وغيظها ولهبها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔