اور وہ تجھ سے جلدی عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر ایک مقرر وقت نہ ہوتا تو ان پر عذاب ضرور آجاتا اور یقینا وہ ان پر ضرور اچانک آئے گا اور وہ شعور نہ رکھتے ہوں گے۔
En
اور یہ لوگ تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں۔ اگر ایک وقت مقرر نہ (ہو چکا) ہوتا تو اُن پر عذاب آبھی گیا ہوتا۔ اور وہ (کسی وقت میں) اُن پر ضرور ناگہاں آکر رہے گا اور اُن کو معلوم بھی نہ ہوگا
یہ لوگ آپ سے عذاب کی جلدی کر رہے ہیں۔ اگر میری طرف سے مقرر کیا ہوا وقت نہ ہوتا تو ابھی تک ان کے پاس عذاب آچکا ہوتا، یہ یقینی بات ہے کہ اچانک ان کی بے خبری میں ان کے پاس عذاب آپہنچے گا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی تکذیب کرنے والے جہلاء کی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے نیز یہ کہ وہ عذاب کے لیے جلدی مچاتے اور تکذیب میں اضافہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿مَتٰىهٰؔذَاالْوَعْدُاِنْكُنْتُمْصٰؔدِقِیْنَ ﴾ (الملک:67؍25) ”یہ وعدہ کب ہے اگر تم سچے ہو۔“ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَوْلَاۤاَجَلٌمُّ٘سَمًّى ﴾ یعنی اگر اس عذاب کے لیے ایک مدت مقرر نہ کر دی گئی ہوتی ﴿لَّجَآءَهُمُالْعَذَابُ ﴾”توان پر عذاب آچکا ہوتا۔“ یعنی ان پر ہمیں عاجز اور بے بس سمجھنے اور حق کی تکذیب کرنے کی بنا پر عذاب نازل ہو جاتا۔ اگر ہم ان کو ان کی جہالت کی بنا پر پکڑتے تو ان کی باتیں انھیں فوراً عذاب میں مبتلا کرنے کا باعث بن جاتیں، بایں ہمہ اس کے وقت نزول کو دور نہ سمجھیں کیونکہ یہ عذاب عنقریب ان کو پہنچے گا ﴿بَغْتَةًوَّهُمْلَایَشْ٘عُرُوْنَ﴾”اچانک اور ان کو معلوم بھی نہیں ہوگا۔“لہٰذا ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی جب وہ اتراتے اور تکبر کرتے ہوئے میدان ”بدر“ میں اترے تو وہ سمجھتے تھے کہ وہ اپنا مقصد حاصل کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ذلیل و رسوا کیا، ان کے بڑے بڑے سردار قتل ہو گئے اور تمام شریر لوگوں کا استیصال ہو گیا اور (مکہ میں) کوئی گھر نہ ایسا نہ بچا جسے یہ مصیبت نہ پہنچی ہو۔ ان پر اس طرح عذاب آیا کہ ان کو وہم و گمان اور شعور تک نہ تھا...
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن جهل المكذِّبين للرسول وما جاء به، وأنَّهم يقولون استعجالاً للعذاب وزيادةَ تكذيبٍ: {متى هذا الوعدُ إنْ كُنْتُم صادقينَ}؟ يقول تعالى: {ولولا أجلٌ مسمًّى}: مضروبٌ لنزولِهِ ولم يأتِ بعدُ، {لجاءهم العذابُ}: بسبب تعجيزِهِم لنا وتكذيِبِهم الحقَّ؛ فلو آخذناهم بجهلهم؛ لكان كلامُهم أسرعَ لبلائِهِم وعقوبتِهِم، ولكن مع ذلك؛ فلا يستبطِئون نزوله فإنه سيأتيهم {بغتةً وهم لا يشعرونَ} فوقع كما أخبر الله تعالى، لما قدموا لبدرٍ بَطِرينَ مفاخِرين ظانِّين أنَّهم قادرون على مقصودِهم، فأحانهم الله، وقتل كبارهم، واستوعبَ جملةَ أشرارِهم، ولم يَبْقَ منهم بيتٌ إلاَّ أصابتْه تلك المصيبة، فأتاهم العذابُ من حيث لم يحتَسِبوا، ونزل بهم وهم لا يشعرونَ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔